بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

زندگی کے ہر شعبہ میں سچ بولنے کی ضرورت

زندگی کے ہر شعبہ میں سچ بولنے کی ضرورت

 

سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں طورپر تسلیم کی گئی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی، اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں اس کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے، اور بار بار سچ بولنے کی تاکید کی گئی ہے، چنانچہ محسنِ انسانیت، نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیشہ سچ بولتے تھے، حتیٰ کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ورسول نہ ماننے والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سچائی اور امانت داری سے متاثر ہوکر آپ کو صادق اور امین جیسے القاب سے نوازا تھا۔ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ابوجہل بھی تسلیم کرتا تھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تاکید فرمائی۔ حضرت ابراہم  علیہ السلام  کے متعلق فرمانِ الٰہی ہے: 
’’اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو، بے شک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے۔‘‘          (مریم: ۴۱) 
حضرت یوسف  علیہ السلام  کے بارے میں قرآن کریم میں ہے: 
’’(اصل قصہ یہ ہے کہ) میں (حضرت زلیخا) نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور وہ (حضرت یوسف  علیہ السلام ) بے شک سچا ہے۔ ‘‘                                (یوسف: ۵۱) 
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی پوری انسانیت کو متعدد مرتبہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘                 (التوبۃ: ۱۱۹)
اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے: 
’’آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔‘‘     (المائدۃ: ۱۱۹)
اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: 
’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتے جو اسراف کرنے والے ہیں اور جھوٹے ہیں۔‘‘ (المؤمن :۲۸) 
چونکہ جھوٹ کے نتائج سخت مہلک اور خطرناک ہیں، اور جھوٹ بولنے والے کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہتے، اسی لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹ بولنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان فرمائیں، حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 
’’سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچے رہو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘  (بخاری ومسلم) 
سچ بولنے کی کیسی عظیم اہمیت ہے کہ انسان اپنی سچائی کے ذریعہ جنت میں داخل ہوسکتا ہے، جو ہر انسان کی پہلی اور آخری خواہش ہے، جبکہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے انسان کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں جلنا ہوگا، اگر موت سے قبل حقیقی توبہ نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ دوزخ سے بچ جائے۔ قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جنت کے حصول اور جہنم سے نجات کے لیے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے دیگر احکام کو بجالاکر سچ بولنے کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔ حضرت حکیم بن حزام  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 
’’فروخت کرنے والے اور خریدار کو اختیار ہے جب تک وہ مجلس سے جدا نہ ہوں۔ اگر دونوں نے حقیقت کو نہ چھپایا اور سچ بولا تو ان کی خریدوفروخت میں برکت ڈال دی جائے گی اور اگر حقیقت کو چھپایا اور جھوٹ بولا تو بیع کی برکت ختم کردی جائے گی۔‘‘ (بخاری ومسلم) 
اِن دنوں ہم نے تجارت کو خالص دنیاداری کا کام سمجھ لیا ہے، اس لیے ہمارا یہ ذہن بن گیا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی کے بغیر اب تجارت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ اگر تجارت اللہ کے خوف کے ساتھ کی جائے اور کسی کو دھوکہ دینے کی غرض سے نہیں بلکہ سچائی اور امانت داری کو اپنا معمول بناکر کی جائے اور ناجائز کاموں سے پرہیز کیا جائے تو یہی تجارت عبادت بنے گی اور حلال تجارت کے ذریعہ حاصل شدہ رقم کو اپنے اور گھر والوں کے اوپر خرچ کرنے پر اجرِ عظیم ملے گا اور اس کی وجہ سے ہمیں آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی، ان شاء اللہ! جیساکہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
’’جو تاجر سچا اور امانت دار ہو وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔‘‘
لہٰذا ہمیں کاروبار میں بھی کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔
آخری حدیث میں بیان کیا گیا کہ خریدو فروخت کرنے والوں کو مجلس سے جدا ہونے سے قبل اپنے فیصلہ سے رجوع کرنے یعنی خریدو فروخت کو منسوخ کرنے کا حق رہتا ہے، لیکن مجلس سے جدا ہونے کے بعد خریدو فروخت مکمل ہوجاتی ہے، اب بیچنے والے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں اس چیز کو نہیں بیچنا چاہتا یا خریدار کہے کہ میں اس چیز کو خریدنا نہیں چاہتا۔ ہاں دونوں اپنی رضامندی سے اس ڈیل کو ختم کرسکتے ہیں۔اگر بیچنے والا چیز کے قابلِ ذکر عیوب کو چھپاکر کوئی چیز فروخت کرے یا خریدنے والا دھوکہ دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو خرید وفروخت میں کیسے برکت ہوسکتی ہے؟! اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خرید وفروخت میں بھی جھوٹ کا سہارا نہ لیں، بلکہ ہمیشہ سچ ہی بولیں۔ ہمارے اسلاف نے ہمیشہ سچ بول کر تجارت کی، اس لیے ہر میدان میں کامیاب ہوئے۔ شہر مکہ مکرمہ کی مشہور تاجرہ حضرت خدیجہ  رضی اللہ عنہا  نے سب سے افضل بشر حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تجارت میں دیانت داری کو دیکھ کر ہی تو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ 
حضرت حسن بن علی  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ مجھے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ باتیں یاد ہیں: 
’’جو بات شک میں مبتلا کرے، اس کو چھوڑ دو اور اس کو اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک ہے۔‘‘                                      (ترمذی) 
یعنی جس کے حلال ہونے میں شک ہو اس کو چھوڑ دو اور اس کو اختیار کرو جس میں کوئی شک وشبہ نہ ہو۔ اور ہمیں جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے، صرف اور صرف سچ ہی بولنا چاہیے۔ ایک جھوٹ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے متعدد جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، لہٰذا ہم صرف سچ بات ہی کہیں۔ 

سچ بولنے کا بہترین بدلہ

سچ بولنے پر بہترین بدلہ ملنے کے متعدد واقعات کتابوں میں موجود ہیں۔ قرآن وحدیث میں مذکور ایک واقعہ پیش ہے:
 ۹ ہجری میں واقع ہونے والے غزوۂ تبوک میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ شامل نہ ہونے والے تین حضرات: حضرت کعب بن مالک، حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم  ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے غیرحاضری کے متعلق سوال فرمایا تو انہوں نے جھوٹ سے گریز کرتے ہوئے تمام صورت حال سچ سچ عرض کردی، اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عنایت فرمائی کہ ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت کعب  رضی اللہ عنہ  کو اس عظیم نعمت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا: ’’تمہیں اس دن کی خوشخبری جو کہ تمہاری والدہ کے جنم دینے کے دن سے لے کر آج تک کے تمام دنوں سے تمہارے لیے بہترین ہے، لیکن جن لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بولا، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق سورۃ التوبہ میں آیات نمبر:(۹۴-۹۶) نازل فرمائیں جوکہ پانچ دنیوی واخروی سزاؤں سے متعلق ہیں:
۱:- ان کے ساتھ قطع تعلق کا حکم: ’’فَأَعْرِضُوْا عَنْہُمْ‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’ان سے اعراض کرو۔ ‘‘
۲:- ان پر ناپاک ہونے کا حکم: ’’إِنَّہُمْ رِجْسٌ‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’بلاشبہ وہ ناپاک ہیں۔‘‘ حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں:یعنی ان کے باطن اور اعتقادات خبیث ہیں۔ 
۳:- ان کا ٹھکانا جہنم ہونا: ’’وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ علامہ قرطبی ؒ اس کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں : یعنی ان کی منزل اور جگہ (جہنم ہے)۔ 
۴:- اللہ تعالیٰ کا اُن سے راضی نہ ہونا: ’’فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْنَ‘‘۔۔۔۔۔ ’’تو اگر تم ان سے راضی بھی ہوگئے تو یقینا اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتے۔ ‘‘
۵:- ان کو فاسق قرار دینا: علماء فرماتے ہیں کہ ضمیر کے بجائے فاسقین کا لفظ استعمال کیا گیا، تاکہ ان کے بارے میں یہ نشاندہی کی جاسکے کہ وہ اطاعتِ (اِلٰہیہ) سے نکل چکے ہیں اور یہی بات ان پر نازل ہونے والے عذابوں کا سبب بنی۔
حضرت کعب بن مالک  رضی اللہ عنہ  نے سچ بولنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والی نوازشات کا تقابل جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی ناراضگی سے کرتے ہوئے بیان فرمایا: 
’’اللہ کی قسم! اللہ کی توفیق سے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد میری نظر میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے روبرو اس سچ بولنے سے بڑھ کر مجھ پر کوئی احسان نہیں ہوا کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا اور ایسے ہلاک نہیں ہوا جیسا کہ جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوگئے تھے، بذریعہ وحی اس قدر شدید وعید فرمائی کہ اتنی سخت کسی دوسرے کے لیے نہیں فرمائی گئی۔‘‘ 
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس میں سچ کا فائدہ ہے اور جھوٹ کے انجامِ نحوست کی وضاحت ہے۔ سچ بولنے پر تینوں حضرات کو اللہ کی جانب سے توبہ کی توفیق ملی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر منافقین نے جھوٹ کا سہارا لیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وحی کے ذریعہ اُن کے جھوٹے ہونے کے متعلق اطلاع فرمادی تھی، اس لیے ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ 
جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے، اگر ہم نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو اللہ تعالیٰ سے پہلی فرصت میں معافی مانگیں، کیونکہ کبیرہ گناہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے مستقل توبہ ضروری ہے۔ بعض مواقع پر جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے، مثلاً میاں بیوی میں شدید اختلاف ہوگیا ہے، اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے صلح ہوسکتی ہے تو بدرجہ مجبوری اس کی اجازت ہے، لیکن جھوٹ بولنے کی عادت بنانا یا کسی شخص کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے اور اس کے معاشرہ میں بڑے نقصانات ہیں۔ اے اللہ! ہمیں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمااور اس کے ثمرات سے مالا مال فرما۔ جھوٹ اور اس کے زہریلے اثرات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمیں محفوظ فرما، آمین، ثم آمین۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے