بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

سعودیہ میں قید زید حامد کون؟

 

سعودیہ میں قید زیدحامد کون؟      

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

معاصر اخبار روزنامہ جنگ کراچی ۱۴؍ رمضان المبارک ۱۴۳۶ھ مطابق ۲؍جولائی۲۰۱۵ء بروز جمعرات کی اشاعت میں دو کالمی خبر چھپی ہے کہ زید حامدلال ٹوپی والے کو سعودی عرب میں ۸؍ سال قیدہزار کوڑوں کی سزا۔ حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی پر مملکت کا دشمن قرار۔ انسداد دہشت گردی قانون کے تحت سزا۔ سعودی قانون کے مطابق زید حامد کو بیس ہفتوں تک ہر ہفتے ۵۰؍ کوڑے مارے جائیں گے، خبر کی تفصیل ملاحظہ ہو: ’’اسلام آباد (عامر میر) متنازع تجزیہ کار زید حامد کو سعودی عدالت نے انسدادِ دہشت گردی کے نئے سخت قوانین کے تحت آٹھ برس قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنادی، یہ قوانین حکومت نے گزشتہ سال متعارف کرائے تھے جس میں دہشت گردی کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچانے ، امن عامہ کو متأثر کرنے اور معاشرے کے تحفظ کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں شامل کیا گیا تھا۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے حلقوں کو زید حامد کو دی گئی سزا کی نوعیت کے بارے میں زیادہ علم نہیں۔ باخبر سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کو سعودی حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی کے باعث مملکت کا دشمن قرار دینے کے بعد سزا دی گئی ہے۔ سعودی قانون کے مطابق زید حامد کو ۲۰؍ ہفتوں تک ہر ہفتہ ۵۰؍ بار کوڑے مارے جائیں گے۔ زید کو جون میں مکہ مکرمہ کے نجی دورے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، ان کی دوسری اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ زید کو ایک سعودی شہری کی شکایت پر گرفتار کیا تھا، جس نے یمن سعودی تنازع میں اس کی متنازع تقریر کی اطلاع حکام کو دی تھی۔ زید کو اپریل۲۰۱۴ء میں جاری کردہ نئے سعودی قانون کے آرٹیکل ۲،۳،۶،۸،۹،اور۱۱ کے تحت سزا سنائی گئی۔‘‘                   (روزنامہ جنگ کراچی، جمعرات، ۱۴؍ رمضان المبارک۱۴۳۶ھ، ۲؍جولائی ۲۰۱۵ئ) زید حامد کون ہے؟ اس کا مکمل تعارف کیا ہے؟ اس کے نظریات کیا ہیں؟ ماضی میں کن لوگوں سے یہ وابستہ رہا ہے؟ مستقبل کے بارہ میں اس کے کیا خطرناک ارادے تھے؟ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ مخالف کیوں ہے؟ حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدvکو یہ دھمکیاں کیوں دیتا رہا؟ اور حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدv کے قتل میں اس کو کیوں نامزد کیا گیا؟ ان تمام سوالات کا جواب از سرنولکھنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ راقم الحروف کے ایک کرم فرما جو سعودی عرب جدہ میں قیام پذیر ہیں، ان کا فون آیا کہ یہ زید حامد کون ہے؟ اس کے بارہ میں کچھ معلومات ہمیں فراہم کریں، تاکہ ہم اپنے سائلین کو اس کے بارہ میں آگاہ کرسکیں۔ اسی طرح اور کئی محبین اور دوستوں کی رائے ہوئی اور ان کا برابر اصرار رہا کہ اس کے بارہ میں لوگوں کو آگاہی دی جائے، تاکہ ان کو بھی اس کے فتنے کو سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق ہو۔ ماہنامہ بینات کے مستقل قارئین تو شاید جانتے ہی ہوں گے، لیکن بہت سے نئے قارئین بینات اور عوام خصوصاً نئی نسل کوبھی شاید اس کے بارہ میں مکمل آگاہی نہ ہو، اس لیے ان حضرات کی آگاہی کے لیے کسی قدر حک واضافہ کے بعد شہید ِناموس رسالت حضرت اقدس مولانا سعید احمد جلال پوری نور اللہ مرقدہٗ کی تحریر نقل کی جاتی ہے، حضرت جلال پوری شہیدv لکھتے ہیں: ’’بہرحال ذیل میں ہم زید حامد کا تعارف، اس کے یوسف کذاب سے تعلق، اس کی صحابیت، اس کی خلافت، اس کی زندگی کے انقلابات اور قلا بازیوں کی مختصر روئیداد عرض کرنا چاہیں گے، لیجئے پڑھئے اور سر دھنیئے: ۱:… زید حامد کے زمانہ طالب علمی کے اور شروع کے دوستوں کا کہنا ہے کہ زید حامد کا اصل نام زید زمان حامد ہے۔ اس کا باپ فوج کا ریٹائرڈ کرنل تھا، اس کا نام زمان حامد تھا۔ پی ای سی ایچ سوسائٹی کراچی کے علاقہ نرسری میں اس کی رہائش تھی۔ ۱۹۸۰ء میں حبیب پبلک اسکول سے میٹرک کی، اسکول کی تعلیم کی تکمیل کے بعد اس نے کالج میں داخلہ لیا، کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے ۱۹۸۳ء میں این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ لیا، این ای ڈی سے اس نے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ جس زمانہ میں وہ این ای ڈی میں داخل ہوا، ایک ماڈرن نوجوان تھا، لیکن بہت جلد ہی اس کا اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ تعلق ہوگیا اور اسلامی جمعیت طلبہ کے سرگرم کارکنوں میں سے شمار ہونے لگا۔ زید حامد جمعیت کے دوسرے کارکنوں کے مقابلہ میں نسبتاً لمبی داڑھی، سر پر پخول پہنے، سبز افغان جیکٹ کلاشنکوٹ زیب تن کیے دکھائی دیتا تھا۔ زید زمان شروع سے غیر معمولی ذہین و ذکی تھا، ان دنوں چونکہ جہاد افغانستان کا دور تھا، اس لیے تحریکی ذہن کا یہ نوجوان بھی عملی طور پر جہاد افغانستان کے ساتھ منسلک ہوگیا اور بڑھتے بڑھتے اس کا جہاد افغانستان کے بڑے لوگوں جلال الدین حقانی، حکمت یار اور احمد شاہ مسعود سے تعلق ہوگیا اور عملی جہاد اور گوریلا جنگ کے تجربات کا حامل قرار پایا۔ اردو اس کی مادری اور انگلش اس کی تعلیمی زبان تھی، جبکہ پشتو اور فارسی اس نے افغانستان میں رہ کر سیکھی تھی، اس لیے وہ اردو، انگلش، پشتو اور فارسی بے تکلف بولنے لگا۔ اسی دوران اس کو جلال الدین حقانی، حکمت یار اور احمد شاہ مسعود سے نہ صرف تقرب حاصل ہوگیا، بلکہ حکمت یار اور ربانی کے پاکستانی دوروں کے موقع پر وہ ان کا ترجمان ہوتا تھا۔ اسی طرح دوسرے جہادی اور تحریکی راہنمائوں سے بھی اس کے قریبی مراسم ہوگئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد یہ برنکس نامی ایک سیکورٹی کمپنی کا منیجر بن کر ۱۹۹۲ء میں کراچی سے راولپنڈی چلا گیا، پھر کچھ عرصہ بعد اس نے برنکس کمپنی چھوڑکر براس ٹیکس کے نام سے اپنی کمپنی بنائی اور اسی کے نام سے ویب سائٹ بھی ترتیب دی، آج کل اس کی تمام سرگرمیاں اسی کمپنی اور ویب سائٹ کی مرہون منت ہیں۔ ۲:… یوسف کذاب کے مقرب خاص اور زید حامد کے دوست رضوان طیب کے بھائی منصور طیب کا فرمانا ہے کہ: میں زید حامد کو اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کا یوسف علی سے تعلق نہیں تھا، زید حامد ۸۹،۱۹۸۸ء کے انتخابات میں بہت سرگرم تھا۔ ۱۹۸۹ء میں اس نے ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا اور اس کے لیے ایک ویڈیو فلم بھی تیار کی۔ اس نمائش کا اہتمام سوسائٹی کے علاقہ میں مختلف مقامات پرکیا گیا۔ اس زمانہ میں یہ مختلف جہادی راہنمائوں کے ترجمان کی صورت میں نظر آتا تھا۔ ہم اس کی شخصیت سے بہت متاثر تھے، اور یہ اپنے آپ کو ایک بہت بڑا جہادی راہنما سمجھتا تھا۔ اس زمانہ میں اس نے افغان جہاد کے حوالے سے ایک ویڈیو فلم ’’قصص الجہاد‘‘ بھی تیار کی۔ ۱۹۹۳ء میں جہاد افغان ختم ہوگیا، تو یہ وہ دور تھا کہ اس نے تمام مجاہد راہنمائوں کو گالیاں دینا شروع کردیں۔ ۹۴،۱۹۹۳ء میں زید حامد لاہور سے اپنے ساتھ یوسف کذاب کو لے آیا اور اس کو سوسائٹی کے علاقہ کے تحریکی ساتھیوں سے متعارف کرایا اور کہا کہ یہ ایک بزرگ ہے جو صرف ذکر کی بات کرتا ہے، اگر کوئی سوا لاکھ درود شریف کا ورد کرے گا تو اس کو نبی اکرم a کی زیارت اور دیدار ہوگا۔ میرے بڑے بھائی رضوان طیب‘ یوسف علی سے منسلک ہوگئے اور ان کے خاص مقربین میں شامل ہوگئے، اس وجہ سے یوسف علی اور زید حامد میرے گھر آتے تھے۔ زید زمان جس کا پہلے سے ہمارے گھر آنا جانا تھا، یوسف علی کو ہمارے گھر لے آیا۔ اس زمانہ میں اسلامی جمعیت اور جماعت اسلامی سے متأثر تین درجن سے زائد افراد اس سے متأثر ہوئے۔ میرے بھائی تو اس حد تک متاثر ہوئے کہ انہوں نے ہماری دکان کا ایک حصہ بیچا اور یوسف کذاب کو ایک گاڑی خرید کردی اور لاکھوں روپے نقد دیئے۔ زید حامد یوسف کذاب کا مقرب اول تھا، اس لیے پیسوں کی وصولی وہ کرتا تھا۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ زید زمان نے خود اپنی جیب سے ایک ہزار روپے بھی نہیں دیئے ہوں گے۔ زید حامد نے مجھے یوسف کذاب کے نظریات پر مبنی پمفلٹ دیئے اور مختلف مساجد کے باہر تقسیم کرنے کو کہا، لہٰذا اس کا یہ کہنا کہ میں کسی یوسف علی کو نہیں جانتا محض جھوٹ اور فریب ہے۔‘‘                                                           (راہبر کے روپ میں راہزن) واضح رہے کہ ابوالحسین یوسف علی جس کا نام اوپر آیا ہے، یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا، اور جیل ہی میں ایک قیدی نے اس کو واصل جہنم کیا۔ اس کی نعش کو پہلے راولپنڈی میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا، مسلمانوں کے احتجاج کے بعد اس کو وہاں سے نکال کر قادیانیوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی دامت برکاتہم نے اس کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا، عدالت نے مکمل تحقیق کے بعد اس کو مجرم ثابت کرتے ہوئے موت کی سزا سنائی۔ یہ اس وقت کا زید زمان اور آج کا زید حامد برابر اس کیس کی پیروی کرتا رہا، ہر پیشی پر عدالت میں موجود ہوتا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان ہے کہ: ’’یوسف کذاب نے نہ صرف جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ اہانت رسول کا بھی ارتکاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کے حکم پر بندہ نے کذاب کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرایا۔ کذاب کے چیلوں میں سرفہرست دو نام تھے: ایک کا نام سہیل احمد خان، دوسرے کا نام زید زمان تھا، جنہیں کذاب اپنا صحابی کہتا تھا۔ کذاب کے ساتھ عدالت میں جو لوگ آتے تھے ان میں بھی سرفہرست مذکورہ بالا دونوں افراد تھے۔ مذکورہ بالا افراد نے ترغیب و ترہیب غرض ہر لحاظ سے کوشش کی کہ بندہ کیس سے دستبردار ہوجائے۔ اللہ پاک کی دی ہوئی استقامت کے ساتھ مقابلہ جاری رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ کیس کی سماعت کے دوران زید زمان یوسف کذاب کے محافظین میں رہا، بلکہ کیس کی سماعت کے دوران جب بندہ کا بطور مدعی بیان جاری تھا اور کذاب کا وکیل بندہ پر تابڑ توڑ حملے کررہا تھا اور وہ کیس سے غیر متعلقہ سوال کررہا تھا تو بندہ نے کہا کہ: آپ کیس سے متعلق سوال کریں، غیر متعلقہ سوال نہ کریں تو عدالت نے مجھے کہا کہ: وکیل جو سوال کرے، آپ کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ اس دوران ایک سوال صحابی سے متعلق بھی ہوا کہ صحابی کی کیا تعریف ہے؟ بندہ نے تعریف بتلائی، اتفاقاً اس روز زید زمان سوٹ میں تھا، پینٹ، شرٹ اور ٹائی زیب تن کی ہوئی تھی، بندہ نے عدالت سے کہا کہ آپ نے صحابہ کرام sکی سیرت کا مطالعہ کیا ہوگا، ایک رحمت عالم a کے صحابہ کرامs تھے جو آپa کی سیرت طیبہ کا پر تو تھے، ان کی وضع قطع، چال ڈھال، لباس میں سیرت طیبہ نظر آتی تھی۔ نعوذباللہ! ایک یہ صحابی ہیں جن کا لباس اور وضع قطع دیکھ کر علامہ اقبال v یاد آتے ہیں، علامہؒ نے فرمایا: وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود اس پر زید زمان بہت شرمندہ ہوا ۔ زید زمان یوسف کذاب کی موت تک اس کا چیلہ بنا رہا، حتیٰ کہ جب کذاب کی میت کو اسلام آباد کے مسلمانوں کے قبرستان سے نکالا گیا، تب بھی اس کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں۔‘‘                                                     (راہبر کے روپ میں راہزن) راشدقریشی کی تصنیف کردہ کتاب’’فتنۂ یوسف کذاب‘‘ کے صفحہ نمبر:۴۲۷؍ پر لکھا ہے کہ:  ’’یوسف کذاب ... نے اپنی غیر موجودگی میں برنکس کمپنی اسلام آباد کے منیجر زید زمان کو خلیفہ اول مقرر کردیا ہے اور تمام چیلوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زید زمان کے احکامات کے مطابق کام کریں۔ زید زمان کو اس سے قبل ۲۸؍فروری کو کذاب یوسف کی نام نہاد ورلڈ اسمبلی آف مسلم یونٹی کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں خصوصی طور پر بلایا گیا تھا اور تقریباً ۱۰۰؍ افراد کی موجودگی میں کذاب نے اسے صحابی قرار دیتے ہوئے ...نعوذباللہ... حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا خطاب دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے زید زمان کو حقیقت عطا کردی ہے۔ اس پروگرام کی آڈیو کیسٹ بھی تیار ہوئی، جو پولیس کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور مقدمہ کا حصہ ہے۔ اس اجلاس میں صحابی قرار پانے کے بعد زید زمان نے تقریر کی اور کذاب یوسف کی تعریف اور عظمت میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے تھے۔ زید زمان ان دنوں کذاب یوسف کی رہائی کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور عدالت میں ہر تاریخ پر موجود ہوتا ہے۔‘‘                       (فتنہ یوسف کذاب،۴۲۷) الغرض یوسف کذاب کو بچانے، اس کے مقدمہ کی پیروی، اس کی حفاظت، اس کو بیرون ملک فرار کرانے اور امریکی قونسل خانہ تک اپروچ کرنے اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ جیسے مختلف حوالوں سے اس کا نام اور کام نمایاں طور پر رہا۔ یوسف کذاب کے قتل کے بعد یہ زیر زمین چلاگیا، کئی سال کے بعد جب یہ زید حامد کے نام سے ٹی وی پر آنے لگا تو کافی نوجوان اس سے متأثر ہوئے اور انہوں نے کئی ایک علماء کرام سے دریافت کیا کہ یہ زید حامد کون شخص ہے؟ تو اس کے جواب میں حضرت جلال پوری شہیدؒ نے لکھا کہ: ’’کل کا زید زمان آج کا زید حامد ہے، اور یہ بدنام زمانہ اور مدعی نبوت یوسف کذاب کا خلیفہ اول ہے، جو یوسف کذاب کے واصل جہنم ہونے کے بعد ایک عرصہ تک منقار زیر پَر اور خاموش رہا، جب لوگ، ملعون یوسف کذاب اور اس کے ایمان کُش فتنہ کو قریب قریب بھول گئے تو اس نے زید حامد کے نام سے اپنے آپ کو منوانے اور متعارف کرانے کے لیے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے معاملہ کرکے اپنی زبان و بیان کے جوہر دکھلانا شروع کردیئے اور بہت جلد مسلمانوں میں اپنا نام اور مقام بنانے میں کامیاب ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال یہ سب کچھ اس کی چرب لسانی،تُک بندی اور جھوٹی سچی معلومات کا کرشمہ ہے، ورنہ زید حامد کے پس منظر میں جھانک کر دیکھا جائے تو یہ ملعون یوسف کذاب کے عقائد و نظریات کا علمبردار اور اس کی فکر و سوچ کا داعی و مناد ہے ...اور ایسا کیوں نہ ہو کہ چشم بددور! یہ اس کا صحابی، خلیفہ، اس کا معتمد خاص، اس کا سفر و حضر کا ساتھی، مشکل وقت میں اس کا معاون و مددگار، اس کے مقدمہ اور کیس کی پیروی کرنے والا اور طرف دار رہا ہے۔ کسی آدمی کا اچھا مقرر ہونا، عمدہ تجزیہ نگار ہونا، وسیع معلومات سے متصف ہونا، کسی کی چرب زبانی اور طلاقت لسانی ،اس کے ایمان دار ہونے کی علامت اور نشانی نہیں ہے، کیونکہ بہت سے باطل پرست ایسے گزرے ہیں، جو ان کمالات سے متصف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ مسلمان نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ان کمالات و اوصاف کو اپنے کفر، الحاد اور باطل نظریات کی اشاعت و تبلیغ اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، صرف ایک صدی پیشتر متحدہ ہندوستان کے غلیظ فتنہ، فتنہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی ابتدائی زندگی کا جائزہ لیجئے تو اندازہ ہوگا کہ شروع شروع میں اس نے بھی اپنے آپ کو مسلمانوں کا نمائندہ ، اسلام کا ترجمان اور آریوں اور عیسائیوں کے خلاف مناظر باور کرایا تھا، مگر یہ سب کچھ ایک خاص وقت اور ایک خاص مقصد کے لیے تھا ... وہ یہ کہ کسی طرح مسلمانوں میں اس کا نام اور مقام پیدا ہوجائے، اور بحیثیت مسلمان اس کا تعارف ہوجائے، مسلمان اس کے قریب آجائیں اور مسلمانوں کا اس پر اعتماد بیٹھ جائے، چنانچہ جب اس نے محسوس کیا کہ ان مناظروں اور مباحثوں سے اس کے مقاصد حاصل ہوگئے ہیں، تو اس نے اپنے باطل افکار و نظریات کا اظہار کرکے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کردیئے، اس کے بعد اس نے جو گل کھلائے، وہ کسی باخبر انسان اور ادنیٰ مسلمان سے مخفی اور پوشیدہ نہیں۔ ٹھیک اسی طرح زید حامد بھی ایک خاص حکمت عملی کے تحت یہ سب کچھ کررہا ہے، لہٰذا جس دن اس کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس کا مقصد پورا ہوگیا ہے، یا مسلمانوں میں اس کا اعتماد، مقام اور تعارف ہوگیا ہے، یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اپنے پوشیدہ افکار و عقائد کا اظہار و اعلان کردے گا۔ جب یہ بات طے ہے کہ کل کے زید زمان اور آج کے زید حامد نے یوسف علی کذاب کے عقائد و نظریات سے توبہ نہیں کی، بلکہ وہ آج بھی اس کے خلاف عدالتی فیصلہ کو انصاف کا خون کہتا ہے تو یقینا آج بھی وہ کذاب یوسف علی کی روش، اس کے مشن اور عقائد و نظریات کا حامی و داعی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کل تک وہ کھل کر اس کا جانبدار اور وکیل صفائی تھا، مگر اب وہ حالات کا دھارا دیکھ کر وقتی اور عارضی طور پر اس کی وکالت و ترجمانی سے کنارہ کش، خاموش اور حالات کے سازگار ہونے کا منتظر ہے۔‘‘ چنانچہ حضرت جلال پوری شہیدv نے اپنے مضمون میں صاف طور پر لکھا کہ: ’’جناب زید حامد اور اس سے اخلاص رکھنے والے مسلمانوں کی خدمت میں عرض ہے کہ مجھے نہ تو زید حامد سے کوئی ذاتی پرخاش ہے، اور نہ ہی میرا اس سے کوئی جائیداد یا خاندان کا جھگڑا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میرا آج تک اس سے آمنا سامنا بھی نہیں ہوا، اس لیے اگر وہ آج اپنے ان عقائد و نظریات سے توبہ کرلے، یا کذاب یوسف علی پر دو حرف بھیج دے تو میں اس کو گلے لگانے کو تیار ہوں اور اپنی اس تحریر سے کھلے دل سے رجوع کا اعلان کردوں گا، تاہم جب تک وہ یوسف علی کذاب کے عقائد و نظریات سے منسلک ہے یا اس سے برأت کا اعلان نہیں کرتا، وہ حضور a کا باغی اور غدار ہے اور حضور a کا باغی و غدار‘ اپنے اندر چاہے کتنا ہی خوبیاں اور کمالات کیوں نہ رکھتا ہو، وہ ہمارے اور کسی سچے مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے، اس لیے ناممکن ہے کہ کوئی مسلمان اس کو اپنا یا مسلمانوں کا نمائندہ اور ترجمان باور کرے۔‘‘ چنانچہ وہ زید حامد اپنے شہرت کے زمانہ میں جس کی فیس بک پر ۶۵ہزار سے زیادہ چاہنے والوں کے نام تھے، حضرت اقدس مولانا سعید احمد جلال پوری شہید نور اللہ مرقدہٗ نے جب اپنے رسالہ ’’راہبر کے روپ میں راہزن‘‘ میں اس کے عقائد اور عزائم کا پردہ چاک کیا، تو اب اس کی حالت یہ ہوگئی کہ یہ جس شہر، جس مقام اور جس کالج یا یونیورسٹی میں جاتا تو طلبہ ان سے ایک ہی سوال کرتے کہ تقریر تجھے ہم بعد میں کرنے دیں گے، پہلے تم یہ بتاؤ کہ تمہارا یوسف کذاب سے تعلق تھا یا نہیں؟ تو ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مصداق یہ غصے میں آپے سے باہر ہوجاتا اوروہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا، تو یہ حضرت جلال پوری شہید نور اللہ مرقدہٗ کے خلاف ہوگیا، اپنے فون سے خود بھی اور اس وقت کے اس کے پرسنل سیکرٹری جناب عماد خالد صاحب کے فون نمبر سے اور ان کے ذریعہ سے دھمکیاں دینے لگا، حتیٰ کہ اس نے ایک ویڈیو میں پچاس منٹ تک مختلف انداز میں حضرت جلال پوری شہیدv کوڈرایا، دھمکایااور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خلاف زہر اگلا تو اس کے چند دنوں کے بعد حضرت جلال پوریv کی شہادت کا سانحہ پیش آگیا، اسی بنا پر ایف آئی آر میں اس کو اور عماد خالد کو نامزد کیا گیا۔ بعد میں یہی عماد خالد اس سے منحرف ہوا تو اس نے اور انکشافات کرنے کے علاوہ یہ بھی انکشاف کیا کہ حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدv کی شہادت میں اس کا ہاتھ تھا اور اس نے ویڈیو کے ذریعہ زید حامد سے کہاکہ : ’’جلالپوری شہیدؒ تمہیں سمجھ گئے تھے، اس لیے تم نے ان کو قتل کروایا۔ اور تم نے میرے سامنے اقرار کیاکہ یار کراچی میں کیا مسئلہ ہے، ایک بندہ مروانا ۔۔۔۔۔۔۔ ستر ہزار روپے دو اور مروادو بندہ۔ میں قرآن پر ہاتھ رکھتا ہوں، آج میں قرآن ساتھ نہیں لایا کہ بے حرمتی نہ ہو، غلط تأثر نہ جائے کہ میں قرآن کا سہارا لے رہا ہوں جھوٹ بولنے کے لیے نعوذ باللہ! لیکن جب مجھے کسی عدالت میں بلایاجائے گا، جب مجھے قرآن اٹھانے کے لیے بلایا جائے گا، جو مجھے کہنے کے لیے بلایا جائے گا میں حق سچ کہوں گا۔‘‘          (ویڈیوپریس کانفرنس، ۲۰نومبر۲۰۱۳ئ، جیونیوز) بہرحال پاکستانی قانون کے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق پولیس اسے گرفتار کرتی، عدالت میں اس کو پیش کرتی اور عدالت مکمل تحقیق اور تفتیش کے بعد قانون کے مطابق اس سے سلوک کرتی اورفیصلہ کرتی، لیکن آج حضرت جلال پوری شہیدv کی شہادت کو پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا، پولیس نے اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ اس سے کوئی باز پرس کی گئی، لیکن شہدائے ختم نبوت کا خون تھا، جو بالآخر رنگ لایا، جس کے بہنے اور گرنے نے اپنا اثر دکھایا۔ حرمین شریفین کی مقدس سرزمین کو بھی جب یہ اپنے غلط نظریات اور معتقدات سے آلودہ کرنے لگا تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور یہ سعودیہ کی جیل میں جاپہنچا۔ اب تو پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات جناب پرویز رشید صاحب نے بھی اعتراف کیا ہے اور اپنے بیان میں غیر مبہم الفاظ میں فرمادیا ہے کہ زید حامد کے منہ سے خیر نہیں ہمیشہ شر کا لفظ سنا، پاکستان ان کا شربرداشت کرتا رہا، دوسرا ملک کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ خبر کی تفصیل ملاحظہ ہو: ’’ لاہور(خصوصی نمائندہ مانیٹرنگ سیل) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویزرشید نے کہا ہے کہ میں نے زید حامد کے منہ سے ہمیشہ شر کا لفظ سنا، کبھی خیر کی بات نہیں سنی۔ وہ پاکستان میں بھی اپنا شر لے کر گھومتے رہتے تھے، پاکستان ان کا شر برداشت کرتارہا، دوسرا ملک کسی غیر ملکی کی مداخلت کیسے برداشت کرسکتا ہے؟! پاکستان بھی کسی غیر ملکی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ زید حامد کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں سینیٹر پرویزرشید نے کہا کہ مجھے اس بات پر شرم محسوس ہوتی ہے کہ دوسرے ممالک کو پاکستانیوں سے شکایت پیدا ہو۔ ہر ریاست کا اپنا ایک نظام ہے اور کوئی ملک نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرے ملک کا کوئی شہری آکر اس کو سمجھائے۔ کسی پاکستانی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔ زید حامد کے حوالے سے وزارتِ خارجہ سعودی عرب سے رابطے میں ہے۔ زید حامد کے شرکو پاکستان بھی برداشت کرتا رہا اور نقصان اٹھاتا رہا ہے اور اب وہ یہی کام دوسرے ممالک میں کررہے ہیںجو کہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔‘‘(روزنامہ جنگ، کراچی، اتوار۱۷؍ رمضان المبارک۱۴۳۶ھ، ۵جولائی ۲۰۱۵ئ) اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسولa کے باغیوں کے بارہ میں قرآن کریم میں صاف فرمایا ہے کہ: ۱:…’’وَأُمْلِیْ لَہُمْ إِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ۔‘‘                                    (القلم:۴۵) ترجمہ:’’اور (دنیا میں عذاب نازل کرڈالنے سے)ان کو مہلت دیتا ہوں، بے شک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔‘‘ ۲:…’’إِنَّ اللّٰہَ لَایَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّلٰکِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ۔‘‘    (یونس:۴۴) ترجمہ:’’یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لیکن لوگ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کردیتے ہیں۔‘‘ ۳:…’’وَکَذٰلِکَ أَخْذُ رَبِّکَ إِذَا أَخَذَ الْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَۃٌ إِنَّ أَخْذَہٗ أَلِیْمٌ شَدِیْدٌ۔‘‘ (ہود:۱۰۲) ترجمہ:’’اور آپ کے رب کی داروگیر ایسی ہی ہے جب وہ کسی بستی پر داروگیر کرتا ہے، جبکہ وہ ظلم کیا کرتے ہوں، بلاشبہ اس کی داروگیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے۔‘‘ ۴:…’’وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ۔‘‘(الم سجدہ:۲۱) ترجمہ:’’ اور ہم ان کو قریب کاعذاب بھی اس بڑے عذاب سے پہلے چکھا دیںگے، تاکہ وہ لوٹ آویں۔‘‘ اگر پاکستانی گورنمنٹ اول روز سے ہی اس پر گرفت کرتی اور قانون کے مطابق اس سے سلوک کرتی تو آج اُسے یہ خفت نہ اٹھانی پڑتی کہ اس کے ملک کا باشندہ سعودی حکومت کے دہشت گردی قانون کی زد میں آکر گرفتار ہوتا، اس لیے حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ آج اگر وہ عدل وانصاف کو قائم نہیں کریں گے تو آخرت کی خجالت، شرمندگی، ذلت اور سخت گرفت سے پہلے دنیا کا کوئی قانون بھی زید حامد کی طرح حکمرانوں کو اپنے ذلت آمیز شکنجے میں کس سکتا ہے۔ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِأُوْلِیْ الْأَبْصَارِ۔

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے