بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1441ھ- 13 اگست 2020 ء

بینات

 
 

دینی تعلیم و تعلُّم اور موجودہ معاشرہ

دینی تعلیم و تعلُّم اور موجودہ معاشرہ


معاشرے میں عام طور پر دینی ماحول اور دین کے حوالے سے تعلیم و تعلُّم کا نقشہ بہت محدود ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ دینی تعلیم کو صرف ناظرہ کی حد تک ضروری سمجھا جاتا ہے، دینی تعلیم کو ضروری سمجھا ہی نہیں جاتا۔ دینی تعلیم کے حوالے سے والدین کی فکر مندی نہ ہونے کے برابر ہے اور جن کی ہے بھی تو محدود فکر کی حد تک، جس میں زیادہ سے زیادہ بچے کا ناظرہ اور نماز کلمے کا شعور آجانا کافی سمجھا جاتا ہے۔ پھر اگرچہ فی زمانہ بعض عصری اداروں میں اس محدود فکر کی حد تک کچھ کوشش کی جارہی ہے، لیکن اس میں بھی بہت سی انتظامی کوتاہیوں کے باعث خاطر خواہ نتائج بالکل بھی دیکھنے کو نہیں مل رہے، مثلاً اسکولز میں ناظرہ کا اہتمام شروع کیا گیا، لیکن ناظرہ پڑھانے والوں کا درست انتظام نہیں کیا جاتا، اسکولز میں ابتدائی دینیات کا اہتمام ہے، لیکن اس کو سمجھنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر، جس میں اکثر طلبہ رٹا لگانے کو ہی مقصود سمجھتے رہتے ہیں، جس کا ایک بڑا سبب استاذ کی عدم توجہ و ناقص کار کردگی ہے۔ اسی طرح اسکولز میں جوامع الکلم احادیث، ادعیہ مسنونہ، نماز اور چھ کلمے وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں، لیکن اکثر طلبہ عبارات تک غلط پڑھ رہے ہوتے ہیں یا بہت جلد بھول جاتے ہیں، باقی سمجھنا سمجھانا تو دور کی بات ہے اور اپنی اسکول لائف سے باہر ان اُمور کو تھامے رہنے کا تصور تک بھی ان کے ذہن میں نہیں آتا اور نہ ہی ان کے حلیے یا سوچ وفکر سے ان اُمور کی اہمیت کا رنگ دیکھنے کونصیب ہوتا ہے۔ ان تمام معاملات کی ایک اہم وجہ اسکول انتظامیہ ہے جو طلبہ کی تربیت، اساتذہ کی ناقص تقرری، اور اپنے عصری نصاب کو بے جا اہمیت دینے کی وجہ سے اس سے مفید نتائج اخذ نہیں کر پارہی۔ 
اس کے علاوہ دینی تعلیم کے حوالے سے ایک بہت بڑا مغالطہ یہ ہے کہ اسے اپنی روز مرہ زندگی کی ضرورت سمجھا ہی نہیں جاتا، یہی وجہ ہے کہ پاکی ناپاکی، حلال حرام، جائز ناجائز کی فکر اپنی عام زندگی میں بالکل بھی دیکھنے کو نہیں ملتی، ہاں! اگر ملتی بھی ہے تو فقط عبادات کی حد تک، باقی معاشرت، اخلاقیات، معاملات اور تجارت کے حوالے سے حد درجہ غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ 
اپنی روز مرہ زندگی میں دین کا عمومی رنگ اور چال چلن دیکھنے کو نہیں ملتا، نہ ہی ایسا کچھ ضروری سمجھا جاتا ہے اور خاص کر معاشرت کے حوالے سے جس قدر مغربی تہذیب ہم میں رائج و پیوست ہوچکی ہے اس سے یہ اندازہ کرنا بھی مشکل معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم کسی اسلامی معاشرے کا حصہ ہیں بھی یا نہیں؟ تاآنکہ کوئی نکاح یا جنازے کا ماحول دیکھنے کو ملے۔ 
جہالت اس حد تک ہے کہ طلاق جیسے حساس مسئلے کو بھی اب تک سمجھا نہیں جاسکا، لہٰذا لگاتار طلاقوں پہ طلاقیں دی جارہی ہیں بغیر کچھ سوچے سمجھے اور طلاق کا صحیح طریقہ تک معلوم کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ بازاروں میں تجارت کرنے والے اکثر تاجر‘ دین کی اُن بنیادی جزئیات تک سے واقف نہیں، جو خرید و فروخت کو حلال حرام کر سکتی ہیں اور نہ ہی کسی کو یہ پوچھنے کی نوبت آتی ہے کہ میں بینک سے سودی لین دین یا وہاں نوکری کرسکتا ہوں؟
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے ہم نام لیوا تو ہیں، لیکن اس مدنی ریاست کی معاشرت کا نقشہ سمجھنا ہمارے لیے ضروری نہیں رہا، کیونکہ ہم آنکھ بند کر کے مغربی تہذیب کی پیروکاری میں لگے ہوئے ہیں، اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں کہ اس لکیر کی فقیری ہمیں گھاٹے کے سودے سے دوچار کردے۔ 
لہٰذا ضرورت ہے کہ اپنے ارد گرد کے معاشرے کو ایسی دینی تعلیم و تربیت دی جائے جس سے ان کی زندگی کا ڈھانچہ بدل سکے اور وہ فقط ایک جماعتی کارکن یا تحریکی فردکی حد تک نہ ہو، بلکہ اس کا جذبہ اپنی عام زندگی بدلنے کا ہو، چنانچہ تعلیم و تعلم کے مستقل ایسے حلقے قائم کیے جائیں جو براہِ راست لوگوں کو دین کی بنیادی اور اہم تعلیمات دینے میں اہم کردار ادا کرسکیں اور اس خدمت کے لیے ائمہ مساجد اور وہ تمام نوجوان فضلاء ہمت کرسکتے ہیں جو اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس رکھتے ہیں اور اس کے پورا کرنے کے لیے غور و فکر میں لگے رہتے ہیں۔ 
یقینا اس تعلیم و تعلم اور تربیت کے عمل میں شریک ہونے والوں میں کوئی مزدور ہوگا، کوئی عصری اداروں کا طالبِ علم، کوئی تاجر، کوئی وکیل، کوئی ڈاکٹر، کوئی کسی خاندان کا سربراہ، کوئی کسی سیاسی پارٹی کا کارکن، وغیرہ۔ اگر بغور دیکھا جائے جب ان سب کے سامنے ہم دین کا واضح، آسان اور ممکن العمل ڈھانچہ قرآن و حدیث، عقیدہ، سیرت، بنیادی فقہ اور تاریخ اسلام کی صورت میں رکھیں گے تو ان مختلف الحال افراد کے ذریعے کتنے گھرانوں، کتنی دکانوں، کتنے اداروں اور کتنے شعبوں میں تبدیلی کے آثار پیدا ہوں گے، ان شاء اللہ! واللّٰہ الموفق والمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے