بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

بینات

 
 

رمضان المبارک ۔۔۔ دینی اور مِلّی تقاضے!

رمضان المبارک ۔۔۔ دینی اور مِلّی تقاضے!


الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

 

اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں، انوار کے نزول اور مغفرت کا مہینہ شروع ہے۔ یہ مہینہ در حقیقت تخلیق اور حیات کے مقصد کی طرف رجوع، اِنابت الی اللہ اور اَحوال کی اِصلاح کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی ہر ساعت کو اللہ تعالیٰ کے ہاں تقدس حاصل ہے، اس میں انجام دیے جانے والے نیک اعمال دنیا و آخرت کے بیش بہا فوائد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ روزے کو تقوے کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے تو قرآن مجید اس ماہِ مقدس میں نازل فرماکر اسے انسان کے لیے ہدایت کے واضح دلائل اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔ اس مہینے کا نام ’’رمضان‘‘ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ’’رمضان‘‘ کا معنی ہے: ’’جلانے والا‘‘، چوں کہ اس مہینے میں انسانوں کے گناہ جلا کر ختم کردیے جاتے ہیں، اس وجہ سے اسے ’’رمضان‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس ماہِ مبارک میں رات دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار لوگوں کی بخشش کے فیصلے ہوتے ہیں، اس کے معمولات اور مناجات جہاں زنگ آلود دلوں کو صیقل کرکے جِلا بخشتے ہیں، وہیں قلوب میں ایسی رقت پیدا کرتے ہیں جس سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اس میں اضافہ ہوتاہے، ایمان و توکل اور مطلوبہ صفات میں ترقی ہوتی ہے، آخری عشرہ تو گویا جہنم سے آزادی و خلاصی کا پروانا ہے۔ رمضان کے ہمہ جہتی فوائد کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ طاعات کے علاوہ انفرادی اور اجتماعی طور پر منتشر زندگی اس مہینے میں اعتدال کے ساتھ اپنے مدار میں لوٹ آتی ہے، حتیٰ کہ صحت اور خوراک وغیرہ امور کی چکی بھی فطری طورپر اپنے مرکز کے گرد گھومنا شروع ہوجاتی ہے۔
حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے اُمتِ مرحومہ کو ایک مرتبہ پھر یہ موقع غنیمت دیا گیا ہے کہ اس مبارک مہینے میں اپنے مقصدِ حیات کی طرف لوٹ آئے اور بگڑے ہوئے اَحوال کی اِصلاح کرلے۔ پوری اُمت عموماً اور وطنِ عزیز کے باشندگان خصوصاً اس وقت جن کرب ناک اَحوال سے گزر رہے ہیں، ہرصاحبِ بصیرت ان سے آگاہ بھی ہے اور فکر مند بھی، لیکن آزمائشیں ایسی ہمہ گیر اور فتنے اس تواتر سے ہیں کہ حدیث شریف کے مصداق، انتہائی زیرک، بردبار اور صاحبِ علم بھی حیران نظر آتا ہے۔ اس سے پہلے مملکتِ خداداد کو کئی مرتبہ سیاسی عدمِ استحکام کا سامنا رہا ہے، یہ ملک دفاعی اعتبار سے بھی نازک حالات سے گزرا ہے، یہاں تک کہ اسے دو لخت ہونا پڑا، نظریاتی و ذہنی خلفشار کا بحران بھی دیکھا گیا، لیکن آج سیاسی، معاشی، سماجی، دینی اور اخلاقی اعتبار سے جس افلاس اور قحط کے دور سے گزر رہا ہے، ہماری ملکی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ معیشت کی گتھی سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مزید اُلجھتی جارہی ہے۔ قومی اتفاق اور طویل المیعاد مفاہمتی منصوبوں کے آوازے مختلف اطراف سے لگ رہے ہیں، لیکن باہم رسہ کشی ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ملکی حالات دگرگوں ہیں، عوام و خواص میں ملک و ملت کے لیے خلوص وخیرخواہی کا فقدان نظر آتا ہے۔ رعایا، حکمرانوں اور دیگر مقتدرحلقوں میں ایک دوسرے کے لیے بداعتمادی اور منافقانہ روش کا جو بیج بودیا گیا ہے، اس سے اختلاف کی خلیج وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔ آبادی کا قریباً چوتھائی حصہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے، لیکن اشرافیہ کی شاہ خرچیوں اور عوام کی فضول خرچی میں فرق نہیں آرہا، نتیجتًا پوری قوم اوپر سے نیچے تک مخلوق کے سامنے دستِ سوال دراز کیے نظر آتی ہے۔ آئین و قانون جس کے تقدس اور پاسداری کا حلف لیا جاتاہے، اسے بیچ چوراہے رسوا کیا جارہا ہے، سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تو اخلاقی بحران روز افزوں ترقی پر ہے، حیا کا تو گویا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ صادق و مصدوق رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بالکل درست فرمایا کہ: ’’اگر تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔‘‘ جب حیا ہی ختم ہوجائے تو پھر انسان عہدوں کا تقدس بھی خاطر میں نہیں لاتا۔
الغرض پوری قوم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ عوامی نمائندے ہوں یا ملک کے کارپردازان اور پیشوایانِ ملت، کردار کے اعتبار سے اس سطح تک اُتر چکے ہیں کہ اس کا تصور بھی ہمارے ہاں نہیں ملتا۔ کس کس سطح پر برائیاں ہورہی ہیں‘ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، روزانہ ایسی ایسی خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اور اُن حقائق و عنوانات پر کالم لکھے جارہے ہیں کہ پڑھ کر انسانیت شرماجائے۔ ان الزامات کی سچائی یا خلافِ حقیقت ہونے کا ظاہری فیصلہ تو ایوانِ عدل کے پاک کردار جانشین کریں گے، حقیقی سچائی اس دن کھل جائے گی جس دن کہ تمام پوشیدہ بھید کھول دیے جائیں گے، لیکن یہ حقیقت نصف النہار کے سورج کی طرح آشکارا ہوچکی ہے کہ ہم قومی سطح پر انتہائی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ 
قوموں کے عروج میں اُن اَخلاق و عالی صفات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جن کی راہ نمائی دینِ اِسلام کرتا ہے۔ جو قوم اخلاق اور عالی صفات سے عاری ہو، وہ عروج تو کجا زندگی کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کردی جاتی ہے۔ عالی ہمتی، صبر و استقامت، مقصد سے لگن اور جہدِ مسلسل، بے مقصد کاموں اور چیزوں سے اجتناب، وسعتِ ظرفی اور عفو ودر گزر جیسے اوصاف سے محروم قومیں تاریخ میں ہمیشہ مفتوح و مغلوب رہتی ہیں۔ انصاف اور انسانیت کا خون کرنے والے بھی بھلا دنیا کی امامت کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں؟! قصہ کوتاہ! ہم مجموع من حیث المجموع جن اخلاقی بیماریوں کا شکار ہیں ان کی نشان دہی اور علاج‘ مستقل موضوع ہے، ان شاء اللہ العزیز! کسی وقت اس حوالے سے بھی معروضات پیش کرنے کی کوشش کریں گے، اس وقت یہ تنبیہ مقصود ہے کہ اگر ہم ماہِ مقدس کے قیمتی لمحات سے صحیح معنی میں مستفید ہونا چاہتے ہیں تو حقیقت کو قبول کرکے بارگاہِ حق میں اپنی انفرادی و اجتماعی کوتاہیوں کا اعتراف کریں اور سچی توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ اگر ہم بحیثیت قوم دنیا میں عروج کے خواہاں ہیں تو انفرادی و اجتماعی سطح پر ہمیں عالی اَخلاق کا پیکر بننا ہوگا، اور کریمانہ صفات اختیار کرنا ہوں گی۔ اس وقت اُمتِ مسلمہ کی پستی کا بنیادی سبب ’’اَخلاقی بحران ‘‘ ہے۔ مسلمانوں کی دنیا وی ترقی بھی سید الرسل، خاتم النبیین حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اُسوۂ حسنہ کی پیروی میں رکھ دی گئی ہے۔
 مادہ پرست انسان کو عموماً دھوکا لگ جاتا ہے کہ دنیاوی ترقی اگر دین پر عمل کرنے میں منحصر ہوتی تو غیرمسلم اقوام ترقی نہ کرتیں، جو سرے سے اسلام ہی کی منکر ہیں، پھر معاشی نظام ہو یا خانگی وحکومتی نظم، وہاں اسلامی احکام کی پیروی کا سوال ہی نہیں ہوتا، لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ دنیاوی عروج کے حوالے سے مسلمان اور غیر مسلم سے تعامل کی نوعیت مختلف طے کی گئی ہے۔ شاعرِ مشرق نے اسی مضمون کو یوں بیان کیا ہے:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

گویا مسلم اور غیر مسلم سے دو جداگانہ معاہدے ہیں، جن میں ایک کا دوسرے سے تعلق نہیں ہے۔ غیرمسلم سے معاہدہ یہ ہے کہ اُسے جو کچھ دیا جائے گا وہ اسی دنیا فانی میں دیا جائے گا، بشرطیکہ وہ فطرت کے بنیادی اُصولوں سے انحراف نہ کرے۔ جہاں تک آخرت کی بات ہے تو اس کے لیے ہر نعمت کے دروازے بند ہوں گے، وہاں اُسے ابدی عذاب کا سامنا کرنا ہوگا؛ لہٰذا غیر مسلم کو اس کی محنت اور ظاہراً اچھے اَعمال کا پورا پورا صلہ دنیا میں دیا جارہا ہے، جب کہ مسلمان نے اپنی جان و مال کا سودا جنت کی اُن نعمتوں کے بدلے کیا ہے جن میں سے ادنیٰ نعمت کا ایک ذرہ بھی دنیا و ما فیہا سے قیمتی ہے، اور اس نے کلمۂ شہادت پڑھ کر عہد کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اَحکام سے قطعاً سرتابی نہیں کرے گا۔ اب مسلمان کے لیے اپنے عہد سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر عہد کو توڑتا ہے تو دنیاوی و اُخروی ذلت اس کا مقدر ہوگی۔ اگر وہ نام تو اسلام اور آسمانی ہدایت کا لے، لیکن اندرون و بیرون اس میں کہیں خدا کی منتخب کردہ قوم کی علامات نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت کیوں کر آئے؟ اسے ایک دوسری مثال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ میدانِ جنگ میں جاکر دشمن سے لڑنا ہر ایک پر لازم نہیں ہے، لیکن جو شخص اسلامی فوج میں بھرتی ہواور میدانِ جنگ میں دشمن کو پیٹھ دے کر پسپا ہوجائے تو یہ جرم دنیا اور شریعت دونوں کے قانون میں ناقابلِ معافی جرم بن جاتا ہے، اس لیے کہ اِس وقت اس کا فرار ایک فرد کی شکست نہیں، پوری قوم اور ملت کی شکست سمجھی جاتی ہے، اسی طرح انسان دعوے دار تو خدا کی محبوبیت اور نمائندگی کا ہو، لیکن کردار ایسا ہو کہ بقول شاعر:

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
 

پھر یہ عہد کوئی اس اُمت کی خصوصیت نہیں ہے، بنی اسرائیل سے بھی یہی عہد لیا گیا کہ جب تک وہ ایمان اور شریعت کے اَحکام کے پابند رہیں گے، انہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں اَجر و ثواب کے ساتھ دنیاوی عروج بھی حاصل رہے گا، اور جب وہ اس وعدے سے منحرف ہوں گے انہیں نہ صرف دنیاوی ترقی سے محروم کردیا جائے گا، بلکہ کفار جو کسی شریعت کو نہیں مانتے اللہ تبارک وتعالیٰ خود انہیں ان پر مسلط کردے گا، وہ ان کے گھروں میں گھس کر ان کے چہرے تک بگاڑ دیں گے اور سب کچھ برباد کردیں گے۔ سورۂ بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں اس عہد کی خلاف ورزی پر ان کی تاریخی ذلت و شکست کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
 ’’عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائےاور اگر وہی پھر (شرارت) کروگے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے۔‘‘  (بنی اسرائیل: ۸)
سورۂ مائدہ میں یہود و نصاریٰ سے کیے گئے اس عہد اور ان کی طرف سے اس کی مخالفت، اور تورات و انجیل کی صورت میں شریعت کے روشن احکام ملنے اور یہود و نصاریٰ کی طرف سے حیلے بہانوں کے ذریعے ان احکام سے راہِ فرار کی مذموم کوششوں کے نتیجے میں ان پر جو ذلت و مسکنت مسلط کی گئی، اس کا بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 
’’اور اگر یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی تمام برائیاں معاف کردیتے اور ضرور اُن کو چین کے باغوں میں داخل کرتے، اور اگر یہ لوگ تورات کی اور انجیل کی اور جو کتاب ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی ہے، اس کی پوری پابندی کرتے تو یہ لوگ اوپر سے اور نیچے سے خوب فراغت سے کھاتے۔‘‘   (المائدۃ: ۶۵،۶۶)
سورۂ اعراف میں تباہ شدہ اَقوام کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ اِرشاد فرماتے ہیں:
 ’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے (پیغمبروں کی) تکذیب کی تو ہم نے (بھی) ان کو ان کے اعمالِ (بد) کی وجہ سے پکڑ لیا۔‘‘                                   (الاعراف:۹۶)
اَزل سے یہ اُصول پتھر پر لکیر کی طرح ثبت ہے کہ جو آسمانی ہدایت کا حوالہ دے اور اللہ کی رضا اور جنت کا خواہش مند ہو، اس کا دنیاوی عروج بھی اس عہد کی پاس داری کے ساتھ مشروط ہے، سورۂ انبیاء میں ہے:
’’اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے۔‘‘  (الانبیاء: ۱۰۵)
سورۂ اعراف میں ہے:
’’ یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے جس کو چاہیں مالک (و حاکم) بنادیں اپنے بندوں میں سے، اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو خداتعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ ‘‘                  (الاعراف: ۱۲۸)
سورۂ غافر میں ہے:
’’ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (یعنی فرشتے جو کہ اعمال نامے لکھتے ہیں) کھڑے ہوں گے۔‘‘                                                                    (غافر: ۵۱)
یہی عہد و میثاق اُمتِ محمدیہ سے لیا گیا، سورۂ نور میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 ’’(اے مجموعۂ اُمت!) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے ) زمین میں حکومت عطا فرمائے گا، جیسا ان سے پہلے (اہلِ ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی، اور جس دین کو (اللہ تعالیٰ نے) ان کے لیے پسند کیا ہے (یعنی اسلام)، اس کو ان کے (نفعِ آخرت کے) لیے قوت دے گا اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو مبدل بہ امن کردے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں (اور) میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں، اور جو شخص بعد (ظہور) اس (وعدے) کے ناشکری کرے گا، تو یہ لوگ بے حکم ہیں۔‘‘ (النور: ۵۵)
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو قوم شریعتِ الٰہیہ کی نام لیوا اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کی دعویدار ہو، وہ حیلے بہانے یا مکرو فریب یا غلط راستے سے عروج پالے!! جو قوم خدا سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ کر خدائی احکام سے بغاوت کرے اسے عروج کبھی نہیں مل سکتا۔ یہ اَٹل حقیقت ہے جس کی نظائر تاریخِ عالم کے صحیفے پر جابجا ملتی ہیں، لہٰذا اُمتِ مسلمہ اگر اِصلاحِ اَحوال اور عروج چاہتی ہے تو اسے اسی شاہراہ پر چلنا ہوگا جس پر اس کے اسلاف چلے۔ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  اپنے دورِ خلافت میں ملکِ شام تشریف لے گئے تو لوگوں نے رومی تہذیب و تمدن اور ٹھاٹھ باٹھ کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  کو فاخرہ لباس اور وضع اختیار کرنے کا مشورہ دیا، اس موقع پر آپ  رضی اللہ عنہ  نے تاریخی الفاظ فرمائے تھے:
’’بے شک تم لوگوں میں سب سے زیادہ گرے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے تمہیں عزت دی، (یاد رکھو!) جب بھی تم اس کے علاوہ کسی سے عزت چاہوگے اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کردے گا۔‘‘
اور بعض روایات میں الفاظ یوں ہیں:
’’تم لوگوں میں سب سے قلیل اور سب سے ذلیل تھے، اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کے ذریعے تمہاری تعداد بڑھادی اور تمہیں عزت دی، اب جب بھی تم دینِ اسلام کے علاوہ کسی طریقے سے عزت کے طلب گار ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کردیں گے۔‘‘
امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  کا مشہور قول ہے:
’’اس اُمت کے آخری لوگوں کی (ذات اور اَحوال کی) اِصلاح بھی اسی طریقے میں منحصر ہے جس میں اِس اُمت کے پہلے لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) کی اصلاح ہوئی۔‘‘
آج ہم بنی اسرائیل کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں، نتیجہ ذلت و مسکنت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، کردار کی جس پستی تک ہم پہنچ چکے ہیں، جن معاشرتی اور اخلاقی امراض کا شکار ہیں کسی قوم اور مذہب میں ان کی گنجائش نہیں ہے، چہ جائے کہ اسلام جیسا کامل اور پاکیزہ مذہب ! نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا مبارک اِرشاد ہے:
’’تم لوگ ضرور بالضرور اپنے سے پہلی امتوں کی ایسی اتباع کروگے جیسے بالشت بالشت کے برابر اور گز دوسرے گز کے برابر ہوتاہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہوگے، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (پچھلی امتوں سے مراد) کیا یہود و نصاریٰ (ہیں)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تو اَور کون؟!‘‘     (بخاری و مسلم)
جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ آقائے نامدار  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
 ’’جب مالِ غنیمت کو ذاتی حق سمجھا جانے لگے (یعنی اَصحابِ مناصب اس پر قابض ہوجائیں اور ضرورت مندوں پر خرچ نہ کریں)، اور امانت کو غنیمت سمجھا جانے لگے (یعنی امانت میں خیانت عام ہوجائے جیسے غنیمت لوٹی جاتی ہے)، اور زکات کو بوجھ سمجھا جانے لگے، اور (دین کا علم) دین کے علاوہ مقاصد (جاہ و شہرت وغیرہ) کے لیے حاصل کیا جانے لگے، اور مرد اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے، اور دوست کو قریب کرے اور باپ کو دور کرے، اور مساجد میں آوازیں بلند ہوں، اور قبیلے کا سردار فاسق شخص ہو، اور قوم کا لیڈر اُن میں سب سے ذلیل شخص ہو، اور آدمی کی عزت اس کے شر کے خوف سے کی جائے، اور گانے والیاں اور آلاتِ موسیقی عام ہوجائیں، اور شرابیں پی جانے لگیں، اور امت کا آخری طبقہ پہلوں پر لعن طعن کرے تو اس وقت سُرخ آندھی اور زلزلے اور زمین میں دھنسائے جانے اور شکلوں کے بگڑنے اور پتھروں کی بارش اور دیگر پے درپے بڑی نشانیوں کے ظہور کا انتظار کرنا، جیسے کہ کوئی ہار ہو، جس کا دھاگا توڑ دیا جائے تو اس کے دانے لگاتار گرتے ہیں۔‘‘
مذکورہ حدیث مبارک پڑھیے اور موجودہ حالات پر ایک نظر ڈالیے، تطبیق سمجھانے کی یا تشریح کی چنداں حاجت نہیں ہے۔ امام احمد، ابن حبان، طبرانی اور حاکم رحمہم اللہ نے ایک حدیث روایت کی ہے، الفاظ کے معمولی فرق کےساتھ اس کا مفہوم یہ ہے:
’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اِرشاد فرمایا کہ: میری اُمّت کے آخر میں ایسے لوگ ہوں گے جو کَجاووں جیسی زِینوں پر سوار ہوکر مسجدوں کے دروازوں پر اُتریں گے، اُن کی عورتیں لباس پہننے کے باوجود بے لباس ہوں گی، اُن کے سروں پر بال اس طرح بندھے ہوں گے جیسے لمبی گردن والے دبلے اونٹوں کے کوہان، اُن پر لعنت بھیجنا کہ وہ ملعون ہوں گی، اگر تمہارے بعد کسی اُمّت نے آنا ہوتا تو تمہاری عورتیں ان کی عورتوں کی خدمت (غلامی) کرتیں، جیسے تم سے پچھلی اُمّتوں (اہلِ کتاب) کی عورتیں تمہاری خدمت کرتی ہیں۔‘‘
اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اس اُمت کا ایک طبقہ اپنی بد اعمالی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایسا بے وقعت ہوجائے گا کہ اگر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اُمت کے بعد کسی اُمت کا آنا مقدر ہوتا تو انہیں غلام بنایا جاتا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے!
 طبیبِ اعظم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہماری فلاح اور عروج کا جو نسخۂ اکسیر ہمیں بتایا ہے جب تک حیلے بہانوں کے ذریعے اس سے پہلو تہی کرتے رہیں گے اور غیر فطری، جدید طُرقِ علاج تجویز کرتے رہیں گے‘ مرض بڑھتا ہی جائے گا، اور خاکم بدہن اس سے زیادہ ذلت و خواری کے دلدل میں جاپھنسیں گے۔ ان معروضات کا مقصد مایوسی کی فضا پیدا کرنا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تو کافر ہی مایوس ہوسکتے ہیں، بلکہ درد کی جگہ اور غم کی کیفیت ہے، دل برداشتہ یہ سطور سپردِ قرطاس کردی گئی ہیں کہ کسی طرح خوابیدہ قوم کو جگایا جائے، ملک کی مقتدر قوتوں اور اَربابِ اِقتدار کے سامنے بھی دست بستہ مخلصانہ نصیحت ہے، اس کے علاوہ کوئی غرض نہیں، خدارا اپنی اَصل کی طرف لوٹ آئیے! خالقِ فطرت کے آفاقی اُصولوں سے انحراف نہ کیجیے، تباہ حال اقوام سے عبرت لیجیے، یہ پکار گو نقار خانے میں طوطی کی آواز سہی، لیکن رحمتِ حق سے اُمید ہے کہ وہ اسے بار آور کرے گا، صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 
’’اِسلام ابتدا میں بھی اجنبی اور اوپرا تھا، عنقریب یہ پھر اجنبیت کی حالت کی طرف لوٹ جائے گا جیساکہ ابتدا میں تھا، سو خوش خبری ہے ان لوگوں کے لیے جنہیں اوپرا سمجھا جائے گا۔‘‘ 
 بعض محدثین نے اس روایت میں ان الفاظ کا بھی اضافہ کیا ہے:
’’پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! اجنبی سمجھے جانے والے لوگ کون ہوں گے؟ فرمایا: جو لوگوں کے فساد (بگاڑ) کے وقت اِصلاح (کی کوشش) کریں گے۔‘‘
 ایک اور روایت میں ہے:
 ’’لوگوں نے میری سنتوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہوگا، اُس کی اِصلاح کریں گے۔‘‘
آئیے! اس مبارک مہینے میں اپنے اس مہربان خالق کی طرف رجوع کیجیے، جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں نوازنا چاہتا ہے، انفرادی اور اجتماعی و قومی سطح پر اس کے سامنے اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کا اعتراف کیجیے، آئیے! اس ماہ میں نازل کردہ کتاب قرآنِ مجید فرقانِ مبین کو دل کی گہرائی سے قبول کرکے پڑھیے، اس کی روشنی میں حق و باطل کے درمیان فیصلہ کیجیے، اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر آگے بڑھیے، جس نے ہمیں پیدا کیا اور سب کچھ عطا کیا، اُسی کی توفیق اور مدد سے ہمارے اَحوال کی اِصلاح ہوسکتی ہے۔ آئیے! اس ماہ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت اور اُسوۂ حسنہ کی طرف، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ساری زندگی ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و بندگی سے عبارت ہے، لیکن رمضان المبارک میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی کیفیت ہی تبدیل ہوجایا کرتی تھی، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ: 
’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، لیکن رمضان المبارک میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سخاوت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا، جب جبریل امین علیہ السلام  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ملاقات کے لیے آتے تھے، وہ ہر رات آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ قرآنِ مجید کا دور کیا کرتے تھے، اس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سخاوت بارش بھرے بادل لانے والی ہوا سے بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔‘‘           (بخاری) 
آپ رضی اللہ عنہ  سے ہی مروی ہے:
’’رمضان المبارک داخل ہوتے ہی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہر قیدی کو آزاد فرمادیتے تھے اور ہر سائل کو عطا کرتے تھے۔‘‘ (مشکاۃ، کتاب الصوم، ص:۱۷۴، طبع: قدیمی)
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  روایت کرتی ہیں کہ: 
’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت میں اتنی محنت فرماتے تھے جتنی اس کے علاوہ نہیں فرماتے تھے۔‘‘   (صحیح مسلم)
آپ  رضی اللہ عنہا  سے ہی مروی ہے:
 ’’رمضان المبارک کا آخری عشرہ داخل ہوتے ہی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنا اِزار باندھ لیتے (کمر کس لیتے تھے)، خود بھی راتوں کو جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں (اَزواج) کو بھی جگاتے تھے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
گناہوں اور کوتاہیوں سے رجوع کے ساتھ ساتھ معاشی اَحوال کی اِصلاح کے لیے بھی شریعت کی ہدایات کو تھام لیجیے! قناعت، کفایت شعاری اور میانہ روی دین کی بنیادی تعلیمات ہیں، جن کے بغیر معیشت کبھی استوار نہیں ہوسکتی، اور موجودہ اَخلاقی بحران سے بچنے کے لیے پہلا قدم اپنی زبان اور قلم کو قابو کرنے کا اُٹھائیے! طے کرلیجیے کہ آپ نے کسی فرد پر تبصرہ نہیں کرنا، صبر اور عفو و درگزر کو وطیرہ بنالیجیے کہ قرآنِ مجید میں صبر و تقویٰ کو فتح و غلبہ اور دشمن کی سازشوں سے حفاظت کا تیر بہدف نسخہ قرار دیا گیا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ وہ دن دور نہیں کہ رحمٰن و رحیم پروردگار کی رحمت ہماری طرف متوجہ ہو اور گم گشتہ عروج پھر سے مقدر ہو۔ 

 اللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ نَرْجُوْ فَلَاتَکِلْنَا إِلٰی اَنْفُسِنَا طَرْفَۃَ عَيْنٍ، وَ اَصْلِحْ لَنَا شَاْنَنَا کُلَّہٗ، لَاإِلٰہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنَّا کُنَّا مِنَ الظَّالِمِيْنَ، آمين بحرمۃ النبي الکريم ۔
وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین