بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

بینات

 
 

خانوادۂ کامل پوریؒ کے عظیم فرزند کی رحلت حافظ محمد سفیان انور رحمہ اللہ 

خانوادۂ کامل پوریؒ کے عظیم فرزند کی رحلت

حافظ محمد سفیان انور رحمہ اللہ 

 

 
خانوادۂ کامل پوریؒ اور خاندان بنوریؒ کی نسبتوں کے حامل ،محبوب العلماء، اکابر کے منظورِ نظر، علماء و مشائخ کے خادم، مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ کے پڑپوتے ، مولانا عبیدالرحمن کے پوتے، امامِ اہلِ سنت حضرت مفتی احمد الرحمن صاحبؒ کے نواسے، بھائی حافظ محمد انور کی آنکھوں کے تارے، قدسیہ باجی کے راج دلارے، بھائی بہنوں کے پیارے ، الحاج عبدالمنان مکی کے خلیفہ مجاز، نیک صالح جوان حافظ محمد سفیان انورؒ مؤرخہ ۷مارچ۲۰۲۰ء بروز ہفتہ شیفیلڈ (برطانیہ) میں وہاں کے وقت کے مطابق تقریباً ۹بجے اپنی بیماری سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئے اور اپنے خالقِ حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گئے، إنا للّٰہ و إنا إلیہ راجعون۔
حافظ محمد سفیان انور اپنی زندگی کی صرف ۳۶ بہاریں ہی دیکھ پائے اور نوجوانی کے عالم میں صرف چھتیس سال کی عمر میں دعوتِ حق کو لبیک کہا اور صرف اپنے گھرانہ کو ہی نہیں بلکہ پورے خاندان، عزیز و اقارب سمیت ہزاروں محبت کرنے اور تعلق رکھنے والوں کو رنجیدہ کرگئے۔ موت کوئی اچھنبا نہیں، ہر شخص نے موت کا مزا چکھنا ہے ، جو بھی دنیا میں آیا ایک دن اس نے جانا ہے اوریہ جانتے ہوئے بھی کہ سفیان طویل عرصہ سے عارضہ میں مبتلا تھے اور یہ مرحلہ آنا ہی تھا، لیکن یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اتنا جلد سب کو روتا ہوا چھوڑ جائے گا، اس لیے اب تک ان کی موت کا یقین کرنا مشکل ہورہا ہے:

سفیان جان سے گیا ہے یقیں نہیں آتا

وہ اس جہاں سے گیا ہے یقیں نہیں آتا
کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی

کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

بھائی سفیان نجیب الطرفین تھے، کیونکہ ان کے والدحافظ محمد انور، ولیِ کامل محدثِ کبیر حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوری رحمہ اللہ کے پوتے ہیں اور ان کی والدہ حضرت کامل پوریؒ کی پوتی اور محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی نواسی ہیں۔حافظ سفیان کا خانوادہ علمی خانوادہ ہے۔ اس خاندان کی شروع سے یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ علماء و مشائخ کا مرجع اور مقتدا رہا ہے۔آپ کے پڑداداحضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ اپنے وقت کے ولیِ کامل ،رہبرِ شریعت اور پیرِ طریقت تھے، علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہر تھے، خصوصاً علم حدیث پر خوب دسترس حاصل تھی۔ صرف علوم کے ہی ماہر نہیں تھے، بلکہ سلوک و معرفت کے بھی امام تھے، بقول حضرت بنوری رحمہ اللہ :
’’ حضرت مولانا عبدالرحمن کا مل پوری رحمہ اللہ کی ذاتِ گرامی جامع صفات ہستی تھی، ایک طرف حضرت مولانا شیخ الہند رحمہ اللہ سے فیضیابی، دوسری طرف حضرت مولانا انور شاہ رحمہ اللہ سے استفادہ، تیسری طرف حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کی خانقاہِ معرفت سے سر شار تھے۔ سہارنپور، دیو بند، تھانہ بھون تینوں آستانوں سے فیض حاصل کیا۔‘‘ (تجلیاتِ رحمانی، ص:۳۸)
حافظ سفیان رحمہ اللہ کے دادا مولانا عبید الرحمن رحمہ اللہ بھی جید عالم دین تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔ انتہائی متواضع اور علم دوست انسان تھے۔ آپ کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم مظاہر العلوم سہارنپور کے روحانی ماحول میں ہوئی اور وہاں کے بڑے بڑے اکابر کی دعائیں، توجہات اور سر پرستی ان کو حاصل رہی۔ آپ کی فراغت دارالعلوم ٹنڈو الہ یار سے ہوئی۔ ۱۹۵۵ء میں آپ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے وابستہ ہوئے۔ پانچ سال تک یہاں حضرت بنوری رحمہ اللہ کی سرپرستی میں کام کیا۔ پھر اپنے والد محترم کی خدمت کے لیے گاؤں چلے گئے۔ ۱۹۶۵ء میں اپنے والد محترم اور حضرت بنوری رحمہ اللہ کے مشورہ سے انگلینڈ چلے گئے اور وہاں مسلمانوں کی دینی رہنمائی شروع کی اور وہاں اپنے بزرگوں کی توجہات اور سرپرستی کی بدولت، اسلام اور اسلامی اقدار کی سر بلندی کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ وہاں آپ نے مساجد قائم کیں، نوجوان نسل کے لیے دینی تعلیم کے مرکز اور مکاتب قائم کیے، وہاں کے علماء کو جمع کیا اور جمعیت علمائے برطانیہ کی بنیاد رکھ کر علماء برطانیہ میں ایک مرکزیت قائم کی اور مسلمانوں کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا، اور جب قادیانیوں نے برطانیہ میں ڈیرے ڈالے تو وہاں مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی بنیاد رکھنے، وہاں مجلس کا دفتر قائم کرنے اور قادیانیوں کی سرکوبی کے لیے مرکزی کردار ادا کیا۔ حافظ محمد سفیان انور کے نانا امامِ اہلِ سنت حضرت مفتی احمد الرحمن رحمہ اللہ تو علمی دنیا میں معروف ہیں، وہ محتاجِ تعارف نہیں ۔ آپ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس و شیخ الحدیث، عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے نائب امیر اور بہت سی دینی تحریکات، مدارس، دینی مراکز کے سرپرست اور معاون رہے۔ اور آپ کی نانی محترمہ کے والد محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے کون واقف نہیں!۔ اس طرح بھائی سفیان کی ذات میں خاندانی شرافت و نجابت اور طرفین سے خیر کثیر جمع ہوگئی تھیں۔
حافظ محمدسفیان انور کو ہمیشہ دادا اور نانا کی شفقت و محبت حاصل رہی، بلکہ آپ کی تعلیم و تربیت اپنے دادا جان کی زیرِ نگرانی ہوئی اور آپ اپنے داد ا کی آغوشِ شفقت میں ہی پروان چڑھے۔ بھائی سفیان نے شیفیلڈکے قریب نوٹنگھم میں مولانا کمال الدین سواتی رحمہ اللہ کے قائم کردہ مدرسہ سے حفظ کیا، ابتدائی کتابیں دادا جان سے گھر میں ہی پڑھیں۔ آپ کو عالم بننے کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ اپنے والدین کے ساتھ پاکستا ن آئے تو خود اپنے شوق سے یہیں رُک گئے اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیمی سلسلہ شروع کردیا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اپنے والد صاحب کے حکم پر انگلینڈ واپس چلے گئے، کیوں کہ اُن کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو رہی تھی۔ خیال یہی تھا کہ پاسپورٹ کی تجدید ہوجائے گی اور والدین سے بھی مل لوں گا اور جامعہ میں آکر دوبارہ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھو ں گا، مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب یہ انگلینڈ پہنچے تو بھائی انور نے کہا: آئے ہو تو ہسپتال جاکر چیک اَپ بھی کروالو، کیونکہ حافظ محمد سفیانؒ کے پیشاب میں بچپن سے ہی پروٹین کا اخراج زیادہ ہوتا تھا۔
حافظ محمد سفیانؒ نے جب ہسپتال پہنچ کر اپنے گردوں کا معائنہ کروایا تو معلوم ہوا کہ دونوں گردے فیل ہوچکے ہیں، یوں مزید دینی تعلیم کا سلسلہ آگے جاری نہ رہ سکا، مگر عصری تعلیم وہاں کے مطابق مکمل کی۔ اپنے دادا جان سے حصولِ علم کا سلسلہ جاری رکھا اور جب مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ کو ڈاکٹروں نے آرام کرنے اور تبدیلیِ آب و ہوا کا مشورہ دیا تو مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ نے مفتی محمد جمیل خان شہید ؒ اور بھائی طلحہ رحمانی کی معیت میں ۲۰۰۱ء میں انگلینڈ کا سفر کیا، آپ نے وہاں ایک ماہ سے زائدقیام کیا تو قاری اسماعیل رشیدی اور مفتی عبدالقادر کی درخواست پر بخاری شریف کا درس شروع کیا تو اس میں بھی حافظ محمد سفیان اکثر و بیشتر شرکت کرتے تھے۔ اس طرح علمِ حدیث سے بھی ان کو نسبت حاصل ہے۔
سات ، آٹھ سال ڈائیلیسز ہوتا رہا، پھر گردہ مل گیا تو ٹرانسپلانٹ ہوا، اس گردہ کی تبدیلی کے بعد حافظ محمد سفیان کو ایک اور عارضہ لاحق ہوا کہ ان کے مسلز کمزور ہوگئے، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کے مسلز شروع سے ہی کمزور تھے، اس کا کسی کو بروقت پتا نہ چل سکا اور اس آپریشن کے دوران یہ بیماری زیادہ واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ بہر حال آہستہ آہستہ مسلز بالکل ہی جواب دے گئے کہ حافظ سفیانؒ کے لیے بغیر سہارے کے خود سے چلنا ، پھرنا، اُٹھنا ، بیٹھنا مشکل ہوگیا، بلکہ بعض دفعہ خود سے کروٹ لینا بھی مشکل ہوتا تھا اور اس طرح پندرہ ، بیس سال اسی حالت میں انتہائی صبر و ہمت سے گزارے۔ صبر کا یہ حال تھا کہ کبھی اس کی زبان سے شکوہ، شکایت، جزع و فزع کا لفظ نہیں سنا اور ہمت کا یہ عالم تھا کہ اسی بیماری کے ساتھ علماء، اکابر کی خدمت کرنا، دیگر ملکوں خصوصاً پاکستان سے آنے والے علماء کے پروگرام کو مرتب کرنا، اپنے گھر بلانا اور مہمان داری کرنا اور اسی بیماری میں سفر کرنا، ختم نبوت کا کام کرنا، اس طرح کے دیگر سارے اُمور جاری و ساری تھے۔اور ان سب اُمور کو خوش دلی سے کرنا اور اس پر خوش ہونا اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا یہ مزاج کا حصہ بن چکا تھا۔گویا بارگاہِ خد اوندی میں زبانِ حال سے و ہ عرض کناں تھے:

یاد ہیں تیرے کرم ، تیرے ستم یاد نہیں

خوگرِ شکر ہوں میں ، خوگرِ فریاد نہیں

لب پہ آئی ہو کبھی آہ ، مجھے یاد نہیں

اتنا کم ظرفِ محبت ، دل ناشاد نہیں

حافظ محمد سفیان کا پورا خاندان مہمان نواز رہا ہے، مگر انگلینڈ میں حافظ محمد سفیان کے گھر کو اس مہمان نوازی اور علماء و مشائخ کے مرجع و مرکز ہونے کے حوالے سے خصوصیت حاصل ہے۔ ان کے دادا کی وجہ سے برطانیہ کے علماء کا رجوع تو رہتا ہی تھا، دیگر ممالک خصوصاً پاکستان اور ہندوستان کے علماء کے لیے تو ان کا گھر مہمان خانہ تھا، خصوصاً جب سے برمنگھم (انگلینڈ) میں سالانہ ختمِ نبوت کانفرنس منعقد ہونے لگی اور اس کانفرنس کے لیے کثیر تعداد میں پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک سے علماء برطانیہ جانے لگے، تو ان کے گھر کو ان تمام علماء کی میزبانی کا شرف حاصل رہا۔ خود حافظ محمد سفیان لکھتے ہیں:
’’(عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ) کی سرپرستی کے لیے پاکستان سمیت پورے برصغیر کی نامور علمی و روحانی شخصیات کا ورودمسعود شروع ہوا تو ہمارے دادا کی جانب سے شرفِ میزبانی کی ادائیگی نے ہمارے گھر کو برطانوی مسلمانوں کے لیے مرکز بنا دیا اور الحمدللہ آج تک اسی سعادت کی وجہ سے یہ گھرانہ ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اس کی مرکزیت کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ محدث العصر حضرت بنوریؒ، مفکرِ اسلام مفتی محمودؒ، قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ، حکیم الاسلام قاری محمد طیب ؒ، خواجۂ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ، حضرت مولانا شاہ ابرارالحق ؒ، شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ، حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ، فقیہ العصرحضرت مفتی نظام الدین شامزئی ؒ، حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ ،حضرت سید نفیس شاہ الحسینی ؒ، یادگارِ اسلاف حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن، تبلیغی جماعت کے مشاہیر حضرت مولانا محمد یوسف، مولاناانعام الحسن، مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری ؒ، مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ، حتیٰ کہ عرب کے بڑے بڑے شیوخ، ائمہ حرمین ، شیخ الازہر اور قاری عبدالباسط تک ایسی کون سی علمی اور روحانی شخصیت تھی جس کا قیام یہاں نہ ہواہو۔‘‘ (شہیدِ ختمِ نبوت نمبر،ص:۵۷۸)
 یہ گھرانہ صرف میزبانی ہی نہیں کرتا تھا، بلکہ میزبانی کرتے ہوئے خوش ہوتا تھا۔ حافظ محمد سفیان اپنے اسی مضمون میں لکھتے ہیں:
’’ان حضرات (مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ اور مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ ) کی آمد کی اطلاع کے ساتھ ہی ہمارا پورا گھرانہ خوشی و مسرت کے جذبات سے سر شار ہوگیا ، بچے تک پُر شوق نگاہوں سے ان کے منتظر تھے، پورے گھر کو جشن کے سے ماحول نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔‘‘ (شہیدِ ختمِ نبوت نمبر، ص:۵۷۹)
جہاں بھائی انور اور ان کے گھر والوں میںمہمانوں کی خدمت کا جذبہ تھا تو بھائی سفیان بھی اس جذبۂ خدمت سے سرشار تھے،اور ان کو یہ جذبہ راثت میں ملا تھا، انگلینڈ میں تو ہمارا ٹھکانہ خصوصاً کانفرنس سے فارغ ہونے کے بعد ان کے یہاں ہی ہوتا تھا۔ بھائی سفیان کو ہمارے پہنچنے کا انتظار ہوتا تھا اور پہنچنے کے بعد اصرار کہ جب تک انگلینڈ میں ہیں ، قیام ہمارے یہاں ہی ہوگا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب مدظلہٗ سے بھائی محمد سفیانؒ کو بہت عقیدت تھی، حضرت ڈاکٹر صاحب کو بھی ان سے دلی لگاؤ تھا، اس لیے حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہٗ کے پروگرام مرتب کرنا، کس دن، کس وقت، کہا ں جانا ہے ، ہمارے آرام و راحت کا خیال رکھنا، مختلف جگہوں پر ہمارے ساتھ جانا یہ سب کچھ حافظ محمد سفیان نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے حافظ محمد سفیان کو بہت ہمت دی تھی، جب تک چلنے پھرنے کے قابل تھے، پروگراموں خصوصاً ختمِ نبوت کی کانفرنس میں شریک ہوتے، اسی دوران ایک مرتبہ اپنے شیخ کے ساتھ پورے پاکستان کا سفر کیا، مختلف شہروں میں روحانی مجالس کا اہتمام کیا، ایک مرتبہ اپنے شیخ کو برطانیہ کی دعوت دی اور اپنی نگرانی میں وہاں کے پروگرام منعقد کروائے۔ دو تین سال قبل پاکستان آئے تھے تو مولانا عزیز الرحمن رحمانی (جو اُن کے ماموں ہیں) کے اصرار پر کراچی میں ٹھہر گئے۔ اسی بیماری کے ساتھ کراچی سے اپنے گاؤں بہبودی (اٹک) تک کا بائی روڈ سفر کیا۔ ایک ایسا شخص جو خود سے بیٹھ بھی نہ سکتا ہو، اتنا لمبا سفر بڑی ہمت کی بات ہے۔ حافظ محمد سفیان نیک طبیعت اور ذاکر و شاغل انسان تھا ، کثرت سے ذکر و اذکار کا پابند تھا، دینی کتابیں مطالعہ میں رکھتا تھا۔ جب ماہنامہ بینات نے اُن کے نانا امامِ اہلِ سنت پر خاص نمبر شائع کیا، اس میں میرا مضمون بھی تھا، اس کے کچھ ماہ بعد میں انگلینڈ اُن کے گھر پہنچا تو مجھے خصوصیت کے ساتھ کہا کہ آپ مجھے یہ مضمون پڑھ کر سنائیں، کیوں کہ میں اتنی بھاری کتاب اُٹھا نہیں سکتا۔
طبیعت میں نیکی غالب تھی اور اس معاشرے میں رائج بہت سی برائیوں سے دور تھے، حتیٰ کے آخری کئی سالوں میں اسمارٹ فون بھی رکھنا چھوڑ دیا تھا۔ انٹرنیٹ بھی ختم کردیا تھا، حالانکہ ایک ایسا شخص جو چوبیس گھنٹے بستر پر پڑا ہو، جس کی کوئی اور مصروفیت نہ ہو، جو کہیں آ جا نہ سکتا ہو، اس کی واحد مصروفیت انٹرنیٹ ہی ہوتی ہے، مگر اس نے اپنے آ پ کو ان چیزوں سے دور رکھا۔ تصویر کشی کے فتنہ میں آج کل ہر ایک مبتلا ہے، مگر اس فتنہ سے بھی اس نے اپنے آپ کو بچا رکھا تھا۔ اللہ والوں کی باتیں، ان کی مجالس اور ان کی صحبت اس کے لیے باعثِ تسکین ہو ا کرتی تھیں، اسی لیے اس کی خواہش ہوتی تھی کہ علماء و صلحاء اس کے گھر بلکہ اس کے پاس آجائیں۔
کسی خوش طبع سے کیا غرض؟ کسی تنگ ظرف سے کیا کام؟
 مری اہلِ دل سے دوستی ، مجھے اہلِ درد سے پیار ہے
آپ کی اسی نیکی، تقویٰ کو دیکھتے ہوئے انجینئر صوفی الحاج شیخ عبد المنان صاحب جو ایک طویل عرصہ سے مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں اور حضرت مولانا فقیر محمد رحمہ اللہ کے خلیفہ ہیں، علماء سے محبت رکھتے ہیں، ان کے دستر خوان پر علماء و مشائخ کا مجمع رہتا ہے، انہوں نے محمد سفیان انور کو خلافت سے نوازا۔
جوگردہ لگایا گیا تھا آخری دنوں میں اس نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا اور دوبارہ ڈائیلیسز شروع ہوا، طبیعت زیادہ بگڑی تو ہسپتال داخل کیاگیا، کئی دن ہسپتال میں داخل رہے، طبیعت بگڑتی چلی گئی، کوئی دوا اور ٹریٹمنٹ کارگر ثابت نہ ہوئی، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا، لیکن ہسپتال سے فارغ نہیں کیا۔
ان شاء اللہ! یہ بیماری حافظ سفیانؒ کے لیے کفارۂ سیئات کا ذریعہ ہوگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جو بیماری،جو پریشانی،جو بھی رنج و غم اور اذیت پہنچتی ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی اسے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے ذریعہ اس کے گناہوں کی صفائی فرمادیتا ہے ، بلکہ یہ بیماری اس کے درجات کی بلندی کا سبب ہوگی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی بندہ ٔمومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا بلند مقام طے ہوجاتا ہے جس کو وہ اپنے عمل سے نہیں پاسکتا تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی جسمانی یا مالی تکلیف میں یا اولاد کی طرف سے کسی صدمہ یا پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے ،پھر اس کو صبر کی توفیق دے دیتا ہے،یہاں تک کہ ان مصائب و تکالیف (اور اُن پر صبر)کی وجہ سے اس بلند مقام پر پہنچادیا جاتا ہے، جو اس کے لیے پہلے سے طے ہو چکا تھا۔‘‘
اس دوران جو حالات سامنے آئے وہ بہت ، اچھے اور حوصلہ افزاء ہیں۔ بتایا گیا کہ کچھ بیماری کا اثر ، کچھ دوائوں کا کہ اکثر غشی طاری رہتی، جب ہوش آتا تو بہت حوصلہ اور ہمت سے کام لیتے، بلکہ گھر کے جو افراد مزاج پرسی کے لیے آتے انہیں تسلی دیتے، ان کے والد کی خواہش تھی کہ ان کو پاکستان لے آئیں اور پاکستان میں ہی تدفین ہو، مگر حافظ سفیانؒ نے اپنے والد کو سمجھایا کہ مجھے یہیں دفن کرنا، جہاں چچا جان محمد الرحمن مدفون ہیں۔ پاکستان لے جائوگے تو آپ کو بہت مشقت اور پریشانی ہوگی، جبکہ شریعت کا بھی یہی حکم ہے کہ جہاں انتقال ہو وہیں تدفین کی جائے۔ یہ بھی وصیت کی کہ میرے جنازہ میں تاخیر نہ کرنا، میری تدفین جلد کردینا، کسی کا انتظار نہ کرنا، میری نمازِ جنازہ مفتی اسلم زاہد صاحب (امیر جمعیت علماء اسلام، برطانیہ) پڑھائیں گے، انتقال سے ایک دن پہلے ہوش آیا تو سورۂ یٰسین پڑھنا شروع کی، جب پوری سورت پڑھ چکے تو اپنی بہنوں سے کہنے لگے کہ سورۂ یٰسین کی برکت سے مجھے ایک دن اور مل گیا۔ اسی دوران اپنی بہنوں اور پھوپھیوںسے کہنے لگے کہ نانا اور دادا مجھے بلا رہے ہیں۔پھر اپنے والد صاحب کا پوچھا، بہنوں نے رونا شروع کردیا، اُنہیں تسلی دی اور کہا کہ ہر ایک نے جانا ہے، میرے بعد رونا دھونا نہ کرنا بلکہ صبر کرنا۔ ڈاکٹر حضرات بھی حیران تھے اور انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ بہت تکلیف میں ہے، ایک ایک جوڑ درد کرتا ہے، مگر یہ جتنا پر سکون ہیں ہم نے اپنی زندگی میں کم ہی دیکھا ہے۔ آخری دن انتقال سے کچھ دیر قبل ہوش آیا تو بہنوں نے جلدی سے بھائی انور کو اطلاع دی کہ مل لیں۔ تو سفیان نے کہا کہ شاید آپ مجھ سے ناراض ہیں، کیوں کہ میں نے آپ کو پاکستان لے جانے سے منع کیا ہے، تو بھائی انور نے انہیں گلے لگایا اور کہا کہ میں ناراض نہیں ہوں، جیسا آپ کہتے ہیں ایسا ہی ہوگا۔ اتنے میں والدہ بھی آگئیں ان سے بھی گلے ملا ، والدہ نے تسلی دی کہ ان شاء اللہ! ٹھیک ہوجائو گے۔ اسی دوران ایمانِ مفصل، ایمانِ مجمل پڑھتا رہا اور پڑھتے پڑھتے باتیں کرتے ہوئے اس دنیا سے منہ موڑ لیا، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ما أعطیٰ و کل شییء عندہٗ بأجل مسمٰی۔
بہنوں کا اصرار تھا کہ بھائی کی خواہش کے مطابق جلد تدفین کردی جائے، کسی کا انتظار نہ کیا جائے، یہی سوچ کر ظہر کے بعد جنازہ کی بات ہونے لگی۔ سب نے کہا یہ ممکن نہیں، کیوں کہ اگر جلدی بھی کی جائے تو کاغذی کارروائی کرنے میں دس بارہ گھنٹے لگ جائیں گے اور آج تو ہفتہ کا دن ہے، ویسے ہی دفاتر بند ہیں۔ لیکن اللہ کی شان کہ جو کام گھنٹوںمیں ہونا تھا وہ منٹوں میں ہوگیا اور اسی طرح قبر کی تیاری بھی ہوگئی۔ غسل ،تجہیز و تکفین سب کام بروقت ہوتے چلے گئے۔ ظہر کے بعد مولانا ضیاء الحق کے قائم کردہ مدرسہ و مسجد الہدیٰ میں جنازہ ہوا، اس قلیل وقت میں ہزاروں لوگ جمع ہوگئے، مفتی اسلم زاہد (امیر جمعیت علماء اسلام، برطانیہ)نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
اس طرح یہ تھکا ماندہ مسافر اپنی منزل جا پہنچا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے ، پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، خصوصاً بھائی انور اور ان کی اہلیہ کو بہت زیادہ صبر عطا فرمائے، کیونکہ بھائی انور ،سفیان کی والدہ اور بھائی ،بہنوں نے سفیان کی بہت زیادہ خدمت کی ہے۔ سفیان ان سب کا لاڈلا اور پیارا تھا،اللہ تعالیٰ انہیں یہ صدمہ سہنے کی ہمت عطا فرمائے۔

چلے سوئے خلدِ بریں سب کے پیارے

اکابر کا عزت نشاں اللہ اللہ
الٰہی تو برسادے رحمت کی بارش

کہ قبر ان کی ہو گلستاں اللہ اللہ
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے