بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

بینات

 
 

خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت کے درخشاں پہلو

خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کی سیرت کے درخشاں پہلو

حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ  کا تعارف

انبیاء کرام علیہم السلام  کے بعد انسانوں میںسب سے افضل شخصیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنا خلیل بنانا چاہتے تھے، جن کو قرآن کریم میں اللہ نے سچائی کی تائید کرنے والا اور حق و سچ کا پیکر و پرتو قرار دیا، جنہوںنے زمانۂ جاہلیت میں بھی شراب و جوا اور ہمہ جہتی منکرات سے اجتناب کیا ، جن کے بارے میں خلیفۂ عادل حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ: میں ان کے مقام و مرتبہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتا، وہ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں کی امامت تفویض کی، جنہیں جنت کے سبھی دروازے سے داخل ہونے کی دعوت دیںگے، وہ جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  پر اس قدر احسان کیے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ارشاد فرمانا پڑا کہ: ان کے احسانات کا بدلہ خود اللہ تعالیٰ چکائیں گے، وہ جو صرف عشرہ مبشرہ میں ہی شامل نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ: تم میرے حوضِ کوثر پر بھی رفیق ہوگے جیسے سفرِ ہجرت میں میرے ساتھ تھے، وحی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی گھبراہٹ کو زائل کرنے کے لیے اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی صفات بیان کی تھیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دے گا، کیونکہ آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق بات پر لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں، صلہ رحمی کو اختیار کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔‘‘ بعینہٖ انہی صفات سے ابن دغنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کو متصف کرکے فرمایا کہ: ’’مکہ والوں کی اذیت سے ہجرت نہ کریں، میں آپ کو امان دیتاہوں۔‘‘

نام و لقب 

خلیفہ بلافصل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جانشین، حضرت ابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ  ، آپؓ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عمر بن عمر القرشی التیمی تھا اور آپ کی کنیت ابوبکر تھی۔ آپؓ ابوقحافہ کے گھر میں عام الفیل کے دوسال چھ ماہ بعد ۵۷۳ء کو پیدا ہوئے۔ آپؓ کے لقب صدیق اور عتیق قرار پائے۔ آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہرلمحہ اور ہر گھڑی تائید و نصرت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اعلانِ نبوت اور سفرِ معراج پر سب سے پہلے تصدیق وگواہی آپؓ نے دی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حق و سچ کی تائید کرنے کا لقب (صدیق) عنایت کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  خوبصور ت چہرے والے اور کشادہ پیشانی کے حامل تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپ ؓ کی والدہ کی اولاد زندہ نہ رہتی تھی تو انہوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اس بچہ کو زندگی دراز ملے، ان وجوہات کی وجہ سے لقب عتیق پڑگیا۔ آپ وہؓ واحد صحابی ہیں مہاجرین میں سے جن کے والدین نے اسلام قبول کیا اور جن کی چار نسلوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیارت ہی نہیں کی، بلکہ سبھی حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

قبولِ اسلام 

یہ وہ موقع ہے کہ جب اسلام کی صدائے حق کو قبول کرکے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ساتھ دینا اپنے آپ کو مشکلات میںڈالنے کے مترادف تھا، کیونکہ اعلانِ نبوت کے بعدمشرکینِ مکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بھرپور مخالف ہوچکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی صدائے حق وصداقت اس حد تک ناقابلِ برداشت ہوچکی تھی کہ مشرکینِ مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے ہوچکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اعلانِ نبوت کے بعد تجارتی سفر سے واپسی پرجونہی سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کو خبر ملی کہ آپ کے قریبی ساتھی و دوست محمدبن عبداللہ نے اعلانِ نبوت کیاہے تو آپؓ فوراً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھاکہ کیا آپ نے اعلانِ نبوت کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانب سے اثبات میں جواب ملتے ہی آپؓ بغیر کوئی دلیل مانگے مشرف باسلام ہوگئے۔ ایسے موقع پر اسلام کی قبولیت جبکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سگے چچا و مکہ کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دشمن ہوچکے تھے، آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  ،بچوں میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ  اور غلاموں میں حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ  کے علاوہ کسی بھی جوان و بڑی عمر کے آزاد فرد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا ، گویاآپؓنے اسلام قبول کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر آنے والی ہرآزمائش کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیا۔

پیغمبرِ اسلام پر فدائیت

اسی زمانے کامشہورواقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  خانہ کعبہ میں تشریف لاکرکفار کو دینِ متین کی دعوت دینے لگے توکفارنے جواباًگردن مبارک میںکپڑاڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر تشددکرناشروع کردیا، اسی دوران آپؓکو معلوم ہواتوآپؓ آئے اور کفار سے مخاطب ہوکر گویاہوئے کہ کیا تم ایسے فرد پرظلم وستم ڈھارہے ہو جوتمہیں اللہ کے علاوہ باقی معبودوں کی عبادت کرنے سے منع کرتاہے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلاتاہے؟! یہ کہنا تھا کہ کفارِمکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو چھوڑ کر آپؓ پر حملہ آور ہوگئے۔ کفارنے آپؓ کواتنا مارا کہ آپؓبے ہوش ہوگئے۔ آپؓ کو اس حالت میں گھر لایاگیا۔ گھر پہنچ کر جب آپؓ کو ہوش آیا تو سب سے پہلا سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی خیریت دریافت کرنے سے متعلق تھا۔ والدہ دودھ کا پیالہ لے کر سرہانے کھڑی تھیں کہ آپؓ دودھ نوش فرمائیں، مگر آپؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے متعلق بارہا استفسار کیا تو والدہ نے امِ جمیل کو طلب کیا، باوجود ام جمیل کی جانب سے مطلع کرنے کے کہ آپ بخیر و عافیت ہیں، آپؓ کی تسلی نہ ہوئی تو اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہاں پہنچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانب سے حوصلہ ملنے پر آپ جیسی اولوالعزم شخصیت نے اپنے دکھ دردو تکلیف کو بھلا کر  اسلام اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  سے اپنی بھرپور وابستگی کا اظہارکرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے درخواست کی کہ دعاکریں میری والدہ اسلام قبول کرلے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس مطالبہ پر ہاتھ اُٹھا کر اپنے رب کے حضور دعامانگی جس کے نتیجہ میں آپ کی والدہ محترمہ مشرف باسلام ہوئیں۔

شانِ صدیق  ؓ بزبانِ قرآن

قرآن میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ   کا تذکرہ سورۂ آل عمران،سورۃ اللیل،سورۃ التوبہ، سورۃ الزمراور سورۃ الفتح میں ہوا ہے، جن میں آپؓ کے مناقب بیان ہوئے ہیں کہ سفرِ ہجرت کے موقع پر آپؓ  دشمنوں کے غارِثور کے دہانے پر پہنچنے کی وجہ سے حزین و غمگین ہوئے اور کہنے لگے کہ: اگر دشمن نے ہمارے قدموں کو دیکھ لیا تو پہچان لیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ان دوکے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟! امتیازی بات یہ ہے کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا‘‘ کا ارشاد ہوا، مطلب یہ کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کو اپنا خوف اور اپنی فکر نہیں تھی، بلکہ پریشان تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے متعلق تھے کہ کہیں دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اسی طرح کفار کی جانب سے اللہ تعالیٰ کا تمسخر اُڑایا گیا تو اس معاملہ کا تصفیہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آیت کریمہ نازل کرکے کیا۔ آپؓ کی جانب سے راہِ خدا میں صدقہ و خیرات کی گواہی سورۃ اللیل میں دی گئی۔ سورۃ الزمر میں آپؓ کے پیکرِ صداقت ہونے کو بیان کیا گیا۔ سورۃ الفتح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی معیت و صحبت کا تذکرہ ہوا۔

مقامِ صدیق  ؓ بزبانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر سب سے پہلے مردوں میں سے ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  ایمان لائے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے قبولِ اسلام سے تادمِ زیست خود کو اوراپنے اہل خانہ کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا، جس کا نتیجہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاںعظمتِ صدیقی کے تذکرے ملتے ہیں، وہیں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث میں آپ کے فضائل و مناقب بیان ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ایک مرتبہ اُحد پہاڑ پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ  اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ  کے ہمراہ موجود تھے، پہاڑ لرزنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: ’’تھم جا! تجھ پر نبی و صدیق اور دوشہید موجود ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کے مقامِ امتیازی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ’’صدیقؓ سے محبت مومن کرے گا جبکہ نفرت منافق رکھے گا۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ بھی فرمایا کہ: ’’میں نے دنیامیں تمام محسنوں کے احسانات کا بدلہ اُتار دیا، جبکہ صدیقِ اکبرؓ کے احسانات کا بدلہ اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے۔‘‘ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ: ’’ابوبکرصدیقؓ اور عمر فاروقؓ جنت کے تمام بڑی عمر کے لوگوں کے سردار ہوںگے ماسوائے انبیاء کے۔‘‘ احادیث میں یہ بھی واردہوا ہے کہ: ’’آپؓ کی موجودگی میں کسی بھی شخص کے لیے روا نہیں کہ وہ مصلائے امامت پر کھڑا ہو۔‘‘ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مرض الوفات میں ۱۷ نمازوں کی امامت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے کی اوریہی وجہ ہے کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم  کی لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا  کی نمازِ جنازہ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے خودپڑھانے کی بجائے مصلائے امامت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کے سپرد کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایک بار ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  نے استفسار کیا کہ آسمان کے ستاروں کے بقدر کسی کی نیکیاں ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ: ہاں! سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کی ۔ ام المومنینؓ خاموش ہوگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا کہ آپ کے سوال کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا یہ خیال تھا کہ اس قدر نیکیاں میرے والد ماجدحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کی ہوں گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’غمگین کیوں ہوتی ہو؟ اتنی نیکیاںآپ کے والد ماجد کی تو صرف سفرِ ہجرت کی تین راتوں کی ہیں ۔‘‘

روشن خدمات 

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کے قبولِ اسلام کے بعدکے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو غیرت و حمیت اور شجاعت جیسے عالی اوصاف سے آپؓ کا دامن بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ آپؓ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور آپؓ کی دعوت پر حضرت عثمانؓ، حضرت ابوعبیدہ ؓ،حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ جیسے جلیل القدر صحابہؓ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔آپؓ نے قبولِ اسلام کے بعد جان و مال سب کچھ اسلام پر قربان کردیا۔ دشمنانِ اسلام کے چنگل میں پھنسے مظلوم مسلمان مؤذنِ رسول ؐ بلال بن ابی رباح رضی اللہ عنہ ، زنیرہؓ، عامر بن فہیرہؓ، ام عبیسؓ وغیرہ مسلم غلاموں کو مشرکین کی قید سے نجات دلانے کے لیے فدیہ ادا کیا۔ آپؓ نے اپنے سارے گھرانے کو خدمتِ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے لیے وقف کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے عقد میں اپنی لختِ جگراُم المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  دی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۂ نور کی ۱۸آیات میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی لختِ جگر کی فضیلت کو بیان کیا۔ سفرِ ہجرت میں آپؓ نے دل جمعی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کی۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اشاعتِ اسلام کی خاطر مسلمانوں سے صدقہ دینے کی التجا کی تو آپؓ نے سب سے زیادہ مال پیش کیا۔ 

 ہجرتِ مدینہ میں ایثارِ صدیقی

جب کفارِ مکہ کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھیوں کو ظلم وستم کا مسلسل نشانہ بنایا جانے لگاتواللہ تعالیٰ کی جانب سے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا۔ اس عالَم میں بہت سے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم مدینہ کو ہجرت کرچکے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے  استفسار کیا کہ میں بھی مدینہ روانہ ہوجائوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع کردیا، تو آپؓ نے جاننے کی کوشش کی کہ کیا مجھے آپ کی معیت کا شرف حاصل ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اثبات میں جواب دیا۔ جب خالقِ ارض و سماء نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ہجرت کا حکم دیا تو ایک جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہجرت کا ارادہ باندھا تو دوسری جانب کفارِ مکہ دارالندوۃ میں جمع ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو (نعوذ باللہ) شہید کرنے کا منصوبہ بنانے لگے، اسی بنا پر مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر کامحاصرہ کرلیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مکہ کے لوگوں کی سب امانتیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ  کے حوالہ کیں اور کفار کامحاصرہ توڑ کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کے گھر پہنچے اور اپنے ہمراہ سفرِ ہجرت پر چلنے کو کہا۔ باوجود تمام حالات کا علم ہونے کے آپ توپہلے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کے لیے بے تاب تھے۔ ایسے موقع پر جب کسی کام کے کرنے پر موت سامنے نظر آرہی ہو تو وہ کام کر گزرنا محض فطری شجاعت و بہادری اور تائیدِ ایزدی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ اس پرخطر موقع پر آپؓ نے ناصرف اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ سفرِ ہجرت کیا، بلکہ اپنے پورے خاندان کوبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت پر مامور کرکے آپؓ نے بھرپور جرأت کا مظاہرہ کیا۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ سفر پرامن گزر گیا ہو، بلکہ کفارِمکہ نے برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا تعاقب جاری رکھا۔ سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب غارِثور میں قیام فرمایا تو دشمن تعاقب کرتے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گیا۔ اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی، بلکہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نقصان پہنچنے کے ڈرسے اپنی پریشانی کا اظہار کیا، جس پر بذریعہ وحی آپ ؓکو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے تسلّی دی اور فرمایا: ’’لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا‘‘ یعنی ’’تو میرے بارے میں غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ ہجرت کے اس پر خطرسفر میں بے باکی کے ساتھ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ سفر کرنااس بے مثال فطری شجاعت کاعملی مظاہرہ ہے جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کی ذات میں اللہ پاک نے ودیعت کررکھی تھی۔ غارِثور کی چڑھائی چڑھتے وقت آپؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو اپنے کندھوں پر اُٹھایا، غار کی صفائی کے دوران خطرناک سانپ نے آپؓ کی ایڑی پر ڈسا تو آپؓ کو یہ بھی شرف ملا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنا لعابِ دہن ان کی ایڑی پر لگایا۔سفرِ ہجرت میں دشمن کے حملہ کے خوف سے دورانِ سفرآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی چہار جانب سے حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات اور استقامتِ صدیقی

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے وصال کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ اپنے ہوش وحواس کھوبیٹھے، یہاں تک کہ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ  جیسے مضبوط قوت و جسم کے مالک اور بہادر بھی اس اعلان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ہاتھ میں بے نیام تلوار لے کر یہ کہنے لگے کہ جس شخص کو میں نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  وفات پاگئے ہیں تو میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔ اس موقع پر بھی سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے اپنی فطری بصیرت اور اصابتِ رائے کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: ’’لوگو! سنو! جو لوگ تم میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عبادت کیا کرتے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم  وفات پاگئے ہیں اورجولوگ اللہ پاک کی عبادت کرتے تھے تو یاد رکھو! اللہ زندہ ہے اور اللہ کی ذات کو کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘ اس کے بعد قرآن پاک کی آیات تلاوت فرما کر اپنی بات کو مزید مؤثر کردیا۔ یہ خطبہ اور اس میں تلاوت کی گئی آیات سنتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنا حوصلہ ملا کہ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم فرمانے لگے: ’’یوں معلوم ہوتاہے کہ قرآن پاک کی یہ آیت ابھی نازل ہورہی ہے۔‘‘ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے اتنے جان لیواحادثے کے بعد بھی اتنے بلند حوصلے اور عزائم کا اعادہ کوئی حلیم طبع اور صابر انسان ہی کر سکتاہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد اُمت کی قیادت سنبھالنے کا حق دار ہے۔

سخاوت و عجزِصدیقی

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے اپنا تن من دھن اسلام پر قربان کردیا، یہاں تک غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب مسلمانوں سے چندہ طلب کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے گھر کا سارا سامان پیش کردیا، یہاں تک کہ اپنا ذاتی لباس بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں پیش کیا، جبکہ خود ٹاٹ کا لباس زیب تن کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس تشریف لائے۔ اسی موقع پرملکِ مقرب جبرئیل امین علیہ السلام  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے بھی ٹاٹ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو سیدنا صدیق اکبر صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ تمام فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ لباس پہننے کا حکم دیا ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کا یہ طرزِ عمل بعد از خلافت بھی جاری و ساری رہا ہے کہ وہ اپنے ذاتی اخراجاتِ روزگانہ کی خاطر سامانِ تجارت لے کر بازار جانے لگے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے پوچھا کہ: آپ کہاں جارہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: سامان بیچنے کے لیے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ اگر آپؓ تجارت کریںگے تو امورِ خلافت کون نبھائے گا؟ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے پوچھا کہ: کیا میں اہلِ خانہ کے نان و نفقہ کا انتظا م نہ کروں؟ اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ: آپ مسلمانوں کے بیت المال سے وظیفہ حاصل کرلیں۔ اس پر آپؓ نے رضامندی اس شرط پر ظاہرکی کہ خلیفہ ہونے  کے باوجود ایک عام فرد کے برابر وظیفہ مقرر ہوگا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ: مجھے معلوم ہواکہ مدینہ میں ایک نابینا بڑھیا مقیم ہے اور اس کی نگہداشت کی ضرورت ہے تو وہ اس بڑھیا کے ہاں حاضر ہوئے تو بڑھیا نے کہا کہ کوئی بندہ روزانہ آتاہے اور میرے گھر کے سارے اُمور سرانجام دے کر لوٹ جاتا ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ: متعدد بار جستجو کے بعد میں نے ایک نقاب پوش کو طلوعِ آفتاب سے پیشتر دیکھا کہ منہ پر کپڑا اوڑھے اس بڑھیا کے گھر پہنچتا ہے اور وہاں سے جب وہ واپس نکلتا ہے تو میں نے اس کو آدبوچا اور چہرہ سے کپڑا اُتارا تو کیا دیکھتا ہوں وہ کوئی اور نہیں، بلکہ وقت کے خلیفہ امیرالمومنین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  تھے۔ خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد آپؓ نے خطبہ میں ارشاد فرمادیا تھا کہ: ’’تم میں سے کمزور میرے لیے طاقتور ہے اور طاقتور کمزور ہے کہ اگر کوئی ظلماً کسی کا حق غصب کرے گا تو میں ضروربالضرور وہ حاصل کرکے مظلوم کی نصرت کروںگا۔ اورجب تک میں قرآن و سنت کے مطابق حکومت کروں تم پر میری اطاعت لازم ہے، اگر میں شریعت سے انحراف برتوں تو تم پر واجب نہیں کہ میری اطاعت کرو۔‘‘

تعمیلِ حکمِ نبوی

آپؓ کی حیات میں رومیوں نے جب دھوکہ دہی سے مسلمانوں کے خلاف صف آرائی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بھاری بھر کم لشکر لے کر وہاں پہنچے، رومی پسپا ہوگئے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی واپسی کے بعد قبائلِ عرب کو ساتھ ملاکر رومی پھر صف آرا ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ  کی قیادت میں لشکر بھیجا جس میںحضرت زیدبن حارثہؓ اور حضرت جعفرطیارؓ سمیت متعدد جلیل القدرصحابہؓ جامِ شہادت نوش کرگئے۔ اس جنگ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں کا ایک عظیم لشکر تشکیل دیا، جس میں سیدنا صدیق اکبرؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ جیسے جلیل القدر اور عظیم المرتبت صحابہؓ بھی موجود تھے، اس لشکر کی قیادت حضرت زیدؓ کے نوخیز بیٹے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ  کو عنایت کی۔ ’’جیشِ اسامہؓ    ‘‘ کی روانگی سے پیشتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  دنیا سے پردہ فرماگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جنازہ و تدفین اور سقیفہ بن ساعدہ میں مسئلہ خلافت میں صحابہ کرامؓ کی مصروفیت کے بعد جب اتفاقِ رائے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  خلیفہ منتخب ہوئے تو آپؓ نے فوراً لشکر اسامہؓ   کو روانگی کا حکم دیا، بڑے بڑے عظیم المرتبت صحابہ کرامؓ کی جانب سے یہ مشورہ دیا جاتا رہا کہ آپ ابھی اس لشکر کو روانہ نہ کریں، کیوں کہ مدینہ کے اطراف سے بغاوت اور یورش کا خطرہ ہے، مگر آپؓ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے کیے گئے فیصلہ سے کسی طرح رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ ’’جیشِ اسامہؓ  ‘‘ جب کامرانی و کامیابی اور مالِ غنیمت کے ہمراہ واپس آیا تو پورے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔

فتنۂ ارتداد و منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی

 وفاتِ نبوی کے بعد جب آپؓ کوخلیفہ منتخب کر لیا گیا تو بہت سے خطرناک فتنوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا۔ کہیں فتنۂ ارتداد پیداہوگیا تو کہیں منکرینِ زکوٰۃ نے اسلام کے بنیادی فریضے زکوٰۃکی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ اسی طرح جھوٹے مدعیانِ نبوت (مسیلمہ، طلیحہ اسدی اور سجاح) کی قوت بھی مضبوط ہونے لگی۔ اس پر بھی معاملہ ختم نہیں ہوا، بلکہ مرتدین، منکرینِ زکوٰۃاور مدعیانِ نبوت جیسے داخلی فتنوں کی یکساں سر کوبی کے لیے آپؓ نے گیارہ لشکر تشکیل دئیے۔ اس موقع پر صحابہؓ نے نرمی کی درخواست کی تو آپؓ نے یہ سن کر ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ: ’’أَیَنْقُصُ الدِّیْنُ وَأَنَاحيٌّ؟‘‘ یعنی دین میں کمی آجائے اور میں زندہ رہوں، پھر فرمایا کہ: اگر میرے ساتھ کوئی تعاون کرناچاہے توخوب اور اگر آپ ؓسب میراساتھ چھوڑدیں تو بھی میں تنِ تنہا اسلام کے ان دشمنوں کامقابلہ کروں گا۔سنو! مجھے یہ بات منظور ہے کہ اس مقابلہ میں دشمن مجھے مار ڈالیں اور میرے لاشے کو پرندے نوچ نوچ کر کھا جائیں، لیکن یہ بات منظور نہیں کہ اسلام کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچے۔ اس پامردی و استقامتِ فیصلہ کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام فوجی لشکر بشمول’’جیشِ اسامہؓ   ‘‘ منکرینِ زکوٰۃ و مدعیانِ نبوت اور دشمنانِ اسلام کی ناصرف سرکوبی کرنے میں کامیاب ہوئے، بلکہ بڑی تعداد میں غنائم اور اسلحہ جمع کرنے میں بھی کامیاب ہوئے اور اسی کا ثمرہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کے عہد میں ہی فتح فارس و روم کی طرح پڑگئی جس کی بشارت نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم  نے غزوۂ خندق کے موقع پر سنائی تھی۔

حفاظتِ قرآن کا اہتمام

نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  کے جوارِ رحمتِ باری میں منتقل ہوجانے کے بعد جو فتنے ظہور پذیر ہوئے، ان کی بیخ کنی کی خاطر آپؓ نے جو لشکر روانہ کیے، اس کے نتیجہ میں فتنوں کا خاتمہ تو ہوہی گیا، تاہم مسلمانوں کو اس میں ہوشربا نقصان پہنچا، جس میں خاص طورپر صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد جو قرآن کے حافظ تھے‘ شہادت کے منصب پر فائز ہوئے تو آپؓ کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے مشورہ دیا کہ قرآن کریم کو فی الفور جمع کرنے کی ضرورت ہے، مبادا ایسا نہ ہوکہ قرآن کریم سے مسلمان محروم ہوجائیں، تو آپؓ نے فرمایا: جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے نہیں کیا، وہ میں کیسے کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ: اس میں مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی ہے۔ بالآخر خلیفۂ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا شرح صدر ہوگیا اور امیر المئومنینؓ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ  کو حکم دیا کہ صحابہ کرامؓ سے دو گواہوں کی موجودگی میں قرآن کریم کے جزء کو مکمل کرنے کا اہتمام کریں ۔خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  اور حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ  کی اَنتھک محنت سے قرآن کریم کو یکجا جمع کرلیا گیا۔ یہ ایسا احسانِ عظیم ہے کہ دشمنانِ اسلام سرتوڑ کوشش و جستجو کرنے کے باوجود چودہ سوسال بعد بھی قرآن کریم سے ملتِ اسلامیہ کے اعتماد کو گزند پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ 

وفات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  دو برس چندماہ منصبِ خلافت پر فائز رہنے کے بعد بیمار ہوئے اور پیر کے روز ۲۲ جمادی الاخریٰ ۱۳ ہجری میں انتقال کرگئے اور اُمورِ خلافت چلانے کی خاطر جو راہنما اصول انہوں نے اختیار کررکھے تھے، انہیں کی روشنی میں کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشاورت کے بعد آپؓ اپنے بعد خلافت کے لیے اپنا جانشین مرادِ پیغمبراور خسرِ رسولؐ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کو نامزد کرگئے تھے۔

سیرتِ صدیقی پر عمل کی ضرورت

سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی اور اپنے دورِ خلافت میں پر خطر حالات کے باوجود تنہا جس بے باکی، شجاعت وبہادری اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا‘ تاریخ میںاس کی مثال ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتی۔ یقینایہ جانشینِ رسولؐ کی فطری شجاعت تھی، جس کے نتیجے میںدینِ مصطفوی ؐکو وہ عروج ملا جس کا اعلان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی زبانِ مبارک سے کر گئے تھے۔ آج جبکہ اُمتِ مسلمہ ہمہ جہتی سازشوں کاشکار ہو کر کفارکے سامنے مغلوبیت کی حالت میں ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے حکمران،علماء اور عوام ان سخت حالات کا مقابلہ سیرتِ صدیقیؓ کی روشنی میں اسی ایمانی بصیرت و شجاعت کے ساتھ کریں، جیسے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے اپنی مکمل زندگی میں بالعموم اور جیشِ اسامہؓ کی روانگی، منکرینِ زکوٰۃ و مدعیانِ نبوت کی سرکوبی جیسے اہم امور کو بالخصوص حرزِ جان بنایا اور تمام نام نہاد اسلام دشمن طاقتوں کو مغلوب کر کے محمدی پرچم کو سر بلند کردیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیںسیرتِ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل میں پر عزم ہوکر اسلام کی سر بلندی کے لیے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے