بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

بینات

 
 

حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت!

حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت!


محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری و حضرت مولانا مفتی ولی حسن خان ٹونکی قدس سرہما کے شاگردِ رشید، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، متخصص، سابق استاذِ حدیث، ورئیس دارالافتاء، مفتی اعظم بنگلہ دیش، استاذِ حدیث وفقہ دارالعلوم معین الاسلام ہاٹہزاری بنگلہ دیش حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامیؒ ۳۰؍ محرم الحرام ۱۴۴۳ ھ مطابق ۸؍ستمبر ۲۰۲۱ء بروز بدھ صبح تقریباً گیارہ بجے اس دنیائے رنگ وبو میں اٹھتر (۷۸) برس گزار کر راہیِ عالم بقا ہوگئے۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، إن للہ ما أخذ ولہ ما أعطی وکل شيء عندہٗ بأجل مسمی۔
حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامی قدس سرہٗ نے تقریباً اکتیس (۳۱) سال سے زائد عرصہ اپنی مادرِ علمی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور رئیس دارالافتاء کی حیثیت سے گزارا۔ آپ ہمہ وقت تعلیم وتعلم، فقہ اور اصولِ فقہ کے علاوہ کئی اور کتب کے مطالعہ اور فتاویٰ لکھنے میں مصروف رہتے تھے۔ آپ وقت کی بہت زیادہ قدر کرتے تھے، تعلیمی مصروفیات کے علاوہ وقت گزارنے کو عیب تصور کرتے تھے اور آپ کی یہ عادت طالب علمی کے دور سے تھی، اسی لیے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تخصص فی الفقہ الاسلامی کے سال میں فقہ اور اصولِ فقہ کے علاوہ کئی اور کتب کے چالیس ہزار صفحات سے زیادہ کا مطالعہ کیا، اس لیے جب رئیس دارالافتاء تھے تو تخصص کے طلبہ بتلاتے تھے کہ حضرت مفتی صاحب جب کسی طالب علم کا تحریر کردہ فتویٰ چیک کرتے تھے تو طالب علم کو پابند بناتے تھے کہ فتویٰ کے ہر ہر جزئیہ کا حوالہ اور اس کی عبارت ضرور تحریر کریںاور تخصص کے طلبہ کو اس کا عادی بنانے کے لیے فتاویٰ لکھتے وقت اصل کتب سے مراجعت کا فرماتے تھے۔حضرت مفتی صاحبؒ کے مختصر حالاتِ زندگی درج ذیل ہیں:
حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کے مضافات میں جناب شیخ خلیل الرحمٰن کے ہاں ’’نلدیہ‘‘ نامی گاؤں میں ایک مذہبی اور دینی گھرانہ میں ۱۳۶۳ھ مطابق ۱۹۴۳ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مدرسہ عزیزیہ قاسم العلوم میں حاصل کی۔ تین سال تک ناظرہ قرآن مجید اور اردو، فارسی کی چند کتابیں پڑھیں، اس کے بعد مدرسہ حسینیہ بوالیہ میں داخل ہوئے، وہاں ابتدائی درسیات کی تعلیم میزان، نحومیر، ہدایۃ النحو وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ ۱۳۷۸ھ مطابق۱۹۵۸ء میں مدرسہ عزیز العلوم بابونگر میں داخلہ لے کر وہاں شرح وقایہ، شرح جامی اور کچھ دیگر کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد جـامعہ عربیہ اسلامیہ جیری چاٹگام میں ہدایہ سے لے کر دورۂ حدیث تک کی کتب مکمل کیں، اور ہمیشہ تمام درجات میں امتیازی اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے۔ 
حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۳۸۷ھ مطابق ۱۹۶۷ء میں جامعہ عربیہ اسلامیہ جیری سے دورۂ حدیث کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد کراچی پاکستان کا سفر کیا۔ محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کے پاس دو بارہ دورۂ حدیث کیا اور سالانہ امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ ۱۳۸۸ھ/ ۱۹۶۸ء میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں تخصص فی الفقہ الاسلامی میں داخلہ لیا اور حضر ت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم پاکستان کے زیرِ سایہ انتہائی محنت اور مشقت سے تخصص فی الفقہ الاسلامی کا نصاب مکمل فرمایا۔ کتبِ نصاب کے علاوہ فقہ، اصولِ فقہ وغیرہ میں دوسری کتابیں بھی آپ نے مطالعہ کی تھیں، تقریباً چالیس ہزار صفحات سے زائد صفحات تخصص کے دونوں سالوں میں مطالعہ فرمائے۔ دو سالہ تخصص کے اختتام پر تخصص فی الفقہ کے آخری تین ماہ میں آپؒ نے ایک مقالہ بعنوان ’’بیع الحقوق في التجارات الرائجۃ الیوم وتحقیقہا‘‘ تحریر فرمایا، جس کے متعلق محقق العصر محدث ناقد حضرت مولانا محمد عبد الرشید نعمانی قدس سرہٗ نے اپنے تأثرات میں یہ تحریر فرمایا:
’’مولوی عبد السلام صاحب چاٹگامی کا مقالہ ’’موجودہ تجارت میں حقوق کی بیع اور اس کی تحقیق‘‘ حرف بحرف بتمام وکمال پڑھا، انہوں نے اس مقالہ میں جو محنت کی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے اور ان کی استعداد کا لحاظ کرتے ہوئے یہ اس کے مستحق ہیں کہ ’’التخصص في الفقہ الإسلامي‘‘ کی سند ان کو درجہ علیا میں دی جائے۔‘‘ 
نیز حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک خصوصی سند بھی عطا فرمائی۔
تخصص فی الفقہ سے فراغت کے بعد ۱۹۷۰ء میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ نے حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی اور مولانا ادریس میرٹھی رحمہما اللہ تعالیٰ کے مشورے سے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں مدرس ومفتی کی حیثیت سے تقررکیا۔ دورانِ تدریس آپ نے جامعہ میں مختلف کتابیں پڑھائیں، مثلاً :صحیح مسلم جلد دوم، جامع ترمذی جلد دوم، جلالین شریف، ہدایہ اولین، ہدایہ رابع، شرح المہذب، کنز الدقائق، نہایۃ المحتاج (فقہ شافعی ) وغیرہ۔
جامعہ میں جب آپ کا تدریس وافتاء کے لیے تقرر ہوا تو اس وقت دار الافتاء میں حضرت مفتی احمد الرحمٰن صاحب ؒ نائب مفتی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور حضرت مفتی ولی حسن ٹونکیؒ بحیثیت صدر مفتی کے تھے۔ جب محدث العصر حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا سانحۂ ارتحال ۱۳۹۷ھ-۱۹۷۷ء میں پیش آیا تو حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب جامعہ کے رئیس ہوئے، تو حضرت مولانا مفتی عبدالسلام صاحب ؒ نائب مفتی بنائے گئے تھے۔ اس دوران حضرت مفتی عبد السلام چاٹگامیؒ رفقاء دار الافتاء اور شرکائے تخصص فی الفقہ الاسلامی کے تحریر کردہ فتاویٰ کی تصحیح فرماتے تھے۔ پھر جب حضرت مفتی ولی حسن صاحبؒ پر فالج کا حملہ ہوا تو حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامیؒ کو حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ کی نیابت میں شعبۂ تخصص فی الفقہ الاسلامی اور دار الافتاء کا ذمہ دار بنایا گیا۔ حضرت مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کے انتقال کے بعد آپؒ کو ۱۹۹۲ء میں دارالافتاء کا رئیس بنایا گیا۔ اس افتاء کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ آپ اسلامیہ کالج کے قریب جامع مسجد عثمانیہ کی امامت وخطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، جس سے اہلِ علاقہ کو آپ سے براہِ راست مستفید ہونے کا کافی موقع میسر آیا۔ حضرت مولانا مفتی عبد السلام چاٹگامیؒ نے جو فتاویٰ لکھے یا ان کی تصحیح کی ان کی تعداد ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں ہو گی، اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو فقہ وفتاویٰ سے کس قدر تعلق رہا ہے۔ امام اہلِ سنت حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں: 
’’اور مولانا مفتی عبد السلام صاحب نے تو فتویٰ نویسی میں امتیازی حیثیت حاصل کرلی ہے۔‘‘ (ماہنامہ بینات، اشاعت خاص بیاد مولانا بنوریؒ، ص:۲۴۴)
حضرت مفتی عبد السلام چاٹگامیؒ نے جن محدثین کرام سے حدیث پڑھی، ان سے تو اجازت حدیث حاصل ہے ہی، ان کے علاوہ جن حضرات نے اجازت دی ہے، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
۱:- شیخ عبد الفتاح ابوغدہ رحمہ اللہ الحلبیؒ، ۲:-مولانا شمس الحق افغانیؒ، ۳:-شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، ۴:-شیخ التفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، ۵:-مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، ۶:-حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ۔
حضرت مفتی صاحبؒ کی چند تالیفات درج ذیل ہیں: ۱:- جواہر الفتاویٰ (پانچ جلد)، ۲:-آپ کے سوالات اور ان کا حل (چار جلد)، ۳:-اسلامی معیشت کے بنیادی اصول، ۴:-انسانی اعضاء کی پیوند کاری، ۵:- رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مستند دعائیں، ۶:- عاقلہ بالغہ کے نکاح کی شرعی حیثیت، ۷:-اسلام میں اولاد کی تربیت اور اس کے حقوق، ۸:-تذکرہ مخلص، ۹:-حیاتِ شیخ الکل، ۱۰:-مقالاتِ چاٹگامی (زیرِطبع)۔
حضرت مفتی عبد السلام صاحبؒ کا جن مشائخ سے سلوک کا تعلق رہا، وہ درج ذیل ہیں: ۱:-حضرت شاہ عبد العزیز رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ (پاکستان)، ۲:-مولانا یحییٰ بہاولنگری رحمۃ اللہ علیہ (پاکستان)، ۳:-مولانا شاہ سلطان نانو پوری رحمۃ اللہ علیہ (بنگلہ دیش)، ۴:-مفتی احمد الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ( بنگلہ دیش) ۔
حضرت مفتی صاحبؒ کچھ خانگی اور بیماری کے اعذار کی وجہ سے ۲۰۰۰ء میں جامعہ سے رخصت لے کر بنگلہ دیش تشریف لے گئے تھے، وہاں جامعہ دارالعلوم معین الاسلام ہاٹہزاری میں درس وتدریس اور افتاء کی وقیع خدمات ۲۰۲۱ء تک انجام دیتے رہے۔ بنگلہ دیش کے مفتی اعظم مولانا احمد الحق رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال (۲۰۰۹ء) کے بعد حضرت مفتی عبد السلام چاٹگامیؒ کو ’’مفتی اعظم‘‘ بنگلہ دیش بنایا گیا۔
حضرت مفتی عبد السلام صاحبؒ کے پسماندگان میں کل سات لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں، سب لڑکے حافظِ قرآن ہیں، چھ لڑکے عالم ہوئے، ان میں سے تین مفتی ہیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کا انتقال ۸؍ستمبر ۲۰۲۱ء بروز بدھ صبح تقریباً گیارہ بجے ہوا ۔ حضرت مفتی صاحبؒ کی نمازِ جنازہ جامعہ دارالعلوم ہاٹہزاری میں ہوئی اور جامعہ کے مقبرہ میں مدفون ہوئے، اللّٰہم اغفرلہ وارحمہ وجعل الجنۃ مثواہ۔
آپ کی وفات کی اطلاع جیسے ہی جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن پہنچی، تو آپ کے ایصالِ ثواب کے لیے جامعہ میں قرآن خوانی کرائی گئی، جامعہ کے رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، نائب رئیس حضرت مولانا احمد یوسف بنوری، ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ یوسف زئی حفظہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ تمام اساتذہ کرام حضرت مفتی صاحبؒ کی رحلت سے اپنے آپ کو تعزیت کا مستحق سمجھتے ہیں اور قارئینِ بینات سے حضرت مفتی صاحبؒ کے لیے ایصالِ ثواب کے خواہاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کے اعزہ، اقرباء، آپ کی اولاد اور آپ کے جملہ منتسبین کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت مفتی صاحبؒ کو جنت الفردوس کا مکین بنائے اور آپ کی جملہ حسنات کو آپ کے لیے رفعِ درجات کا ذریعہ بنائے، آمین۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے