بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

بینات

 
 

ریاستِ اسرائیل  ۔۔۔۔ آخری سانسیں

ریاستِ اسرائیل  ۔۔۔۔ آخری سانسیں

اسرائیلی اخبار’’ہارٹیز، ۱۰؍اکتوبر‘‘ میں شائع ہونے والامضمون


معلوم ہوتاہے کہ ہماراواسطہ تاریخ کے مشکل ترین لوگوں سے پڑ گیاہے اور فلسطینیوں کی زمین پر اُن کا ہی حق تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم بندگلی میں داخل ہوچکے ہیں اور اب اسرائیلیوں کے لیے ارضِ فلسطین پر قبضہ کا تسلسل، باہر سے آئے یہودیوں کی آبادکاری اور حصولِ امن ممکن نہیں رہا۔ اور اسی طرح صہیونیت میں تحریکِ تجدید، تحفظِ جمہوریت اور مملکت میں آبادی کاپھیلاؤ بھی اب مزید نہیں چل پائیں گے۔ ان حالات میں اس ملک میں رہنے کا کوئی مزا باقی نہیں رہا اور اسی طرح ’’روزنامہ ہارٹیز‘‘ میں لکھنا بھی بدمزہ ہوگیا ہے اور ’’روزنامہ ہارٹیز‘‘ کے مطالعہ میں بھی اب کچھ کشش باقی نہیں رہی۔ اب ہمیں وہی کرناپڑے گا جو دو سال پہلے ’’روگیل الفار‘‘ نے کیا تھا اور وہ یہ ملک چھوڑ کر باہر چلا گیا تھا۔ 
مملکتِ اسرائیل نے ہمیں اپنی شناخت نہیں دی، کیونکہ ہراسرائیلی شہری اور ہر یہودی کے پاس باہر کے کسی نہ کسی ملک کا پاسپورٹ بھی اس کی جیب میں موجود ہے۔ اور اس کی وجہ کو ئی مجبوری نہیں ہے، بلکہ اسرائیل کا ہر شہری نفسیاتی طور پر اس عمل کے لیے قائل ہے، تب سمجھ لیناچاہیے کہ کھیل ختم ہوچکا ہے اور آپ کو چاہیے اپنے دوستوں کو خداحافظ کہہ کر سان فرانسسکو، برلن یا پیرس کو سدھار جائیں۔ اس طرح جرمن قوم پرستوں میں بیٹھ کر، سرزمینِ امریکہ میں امریکی قوم پرستوں میں بیٹھ کر کم ازکم وہ آرام سے، سکون اور اطمینان سے دیکھ سکے گا۔ 
اسرائیل کی ریاست دم توڑ رہی ہے اوراپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اورقریب المرگ ہے۔ ہمیں لازمی طورپرتین قدم پیچھے ہٹ کر یہودی جمہوری ریاست کے ڈوبنے کے مناظر دیکھنے ہوں گے، کیونکہ مسائل ابھی تک اپنے حل سے کوسوں دورہیں۔
شایدابھی بھی ہم بندگلی سے نکل سکتے ہیں، ابھی بھی ارضِ فلسطین پرقبضہ ختم کیاجاسکتاہے، ابھی بھی مواقع موجودہیں کہ صہیونیت کی تازہ تحریک میں اصلاحات ہوسکیں، ابھی بھی جمہوریت کی بحالی کے امکانات موجودہیں اور ابھی بھی تقسیمِ مملکت ہوسکتی ہے۔ 
میرا دل کرتا ہے کہ میں بن یامین نیتن یاہو، لیب مین اورنیونازیس کی آنکھیں کھولوں اورانہیں صہیونیت کی تباہی و بربادی کا مشاہدہ کراؤں، اور انہیں باورکراؤں کہ ڈانلڈٹرمپ، کوشنر، بائڈن، بارک اوبامااورہلری کلنٹن کبھی ارضِ فلسطین پر یہ قبضہ ختم نہیں ہونے دیں گے، اور اقوامِ متحدہ اوریورپی یونین بھی غیرملکی یہودیوں کی آبادکاری کبھی بھی نہیں روکیں گے۔ 
بس پوری دنیا میں اگر کوئی اسرائیلی سلطنت اور اسرائیلی عوام کو بچاسکتاہے تووہ خود اسرائیلی عوام ہیں، جنہیں ایک نوزائدہ سیاسی معاہدے کے تحت بہرحال تسلیم کرناہوگاکہ اس ارضِ فلسطین کے اصل مالک فلسطینی ہی ہیں اوریہ انہی کا وطن ہے۔ میں اپنے اسی تیسرے راستے کے موقف کوہی پرزورطریقے سے پیش کروں گا، اگر ہم یہاں زندہ رہنا چاہتے ہیں اور مرنا نہیں چاہتے۔ اسرائیلی عوام جب سے فلسطین میں آبادہوئی ہے، تب سے تحریک صہیونیت انہیں تاریخی طورپرجھوٹ بول بول کریہ دھوکادیے چلی جارہی ہےاورصہیونی کارندے ہولوکاسٹ کو غیرمعمولی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بعدسے ملتِ بنی اسرائیل کو بار بار یہ جھوٹ کہتے چلے آرہے ہیں کہ خداوند خدا نے تم سے ارضِ فلسطین کا وعدہ کر رکھا ہے اور ہیکلِ سلیمانی بھی دراصل مسجدِاقصیٰ کے نیچے موجود ہے۔ پس اس طرح ٹیکس کی بھاری رقوم چوس چوس کر بھیڑیے ایٹمی طاقت بن گئے۔ 
اب تو تل اَبیب یونیورسٹی کے محققین اور بہت سے مغربی ماہرین آثارِقدیمہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے ہیکلِ سلیمانی کا وجود ختم ہوچکا اور کہیں بھی اس کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہے۔ آخری دفعہ ۱۹۶۸ء میں برطانوی سکول آف آثارِقدیمہ (British School of Archeology) یروشلم کی ڈائرکٹرکیٹلین کبی نوس نے بھی کھدائی کرکے ہیکلِ سلیمانی کے آثارتلاش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن کچھ بھی نہ ملا۔ جسے اسرائیلی ہیکلِ سلیمانی کہتے ہیں، اس طرح کی عمارت کے کئی نقشے کتابوں میں ملتے ہیں اورارضِ فلسطین کے متعددمقامات پر اس کی تعمیرکی شہادتیں بھی میسرہیں، لیکن مسجداقصیٰ کے نیچے ایسی کسی عمارت کا تصور ایک مفروضے کے سوا کچھ نہیں۔ 
اس سے قبل انیسویں صدی کے وسط میں بھی ’’کیتھلین کینون‘‘ فلسطین اسی لیے آئی تھی کہ عہدنامہ قدیم کی کتب کے مطابق اُس مقام کی نشاندہی کی جاسکے، جہاں یہ عمارت قائم کی گئی تھی۔
کیا یہ اسرائیلیوں کے لیے کسی لعنت سے کم ہے کہ مقدسیوں، خلیلیوں اورنابلوسیوں سے روزانہ چھریوں اورچاقوؤں جیسے تھپڑ اپنے چہروں پر کھائیں یا ان کے ڈرائیورز جفا، حیفہ اور ایسرجاتے ہوئے پتھروں پرپتھر کھاتے ہوئے وہاں پہنچیں۔اب اسرائیلی جان چکے ہیں کہ فلسطین میں ان کاکوئی مستقبل نہیں ہے، ایسانہیں ہے کہ ارضِ فلسطین کے کوئی وارث نہ ہوں۔
بائیں بازوکے کے ایک صہیونی دانشوراورمصنف ’’گڈون لیوے‘‘نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ یہودیوں کونہ صرف یہ کہ فلسطینیوں کاحقِ تملیک مانناپڑے گا، بلکہ ارضِ فلسطین پر انہیں برتری دینا ہوگی، کیونکہ فلسطینی باقی دنیاسے مختلف فطرت کے لوگ ہیں، ہم انہیں بدکار اور نشئی کہتے ہیں اور پھر ہم نے ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے اور پھر بھی ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وطن کو فراموش کردیں، تب ہی وہ ۱۹۸۷ء سے حالتِ مظاہرہ میں ہیں اورہم انہیں قیدخانوں میں بھرتے جارہے ہیں۔ 
سالوں بعدجب ہم سمجھے کہ اب انہیں سبق سکھایا جاچکا ہے، لیکن ۲۰۰۰ء میں اپنی کھائی گئی زمینیں واگزار کرانے کے لیے وہ مسلح ہوکرہمارے سامنے آگئے۔ اس کے باوجودہم نے ان کا محاصرہ جاری رکھا اور ان کے گھروں کو ملیامیٹ کرتے رہے۔ 
اب کی دفعہ جب انہوں نے ہمارے اوپر میزائل داغنا شروع کردیے تو ہم نے ان کے اور اپنے درمیان بلندبالا دیواریں اور باڑھ لگانے کی منصوبہ بندی کرنی شروع کردی۔ اس کے ردِعمل میں انہوں نے سرنگیں کھودیں اور زیرِزمین سے ہم پر حملہ آور ہوئے، یہاں تک کہ حالیہ جنگ کے آغازمیں انہوں نے ہماری ریاست اسرائیل کے اندر گھس کر ہمیں قتل کرنا اور مارنا شروع کردیا۔ 
ہم نے اپنی فکراورسوچ سے ان کے ساتھ لڑائی شروع کی، لیکن انہوں نے ہمارے خلائی سیارہ ’’آموس‘‘ کوہی جام کردیا۔ وہ مسلسل ہمیں دھمکیوں پردھمکیاں دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان اسرائیلی نشریاتی اداروں کوبھی بندکرکے جام کردیں گے۔ پس ہمیں تاریخ کے مشکل ترین افرادسے پالا پڑ گیا ہے اور انہیں مانے بغیر اور سرزمینِ فلسطین پر اپنا قبضہ ختم کیے بغیر اس مسئلے کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین