بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ  کی رحلت

 

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ  کی رحلت

 

عالمِ اسلام کی عظیم علمی شخصیت، محدث، فقیہِ وقت، متکلمِ زمانہ، دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث وصدر المدرسین ، کئی نسلوں کے معلم ومربی ، ہزاروں علمائے کرام کے شفیق استاذ ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوریؒ اس دنیائے رنگ وبو کی تقریباً اسی بہاریں دیکھنے کے بعد ۲۵ رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۹ء مئی ۲۰۲۰ء بروز منگل صبح چاشت کے وقت اپنا سفرِ زندگی مکمل کرکے عالمِ عقبیٰ کے سفر پر روانہ ہوگئے، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ما أعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔
حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  اکابر و اسلاف کے عقائد ونظریات کے صحیح اور حقیقی جانشین اور متصلب بزرگ تھے۔ اپنی پوری زندگی درس وافتاء، تصنیف وتالیف اور وعظ ونصیحت میں گزاردی۔ علمِ دین کی اشاعت اور اس کی ترویج آپ کی زندگی کا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔گزشتہ دو سالوں میں ہندوپاک کے کئی اکابر علمائے کرام ومشائخ عظام کی رحلتیں ہوئیں، جس سے محسوس ہوتاہے کہ یہ دنیا علومِ وحی کے حاملین سے خالی کی جارہی ہے اور قیامت کی قربت کا سامان کیا جارہا ہے، جیسا کہ صادق المصدوق نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی خبر دی ہے کہ:
’’إن اللّٰہ لایقبض العلم انتزاعًا ینتزعہٗ من قلوب العباد ولکن یقبضہٗ بقبض العلماء، حتٰی إذا لم یبق عالمًا اتخذ الناس رؤسًا جھّالًا فسئلوا فأفتوا بغیر علم فضلوا وأضلوا۔‘‘  (مشکوٰۃ، ص:۳۳)
ترجمہ:’’بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ بندوں کے سینوں سے چھین لے، بلکہ قبضِ علم کی صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ علماء کو اُٹھاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب ایک عالم بھی باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، ان سے سوالات ہوں گے، وہ بغیر جانے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’عن مرداس الأسلمي ؓ قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : یذھب الصالحون الأول فالأول ویبقٰی حفالۃ کحفالۃ الشعیر أوالتمر لایبالہیم اللّٰہ بالۃً۔‘‘  (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، ج:۲، ص:۹۵۲)
ترجمہ:’’ حضرت مرداس اسلمی  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے اُٹھتے جائیں گے اور (انسانیت کی) تلچھٹ پیچھے رہ جائے گی، جیسا کہ ردّی جو اور کھجور رہ جاتے ہیں، حق تعالیٰ ان کی کوئی پروا نہیں کرے گا۔‘‘
حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ ان اخیارِ امت اور طبقۂ صالحین میں سے تھے جن کی حیات اہلِ زمین خصوصاً علمی حلقوں کے لیے آبِ حیات اور بہت سے فتنوں کے سامنے سدِ سکندری سے کم نہ تھی۔ آپ کی وفات علم وعرفان کی موت ہے، آپؒ کا سانحۂ ارتحال ’’موت العالِم موت العالَم‘‘ کے مصداق انسانیت کا نقصان ہے، آپؒ کی وفات سے جہاں اہلِ علم کے حلقے ایک مفسر، محدث، فقیہ، محقق، مصنف اور قادرالکلام خطیب سے محروم ہوگئے، وہاں اہلِ قلوب عظیم روحانی پیشوا سے بھی محروم ہوگئے۔
حضرت مفتی صاحبؒ کی پیدائش کالیڑہ، شمالی گجرات کے شہر پالن پور، ہندوستان میں جناب یوسف صاحبؒ کے ہاں ۱۳۶۰ھ مطابق ۱۹۴۰ء کے آخر میں ہوئی، آپ اپنے والدین کی اولاد میں سب سے بڑے تھے۔والدین نے آپ کا نام ’’احمد‘‘ رکھا ، جب آپ مظاہر العلوم سہارن پور میں تعلیم پارہے تھے تو آپ نے خود اپنا نام ’’سعید احمد‘‘ رکھا۔ آپ کی تعلیم کا آغاز والد صاحب سے ہوا، ابتدائی فارسی اپنے ماموں سے پڑھی، پھر پالن پور شہر میں حضرت مولانا نذیر میاںؒ کے مدرسہ میں شرح جامی تک کتابیں پڑھیں۔ ۱۳۷۷ھ میں مظاہر العلوم سہارن پور میں داخلہ لیا اور تین سال تک وہاں تعلیم حاصل کی۔ ۱۳۸۰ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۹۶۲ء میں دورہ حدیث کی تکمیل کرکے فاتحہ فراغ پڑھا۔ آپ بچپن ہی سے نہایت ذہین وفطین، کتب بینی اور محنت کے عادی تھے، اس لیے اساتذہ کرام کی توجہ اور تعلیم وتربیت نے خاص اثر کیا اور آپ نے دارالعلوم دیوبند جیسی عظیم دینی درس گاہ کے سالانہ امتحان میں اول نمبر سے کامیابی حاصل کی۔ دورہ حدیث سے فراغت کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند میں حضرت مفتی سید مہدی حسن شاہؒ کی زیرِنگرانی افتاء کا کورس مکمل کیا اور افتاء کے ساتھ ساتھ جہاں آپ اپنے بھائی کو حفظ کراتے تھے، وہاں خود بھی آپ نے ان کے ساتھ حفظ مکمل کیا۔
تدریس کے لیے آپ کا پہلا تقرر حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ کی معرفت دارالعلوم اشرفیہ راندیر (سورت) میں ہوا، ۹ سال تک وہاں آپ نے تدریس فرمائی اور تصنیف کا آغاز بھی آپ نے اسی زمانہ میں شروع کردیا تھا۔اسی عرصہ میں موصوف نے داڑھی اور انبیاء کی سنتیں، حرمتِ مصاہرت، ’’العون الکبیر‘‘ اور مولانا محمد طاہر پٹنی قدس سرہٗ کی ’’المغنی‘‘ کی عربی شرح وغیرہ تصانیف ارقام فرمائیں۔اپنے استاذ حضرت مولانا محمد ہاشمؒ (جو دارالعلوم دیوبند میں پڑھاتے تھے) کی تحریک پر آپ نے دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے لیے درخواست بھیجی اور اس کے ساتھ ایک خط حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  مہتمم دارالعلوم دیوبند کے نام بھیجا، جس کے جواب میں حضرت مہتمم صاحبؒ نے آپ کو لکھا:

’’ محترمی ومکرمی زید مجدکم!

سلام مسنون، نیاز مقرون، گرامی نامہ باعث مسرت ہوا، حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب پر کام کرنے کی اطلاع سے غیر معمولی خوشی ہوئی، جو صورت آپ نے اختیار فرمائی ہے، وہ مناسب ہے، خود میرے ذہن میں ان کتب کی خدمت کی مختلف صورتوں میں سے ایک یہ صورت بھی تھی۔ الفرقان میں پڑھنے کی نوبت نہیں آئی، ان شاء اللہ رسائل منگوا کر مستفید ہوں گا، اور جو رائے قائم ہو گی وہ عرض کروں گا۔
درخواست منسلکہ مجلسِ تعلیمی میں بھیج رہا ہوں، اس پر وہاں سے کوئی کارروائی ضرور کی جائے گی، اس کی اطلاع دی جائے گی۔ دعا کی درخواست۔ قاسم العلوم کے میرے پاس دو نسخے تھے، ایک نسخہ اسی ضرورت سے وہاں بھیجا گیا، مگر واپس نہیں ہوا، اب ایک رہ گیا ہے، جو صاحب نقل کرنا چاہیں، وہ ایک وقت مقرر کر کے میرے کتب خانہ میں ہی بیٹھ کر نقل فرما لیا کریں، اور یہاں بحمداللہ خیریت ہے۔
والسلام : محمد طیب از دیوبند                                       ۷/۷/۱۳۹۳ھ۔‘‘
جب خط شوریٰ میں پیش ہوا تو حضرت مولانا منظور احمد نعمانی  ؒجو شوریٰ کے ممبر تھے، انہوں نے آپ کا نام پیش کیا اور اسی مجلس میں آپ کا تقرر ہوگیا، ۱۳۹۳ھ سے تادمِ واپسیں تقریباً ۴۸ سال آپ نے دارالعلوم کی خدمت کی۔ دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کے مفتی ، شیخ الحدیث، صدر المدرسین کے منصبِ جلیلہ پر فائز رہے۔ آپ کے فیض قلم سے درج ذیل کتابیں منصہ شہود پر آئیں:
۱:- تفسیر ہدایت القرآن ، ۲:- ’’الفوزالکبیر‘‘ کی تعریب جدید ، ۳:- ’’العون الکبیر‘‘ ، یہ ’’الفوزالکبیر‘‘ کی عربی شرح ہے۔ ۴:- فیض المنعم : (مقدمۂ مسلم شریف کی اردو شرح ) ، ۵:-’’تحفۃ الدُّرر‘‘ : (’’نخبۃ الفکر‘‘ کی اردو شرح )، ۶:- مبادی الفلسفہ ، ۷:- معین الفلسفہ (مبادی الفلسفہ کی اردو شرح) ، ۸:- ’’مفتاح التہذیب‘‘ : ’’تہذیب المنطق‘‘ کی شرح ہے ، ۹:- آسان منطق ، ۱۰:- آسان نحو (دو حصے) ، ۱۱:- آسان صرف (تین حصے ) ، ۱۲:- محفوظات (تین حصے) : یہ آیات و احادیث کا مجموعہ ہے، جو طلبہ کے حفظ کے لیے مرتب کیا گیا ہے ۔۱۳:- آپ فتویٰ کیسے دیں؟ (’’شرح عقودرسم المفتي‘‘ کا نہایت عمدہ ترجمہ مع ضروری فوائد ) ، ۱۴:- کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے ؟ (یہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس سرہ کی کتاب ’’توثیق الکلام‘‘ کی نہایت آسان عام فہم شرح ہے) ، ۱۵:- حیات امام ابوداؤدؒ (امام ابوداؤد سجستانیؒ کی مکمل سوانح) ، ۱۶:- مشاہیر محدثین و فقہائے کرام اور تذکرہ راویان کتب حدیث ، ۱۷:- حیاتِ امام طحاویؒ ، ۱۸:- اسلام تغیر پذیر دنیا میں (چار قیمتی مقالوں کا مجموعہ) ، ۱۹:- نبوت نے انسانیت کو کیا دیا؟ ، ۲۰:- داڑھی اور انبیاء کی سنتیں ، ۲۱:- حرمتِ مصاہرت ، ۲۲:- تسہیل ادلۂ کاملہ : حضرت شیخ الہندؒ کی مایۂ ناز کتاب ادلۂ کاملہ کی نہایت عمدہ شرح ہے، اس میں غیر مقلدین کے چھیڑے ہوئے دس مشہور مسائل کی مکمل تفصیل ہے، یہ شیخ الہندؒ اکیڈمی سے شائع ہوئی ہے۔ ۲۳:- حواشی وعناوین ایضاح الادلۃ : ایضاح الادلۃ حضرت شیخ الہندؒ کی شہرۂ آفاق کتاب ہے، اس پر موصوف نے نہایت مفید حواشی ارقام فرمائے ہیں، اور ذیلی عناوین بڑھائے ہیں، یہ کتاب بھی شیخ الہند اکیڈمی سے شائع ہوئی ہے۔۲۴:- حواشی امداد الفتاوی ، ۲۵:-افاداتِ نانوتویؒ ، ۲۶:- افاداتِ رشیدیہ ، ۲۷:- ’’رحمۃ اللّٰہ الواسعۃ‘‘ : یہ ’’حجۃ اللّٰہ البالغۃ‘‘ کی مبسوط اردو شرح ہے، ’’حجۃ اللّٰہ البالغۃ‘‘ کی تشریح ایک بھاری قرضہ تھا، جو ڈھائی سوسال سے اُمت کے ذمہ باقی چلا آ رہا تھا۔۲۸:- تہذیب المغنی : ’’المغنی ‘‘ علامہ محمد طاہر پٹنی قدس سرہٗ کی اسماء رجال پر بہترین کتاب ہے، موصوف نے اس کی عربی میں شرح لکھی ہے۔ ۲۹:- ’’زبدۃالطحاوي ‘‘: یہ امام طحاویؒ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’شرح معاني الآثار‘‘ کی عربی تلخیص ہے۔ ۳۰:- کامل برہانِ الٰہی ، ۳۱:- ’’حجۃ اللّٰہ البالغۃ‘‘ عربی: ( دو حصے ) ، ۳۲:- ہادیہ شرح کافیہ ، ۳۳:- ’’الوافیۃ‘‘ شرح کافیہ : (کافیہ کی عربی شرح) ، ۳۴:- ’’تحفۃ الألمعي‘‘ شرح سنن الترمذی ، ۳۵:- ’’تحفۃ القاری‘‘ شرح صحیح البخاری ، ۳۶:- علمی خطبات( دوحصوں پر مشتمل ہے) ، ۳۷:- مفتاح العوامل شرح شرح مأۃ عامل ، ۳۸:- گنجینۂ صرف شرح پنج گنج ، ۳۹:- ارشاد الفہوم شرح سلم العلوم ، ۴۰:- دین کی بنیادیں اور تقلید کی ضرورت ، ۴۱:-فقہ حنفی اقرب الی النصوص ہے ، ۴۲:- آسان فارسی قواعد ، ۴۳:- ’’مبادی الأصول‘‘ (عربی اصولِ فقہ میں ہے) ، ۴۴:- معین الاصول ، ۴۵:- شرح علل الترمذی (ترمذی شریف کی ’’کتاب العلل‘‘ کی عربی شرح ) ، ۴۶:- مسلم پرسنل لاء اور نفقۂ مطلقہ۔
مذکورہ بالا تعلیمی، تدریسی اور تصنیفی خدمات کے علاوہ تبلیغ اور وعظ وارشاد کی غرض سے کئی بیرون ممالک مثلاً: برطانیہ، کینیڈا، افریقہ اور سعودی عرب کا سفر آپ نے کیا۔ آپ کی پہلی بیعت قطب الاقطاب، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہٗ سے تھی اور حضرت مولانا مفتی مظفر حسین مظاہری نے آپ کو بیعت کرنے کی اجازت دی۔
حضرت مفتی صاحب کے والد محمد یوسف  رحمۃ اللہ علیہ  جو ڈابھیل میں کچھ عرصہ پڑھتے رہے اور ان کی تربیت سے حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ اس مقام تک پہنچے، حضرت مولانا مفتی محمد امین (استاذِ حدیث وفقہ مرتب فتاویٰ دارالعلوم دیوبند) نے ان کے والد صاحب کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ:
’’جس زمانہ میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، اور محدثِ کبیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ ڈابھیل میں پڑھاتے تھے، اس وقت والد صاحب ڈابھیل میں پڑھتے تھے، اور حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی قدس سرہٗ کے خادمِ خاص تھے، مگر گھریلو احوال کی وجہ سے تعلیم مکمل نہیں کر سکے تھے، اس لیے اپنے صاحب زادوں کو علامہ شبیر احمد عثمانی  ؒ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، اور محدث کبیر مولانا محمد یوسف بنوریؒ جیسا عالم بنانے کا عظیم جذبہ رکھتے تھے، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی قدس سرہٗ نے والد صاحب کو یہ وصیت کی تھی کہ: یوسف! اگر تم اپنے لڑکوں کو اچھا عالم بنانا چاہتے ہو، تو حرام اور ناجائز مال سے پرہیز کرنا، اور بچوں کو بھی ناجائز اور حرام مال سے بچانا، کیونکہ علم ایک نور ہے، ناجائز اور حرام مال سے جو بدن پروان چڑھتا ہے، اس میں یہ نور داخل نہیں ہوتا۔ یہ نصیحت حضرت مولانا نے والد ماجد کواس لیے کی تھی کہ اس زمانہ میں ہماری ساری قوم بنیوں کے سود میں پھنسی ہوئی تھی، اسی زمانہ میں ہمارے دادا نے بنیے سے سودی قرض لے کر ایک زمین کرایہ پر لی تھی، والد صاحب اس زمانہ میں ڈابھیل کے طالب علم تھے، والد صاحب نے اس معاملہ میں دادا سے اختلاف کیا تو والد صاحب کو حرام سے بچنے کے لیے مجبور اً تعلیم چھوڑ کر اپنا گھر سنبھالنا پڑا، اور تہیہ کیا کہ چاہے بھوکا رہوں گا، مگر حرام کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا، تاکہ میں نہیں پڑھ سکا تو اللہ تعالیٰ میری اولاد کو علمِ دین عطا فرمائیں۔ چنانچہ والد صاحب، ناجائز اور حرام مال، بلکہ مشتبہ مال سے بھی پرہیز کرتے تھے، اور اپنی اولاد کو بھی بچاتے تھے، اور ان کی تعلیم و تربیت کی طرف پوری توجہ فرماتے تھے۔‘‘
حضرت مفتی صاحبؒ کے سانحۂ ارتحال پر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم، نائب رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری زید مجدہم اور جملہ اساتذہ کرام کی طرف سے مشائخ واربابِ دارالعلوم دیوبند اور حضرت مفتی صاحبؒ کے جملہ پسماندگان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کی کامل مغفرت فرمائے، آپ کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے، پسماندگان کو صبرِجمیل عطا فرمائے اور آپؒ کے جملہ متوسلین وتلامذہ کو حضرت کے مشن کو جاری وساری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
’’بینات‘‘ کے باتوفیق قارئین سے حضرتؒ کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔
 

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے