بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

بینات

 
 

دعوتِ دین ... اہمیت اور تقاضے

دعوتِ دین ... اہمیت اور تقاضے


دینِ اسلام مسلمانوں کی زندگی میں کیسے آجائے؟ کس طرح ایک مسلم خواہشِ نفسانی کو دبا کر دینِ اسلام پر عمل پیرا ہوسکتا ہے، جب کہ اردگرد کے ماحول میں فحاشی،عریانی،اور معاشرتی بے راہ روی اپنے عروج پر ہو تو اس کے لیے ’’اقامت ِدین ‘‘ہے، اور اقامت ِ دین کے دو طریقے ہیں:
۱:- حفاظت ِدین        ۲:- اشاعت ِدین

حفاظت ِدین

حفاظت ِدین اشاعت ِدین سے مقدم ہے، کیونکہ اشاعت اس شے کی ہوگی جو محفوظ ہوگی، اورجس شے میں تحریف کردی جائے یا جو چیز اپنا وجود کھو بیٹھے، اُس کی اشاعت ناممکن ہے۔ حفاظتِ دین سے مراد ہر اُس شے کی حفاظت ہے،جس کی نسبت دینِ اسلام کی طرف ہے۔ 

اشاعت ِ دین

اشاعتِ دین کے دو ذرائع ہیں:
۱:- تحریر         ۲:- تقریر 

تحریر

علمائے ربانین ؒ نے تحریر کے ذریعہ سے غیر مسلم اقوام کو اسلام کا تعارف کرایا، دیگر ادیان پر دینِ اسلام کی فوقیت اور اسلام کی حقانیت ظاہر کی۔ قرآنی علوم ومعارف، احادیثِ نبویہ وشروحاتِ کتبِ احادیث، عقائدِ اسلامیہ، فقہِ اسلامی وشروحاتِ کتبِ فقہ اور تاریخِ اسلامی پر علمائے دین نے اَن گنت تصانیف تحریر فرمادیں، تقریباً دنیا کی ہر زبان میں اسلامی کتب کے تراجم موجود ہیں، جن کی وجہ سے ہزاروں افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے اور ہورہے ہیں۔ 

تقریر

اشاعتِ دین کا دوسرا ذریعہ ’’تقریر‘‘ ہے، علمائے اسلام نے تقریر کے ذریعہ سے بھی لوگوں کو دینِ اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا، خطباء اسلام کے اصلاحی وعلمی مواعظ سے ہزاروں بےعمل مسلمان باعمل مسلمان بن گئے، لاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

دعوتِ دین کا مفہوم اور فضیلت واہمیت

دعوتِ دین کا کام دراصل انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا کام ہے، تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کو معبو د برحق، وحدہٗ لاشریک ماننے کی دعوت دی، سورۃ الاعراف میں حق جل مجدہٗ نے سیدنا نوح علیہ السلام اور دیگر انبیاء کی اپنی قوموں کو دی گئی دعوت کو یوں بیان فرمایا:
’’یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ‘‘ (سورۃ الاعراف:۸۵)
’’اے میری قوم! تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی اور تمہارا معبود ہونے کے لائق نہیں۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا پہلا موضوع بھی یہی تھا کہ: ’’قولوا لا إلٰہ إلا اللہ تفلحوا‘‘
دعوت ِدین کو قرآن کریم اوراحادیثِ نبویہ میں ان اسماء اور عنوانات سے بیان کیاگیا ہے: 
۱:- دعوت الی اللہ، ۲:-انذار وتبشیر (ڈرانا اور بشارت دینا)، ۳:-شہادت الی الناس، ۴:-تواصی بالحق، ۵:-تعاون علی البرّ، ۶:-امربالمعروف ونہی عن المنکر، ۷:-دعوت الی الخیر ۔‘‘
دعوت ِدین سے مراد صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر اعمال وعبادات کی دعوت ہی نہیں، بلکہ دعوت ِدین سے مراد یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان کو اس کام کے متعلق آگاہ کرنا اور نصیحت کرنا جو کام غیر شرعی اور حرام ہو، اسے اس مقام پر ترغیب دینا کہ شریعت کا اس مقا م پر یہ حکم ہے، لہٰذا آپ بھی یہ کام حکمِ شریعت کے مطابق کریں،شریعت کے مطابق امور سر انجام دینے پر اللہ جل شانہٗ کی جانب سے اجر ہے، اور اگر آپ نے حکمِ شریعت کے خلاف کیا، تو اس پر اللہ کی طرف سے پکڑ شدید ہے۔
واضح رہے کہ دین اور دعوتِ دین ایک مسلمان کی پوری زندگی پر محیط ہے، سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ایک کافر نے پوچھا کہ آپ کے مذہب میں عبادت کتنی دیر ہے؟ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: ’’ہمارے مذہب میں چوبیس گھنٹے عبادت ہے۔‘‘ اس پر وہ حیران ہوا تو آپؓ نے جو بات فرمائی، وہ بڑی توجہ طلب ہے اوراس لائق ہے کہ ہر مسلمان کو ازبر ہو، فرمایا: ’’ہمارے نزدیک ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں پر چلنا عبادت ہے۔‘‘ یعنی جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرماتے تھے، اس طرح کھاناکھانا، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی نوش فرمایا، اسی طرح پانی پینا، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کے موقع پر خوشی کا اظہار فرمایا، اسی طرح ہم بھی خوشی کے مواقع پر خوشی کا اظہار کریں، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غم کا اظہار کیا، ہم بھی اسی طرح کریں، جن اوقات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں پڑھنے کا حکم صادر فرمایا، انہی اوقات میں ہم بھی نمازیں پڑھیں۔ اس فرمانِ علیؓ کے پیشِ نظر یہ کہنا آسان ہے کہ دعوتِ ِدین انسانی زندگی کے ہر شعبہ کو محیط ہے۔

دعوت ِدین کے بارے میں حکمِ قرآن

دعوت ِدین کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہم قرآن حکیم کی طرف رجوع کرتے ہیں، تاکہ دعوتِ دین کی اہمیت بھی واضح ہو:
1:- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
’’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ۭ وَاُولٰۗىِٕکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘ (آلِ عمران :۱۰۴)
’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضرور ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔‘‘ 
اس آیت کی تفسیر میں امام ابن ابی حاتمv ابوالعالیہؒ سے روایت فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ نے قرآن میں امربالمعروف کی جوآیات ذکر کی ہیں، وہ اسلا م ہے اور منکر سے نہی والی جو آیات ذکر کی ہیں وہ شیطان کی عبادت ہے۔‘‘ ( تفسیر درمنثور، اردو، ج،۲)
حافظ عماد الدین ابن کثیرؒ لکھتے ہیں :
’’حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: اس جماعت سے مراد خاص صحابہ ؓ اور خاص راویانِ حدیث ہیں، یعنی مجاہد اور علماء۔ حضرت ابوجعفر باقر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی، پھر فرمایا: خیر سے مراد قرآن وحدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغِ حق فرض ہے، لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اُسے ہاتھ سے دفع کردے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روک دے، اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے، یہ ضعیف ایمان ہے۔ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے۔‘‘ (صحیح مسلم ) مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اُس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو، ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرمادے گا، پھر تم دعائیں کرو گے، لیکن قبو ل نہ ہوں گی۔‘‘ (تفسیر ابن کثیرؒ، اردو، ج:۱، ص:۴۴۹)
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانامفتی محمد شفیع عثمانی ؒتحریر فرماتے ہیں :
’’ پہلے تقویٰ اور اعتصام بحبل اللہ کے ذریعے اپنی اصلاح، دوسرے دعوت وتبلیغ کے ذریعہ دوسروں کی اصلاح، آیت ’’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ‘‘ میں اس ہدایت کا بیا ن ہے، گویا ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ خود بھی اپنے اعمال واخلاق کو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے قانون کے مطابق درست کرو اور اپنے دوسرے بھائیوں کے اعمال کو درست کرنے کی بھی فکر رکھو۔‘‘ (معارف القرآن)
2:- ارشادِ ربانی ہے: 
’’یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ‘‘ (سورۃ المائدہ : ۶۷ ) 
’’اے رسول! جو جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، آپ (سب) پہنچادیجیے۔ اور اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو آپ نے الله تعالیٰ کا ایک پیغام بھی نہیں پہنچایا، اور الله تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ یقیناً الله تعالیٰ ان کافروں کو راہ نہ دیں گے۔‘‘ 
علّامہ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں :
’’اپنے نبی ورسول کو پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا۔صحیح بخاری میں ہے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جو تجھ سے کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے۔ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ حکم دیا، پھر اسی آیت کی تلاوت آپ نے کی۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر،ج:۱، ص:۷۸۷)
شیخ الاسلام حضرت علّامہ شبیر احمد عثمانی  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں :
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس بائیس سال تک جس بے نظیر اولوالعزمی، جانفشانی، مسلسل جدوکد اور صبرو استقلال سے فرضِ رسالت وتبلیغ کو ادا کیا، وہ اس کی واضح دلیل تھی کہ آپ کو دنیا میں ہر چیز سے بڑھ کر اپنے فرضِ منصبی (رسالت وبلاغ) کی اہمیت کا احساس ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس احساسِ قوی اور تبلیغی جہا د کو ملحوظ رکھتے ہوئے وظیفۂ تبلیغ میں مزید استحکام وتثبُّت کی تاکید کے موقع پر مؤ ثر ترین عنوان یہ ہی ہوسکتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ‘‘ سے خطاب کرکے صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ اگر بفرضِ محال تبلیغ میں ادنیٰ سی کوتاہی ہوئی تو سمجھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے فرضِ منصبی کے ادا کرنے میں کامیاب نہ ہوئے اور ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر کوششوں سے قربانیوں کا مقصد وحید ہی یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سامنے فرضِ رسالت کی انجام دہی میں اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل فرمائیں، لہٰذا یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ کسی ایک پیغام کے پہنچانے میں بھی ذرا سی کوتاہی کریں۔ عموماً یہ تجربہ ہوا ہے کہ فریضۂ تبلیغ ادا کرنے میں انسان چند وجوہ سے مقصّر رہتا ہے، یا تو اُسے اپنے فرض کی اہمیت کاکافی احساس اور شغف نہ ہو یا لوگوں کی عام مخالفت سے نقصانِ شدید پہنچے یا کم از کم بعض فوائد کے فوت ہونے کا خوف ہو اور یا مخاطبین کے عام تمرُّد و طغیان کو دیکھتے ہوئے، جیسا کہ پچھلی اور اگلی آیات میں اہلِ کتاب کی نسبت بتلایا گیا ہے، تبلیغ کے مثمر اور منتج ہونے سے مایوسی ہو۔ پہلی وجہ کا جواب ’’ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ‘‘ سے ’’فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ‘‘ تک، دوسری کا ’’وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ‘‘ میں اور تیسری کا ’’اِنَّ اللہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ‘‘ میں دے دیا گیا، یعنی تم اپنا فرض ادا کیے جائو، خدا تعالیٰ آپ کی جان اور عزت وآبرو کی حفاظت فرمانے والا ہے، وہ تمام روئے زمین کے دشمنوں کو بھی آپ کے مقابلہ پر کامیابی کی راہ نہ دکھلائے گا، باقی ہدایت وضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے، ایسی قوم جس نے کفر وانکار ہی پر کمر باندھ لی ہے، اگر راہِ راست پر نہ آئی تو تم غم نہ کرو اور نہ مایوس ہو کر اپنے فرض کو چھوڑ دو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہدایتِ ربانی اور آئینِ آسمانی کے موافق اُمت کو ہر چھوٹی بڑی چیز کی تبلیغ کی، نوعِ انسانی کے عوام وخواص میں سے جو بات جس طبقہ کے لائق اور جس کی استعداد کے مطابق تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاکم وکاست اور بے خوف وخطر پہنچا کر خدا کی حجت بندوں پر تمام کردی اور وفات سے دو /ڈھائی مہینے پہلے حجۃ الوداع کے موقع پر جہاں چالیس ہزار سے زائد خادمانِ اسلام اور عاشقانِ تبلیغ کا اجتماع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیٰ رؤس الاشہاد اعلان فرمادیا کہ: اے خدا! تو گواہ رہ! میں (تیری امانت) پہنچا چکا۔‘‘ (تفسیر عثمانی ، ص:۱۶۱،۱۶۰) 
 اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر کسی جھجک کے تبلیغ کا حکم دیا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار ومشرکین سے ہرگز خوف وخطر محسوس نہ فرمائیں، بلکہ کھل کر پیغامِ الٰہی لوگوں تک پہنچا دیں۔
اللہ کے رسولوں کا مقصد ِرسالت دنیا میں اللہ کی توحید کا بول بالا کرنا، دنیا میں قانونِ الٰہی کی عملی تنفیذ ہوتاہے،یہی مقصد حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، مکہ مکرمہ میں تو صرف مشرکین سے خطرہ تھا، لیکن مدینہ منورہ میں اِک طرف منافقین کی سازشیں اور دوسری طرف یہود کی چیرہ دستیاں، تو یہاں اگر کھل کر تبلیغ کا موقع ملا،تو دوسری طرف خطرات بھی بڑھ گئے، انسان کھلے دشمن سے ہر وقت چوکنا رہتا ہے، لیکن چھپے دشمن کا ایک تو پتہ نہیں ہوتا، دوسرا اس کا وار شدید ہوتا ہے، اس لیے یہاں بہت محتاط رہنے کی ضرورت تھی، تو اس آیت میں حق تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھل کر تبلیغ کرنے کی نصیحت فرمائی،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا۔
3:- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَاَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِیْلِہٖ وَہُوَاَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ‘‘ (سورۃ النحل :۱۲۵)
’’ آپ اپنے رب کی راہ کی طرف علم کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعے سے بلائیے اور ( اگر بحث آن پڑے تو) ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث کیجیے (کہ اس میں شدت و خشونت نہ ہو) آپ کا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو بھی جو اس رستے سے گم ہوا اور وہی راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔‘‘ 
آیتِ ہذا میں اولاً اسلوب ِدعوت کا بیان ہے، پھر ان لوگوں سے جو دین کوجاننے کی خاطر بحث ومباحثہ کرتے ہیں، مناظرے کا طریقہ بھی بیان فرمادیا، اس سے بھی پتہ چلا کہ ایک داعی کو صرف دعوت سے ہی غرض نہیں رکھنی چاہیے، بلکہ فرقہائے باطلہ کے دلائل اور قرآن وسنت کی روشنی میں ان کے جوابات بھی ذہن نشین رکھنے چاہئیں، تاکہ بوقت ِضرورت حق کا بول بالا کر سکے۔
آیت مندرجہ بالا کی تفسیر کے ذیل میں علّامہ عماد الدین ابن کثیر  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریرؒ کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور اللہ کے عذاب سے بچائو طلب کریں۔ ہاں! یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑجائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر،ج:۳، ص:۱۶۳)
حکیم الامت مجدد الملت حضرت تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  آیتِ ہٰذا کے ذیل میں فرماتے ہیں :
’’گو یہاں’’ اُدْعُ‘‘ کا خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، مگر حکم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین سب اس کے مخاطب ہیں، ہاں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب اولاً ہے اور دوسروں کو ثانیاً۔ ’’اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ‘‘ یعنی حکمت سے بلائیے! معلوم ہوا کہ اس میں حکمت کی ضرورت ہے، ورنہ مطلق فرماتے، ’’بِالْحِکْمَۃِ‘‘ نہ فرماتے،بہرحال اس کے شرائط ضرور ہیں، مگر وہ اسی کے لیے ہیں جو کام کرنے کا قصد کرے اور وہ تین چیزیں ہیں: دعوت بالحکمۃ، دعوت بالموعظۃ الحسنۃ اور مجادلہ۔ یعنی ایک قسم تودعوت کی یہ ہے کہ حکمت کے ساتھ کی جائے۔ دوسری قسم یہ ہے کہ موعظۂ حسنہ کے ساتھ دعوت کی جائے اور ایک یہ کہ مجادلۂ حسنہ کیا جائے،اس کی توجیہ مختلف ہو سکتی ہے، جو بات میری سمجھ میں آتی ہے وہ عرض کرتا ہوں، جب کسی کو سبیلِ رب کی طرف دعوت ہوگی تو اس میں ایک تو دعویٰ خاص داعی کا مطلب ہوگا اور ایک اس کی نقیض ہوگی جو کہ مذہب مخالف کاہے، پھر گفتگو میں دو چیزوں کی ضرورت ہے، ایک اپنے دعوے کا اثبات اور دوسرے کے دعوے کا ابطال، تو حکمت یہ ہے کہ اپنے دعویٰ پر علمی دلائل قائم کیے جاویں اور مجادلہ یہ ہے کہ مخالف کے مدعا کو باطل کیا جاوے، اصل مقصود یہ دونوں ہیں۔ باقی تیسری ایک چیز اور ہے، وہ موعظہ حسنہ ہے ۔
 چونکہ اللہ تعالیٰ کو عباد کے ساتھ شفقت بہت زیادہ ہے، اس لیے موعظۂ حسنہ بھی ایک طریق بتلادیا، اس کی حقیقت یہ ہے کہ ناصح دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک تو ضابطہ کے ساتھ نصیحت کرنے والا، وہ تو اپنے ضابطہ کی خانہ پُری کردیتا ہے۔ دوسرا و ہ ناصح جس کو سامعین پر شفقت بھی ہے، مثلاً ایک تو منادی کا حکم سنانا ہے اور ایک باپ کا نصیحت کرنا، دونوں میں بڑا فرق ہے، منادی کا کام تو ضابطہ کا ہے، صرف حکم کا پہنچانا اس کا فرضِ منصبی ہے، اب تم مانو یا نہ مانو، اس سے اس کو کوئی بحث نہیں اور باپ محض سنانے پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ اس کی شفقت اس بات کو مقتضی ہوتی ہے کہ کسی صورت اس کومنوا لوں، اس لیے وہ ایسی صورت اختیار کرتا ہے کہ بیٹا مان ہی لے۔ تو دیکھئے! دونوں میں کتنا بڑا فرق ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا کوئی شفیق نہیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی خیرخواہ نہیں،تو محض شفقت ہی کے مقتضا سے اللہ تعالیٰ نے اولاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو او ر ثانیاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو فرمایا ہے کہ دعوت میں صرف حکمت یعنی دلائل ہی پر اکتفا نہ کرو، بلکہ ساتھ ساتھ موعظۂ حسنہ بھی کرتے رہو۔‘‘ (اشرف التفاسیر،ج:۲، ص:۴۸۴-۴۸۳)
اس آیت کی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ  تحریر فرماتے ہیں:
’’اس آیت میںدعوت وتبلیغ کا مکمل نصاب، اس کے اصول وآداب کی پوری تفصیل چند کلمات میں سموئی ہے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت ہرم بن حیانؓ کی موت کا وقت آیا تو عزیزوں نے درخواست کی کہ ہمیں کچھ وصیت فرمائیے تو فرمایا: وصیت تو لوگ اموال کی کیا کرتے ہیں، وہ میرے پاس ہے نہیں، لیکن میں تم کو اللہ کی آیات خصوصاً سورۂ نحل کی آخری آیتوں کی وصیت کرتا ہوں کہ ان پر مضبوطی سے قائم رہو۔‘‘
آگے حضرت مفتی صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’دعوت الیٰ اللہ دراصل انبیاء علیہم السلام کا منصب ہے، اُمت کے علماء اس منصب کو ان کا نائب ہونے کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں تو لازم یہ ہے کہ اس کے آداب اور طریقے بھی انہی سے سیکھیں، جو دعوت ان طریقوں پر نہ رہی وہ دعوت کے بجائے عداوت اور جنگ وجدال کا موجب ہوجاتی ہے۔‘‘ (معارف القرآن، ج:۵)
r:- حق جل مجدہٗ فرماتے ہیں :
’’وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ‘‘(حم ٓ السجدہ:۳۳) 
’’ اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو (لوگوں کو) خدا کی طرف بلائے اور خود (بھی) نیک عمل کرے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔‘‘
اس آیت کے ذیل حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی  رحمۃ اللہ علیہ  تحریر فرماتے ہیں:
’’معلوم ہوا کہ انسان کے کلام میں سب سے احسن وہ کلام ہے جس میں دوسروں کو دعوتِ حق دی گئی ہو، اس میں دعوت الیٰ اللہ کی سب صورتیں داخل ہیں، زبان سے،تحریر سے، یا کسی اور عنوان سے، اذان دینے والا بھی اس میں داخل ہے، کیونکہ وہ دوسروں کو نماز کی طرف بلاتا ہے، اس لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: یہ آیت مؤذنوں کے بارے میں نازل ہوئی اور اس ’’دَعَآ اِلَى اللهِ‘‘ کے بعد ’’عَمِلَ صَالِحًـا ‘‘ آیا ہے، اس سے مراد ہے کہ اذان واقامت کے درمیان دورکعت نماز پڑھ لے ۔‘‘ (معارف القرآن،ج:۷) 
آیتِ کریمہ وتفاسیر سے معلوم ہوا کہ سب سے اچھی بات یہی ہے۔ حضرت انسان دوسرے انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحدانیت، ربوبیت کی طرف دعوت دے، اور اپنی زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے مبارک طریقوں پر بسر کرے اور یہی دعوت دسروں کودے۔ آخرت کی زندگی دائمی زندگی ہے، وہاں کی کامیابی بھی دائمی ہے، وہاں کی ناکامی بھی دائمی ہے، تو سب سے اچھی بات یہی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے بھائی کی خیرخواہی کا فریضہ سرنجام دیتے ہوئے اُسے قرآن وسنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی اور نفسانی و شیطانی اعمال سے بچنے کی ترغیب دے۔ 

دعوتِ دین سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ 

1:- ’’ عن أبي سعید الخدريؓ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من رأی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہٖ، فإن لم یستطع فبلسانہٖ، فإن لم یستطع فبقلبہٖ وذٰلک أضعف الإیمان ۔‘‘ (رواہ مسلم) 
’’ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: جو شخص تم میں سے کوئی خلافِ شرع امر دیکھے‘ اس کو ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو‘ زبان سے روکے، اگر اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو‘ دل سے بُر اجانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف، اردو، ج:۲، ص:۴۷۸) 
حدیث نبوی ؐ سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان برائی کو دیکھے، تو وہ برائی کے خاتمہ کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس سعی جمیلہ میں کسی بھی طرح قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جاسکتا، بلکہ جس قدر وہ سعی کرسکتا ہے، وہی کرے۔
حدیثِ مبارکہ سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ انسان کے جہاں تک بس میں ہو وہ برے کام سے خود بھی بچے اور دوسروں کو بھی افعالِ بد سے روکے، پھر سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اجازت مرحمت فرمائی کہ اگر طاقت سے نہیں روک سکتے، تو زبان سے روکو، اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے، تو کم ازکم دل میں تو اُسے برا جانو، یہ نہ ہو کہ اس فعلِ بد کی تاویلات کرنا شروع کردو ۔
2:- ’’عن أبي مسعود الأنصاريؓ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من دلّ علٰی خیر، فلہٗ مثل أجر فاعلہٖ ۔‘‘ (رواہ مسلم )
’’حضرت ابو مسعودانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس شخص نے کسی نیک کام کی طرف (کسی بندے کی) رہنمائی کی تو اس کو نیک کام کے کرنے والے بندے کے اجر کے برابر ہی اجر ملے گا۔‘‘ (معارف الحدیث،حصہ ہشتم، ص:۵۹،۵۸)
مناظرِ اسلام حضرت مولانا محمد منظور نعمانی  رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ مبارکہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ اس حدیث کا مطلب ومدعا اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلاً: ایک شخص نماز کا عادی نہیں تھا، آپ کی دعوت وترغیب اور محنت کے نتیجہ میں وہ پابندی سے نماز پڑھنے لگا۔ وہ قرآن پاک کی تلاوت اور ذکراللہ سے غافل تھا، آپ کی دعوت اور کوشش کے نتیجہ میں وہ قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کرنے لگا، ذکر وتسبیح کا عادی ہوگیا۔ وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تھا، آپ کی مخلصانہ دعوت و تبلیغ کے اثر سے وہ زکوٰۃ بھی ادا کرنے لگا۔ اسی طرح اور بھی اعمالِ صالحہ کا پابند ہوگیا تو اس کی عمر بھر کی نمازوں، ذکر وتلاوت، زکوٰۃ وصدقات اور دیگر اعمالِ صالحہ کا جتنا اجروثواب آخرت میں ملے گا (اس حدیث کی بشارت کے مطابق ) اللہ تعالیٰ اتنا ہی اجر وثواب بطور انعام کے اپنے لامحدود خزانۂ کرم سے اس داعی الی الخیر بندے کو بھی عطا فرمائے گا،جس کی دعوت وتبلیغ نے اس کو اعمالِ صالحہ پر آمادہ کیا اور عادی بنایا۔واقعہ یہ ہے کہ اس راستہ سے جتنا اجرو ثواب اور آخرت میں جو درجہ حاصل کیا جاسکتا ہے وہ کسی دوسرے راستہ سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ بزرگانِ دین کی اصطلاح میں یہ’’طریقِ نبوت‘‘کا سلوک، بشرط یہ کہ خالصتاً لوجہ اللہ اور رضائے الہٰی کی طلب میں ہو۔‘‘ (معارف الحدیث،حصہ ہشتم، ص :۵۹،۵۸)
3:- ’’عن حذیفۃ أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: والذي نفسي بیدہٖ لتأمرن بالمعروف ولتنھون عن المنکر أو لیوشکن اللہ أن یبعث علیکم عذابًا من عندہٖ، ثم لتد عنہ ولایستجاب لکم ۔‘‘ (رواہ الترمذی)
’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے اہلِ ایمان!) قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم پر لازم ہے اور تم کو تاکید ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ انجام دیتے رہو (یعنی اچھی باتوں اور نیکیوں کی لوگوں کو ہدایت وتاکید کرتے رہو اور بری باتوں اور برے کاموں سے ان کو روکتے رہو ) یا پھر ایسا ہوگاکہ( اس معاملہ میں تمہاری کوتاہی کی وجہ سے) اللہ تم پر اپنا کوئی عذاب بھیج دے، پھر تم اس سے دعائیں کروگے اور تمہاری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔‘‘ (معارف الحدیث،حصہ ہشتم، ص :۶۰)
حضرت مولانا محمد منظور نعمانی  رحمۃ اللہ علیہ  حدیث مبارکہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو واضح الفاظ میں آگاہی دی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میری اُمت کا ایسا فریضہ ہے کہ جب اس کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی ہوگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کسی فتنہ اور عذاب میں مبتلا کردی جائے گی اور پھر جب دعائیں کرنے والے اس عذاب اورفتنہ سے نجات کی دعائیں کریں گے تو ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی۔ اس عاجز کے نزدیک اس میں قطعاً شبہ کی گنجائش نہیں کہ صدیوں سے یہ اُمت طرح طرح کے جن فتنوں اور عذابوں میں مبتلا ہے اور اُمت کے اخیار اور صلحاء کی دعائوں اور التجائوں کے باوجود ان عذابوں سے نجات نہیں مل رہی ہے تو اس کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو ذمہ داری سپرد کی تھی اور اس سلسلہ میں جو تاکیدی احکام دئیے تھے اور اس کا جو عمومی نظام قائم فرمایا تھا وہ صدیوں سے تقریباً معطل ہے، اُمت کی مجموعی تعداد میں اس فریضہ کے ادا کرنے والے فی ہزار ایک کے تناسب سے بھی نہیں۔‘‘ (معارف الحدیث،حصہ ہشتم، ص :۶۰-۶۱)
ان احادیثِ ثلاثہ سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی اہمیت ثابت ہورہی ہے،اور حقیقت بھی یہی ہے کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے جہاںان لوگوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، جنہیں آپ احسن انداز میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نصیحت کر رہے ہیں،وہیں ناصح میں بھی ایمانی پختگی پیدا ہوتی ہے، مثلاً: اگر آپ کسی کو نماز کی تلقین کرتے ہیں،بار بار کرتے ہیں، تو لازماً آپ بھی نماز کی پابندی کرتے ہوںگے، آپ کو ایسا کرنا ہی پڑے گا، اگربالفرض آپ ایسا نہیں کرتے تو جسے آپ تلقین کررہے ہیں، وہ آپ کو ٹوک سکتا ہے کہ ’’دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ‘‘ تو اس وقت آپ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے قرآن کریم کی تعلیمات (یعنی ’’وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ‘‘) پر عمل پیرا ہوتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا ہر مسلمان کے ذمہ ہے، تاکہ وہ خود بھی نیک اعمال بجا لائے اور دیگر اہلیانِ اسلام کو بھی نیک اعمال کرنے کی ترغیب دے ۔
اللہ تعالیٰ راقم کو اور تمام مسلمانوں کو دینِ اسلام کی نشر واشاعت میں اپنا کردار اخلاص سے ادا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے،آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین