بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1441ھ- 06 جولائی 2020 ء

بینات

 
 

رموزِ محدثین کا تعارف!

رموزِ محدثین کا تعارف!


مصنفین کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں اختصار وغیرہ کے پیشِ نظر بہت سے رموز واشارات کا استعمال کرتے ہیں، جن سے کبھی تو عالم کا نام اور کبھی کتاب کا نام اور کبھی کوئی جملہ یا کلمہ وغیرہ مراد ہوتا ہے۔ محدثین بھی اس طرح کے رموز کا بکثرت استعمال کرتے ہیں اور ان کی کتابوں سے کما حقہ فائدہ ان رموز کی معرفت کے بغیر ممکن نہیں، اور ان کی وضاحت حدیث ہی کی خدمت میں داخل ہے۔(۱)

رُموز کی ضرورت واہمیت

علماء کرام نے اختصار وایجاز کی ضرورت وایجاز سے متعلق جو کچھ لکھا ہے،  کسی قدر حک واضافے کے ساتھ اس کا حاصل یہ ہے کہ:
’’اختصار وایجاز ضرورت کے مواقع میں ممدوح ومحمود ہے۔ اختصار کے کئی طریقے ہیں: 
۱:-کلام میں سے غیر ضروری اجزاء حذف کرکے بات کو مختصر کرنا ۔
۲:-لمبی بات کا خلاصہ ومفہوم بیان کرنا۔ 
۳:-الفاظ کے بجائے اشارات ورموز استعمال کرنا الخ ۔
ان میں سے اشارات ورموز کا طریقہ بھی بہت اہم ہے ، اور تقریباً ہر فن میں اس کا استعمال مروج ہے۔ قرآن کریم میں رُموز اوقاف اس کا مظہر ہیں، فقہ میں مشہور فقہاء اور ان کی کتابوں کی طرف حوالہ دینے میں رموز مستعمل ہیں۔ فقہ حنفی کی کتابوں کے لیے شاید سب سے زیادہ جس نے رموز متعین کیے وہ صاحب ’’جامع الفصولین‘‘  ہیں۔ اسی طرح احادیث کے باب میں محدثین نے مختلف اغراض کے لیے رموز اپنائے ہیں:
۱:- روایات کے مآخذ ، یعنی احادیث کا ان کی اصل کتابوں کی طرف حوالہ دینے کے لیے۔ 
۲:-راویوں کی مرویات کونسی کتابوں میں ہیں ، ان کی نشاندہی کے لیے ۔
۳:- روایت کے کثیر الدوران الفاظ کو مختصر کرنے کے لیے۔ ان رموز کے ایجاد کی اصل وجہ قلتِ اوراق بتائی جاتی ہے۔ ذیل میں رمز کی لغوی و اصطلاحی تعریف، محدثین کے نزدیک رموز کے استعمال کی تاریخ، اقسام اور ان کے حکم سے متعلق اختصار کے ساتھ کچھ گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔

رمز کی لغوی تعریف

رمز لغت میں اشارہ وایماء کو کہتے ہیں۔ فیروز آبادی نے کہا: لفظ ’’الرَّمْزُ‘‘ (ضمہ اور حرکت کے ساتھ یعنی:الرُّمْزُ، الرَمَزُ) اشارہ و ایماء کو کہتے ہیں، خواہ یہ اشارہ وایماء ہونٹوں سے ، یا آنکھوں سے، یا بھؤں سے، یا منہ سے، یا ہاتھ سے، یا زبان سے کیا جائے۔(۲) زمخشری نے کہا: اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’قَالَ أٰیَتُکَ أَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ أَیَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا‘‘ (۳)میں ’’إِلاَّ رَمْزًا‘‘ سے ہاتھ یا سر وغیرہ سے اشارہ کرنا مراد ہے۔ رمز کا اصل معنی حرکت ہے، ’’ارتمز‘‘ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی چیز حرکت کرے، اسی سے دریا وسمندر کو ’’ الراموز‘‘ کہا جاتا ہے۔(۴)رمز کے بارے میں ایک شاعر کا شعربھی ہے جو انہوں نے صحیح بخاری میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے تراجمِ ابواب کے بارے میں کہا ہے: 
 

أعیا فحول العلم حلّ رموز ما
أبداہ في الأبواب من أسرار
(۵)

یعنی ’’امام بخاریؒ نے اپنی صحیح کے تراجمِ ابواب میں جو اسرار ورموز (اشارات) رکھے ہیں، ان کے حل کرنے اور بیان کرنے نے بڑے بڑے علماء کو تھکادیا ہے۔‘‘

رمز کی اصطلاحی تعریف

’’ہو الإشارۃ لکلمۃ أو أکثر ببعض حروفہا، أو برقم عددي أو بغیر ذٰلک طلبا للاختصار‘‘ یعنی اختصار کی غرض سے کسی کلمہ یا جملہ کے ایک یا بعض حروف کے ذریعہ سے، یا کسی عددی نمبر وغیرہ کے ذریعہ اس کلمہ یا جملہ کی طرف اشارہ کرنے کو اصطلاح میں رمز کہتے ہیں۔ یہ تعریف فنِ حدیث اور اس جیسے دوسرے فنو ن کے لیے ہے، جب کہ دیگر فنون ادب وبلاغت وغیرہ کی مناسبت اور اس کے علاوہ تعریفات ذکر کی گئی ہیں۔ 

رموز واشارات کا مقصد

ان رموز واشارات کا بڑا مقصد ان کلمات کو اختصار کے ساتھ بیان کرنا ہے جو فنِ حدیث میں بکثرت تکرار کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، جیسے: ’’حدثنا‘‘ اور ’’أخبرنا‘‘ وغیرہ، اس لیے کہ پہلے زمانہ میں کتابوں کا لکھنا، نقل کرنا اور کتابت ہاتھ سے ہوا کرتی تھی، اس لکھنے اور نقل کرنے میں بہت سارا وقت لگتا تھا، جب کہ لکھنے والوں کی قلت کے ساتھ ساتھ ورق، قلم اور دوات بھی عام دستیاب نہیں ہوا کرتے تھے، اسی وجہ سے لوگ فنِ مختصر نویسی اور ان جیسے اصطلاحی رموز واشارات کو اختیار کرنے اور استعمال کرنے پر مجبور ہوئے۔

ابن عساکرؒ کا قول

ابن عساکرؒ نے اپنی کتاب ’’المعجم المشتمل علی ذکرأسماء شیوخ الأئمۃ النبل‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ: عجلت پسند کاتب کی آسانی کے لیے میں ہر امام کے نام کی جگہ ایک حرف مقرر کروں گا جو اس پورے نام پر دلالت کرے گا۔(۶)

غیر مشہور رمز کا استعمال

علماء کرام نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ کاتب کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسا غیر مشہور رمز استعمال کرے جسے اس کے علاوہ کوئی نہ جانتا ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو واضح کرے کہ یہ فلاں چیز کا رمز ہے۔ 

خلافِ عرف رموز کا استعمال 

علامہ ابن دقیق العیدؒ نے فرمایا کہ: انسان کو چاہیے لوگوں کی عادت وعرف سے ہٹ کروہ ایسی اصطلاح اختیار نہ کرے کہ جسے ا س کے علاوہ کوئی اور نہ جانتا ہو، میں نے ایک شیخ کے پاس ایک (جزء ) رسالہ پڑھا، ان کا کاتب (کلمات کے ) کاف کی جگہ خاء کے مشابہ کوئی علامت لگایا کرتا تھا، تاکہ وہ دوسرے نسخہ پر دلالت کرے، اس سے بعض جگہ کسی کلمہ کے حذف اور کسی جگہ کلمہ کے اثبات کا پتہ چلتا تھا، مجھے پورا رسالہ پڑھنے کے بعد ان کی اس اصطلاح کا علم ہوا جس کی وجہ سے مجھے وہ سارا رسالہ دوبارہ پڑھنا پڑا۔(۷)

غیر مانوس اصطلاح کا حکم 

علامہ سخاویؒ نے فرمایا کہ: بعض علامات کو سمجھنے کے لیے خود اس کے مقرر کرنے والے کو بھی دوسری علامت کی ضرورت ہوتی، چناں چہ یہ مناسب نہیں کہ غیر مانوس اصطلاح لائی جائے، جیسا کہ ابن صلاحؒ نے فرمایا ہے۔(۸) علامہ عراقیؒ نے فرمایا: 

وَإِنْ أَتٰی بِرَمْزِ رَاوٍ مَیَّزَا 
 مُرَادَہٗ وَاخْتِیْرَ أَنْ لاَ یَرْمِزَا
(۹) 

’’اگر کسی راوی کی روایت کو بیان کرنے کے لیے ایسا رمز لائے جس سے اس کے علاوہ کوئی واقف نہ ہو تو یہ طے شدہ ہے کہ وہ ایسا رمز استعمال نہ کرے۔‘‘

علامہ عراقی  رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی وضاحت

محدثین کی عادت یہ ہے کہ جب کسی کتاب کا مختلف طرق سے سماع کرتے ہیں تو اختلافِ روایات کو بھی بیان کرتے ہیں، ہر روایت کے ساتھ اس کے راوی کا یا تو مکمل نام بیان کرتے ہیں، پورا نام بیان کرنا رفعِ التباس کے لیے زیادہ بہتر ہے، یا ایک دو حرف پر مشتمل ایسا رمز بیان کرتے ہیں جو راوی کے مکمل نام پر دلالت کرے، جیسا کی یونینی نے صحیح بخاری کے اپنے نسخہ میں کیا ہے۔ اگر روایات کے سلسلہ میں رموز استعمال کرنے والے نے کتاب کے شروع یا آخر میں رموز کی مراد کو بیان کیا ہے تو رموز کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ یونینی نے کیا ہے، اور اگر مراد بیان کیے بغیر غیر معروف رموز استعمال کیے تو ایسا کرنا پسندیدہ نہیں، کیوں کہ ایسا کرنا قاری کو رموز کی مراد کو سمجھنے کے لیے حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

محدثین کے نزدیک رموز کے استعمال کی تاریخ

محدثین ایک زمانہ سے رموز کو استعمال کرتے چلے آرہے ہیں، شاید دیگر کے مقابلہ میں سب سے پہلے رموز محدثین ہی نے استعمال کیے، جیساکہ تحویلِ سند (ایک سند سے دوسری سند کی طرف منتقل ہونے) پر دلالت کرنے کے لیے انہوں نے لفظ ’’ح‘‘ کو استعمال کیا۔

اصطلاحی معنی میں رموز کا استعمال

ڈاکٹر محمد سلیمان اشقر صاحب نے کہا کہ ایک مخصوص معنی پر دلالت کرنے کے لیے محدثین کی کتب میں ایک یا زائد حروف پر مشتمل رمز بعد کے زمانہ میں استعمال ہوا ہے، اس خاص معنی میں ابن صلاحؒ (المتوفی: ۶۴۳ھ) سے قبل کسی نے اس اصطلاح کو استعمال نہیں کیا، اگرچہ عملی طور سے رموز اس سے پہلے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ بعض محدثین نے کثیر الاستعمال الفاظ میں اختصار کی غرض سے ان مخصوص رموز کو استعمال کیا، جیسا کہ ’’نا‘‘ اور ’’أنا‘‘ کو بمعنی ’’حدثنا وأخبرنا‘‘ اور ’’ق‘‘ کو بمعنی ’’قال‘‘ استعمال کیا۔ اس طرح رموز کا استعمال خطیب بغدادیؒ (المتوفی: ۴۶۳ھ) کی کتابوں میں زیادہ پایا جاتا ہے، بلکہ ان سے پہلے امام مسلمؒ (المتوفی: ۲۵۶ھ) نے تحویلِ سند (ایک سند سے دوسری کی طرف منتقل ہونے کو بیان کرنے کے لیے) ’’ح‘‘ کا رمز استعمال کیا۔ 

رموز کے لیے ’’العلائم ‘‘ کی اصطلاح

صاحب جامع الاصول علامہ ابن اثیرؒ (المتوفی: ۶۰۶ھ) نے کتبِ حدیث کے ناموں کے لیے مختلف رموز استعمال کیے اور ان کا نام ’’العلائم‘‘ یعنی نشان رکھا، جیسا کہ صحیح بخاری کے لیے لفظ ’’خ‘‘ اور سننِ ترمذی کے لیے لفظ ’’ت‘‘استعمال کیا ۔ ان کے بھائی صاحب اسد الغابۃ علامہ ابن اثیر جزریؒ (المتوفی: ۶۳۰ھ) نے بھی ان رموز کا نام ’’العلائم‘‘ ہی رکھا ہے۔ (۱۰)

’’العلامۃ‘‘یعنی علامت کی اصطلاح

اس طرح کے رموز کے لیے ’’العلامۃ‘‘ یعنی علامت کی اصطلاح بھی پہلے سے مستعمل ہے، امام ابو حامدغزالیؒ (المتوفی: ۵۰۵ھ) فقہ شافعی کے بارے میں اپنی کتاب ’’الوسیط‘‘ میں کچھ رموز استعمال کیے اور ان کا نام ’’العلامات‘‘ رکھا ہے، جیسا کہ لفظ ’’ح‘‘ امام ابوحنیفہؒ کے لیے اور لفظ ’’ق‘‘امام شافعیؒ کے اقوال میں سے کسی ایک قول کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا۔

رمز کا سب سے پہلے استعمال

بظاہرلفظ رمز کا استعمال سب سے پہلے ابن صلاح نے کیا، البتہ انہوں نے کتبِ حدیث کے نام کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ الفاظِ حدیث کے اختصار کے لیے استعمال کیا ،جیسا کہ پہلے گزرا۔ جب کہ کتبِ حدیث کے ناموں کے رموز کے لیے ’’العلامات‘‘کی اصطلاح مندرجہ زمانہ تک استعمال ہوتی رہی، چناں چہ علامہ مزیؒ (المتوفی: ۷۴۲ھ) اور حافظ ابن حجرؒ (المتوفی: ۸۵۲ھ) کی مؤلفات میں ’’العلامات‘‘ ہی استعمال ہوتا رہا، یہاں تک امام سیوطیؒ (المتوفی: ۹۱۱ھ) کا زمانہ آیا تو انہوں نے کتابوں کے اسماء کے لفظ ’’رمز‘‘ استعمال کیا، اس کے بعد یہ لفظ عام ہوا اوراسی کے استعمال کو غلبہ ہوا۔(۱۱) بعض رموز محدثین وغیرمحدثین کے درمیان مشترک ہیں، جیساکہ ’’حـ‘‘اور ’’خـ‘‘۔(۱۲)

رموز کی اقسام

الف: ـ رموز کی تقسیم باعتبار عدد حروف

حروف کی تعداد کے اعتبار سے رموز کی چھ قسمیں ہیں: ۱:- ایک حرف پر مشتمل رمز، جیسے: ’’خ‘‘۔ ۲:- دو حروف پر مشتمل رمز، جیسے: ’’طب‘‘۔ ۳ :- تین حروف پر مشتمل رمز، جیسے: ’’تخص‘‘۔ ۴:- چار حروف پر مشتمل رمز، جیسے: ’’قثنا‘‘ ۵:- پانچ حروف پر مشتمل رمز، جیسے: ’’أرناہ‘‘۔ ۶:- چھ حروف پر مشتمل رمز، جیسے: ’’ہـ ص ش ظ لا‘‘

ب: ـ وضع کے اعتبار سے رموز کی اقسام: 

وضع کے اعتبار سے رموز کی دو قسمیں ہیں: 
پہلی قسم:۔۔۔۔۔ پہلی قسم ان رموز کی ہے جنہیں اسانید کے سیاق میں بکثرت مکرر آنے والے الفاظ کے لیے تخفیف کی غرض سے وضع کیا گیا ہے۔ ان رموز کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ احادیث کا املا کروانے والا جب سرعت کے ساتھ املا کرواتا تو سامع لکھتے وقت بعض کلمات کو اختصار کی غرض سے حروف سے بدل کر لکھ لیا کرتا تھا، لکھنے والے کو یہ یقین ہوتا تھا کہ کہ بعد میں وہ کلمہ محذوفہ کو پہچان لے گا، کیوں کہ وہ کلمہ بکثرت وارد ہوا کرتا تھا۔ 
وہ رموز جنہیں محدثین نے تخفیف کے لیے استعمال کیا: ۱:- ’’ق‘‘ بمعنی ’’قال‘‘۔ ۲:-’’ح‘‘برائے تحویلِ سند۔ ۳:- ’’ثنا‘‘ اور ’’دثنا‘‘ بمعنی ’’حدثنا‘‘۔ ۴:- ’’أنا‘‘ اور ’’أرنا‘‘ بمعنی ’’أخبرنا‘‘۔
دوسری قسم:۔۔۔۔۔  دوسری قسم ان رموز کی ہے جو انسائیکلوپیڈیا طرز کی ان کتابوں میں استعمال کیے گئے جن میں احادیث کی کتبِ مسندہ ایک سے زائد مصادر سے جمع کی جاتی ہیں، ان رموز کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی جب حدیث کی کتبِ مسندہ کو ایک ہی جگہ ضخیم کتب میں جمع کیا جانے لگا۔ سب سے پہلے یہ کام علامہ مبارک بن محمد بن اثیر جزریؒ (المتوفی: ۶۰۶ھ) نے اپنی مشہور کتاب ’’جامع الأصول من أحادیث الرسول‘‘ میں کیا، جسے انہوں نے رزین عبدریؒ کی کتاب کی بنیاد پر مرتب کیا تھا، ان کی یہ کتاب کتبِ ستہ: صحیحین بخاری ومسلم، سننِ ترمذی، ابو داود، نسائی اور موطا امام مالک پر مشتمل ہے، ابن اثیرؒ نے حدیث کی مذکورہ کتبِ مسندہ کے لیے چھ رموز پر مشتمل ایک جدول قائم کیا۔ 

رموز کی تعداد

علامہ جزریؒ کے منہج کی پیروی کرنے والوں نے ان رموز میں کچھ تبدیلی اور اضافہ بھی کیا، یہاں تک کہ علامہ سیوطیؒ نے اپنے دور میں ایک ہی جست میں رموز کے اس جدول کو ۳۴ تک پہنچایا، اس کے بعد سے لے کر عصرِ حاضر تک کہ جس میں وسیع انسائیکلوپیڈیاز اور فہارس کی ضرورت واضح ہوچکی ہے، تو ان کے منہج پہ چلنے والوں نے تبدیلی اور اضافہ کر کے اس جدول کو ۷۶ رموز تک پہنچایا اور بعض نے اس میں مزید بھی اضافہ کیا ہے۔

ج :ـ جواز اور منع کے اعتبار سے رموز کی تقسیم

جواز اور منع کے اعتبار سے رموز کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: ۔۔۔۔۔جائز رموز

یہ وہ رموز ہیں جنہیں اہلِ فن وضع کیا کرتے ہیں اور لفظی اعتبار سے اس میں کسی طرح کوئی خرابی یا شریعت میں قابلِ تعظیم کسی چیز کی بے ادبی بھی نہیں ہوتی ہے۔ عام طورعلماء امت نے پہلے اور آج بھی رموز کی یہی قسم وضع کی ہے ، وضع اور استعمال میں یہی قسم غالب ہے۔شیخ بکر ابو زید نے کہا کہ ایسی مختصر اصطلاحات جن میں کوئی محذور شرعی نہ ہوان میں کوئی حرج نہیں، اسی پر محدثین وغیرہ اہلِ علم کا تعامل ہے، ان میں سے ہر ایک صاحبِ علم اپنی کتاب کے مقدمہ میں اپنی اصطلاح کی وضاحت کرتا ہے۔ علماء مصطلح الحدیث کو مصطلح الحدیث کی کتابوں میں ’’معرفۃ الرموز ‘‘کے عنوان سے تنبیہ کرنے کی ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔(۱۳)

دوسری قسم: ۔۔۔۔۔ممنوع رموز

یہ وہ رموز ہیں جن میں کوئی لفظی محذور پایا جاتا ہویا شریعت میں قابلِ تعظیم کسی چیز کی بے ادبی کا اندیشہ ہو۔ شیخ بکر ابو زید نے رمز ’’تع‘‘کے بارے میں کہا کہ یہ لفظ ’’تعالی ‘‘کا اختصار ہے، اللہ تعالیٰ کا تذکرہ آئے تواسے استعمال کیا جاتا ہے، بعض متاخرین نے اختصار کے پیشِ نظر یہ اصطلاح وضع کی ہے، مستشرقین کی دسیسہ کاری سے اہلِ اسلام کی بعض کتابوں کے ناشرین میں یہ اصطلاح رواج پاچکی ہے، حالاں کہ یہ ایک فاسد اصطلاح ہے۔ ان اصطلاحاتِ ممنوعہ میں سے بعض کا تعلق اللہ تعالیٰ کی تمجید وتقدیس سے ہے، بعض کا تعلق انبیاء ورسل پہ درود وسلام بھیجنے کے ساتھ ہے اور بعض ترضی اور ترحم سے متعلق ہیں، اس طرح کی تمام اصطلاحات فاسد ہیں، ان کا استعمال آداب کے خلاف ہے، اور بعض میں ظاہری اعتبار سے ایسا معنی پایا جاتا ہے جو کہ درست نہیں ہوتا، اگرچہ وہ معنی مرادی نہیں ہوتا، پھر بھی ایسی اصطلاح کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، ایک مسلمان کو لکھتے اور بولتے وقت ان الفاظ کو پورا پورا ادا کرنا چاہیے اس یقین کے ساتھ کہ اس میں بڑا اجر وثواب ہے۔ 

رموزِ ممنوعہ کی مثالیں

ان رموزِ ممنوعہ کی مثالیں جن کا استعما ل ادب کے خلاف اور اجر سے محرومی کا باعث ہے: ۱:-’’رض‘‘یہ ’’رضي اللہ عنہ‘‘کا اختصار ہے ۔ ۲:- ’’رح‘‘یہ ’’رحمہ اللّٰہ‘‘کا اختصار ہے ۔ ۳:-’’صلعم‘‘یہ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا اختصار ہے۔(۱۴)

حوالہ جات

۱:- ـ دیکھیے :رموز محدثین کا انسائیکلوپیڈیا ، ص :۴،۵ ، مدرسہ فاروقیہ، گلگت۔
۲:- ـ القاموس المحیط، ص:۱۲، (رمز)، تاج العروس، (رمز)
۳:- ـ آل عمران: ۴۱، ترجمہ: (اللہ نے) فرمایا کہ تیری نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کرسکو گے۔
۴:- ـ الکشاف، ج:۱،ص:۴۲۹            ۵:- ـ إرشاد الساری، ج:۱،ص:۴۵
۶:- ـ المعجم المشتمل، ص:۳۶ 

۷:- ـ الاقتراح فی بیان الاصطلاح، ص: ۴۲
۸:-  ـ فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث،ج:۳، ص:۶۰

 ۹:- ـ شرح التبصرۃ والتذکرۃ، ص:۱۵۱، البیت رقم: ۵۶۹
۱۰:-ـ علامہ صفدیؒ نے کہا کہ جب حدیث کی کتب صحاح : صحیح بخاری، مسلم ،موطا، سنن ترمذی،نسائی، ابو داوداور ابن ماجہ جب محدثین کے درمیان شہرت اختیار کر گئیں تو ان میں سے ہر ایک کے لیے مخصوص رمز مقرر کیا گیا، جیسا کہ صحیح بخاری کے لیے لفظ ’’خ‘‘، صحیح مسلم کے لیے لفظ ’’م‘‘، موطا مالک کے لیے لفظ ’’ط‘‘، سننِ ترمذی کے لیے لفظ ’’ت‘‘، سنن نسائی کے لیے لفظ ’’ن‘‘، سنن ابی داود کے لیے لفظ ’’د‘‘ اور سننِ ابنِ ماجہ کے لیے لفظ ’’ق‘‘مقرر کیا گیا۔ (الوافی بالوفیات،ج:۱،ص:۵۳)
۱۱:-ـ ترمیز کتب الحدیث، بحث منشور فی مجلۃ الحکمۃ، عدد:۳۱، وانظر عن نشاۃ ہذہ الرموز عند المحدثین وغیرہم کتاب مناہج العلماء المسلمین فی البحث العلمی، ص: ۹۶-۱۰۱
۱۲:- ـ موسوعۃ علوم الحدیث وفنونہ، ج:۲، ص:۵۹۵        ۱۳:- ـ معجم المناہی اللفظیۃ، ص:۲۰۴
۱۴:- ـ معجم المناہی اللفظیۃ، ص:۲۰۳-۲۰۴
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے