بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

بینات

 
 

سنت و حدیث کا دفاع ۔۔۔۔ وحدت و یکجہتی کی اہمیت وضرورت

سنت و حدیث کا دفاع 

وحدت و یکجہتی کی اہمیت وضرورت

 

تمہید

شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ، عالمِ اسلام کے نامور محدث و محقق ہیں، متنوع موضوعات سے متعلق گراں قدر کتب کی تالیف اور ذخیرۂ حدیث کی بعض اہم کتابوں کی تحقیق کا کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں، علومِ حدیث کے غواص اور فنِ تحقیقِ مخطوطات کے شناور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شیخ عبداللہ سراج الدین  رحمۃ اللہ علیہ  جیسے بلند پایہ محدث وزاہد اور شیخ عبدالفتاح ابوغدہ  رحمۃ اللہ علیہ  جیسے عظیم محدث وفقیہ سے استفادے کا زرّیں موقع عنایت فرمایا، محدثین کی نگاہ میں طولِ ملازمت وصحبت کی اہمیت‘ اہلِ علم سے مخفی نہیں، شیخ موصوف کو شیخ ابوغدہ  رحمۃ اللہ علیہ  سے پینتیس سالہ طویل تلمذ ورفاقت کا شرف حاصل ہے۔ شیخ ابوغدہؒ ’’تلمیذ الأمس وزمیل الیوم‘‘ (کل کے شاگرد اور آج کے رفیق) سے ان کا ذکر کرتے(۱) اور ’’الجہبذ المحقق‘‘ (ماہر ونقاد محقق) جیسے القاب سے یاد فرماتے تھے، (۲) ان جملوں میں جہاں شیخ ابوغدہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی تواضع وفروتنی اور قدردانی وحوصلہ افزائی کا ثبوت ملتا ہے، وہیں ان کی نگاہ میں اپنے شاگرد کی قدر ومنزلت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
پیشِ نگاہ تحریرمیں شیخ موصوف کے ایک گراں قدر مقالہ کی ترجمانی کی کوشش کی گئی ہے، جو انہوں نے ۱۶ ذو القعدہ ۱۴۳۶ھ کو ترکی کے دارالحکومت استنبول میں انسانیت کی خدمت کے عنوان سے منعقدہ ایک علمی کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ اس کانفرنس میں عالمِ اسلام کے اطراف سے کبار اہلِ علم نے شرکت فرمائی تھی، شیخ نے اس موقع پر ’’توحید الجُہود في خدمۃ السنۃ النبویّۃ‘‘یعنی ذخیرۂ حدیث کی خدمت ودفاع کے حوالے سے اُمتِ مسلمہ کے مختلف طبقات کی مساعی کو ایک لڑی میں پرونے کے موضوع پر نہایت دل سوز اور درد مندانہ گفتگو فرمائی ، جو ہر صاحبِ قلب ونظر کے دل پر دستک دیتی ہے۔ اس مفید گفتگو سے استفادے کا دائرہ وسیع کرنے کی غرض سے اسے اردو کے قالب میں ڈھال کر نذرِ قارئین کیا جارہا ہے۔ اُمید ہے کہ اہلِ علم اور اربابِ انتظام وانصرام اس مقالہ میں درج نکات اور تجاویز پر غور فرماکر اپنے دائرہ کار میں حسبِ استطاعت پیش رفت فرمائیں گے۔ (ازمرتب) 

ابتدائیہ

الحمد للہ کما ینبغي لجلال وجھہٖ ولعظیم سلطانہٖ، ولا نحصي ثناء علیہ، ھو کما أثنٰی علٰی نفسہٖ، والصلاۃ والسلام الأتمان الأکملان علی سیدنا محمد إمام المتقین، وقائد الغُرّ المحجّلین، وقُدْوَۃ العلماء العاملین، القائل:’’ إن العلماء ورثۃ الأنبیاء، وإن الأنبیاء لم یورّثوا دیناراً ولادرھماً، إنما ورّثوا العلم، فمن أخذہٗ أخذ بحظّ وافر‘‘، وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ وکل من اقتبس من ھدیہ وسار علی دربہ۔ 
اصحابِ فضیلت، اُمتِ مسلمہ کے علم وعمل اور افکار واخلاق کے احوال آپ حضرات کی نگاہ میں ہیں، آپ حضرات کی موجودگی میں اس بابرکت ملاقات سے استفادہ کی آرزو رکھتے ہوئے کچھ اہم علمی امور آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، تاکہ سنتِ نبویہ کی خدمت کے حوالے سے کی جانے والی مساعی میں یکسانیت پیدا ہو، یہ امر اُمت کی ترقی کا وسیلہ ثابت ہوگا، ان شا اللہ تعالیٰ ! وقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بلا تمہیدمقصودی گفتگو کا آغاز کرتا ہوں:

علومِ حدیث کی حالیہ بیداری میں موجود خلا

علومِ حدیث کے حوالے سے حالیہ بیداری میں بہت سے خلا ہیں، اس سلسلے میں اپنی آراء کے متعلق گفتگو کو دو زمروں میں سمیٹا جاسکتا ہے:
۱:-داخلی تنقید اور ۲:-خارجی تنقید (تعبیر میں قدرے توسع کے ساتھ)
 ’’داخلی تنقید‘‘ سے میری مراد وہ کمزوریاں ہیں، جو سنتِ نبویہ کے پڑھنے پڑھانے ، ذخیرۂ حدیث کی خدمت اور اس کے حال کو ماضی کے ساتھ جوڑنے میں پائی جاتی ہیں، جبکہ ’’خارجی تنقید‘‘ سے مراد متعدد طبقات کی جانب سے ذخیرۂ حدیث پر نارَوا حملے ہیں، حالانکہ اس ذخیرے سے متعلق تمام اُمور طے شدہ ہیں، علمائے امت و اُمرائے ملت ان کےنگہبان رہے ہیں،لیکن اس کے باوجود دورِ حاضر میں خدا کے دین سے کھلواڑ کرنے والا کوئی بھی شخص کَشٹ اُٹھائے بنا کسی ویب گاہ کی مدد سے جی میں جو آئے، لکھ ڈالتا ہے۔
ان دونوں زمروں سے متعلق طویل گفتگو ہے، جس کا اختصار بے حد ضروری ہے۔

داخلی ضعف کے چند پہلو

پہلے زمرے (داخلی تنقید) کے تحت بھی بہت سے کمزور پہلو ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
۱:- حفظِ احادیث کی جانب عدمِ التفات: میرے علم کے مطابق عرب وعجم میں اس جانب توجہ نہیں رہی، البتہ اس حوالے سے ڈاکٹر نور الدین عتر (اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے ، ان کو مزید ہمت وقوت سے نوازے اور انہیں جزائے خیر عطا فرمائے) (۳)کی زیرِ نگرانی ’’دمشق‘‘ (شام)میں خواتین کی سرگرمیاں مستثنیٰ ہیں، جو اَب بڑھتے بڑھتے ’’حلب‘‘ تک جاپہنچی ہیں، اور میرے اندازے کے مطابق اس سلسلے کوجاری ہوئے پندرہ برس ہوچکے ہیں۔(۴) جب کبھی حضرات اہلِ علم وفضل سے ملاقات ہوتی ہے تو میں انہیں اس امر کی یاد دہانی کراتا رہتا ہوں، مجھے امید ہے کہ یہ حضرات اپنے نام کی مانند خوشبودار کتاب ’’ریاض الصالحین‘‘ سے طلبہ کو حفظِ احادیث کا آغاز کرائیں گے، کیونکہ اس کتاب میں ایسی خصوصیات یکجا ہیں جن کی ضرورت ہر مسلمان اور ہر طالبِ علم کوپیش آتی ہے،(۵) لیکن یہ مرحلہ قرآن کریم کے حفظ کے بعد کا ہے۔ عصرِ حاضر میں ہمارے عرب ممالک میں حدیث وعلومِ حدیث کا مشغلہ رکھنے والے عام طور پر شرحِ حدیث (اگرچہ ایسے لوگ بھی بہت کم ہیں) یا دیگر علومِ حدیث میں (تو) مشغول ہیں (لیکن حفظِ احادیث کا زیادہ مشغلہ نہیں)، اس بنا پر اس قحط زدہ زمانے کے اعتبار سے کسی عالم کو ’’محدث‘‘ تو کہا جاسکتا ہے، لیکن میرے علم میں ایسا کوئی عالم نہیں، جس کو ’’حافظ الحدیث‘‘ کہا جاسکتا ہو، کلی طور پر نفی بھی نہیں کر رہا، واللہ اعلم! 
۲:-شروحِ حدیث کے پڑھنے پڑھانے اور ان کی طباعت وتحقیق میں انہماک کی کمی:نئی نسل (جو اَب خیر سے بڑوں میں شمار میں ہونی لگی ہے) کا زیادہ تر انہماک، علومِ حدیث یا درایتِ حدیث سے متعلق ہے، اسی بنا پر علمی اَنارکی اور بے ضابطگی پیدا ہوگئی ہے ، جس کا مشاہدہ ’’مجتہدین کی کثرت‘‘ کی صورت میں ہو رہا ہے!! امام سفیان ثوری ؒ نے کہا تھا: ’’کیا یہ کہاوت مشہور نہیں کہ ’’إِذَا کَثُرَ الْمَـلَّاحُوْنَ غَرَقَتِ السَّفِیْنَۃُ‘‘ ( جب ناخُدا زیادہ ہوجائیں تو کشتی غرقاب ہوجاتی ہے؟!۔‘‘) اس نکتے کی جانب آگے دوبارہ لوٹوں گا۔
۳:- حالیہ حدیثی بیداری کا ایک برا اثر، (غیر محقّق) کتبِ حدیث کی گرم بازاری: چونکہ کتبِ حدیث کی طلب بڑھ گئی ہے، اس بنا پر ہر کس وناکس ان کی تحقیق کی جانب متوجہ ہے، اور ان میں نااہلوں کی اکثریت ہے، کیونکہ ایسے لوگ جری ہوتے ہیں، جبکہ اہلیت رکھنے والا ڈرتا رہتا ہے۔

دو لطف آمیز چٹکلے

دل لگی اور ذائقہ بدلنے کی غرض سے دو چٹکلے ذکر کرنے کی اجازت چاہتا ہوں،عربی محاورہ ہے: ’’شَرُّالْبَلِیَّۃِ مَا یُضْحِکُ‘‘ (بدترین مصیبت وآزمائش وہ ہے جو ہنسنے پر مجبور کردے): 
۱:-شمائل وآدابِ نبویہ سے متعلق ایک کتاب میں یہ حدیث مذکور ہے:’’إِنَّ سَیْفَ النَّبِيِّﷺ کَانَ حَنَفِیًّا‘‘ (۶) (یعنی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تلوار، ’’بنوحنیفہ‘‘ نامی قبیلے کی تلواروں کی مانند تھی)، لیکن ایک محقق صاحب نے لفظِ’’ حَنَفِیًا‘‘ پر یوں حاشیہ لگایا ہے: ’’ أي منسوبًا إلٰی أبي حنیفۃ النعمانؒ‘‘ (یعنی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تلوار امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒ کی جانب منسوب تھی)۔
۲:- ایک معزز ومعتمدبھائی نے بتایا کہ انہوں نے ایک مغرب زدہ عرب محقق کی تحقیق کے ساتھ چھپی کتاب میں پڑھا ہے، کتا ب میں ایک مقام پر ’’بنتِ لبون‘‘ کا ذکر آیا، تو محقق صاحب نے اس لفظ پر کچھ یوں حاشیہ لکھا ہے: ’’لَمْ أقِفْ لَہَا عَلٰی تَرْجُمَۃٍ‘‘ (یعنی ’’بنتِ لبون‘‘ نامی اس شخصیت کے حالات مجھے دستیاب نہیں ہوسکے)۔ ائمہ اسلام کی علمی میراث سے کھلواڑ کرنے والے ان لوگوں کے قلم پر اُٹھنے والی علم وحکومت کی تلوار کہاں ہے؟!

مزید دو قابلِ غور پہلو
 

داخلی کمزوریوں کے تعلق سے دو پہلو ایسے ہیں، جو علومِ حدیث اور دیگر علوم کی مشغولیت رکھنے والے طلبہ میں مشترکہ طور پر پائے جاتے ہیں: 

۱:-تربیت میں کمی

۲:-مشائخ کی صحبت اور ان سے استفادے میں کوتاہی

پہلا پہلو:علم پر عمل کی تربیت میں کمی ایسا معاملہ ہے، جس کی جانب اب توجہ نہیں ہے، جبکہ ہمارے اسلاف اور علماء ؒ اس کے نہایت حریص تھے۔ ’’الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع‘‘ امام خطیب بغدادی  رحمۃ اللہ علیہ  کی کتابوں میں ایک عمدہ کتاب ہے ، اور ’’اقتضاءُ العلمِ العملَ‘‘ کے نام سے نسبتاً کم ضخامت پر مشتمل ایک اور کتاب بھی انہی کی ہے، پہلی کتاب میں انہوں نے ’’باب آداب الطلب‘‘ کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے، اور اس میں سلف کے کچھ واقعات ذکر کیے ہیں، ان میں سے چند درجِ ذیل ہیں:
۱:-امام حسن بصری  رحمۃ اللہ علیہ  پچھلے لوگوں (یعنی اپنے اساتذہ کبار تابعین ؒ) کے بارے نقل کرتے ہیں: ’’(ان اسلاف میں سے )کوئی شخص علم حاصل کرنا شروع کرتا تو یہ علم اس کے خشوع وخشیت، چال ڈھال، بول چال، دیکھنے سننے اور اعمال وافعال میں جھلکتا تھا۔‘‘
۲:-امام سفیان ثوری  رحمۃ اللہ علیہ  کا قول ہے:’’ کوئی نوجوان‘ علمِ حدیث میں مشغول ہوجاتا تو اس کے گھر کے لوگ اس (کی اس مشغولیت)پر اجروثواب کے امیدوار ہوتے تھے۔‘‘ خطیب بغدادی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس آخری جملے کی وضاحت یوں کی ہے :’’(وہ علمِ حدیث کی مشغولیت کے ساتھ ساتھ) عبادات میں اتنا مجاہدہ کرتا تھا کہ گھر کے لوگوں سے بھی قدرے لاتعلق ہوجاتا تھا، اور گھر والے اس (کی اس یکسوئی کی) بنا پر اجر وثواب کی امید رکھتے تھے۔‘‘(گویا ان بزرگوں کے ہاں حصولِ علم اور ذوقِ عبادت کا چولی دامن کا ساتھ تھا)۔  
۳:- حدیث کا ایک طالب علم، امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ  کے پاس مہمان بن کر آیا، امام موصوف سوتے وقت اس کے قریب پانی رکھ گئے کہ رات کی عبادت کے لیے وضو کی ضرورت پیش آئے گی، لیکن صبح میں دیکھا کہ وہ پانی جوں کا توں رکھا ہے تو امام موصوف نے فرمایا:’’ سبحان اللہ! علم کا متلاشی ہے اور رات کی عبادت کا کوئی معمول نہیں!!۔‘‘(گویا ان حضرات سلف ؒ کے ہاں یہ تصور ہی نہ تھا کہ کوئی طالبِ علم شب بیداری کا معمول نہ رکھتا ہو)۔
۴:- امام ابوعبداللہ محمد بن نصر مروزی  رحمۃ اللہ علیہ  کی مجلس میں ظہر کا وقت ہوا تو امام ابن نصرؒ نے کھڑے ہوکر اذان دی، حاضرین میں سے ایک شخص مسجد سے باہر نکلنے کے ارادےکے ساتھ کھڑا ہوا تو امام موصوف نے اس سے دریافت کیا:’’کہا ں جا رہے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا:’’ وضو کرنے جا رہا ہوں۔‘‘ امام موصوف نے فرمایا:’’ تمہارے بارے میں تو میرا یہ گمان نہ تھا، نماز کا وقت داخل ہوچکا ہے اور تم (اب تک) بےوضو ہو!!‘‘ ( یعنی تمہیں تو نماز کے وقت سے پہلے ہی باوضو ہوکر تیار رہنا چاہیے تھا، اذان کے بعد وضو کے لیے جانا طالبِ علم کی شان کے مناسب نہیں)۔
۵:-امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ  کا قول ہے: ’’میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی جو حدیث بھی لکھی ہے، اس پر عمل بھی کیا ہے، یہاں تک کہ یہ حدیث نظر سے گزری کہ ’’(ایک بار) نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پچھنے لگوائے اور ابوطیب (نامی پچھنے لگانے والے شخص) کو ایک دینار دیا۔‘‘ تو میں نے بھی (ایک بار) پچھنے لگوائے اور حجام کو ایک دینار دیا۔‘‘
۶:- ائمہ سلف کےہاں کسی حدیث سننے کے فوراً بعد اس پر عمل کی حرص کے تعلق سے خطیب بغدادی  رحمۃ اللہ علیہ  نے ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے: ’’ ابوجعفر ابن حمدان  رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’صحیح مسلم‘‘ پر ’’مستخرج‘‘ (’’صحیح مسلم‘‘ کی احادیث کی دیگر زائدسندوں پر مشتمل کتاب) لکھی ، وہ لوگوں کو (یہ کتاب) پڑھا رہے تھے، اس مجلس میں امام ابوعثمان حیری  رحمۃ اللہ علیہ  بھی موجود تھے، (کتاب پڑھنے کے دوران) یہ حدیث سامنے آئی: ’’(ایک موقع پر)نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ’’إزار‘‘(نچلے دھڑ کو چھپانے والی لُنگی) اور ’’رداء‘‘ (جسم کے اوپر کے حصے میں اوڑھی جانے والی چادر)میں نماز پڑھی، کیا دیکھتے ہیں کہ عشاء کی نماز کے لیے ابو عثمان حیری  رحمۃ اللہ علیہ  ’’ إزار‘‘ اور ’’رداء‘‘ میں لپٹے تشریف لا رہے ہیں، یہ منظر دیکھ کر ابوجعفر ابن حمدان کے صاحب زادے نے ان سے دریافت کیا: ’’ابا جان! ابوعثمان نے (حج یا عمرے کے لیے) احرام باندھا ہے؟ ابوجعفر نے فرمایا: ’’نہیں بیٹا، آج شب میرے سامنے جو احادیث پڑھی گئی تھیں، ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے (ایک موقع پر) ’’إزار‘‘ اور ’’رداء‘‘ میں نماز پڑھی تھی۔ ابوعثمان نے چاہا کہ صبح ہونے سے قبل ہی اس حدیث پر عمل کرلیں۔‘‘   (۷)

ھُمُ الرِّجَالُ وَعَیْبٌ أنْ یُّقَالَ لِمَـنْ
لَمْ یَتَّصِفْ بِمَعَانِیْ وَصْفِہِمْ : رَجُلٗ

’’درحقیقت یہی لوگ ’’مردانِ کار‘‘ کہلانے کے لائق تھے، اور جو لوگ ان جیسے اوصاف سے مزین نہیں، انہیں ’’مرد‘‘ کہنا بھی معیوب ہے۔‘‘
دوسرا پہلو: یہ کمزور پہلو بھی مختلف طلبہ میں عام ہے، خواہ حدیث کے طلبہ ہوں یا دیگر علوم کے، اور وہ ہے: اساتذہ کی صحبت اور ان سے استفادے میں کوتاہی، یہ سخت لاعلاج مرض ہے، سابقہ اسباب کے خطرناک ہونے کے باوجود میں نے ان کے متعلق یہ (سخت) کلمات نہیں کہے، اس لیے کہ دراصل یہ سبب اپنی حقیقت سے پھیر دیا گیا ہے اور یوں ایک قابلِ مذمت معاملہ، باعثِ مدح بن گیا ہے۔ اس حقیقت کو کیونکر تبدیل کردیا گیا؟! یہاں تک کہ تعریف کے طور فخریہ یوں کہا جانے لگا کہ فلاں صاحب نہایت باکمال (انگریزی تعبیر میں سیلف میڈ’’ SELF MADE ‘‘) ہیں، انہوں نے کسی استاذ کے ( سامنے زانوئے تلمذ طے کیے ) بغیر ازخود علم حاصل کیا ہے، لفظی کھیل کھیلنے والوں کے لیے حقائق کو مسخ کرنا کس قدرآسان ہوگیا ہے؟! ابنِ رومیؒ کےمشہور اشعار ہیں:

تَقُوْلُ: ھٰذَا مُجَاجُ النَّحْلِ، تَمْدَحُہٗ
وَإِنْ تَعِبْ قُلْتَ: ذَا قَیْئُ الزَّنَابِیْرٖ 
مَدْحًا وَذَمًّا وَمَاجَاوَزْتَ وَصْفَہُمَا
سِحْرُ الْبَیَانِ یُرِي الظَّلْمَاءَ کَالنُّوْرٖ 

’’تم شہد کی تعریف کرنا چاہو تو کہو گے: یہ شہد کی مکھی کا لعاب ہے، اور مذمت کا ارادہ ہو تو کہہ سکتے ہو: یہ تو بِھڑوں کی قے ہے۔ تعریف ومذمت دونوں صورتوں میں یہ حد سے تجاوز نہ ہوگا،سچ ہے کہ جادو بیانی، تاریکی کو بھی روشنی باوَر کراسکتی ہے۔‘‘
حالانکہ راہِ علم میں جس شخص کے اساتذہ نہ ہوتے تو ہمارے علما ئے سلف اس کو اہمیت ومرتبہ کے لائق نہیں سمجھتے تھے، اور نہ ہی اسے قابلِ التفات گردانتےیا علمی گفتگو کا اہل قرار دیتے تھے (اس نکتے سے متعلق درج ذیل دو واقعات ملاحظہ فرمائیے):
1 :-  امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ  جب (خلقِ قرآن کے مسئلہ میں) آزمائش میں مبتلا ہوئے تو انہیں خلیفہ معتصم باللہ عباسی کے دربار میں لے جایا گیا، مجلس میں اس فتنے کا سرخیل ابن ابی داود بھی موجود تھا، خلیفہ نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ   سے کہا: ’’ان سے گفتگو کیجیے۔‘‘ تو امام موصوف نے اس کی جانب سے چہرہ بھی پھیر لیا اور فرمایا: ’’میں اس شخص سے (ایک علمی مسئلے کے متعلق ) کیسے گفتگو کرسکتا ہوں جسے میں نے کبھی (حصولِ علم کی غرض سے) کسی عالم کے دَر پر نہیں دیکھا؟!۔‘‘ (۸)
2 :-  امام ابوجعفر داودی  رحمۃ اللہ علیہ  (متوفی ۴۰۲ھ) علمائے قیروان میں سے ایک عالم تھے، قاضی عیاض  رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’ترتیب المدارک‘‘ میں ان کے حالات درج کیے ہیں، قاضی صاحب رقم طراز ہیں: ’’موصوف نے اکثر علم کسی مشہور امام سے حاصل نہیں کیا، بلکہ اپنے فہم وادراک کی بدولت اس مرتبے کو پہنچے۔‘‘ بعد ازاں ان کے اور ان کے شہر کے اہلِ علم کےدرمیان پیش آمدہ ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ علماء نے ایک مسئلہ میں ان پر نکیر اور تنقید کی اور انہیں یہ کہتے ہوئےجاہل قرار دیا: ’’اُسْکُتْ، لَاشَیْخَ لَکَ۔‘‘ (خاموش رہیےجناب! راہِ علم میں آپ کے کوئی استاذ نہیں۔‘‘(۹)
یہ بات کافی طویل اور پہلو دار ہے، ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں، جس میں بے استاذ شخص کو ’’امامِ مجتہد‘‘ کا لقب دیا جا رہا ، بلکہ اسی کو سب کا فیصل ٹھہرایا جارہا ہے۔

ذخیرۂ حدیث وسنت پر خارجی حملے

اب دیگر طبقات کی جانب سے ذخیرۂ حدیث وسنتِ مطہرہ پر خارجی حملوں کے متعلق گفتگو کی جانب آتے ہیں،اس موقع پر متعدد گروہوں کی جانب سے ذخیرۂ حدیث پر حملوں کے متعلق گفتگو ضروری ہے، اور آپ حضرات کی خدمت میں ان گزارشات کو اس اُمید کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ آپ اسے باہمی گفت وشنید اور لکھت پڑھت کا حصہ بنائیں گے اور باہم تعاون فرمائیں گے:
دینِ اسلام پر اس شرمناک حملے میں بہت سی کتب ورسائل اور انٹرنیٹ ویب سائٹیں حصہ دار ہیں، محض ایک شخص نے ہی تین کتابیں لکھ ڈالی ہیں:
۱:- ’’جِنَایَۃُ الْبُخَارِيِّ عَلَی الْحَدِیْثِ‘‘( علمِ حدیث پر (امام) بخاری ( رحمۃ اللہ علیہ ) کی زیادتیاں)۔
 ۲:- ’’جِنَایَۃُ الشَّافِعِيِّ عَلَی الْفِقْہِ‘‘ ( فقہی ذخیرے سے (امام)شافعی ( رحمۃ اللہ علیہ ) کی ناانصافیاں)۔
 ۳:- ’’جِنَایَۃُ سِیْبَوَیْہِ عَلَی  النَّحْوِ‘‘( علم نحو میں (امام) سیبویہ ( رحمۃ اللہ علیہ ) کی بدعنوانیاں)۔
ان ’’کارناموں‘‘ کو سرانجام دینے کےبعد اس شخص نے دینِ اسلام کے دامن میں کیا چھوڑا ہے؟! 
ایک اور کتاب بھی میرے علم میں آئی ہے، جو دمشق سے پہلی بارسنہ ۲۰۰۲ ء میں اور دوسری بار سنہ ۲۰۰۸ ء میں شائع ہوئی ہے، اس کی ورق گردانی کرکے میں نے کہا تھا: ’’یہ کتاب ایسا بم ہے جو (سلف کی علمی) میراث کے محققین کی تمام کاوشوں یعنی تمام کتبِ سنت وعلومِ سنت (کی عمارت) کو منہدم کرڈالے گا۔‘‘ بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ مؤلفِ کتاب کا ذاتی اشاعتی ادارہ بھی ہے، اور موصوف نے اس ادارے سے دیگر (ہم فکروخیال) لوگوں کی کتب بھی شائع کی ہیں،ان میں سے صرف ایک لکھاری کی دس کتابیں میرے علم میں آئی ہیں، جس کتاب کو میں نے ’’بم‘‘ قرار دیا تھا، ان دیگر کتابوں کی بنسبت تو اس ’’بم‘‘ سے حفاظت کا امکان موجود ہے۔ (ایک جانب یہ سب ہو رہا ہے اور دوسری طرف) ہم خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں، البتہ ’’عمان‘‘(اردن) سے پہلی کتاب کے تردید میں ’’دِفَاعًا عَنِ الصَّحِیْحَیْنِ‘‘ کے نام سے ایک کتاب چھپی ہے، نیز ’’اردن یونی ورسٹی‘‘ نے ’’دفاعِ صحیحین کانفرنس‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام کی دعوت دی ہے، اللہ تعالیٰ منتظمین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
(اس موضوع پر تردیدی ودفاعی) کتب ورسائل (کی تالیف)کےلیے علمی میدان کھلا ہے، اس لیے کہ ذخیرۂ سنت کو منہدم کرنے کے لیے ان لوگوں کا کوئی فرد محض ایک کدال مارنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ وہ خود اپنی گینتیوں کے ذریعے حصہ ڈالتا ہے اور چیخ وپکار کرکے دیگر ہم خیال وفکر لوگوں کو بھی متوجہ کرتا ہے کہ وہ بھی اپنی کدالوں کے ذریعے حصہ لیں، اس مناسبت سے ہم یہ آیت( بجا طور پر) پڑھ سکتے ہیں: ’’فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ۔‘‘(البقرۃ:۱۹۴) (جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔) اجتماعی حملے کا مقابلہ، اجتماعی تردید سے ہی ہونا چاہیے۔ 

شروحِ حدیث کی جانب التفات کی اہمیت وضرورت

کچھ دیر قبل میں نے علومِ سنت کا اشتغال رکھنے والوں کی داخلی کمزوریوں کے تذکرے کے ضمن میں دوسرا نکتہ ذکر کیا تھا کہ ان کے ہاں سنت کے معانی ومفاہیم، اس کی شرح وتوضیح اور فقہ میں انہماک کے پہلو سے کمزوری ہے، نیز یہ بھی عرض کیا تھا کہ اس کمزوری کے نتیجے میں ایک اور کمی پیدا ہوئی، یعنی اجتہادات کے متعلق علمی اَنارکی اور بے ضابطگی اور علم واہلِ علم پر دست درازی، اس موقع پر یہ بھی عرض کیا تھا کہ اس نکتہ پر آگے مزید عرض کروں گا: (اس مرض کی) ایک احتیاطی وحفاظتی تدبیر یہ ہے کہ عوام وخواص میں شروحِ حدیث اور ان کے متعلقات کا پڑھنا پڑھانا عام کیا جائے، یوں وہ علمی سمجھ بوجھ پھیلے گی جو ہمارے علمائے سابقین کی زندگیوں میں (دِکھتی) تھی، یہی ’’عقلیتِ ایمانی‘‘ ہےجو وحیِ قرآنی اور وحیِ نبوی سے مستفاد ہے اور غیروں سے درآمدہ افکار کے تأثر اورآمیزش سے پاک ہے۔
اپنے دین کے سلسلے میں حریص مسلمان ان شروحِ حدیث میں کسی آیت یا حدیث کے فہم کے متعلق اشکالات کا شافی جواب پائے گا، البتہ اگر جدید طرزِ حیات اورتہذیبِ نو کی بنا پر کوئی اشکال پیدا ہو تو سلف کی راہ پر گامزن مضبوط عالم کے ہاں اس کا جواب بھی ضرور مل جاتا ہے۔ جزوی مشکلات کے علاوہ ان شرحوں میں تحقیق کرنے والے عالم کو علمی اخلاقیات کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے، یہ علمی اخلاقیات اس علمی منہج سے مربوط ہیں جو ہر طالب علم کو اختیار کرنا چاہیے، اس کا حاصل یہ ہے کہ بحث وتحقیق میں نہایت ٹھہراؤ سے کام لینا چاہیے۔ کتاب وسنت کی نصوص یا اہلِ علم کی عبارات، جو بظاہر متعارض ہیں، ان کی بابت ایک طالب علم کا کیا رویہ ہونا چاہیے؟ کیونکہ بسااوقات شارحینِ کرام، نصوص اور عبارات یکجا کردیتے ہیں اور طالب علم حیران وسرگرداں رہ جاتا ہے کہ اس نوع کے باہم متصادم امور سے چھٹکاراکیسے حاصل ہوگا؟ پھر دیکھتا ہے کہ شارح موصوف خودہی اطمینان بخش جواب پیش کردیتے ہیں۔سمجھ دار محقق وہی ہے جو جزوی جواب سے استفادہ سے قبل ایک غوروتدبر کرنے والے طالب علم کے مقام پر کھڑا ہو کر (اس کے پس منظر میں کارفرما علمی)منہج سے استفادہ کرے، اس منہج سے وابستہ شرحوں میں خاص طور پر (حافظ ابنِ حجر  رحمۃ اللہ علیہ  کی) ’’فتح الباري‘‘ اور علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’شرح المواھب‘‘ (قابلِ ذکر) ہیں، آخر الذکر کا ( اس منہج سے) زیادہ تعلق ہے۔ ان ائمہ (محدثین وشارحین) کے کلام کے ضمن میں ایسے ضابطے ملتے ہیں،جو مشکل مباحث میں (درست) موقف اختیار کرنے میں رہبر ثابت ہوتے ہیں۔

عقل ونقل کے درمیان تصادم سے اجتناب 

اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب میں ہمیں نقل اور عقل میں تصادم پیدا کرنے سے ڈرایا ہے اور تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی عادت رہی ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی  لِقَوْمِہٖٓ  اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً ط قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا  ھُزُوًا ط قَالَ اَعُوْذُ  بِاللہِ  اَنْ  اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ‘‘ (البقرۃ:۶۷) ( اور جب موسیٰ  علیہ السلام  نے اپنی قوم سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم ایک بیل ذبح کرو، وہ لوگ کہنے لگے کہ: آیا آپ ہم کو مسخرہ بناتے ہیں؟ موسیٰ  علیہ السلام  نے فرمایا: نعوذباللہ! میں ایسی جہالت والوں کا سا کام کروں! )۔
(یہ واقعہ) آپ حضرات کے علم میں تو ہوگا، خلاصہ یہ ہے: ’’بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ پیش آیا، مقتول کے اولیاء ‘ قاتل کونہیں جانتے تھے ، سمجھ دار لوگوں نے رائے دی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  سے عرض کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرکے انہیں قاتل کے بارے آگاہی فراہم کریں، حضرت موسیٰ  علیہ السلام  نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ان سے کہو کہ ایک گائے ذبح کریں۔‘‘ حضرت موسیٰ  علیہ السلام  نے انہیں اللہ تعالیٰ کا جواب پہنچایا تو وہ کہنے لگے: ’’کیا آپ ہم سے مذاق کر رہے ہیں؟‘‘ تب حضرت موسیٰ  علیہ السلام  نے فرمایا: ’’اللہ کی پناہ کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جاہلوں جیسی حرکت کروں اور اس کی جانب وہ بات منسوب کردوں جس کا اس نے حکم نہیں دیا۔‘‘ یہ کہنے کی نوبت اس بنا پر آئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو اپنی عقلوں کی کسوٹی پر پرکھا تو انہیں سوال وجواب میں مناسبت سمجھ نہ آئی، سوال تھا کہ ’’قاتل کون ہے؟‘‘ جواب ملا: ’’گائے ذبح کرو۔‘‘ علیم وخبیر اور حکیم ذات کے حکم کے سامنے ضعیف وکوتاہ عقلِ انسانی کو فیصل بنانا یہی تو ہے۔
بنی اسرائیل کے اس واقعہ کو نقل کرکے گویا اللہ تعالیٰ ہم سے فرمارہے ہیں کہ اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم موسیٰ  علیہ السلام  کی امت کی مانند نہ بننا، ان کا حال تو یہ تھا کہ کہنے لگے: ’’سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔‘‘ (ہم نے سن لیا اور مانا نہیں) تمہاری شان یہ ہے کہ تم کہو: ’’سَمِعْنَا وَأطَعْنَا‘‘ (ہم نے سن لیا اور مان لیا)۔ ہمارے سامنے اس قصے کو بیان کرنے کے فوائد میں ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے۔

داخلی ضعف سے متعلق چند اہم عملی نکات

اصحابِ کمال وفضیلت! اب تک میں اپنی مقصودی گفتگو شروع نہیں کر پایا، جبکہ وقت ہم پر حاکم ہے، ہمارا محکوم نہیں، بہتر ہوگا کہ سابقہ گفتگو کا خلاصہ عرض کروں: 
داخلی ضعف سے متعلق مذکورہ نکات کا حاصل محض ایک ہدف کا حصول ہے، وہ یہ کہ ہم طالب علم کو ایسا تیار کریں کہ وہ جس راہ پرچلنے کا عزم رکھتا ہے اس کی اہلیت اس میں پیدا ہوجائے، اپنے علمی اختصاص (حدیث، فقہ، اور اصول وغیرہ) میں بھی اور عملی میدان ( دعوت وارشاد، عام(عوامی) وعظ ونصیحت، تدریس،تالیف وتحقیق، افتا وقضا، وغیرہ) جس میدان میں بھی وہ جائے، ہم اپنی نگرانی میں اسے (اس میدان کی)مضبوط تیاری کروادیں۔ (ان امور کی بنیادی اہلیت پیدا کرنے کے چند ذرائع درجِ ذیل ہیں):
 1:-  ہمارے ساتھ اس کا علمی ربط وتعلق برقرار رہے، خواہ اس کی عمر بڑھ جائے اوراس کی (رسمی) فراغت کو طویل زمانہ گزرچکا ہو۔
2 :-  جس میدان میں وہ جاناچاہتا ہو، اس کی عملی مشق کرادی جائے، مثلاً: اسے عام (عوامی) درس وخطابت اور تالیف وتحقیق کی تمرین کرائی جائے، اور اسی طرح دیگر کاموں کی بھی مشق کرائی جائے۔
 اس موقع پر اس جانب توجہ دلانا بہتر معلوم ہوتا ہے کہ علمائے ہند اور ان کے قریبی ممالک (پاکستان وبنگلہ دیش وغیرہ کے علماء)میں ایک اچھی صورت رائج ہے، ان کے جامعات میں (تمرینِ ) فتویٰ کا ایک مستقل شعبہ ہوتا ہے، حسبِ ضرورت ایک یا زائد علماء اس شعبے کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کی نگرانی میں اس جامعہ کے فضلاء (افتاء کی)تمرین کرتے ہیں۔ جو استفتاءا ت آتے ہیں، ان سب کے جوابات یہ فضلاء لکھتے ہیں، پھر اپنا لکھا ہوا اساتذہ کے روبرو پیش کرتے ہیں، اساتذہ ان (فتاویٰ) کی ترمیم وتصحیح کرکے جواب درست کرتے ہیں اور پھر اپنا دستخط یا مہر ثبت فرماتے ہیں۔
3 :- ہمارے فضلاء، عقیدہ، فقہ اورتربیت و سلوک کے تعلق سے ہمیشہ جمہور علمائے اسلام کے مسلک پر گامزن رہیں، چلتے پھرتے(بے بنیاد) افکار وخیالات اور اہلِ علم کے تفردات وشذوذ سے دور رہیں۔
4 :- اسلام کے قرنِ اول  میں گزرے اسلافِ امت سے ان کا روحانی تعلق مضبوط تر ہو، تاکہ اگلوں کی روح پچھلوں میں سرایت کرجائے، امت کے پچھلے طبقے کی اصلاح انہی بنیادوں کے ذریعے ہوسکتی ہے، جو اُمت کے پہلے طبقے کی اصلاح کا ذریعہ ثابت ہوئی ہیں۔

خارجی حملوں کا دفاع کیسے ہو؟

دوسرے زمرے (ذخیرۂ سنت پر خارجی حملے) سے متعلق گفتگو، ایک دو گھنٹوں سے زیادہ دورانیے کی متقاضی ہے، سرِ دست آپ حضرات کی خدمت میں اس حوالے سےابتدائی نوعیت کی گزارشات پیش کی جارہی ہیں،اس سلسلے میں آپ حضرات کی ایک جماعت، ایک مضبوط مرکز کی بنیاد رکھے، جس میں درجِ ذیل چار امور پر یکسوئی سے کام کیا جائے:
۱:-ذخیرۂ سنت سے متعلق قرونِ اولیٰ سے( مختلف ادوار میں) مختلف اسلامی فرقوں کی جانب سے جو اشکالات واعتراضات لکھے گئے ہیں، انہیں یکجا جائے، قدیم کتب سے ان کا مطالعہ کیا جائے اور اس دور سے آج تک عہدبہ عہد جائزہ لیا جائے، کتابیں، جدید منشورات، رسائل، میعادی (ماہانہ، سہماہی، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر چھپی )کتب ورسائل، سی ڈیاں، الیکٹرونک ویب گاہیں اور ٹی وی پروگرام وغیرہ بھی جمع کیے جائیں۔
۲:-پھر غور وتدبر اور باریک بینی کے ساتھ اس پورے مواد کا جائزہ لیا جائے اور ان میں شامل افکار ونظریات اور دلائل کو ترتیب دیا جائے۔
۳:-بعد ازاں فتنہ انگیزی اور (ان لوگوں کی مانند)بے بنیادالزامات پر مبنی اسلوب اختیار کیے بغیرمضبوط علمی جوابات تحریر کیے جائیں۔ 
۴:-پھر دو نوعیت کی تالیفات مرتب کی جائیں:
1 :- افکار وموضوعات اور مسائل پر مشتمل کتابیں۔
2 :- ان افکار وموضوعات کے حاملین کے ناموں اور لکھاریوں کے اعتبار سے لکھی گئی کتابیں۔
تاکہ کوئی محقق کسی خاص موضوع کے متعلق جاننا چاہے تو اسے اپنامطلوب حاصل ہوجائے اور اگر کسی خاص شخصیت کی شاذ آرا سے آگاہی کا ارادہ ہو تب بھی اسے مقصود حاصل ہوجائے۔
اُمید ہے آپ حضرات اس منصوبے کی ترقی اور درست راہ پر گامزن رہنے کےحوالے سے اپنی تجاویز تحریر فرماکر ’’جائزۃ الإمام محمد قاسم النانوتويؒ‘‘ کے ای میل ایڈریس پر ارسال فرمادیں گے، جو آپ حضرات کے علم میں ہے۔

مردانِ کار کی ضرورت
 

اس مرکز کو بڑی تعداد میں قدیم وجدید کتب ورسائل دست یاب ہوں گے، اس بنا پر اس کام کے لیے ثابت قدم اور صبر وتحمل سے متصف رجالِ کار کی ضرورت ہے، اور ایسے محققین کی ضرورت ہے جو دقت رسی اور غور وتدبر کے ساتھ علمی تحقیق کا مزاج رکھتے ہوں، کسی بھی قول کو اس کے اصل ماخذ سے لیں، اور کشادہ دلی وخندہ روئی کے ساتھ تحقیق کی راہ میں مشقتوں کا سامنا کرسکیں۔ اگر ہم نے ذخیرۂ سنت کی خدمت کے لیے کام کرنے والوں کے ایک محل کی تعمیر واصلاح کرلی اورذخیرۂ سنت کے خلاف سازش کرنے والوں کے مقابلے کے لیے دفاعِ سنت کی غرض سے ایک مضبوط باڑلگادی تو گویا اس دور میں ہم (طبقۂ علماء )پر جو اہم ذمہ داریاں ہیں، ان میں سے دو ذمہ داریاں ہم پوری کرپائیں گے، جن کا تعلق ہمارے دین کے دوسرےماخذ کے ساتھ ہے،جواگرچہ ترتیب کے اعتبار سے تو دوسرے درجہ میں ہے، لیکن دین کی توضیح وتفصیل کے پہلو سے پہلے درجہ کا حامل ہے۔
(اس گفتگو کے دوران کسی نوع کی) کمی کوتاہی اورلغزش پر اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلب گار ہوں اور اسی ذات سے توفیق اور قول وفعل میں اخلاص کا سوالی ہوں۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

حواشی و حوالہ جات

۱:-ملاحظہ فرمائیے: ’’صفحات مضیئۃ من حیاۃ سیدي الوالد العلامۃ محمد عوامۃ بقلم ابنہ الدکتور محي الدین بن محمد عوامۃ، ص: ۱۱۹، دارالیسر۔ اس رسالہ میں شیخ موصوف کے صاحب زادے ڈاکٹر محی الدین عوامہ نے ان کے تفصیلی حالات قلم بند کیے ہیں۔ 
۲:- ایضا۔
۳:- شیخ نور الدین عتر  رحمۃ اللہ علیہ  بروز بدھ، ۶ ؍صفر ۱۴۴۲ھ کو سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے، اللہ تعالیٰ علماء وصلحاء کی جدائی سے اُمتِ مسلمہ کو درپیش نقصان کی تلافی کا سامان فرمائے۔
۴:- اس سلسلے میں سعودی عالم شیخ یحییٰ عبدالعزیز یحییٰ کی کاوشیں،’’ا ردن ‘‘کے شہر ’’اربد‘‘ میں قائم ’’مرکز منارۃ الھدی القرآني للعلوم الشرعیۃ‘‘ کی مساعی اور ہمارے ہاں مدرسہ ابن عباسؓ گلستانِ جوہر کراچی کی کوششیں بھی بارآور ثابت ہو رہی ہیں، ہمارے جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اب تک یہ سلسلہ غیر رسمی طور پر جاری تھا، اب جامعہ کی مجلسِ تعلیمی نے درجہ ثانیہ تا دورہ حدیث تمام طلبہ کے لیے احادیث کی مقررہ مقدار کا حفظ لازم قرار دے کر اسے امتحانی نظم کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اچھے نتائج کی امید ہے، بعض دیگر اداروں میں بھی اس نوعیت کی محنت کی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام مساعی کو ثمرہ آور اور نتیجہ خیز بنائے۔ 
۵:- شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ نے حفظِ حدیث کے لیے ’’ریاض الصالحین‘‘ کی تجویز پیش فرمائی ہے، بہتر ہوگا کہ اس سے قبل امام نووی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’اربعینِ نووی‘‘ اور اس نوع کے کسی مجموعہ یا حسبِ ضرورت اس نوعیت کی احادیث کا انتخاب کرکے حفظ کرایا جائے، اگلے مرحلے میں ’’ریاض الصالحین‘‘ اور پھر’’موطا مالک‘‘ و ’’کتبِ صحاح ‘‘ کا حفظ عمل میں لایا جائے، بہرکیف احادیث وکتب کے انتخاب میں طلبہ کے مستویٰ کی رعایت رکھتے ہوئے درجہ بندی ضروری ہے۔  
۶:- شمائل النبي صلی اللہ علیہ وسلم للإمام الترمذي، باب ماجا في صفۃ سیف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص: ۱۰۶، رقم الحدیث: ۱۰۸، تحقیق: الدکتور ماھر الفحل دارالمنہاج القویم، دمشق، شام، ۱۴۴۲ھ۔
۷:- الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، للخطیب البغدادي رحمہ اللہ، باب آداب الطلب، ص:۵۱-۵۳۔ دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، طبعۃ أولٰی، ۱۴۱۷ھ-۱۹۹۶ء
۸:- الإلماع للقاضي عیاض رحمہ اللہ، باب في شرف علم الحدیث وشرف أھلہ، ص:۲۸، تحقیق السید أحمد صقر رحمہ اللہ ، دارالتراث ، قاہرۃ، مصر، طبعۃ أولٰی، ۱۹۶۹ء
۹:- ترتیب المدارک وتقریب المسالک للقاضي عیاض رحمہ اللہ ، ترجمۃ: أبي جعفر أحمد بن نصر الداودي الأسدي ، ج:۲، ص:۲۲۸، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان۔
اس موضوع پر ندوۃ العلماء (لکھنو، انڈیا) کے استاذ الحدیث مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی حفظہ اللہ کی کتاب ’’علم بلااستاذ اور اس کے خطرات‘‘  مفید ہے، جس کا پہلا ایڈیشن ادارہ احیائے علم ودعوت (لکھنو) سے محرم ۱۴۳۷ھ/ اکتوبر ۲۰۱۵ء میں شائع ہوچکا ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے