بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

بینات

 
 

حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اعظمی قاسمی رحمۃ اللہ علیہ 

حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اعظمی قاسمی رحمۃ اللہ علیہ 

استاذِ حدیث وسابق مدیر ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، انڈیا


اِدھر چند سالوں میں مادرِ علمی دار العلوم دیوبند کے کئی کباراساتذۂ کرام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان میں ایک استاذِ محترم حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اعظمی قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم شخصیت بھی ہے۔ حضرت والا بتاریخ ۳۰؍رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ مطابق ۱۳؍مئی ۲۰۲۱ء کو دن کے تقریباً پونے ایک بجے اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آپ کی وفات کی خبر منٹوں میں شمال وجنوب اور مشرق ومغرب میں پھیل گئی۔ ہر طرف پھیلے آپ کے تلامذہ اور اہلِ علم حضرات نے اس خبر پر گہرے غم وافسوس کا اظہار کیا۔ آپ کی پیدائش ۱۵؍جون ۱۹۴۲ء کو ضلع اعظم گڑھ کے ایک قصبہ ’’جگدیش پور‘‘ میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کا نام انوار الحق ؒ تھا، جو کہ حافظِ قرآنِ کریم تھے۔ حضرت الاستاذؒ مطالعہ کے رسیا تھے۔ 
آپ کا کام پڑھناپڑھانا، مطالعہ کرنا اور لکھنا تھا۔ آپ کو علمِ حدیث، اسماءرجال اور تاریخ سے بڑا شغف تھا۔ آپ ایک ممتاز اسلامی اسکالر، ایک مقبول استاذِ حدیث اور ایک کام یاب قلم کار واِنشا پرداز تھے۔ آپ اپنے علم وفضل کی وجہ سے دار العلوم دیوبند میں مدرس مقرر کیے گئے۔ آپ نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ 
‏علمی سفر
استاذِ محترمؒ ؒ نے اپنے علمی سفر کا آغاز اپنے گاؤں کے بزرگ جناب حاجی محمد شبلی صاحبؒ سے کیا۔ آپ نے ان سےمکتب میں، قرآن کریم، اردو وفارسی کی ابتدائی کتابیں اور حساب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر آپ مدرسہ روضۃ العلوم پھول پور کا قصد کیا اور وہاں حضرت مولانا عبد الغنی صاحبؒ -خلیفہ حضرت تھانویؒ- سے شیخ مصلح الدین سعدی شیرازیؒ کی مشہور کتاب ’’گلستاں‘‘ پڑھی۔ پھر آپ نے مدرسہ بیت العلوم سرائے میر میں داخلہ لیا اور ابتدائی درجات کی کتابیں پڑھیں۔ پھر مدرسہ مطلع العلوم بنارس کا رخ کیا۔ بنارس کے بعد دار العلوم مئو میں داخلہ لیا اور وہاں مشکاۃ المصابیح تک کی تعلیم حاصل کی۔
آپ کے تعلیمی سفر کا آخری پڑاؤ‘ ایشیا کی عظیم دینی درس گاہ دار العلوم دیوبند میں رہا، جہاں آپ نے فضلیت کے درجہ نہائی، یعنی دورہ حدیث شریف میں سن ۱۹۶۳ء میں داخلہ لیا۔ آپ نے اس ادارہ میں بخاری شریف حضرت مولانا فخرالدین مرادآبادیؒ سے پڑھی اور صحیح مسلم اور ابن ماجہ حضرت مولانا بشیر احمد خانؒ بلندشہری سے پڑھی۔ ابنِ ماجہ کے کچھ اسباق آپ نے حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ سابق مہتمم دار العلوم دیوبند سے پڑھے۔ سننِ ترمذی (جلد اول) حضرت علامہ ابراہیم بلیاویؒ سے پڑھی۔ سننِ ابو داؤد، سننِ ترمذی (جلد ثانی) اور شمائلِ ترمذی حضرت مولانا فخر الحسن مراد آبادیؒ سے پڑھی۔ آپ نے طحاوی شریف حضرت مولانا اسلام الحق اعظمیؒ سے پڑھی۔ سننِ نسائی آپ نے حضرت مولانا شریف الحسن دیوبندیؒ سے اور مؤطا امام مالک ومؤطا امام محمد حضرت مولانا عبد الاحد صاحب دیوبندیؒ سے پڑھی۔ آپ نے سن ۱۳۸۴ھ مطابق ۱۹۶۴ء میں دار العلوم سےفراغت حاصل کی۔
تدریسی خدمات
استاذِ محترمؒ نے تدریس وتعلیم کو اپنی عملی زندگی کا مشغلہ بنایا۔ آپ نے مدرسہ روضۃ العلوم پھول پور میں مبلغ کی حیثیت سے چند مہینے خدمات انجام دیں۔ پھر آپ نے مدرسہ خیر المدارس، گھوسی، قرآنیہ جون پور وغیرہ میں تدریس کی۔ ان مدارس کے بعد آپ جامعہ اسلامیہ( ریوڑی تالاب، بنارس) سے منسلک ہوگئے۔ اسی جامعہ میں آپ نے ’’تذکرہ علماء اعظم گڑھ‘‘ لکھی اور اسی ادارہ سے یہ کتاب اوّلاً شائع ہوئی۔ یہاں آپ سن ۱۹۸۰ء تک رہے۔ پھر مؤتمر فضلاء دار العلوم دیوبند کی نظامت اور اس کے ماہ نامہ ترجمان کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی۔ سن ۱۹۸۲ء میں آپ دار العلوم دیوبند میں مدرس مقرر ہوئے۔ آخر عمر میں آپ دار العلوم دیوبند میں علیا درجے کی کتابیں مثلاً: ’’صحیح مسلم، سنن أبي داود، مشکاۃ المصابیح، نزہۃ النظر في توضیح نخبۃ الفکر، مقدمۃ ابن الصلاح‘‘ وغیرہ پڑھاتے تھے۔ آپ سبق پڑھانے سے قبل کافی ذوق وشوق اور محنت ومطالعہ سے اس کی تیاری کرتے تھے، چناں چہ طلبہ آپ کے اسباق کو بہت پسند کرتے تھے۔ آپ کا درس قصہ کہانی اور اِدھر اُدھر کی باتوں سے بالکل پاک ہوتا تھا۔ آپ جو کچھ بھی طلبہ کے سامنے بیان کرتے، وہ سب خالص علمی مواد ہوتا تھا۔
راقم الحروف کو دار العلوم دیوبند کی طالب علمی کے زمانہ میں دورہ حدیث شریف کے سال آپؒ سے سننِ ابو داؤد (جلد ثانی) پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپ دورانِ درس جو بھی بات کہتے نہایت ہی پر اعتماد لہجہ میں کہتے تھے۔ آپ حدیث کے ایک ایک جزء کی وضاحت کرتے۔ حدیث سے متعلق چھوٹی بڑی سبھی باتوں کو اس طرح سمجھاتے کہ طلبہ آپ کے سبق سے کافی مطمئن رہتے تھے۔ علومِ حدیث کے اسکالرز اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ حدیث میں ’’سند‘‘ کی کتنی اہمیت ہے۔ سند کے حوالے سے بحث کرنا، راویوں کے حالات، حدیث کی صحت و ضعف کی وضاحت، یہ ایک اہم اورمشکل مسئلہ ہے، مگر اس حوالے سے کلام کرنا آپ کا محبوب مشغلہ تھا، ایسا لگتا تھا کہ آپ نے اس فن میں تخصص کر رکھا ہو، یہ سب آپ کے ذاتی محنت ومطالعہ کا نتیجہ تھا، فنِ اسماء رجال کے حوالے سےآپ کامطالعہ گہرا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے خود کو مطالعہ کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ سند اور تاریخ کے حوالے سے ایک سند کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ طلبہ کی نظر میں ایک مقبول اور پسندیدہ استاذ تھے۔ آپ کسی بھی مسئلہ کو آسانی سے سمجھا دیتے تھے، آپ ایک سبق کی تیاری کے لیے یا پھر کسی موضوع پر لکھنے سے قبل موضوع سے متعلق کئی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔ کبھی کبھی آپ ایک مسئلہ سے متعلق اتنی باتیں بتاتے تھے کہ طلبہ کے لیے اُن کو سمیٹنا مشکل ہوتا تھا،مگر آپ کا ہر شاگرد اس حقیقت کا اعتراف کرتا تھا کہ آپ کے ایک سبق میں ان کو سینکڑوں صفحات کا نچوڑ اور خلاصہ مل جاتا تھا۔
تصانیف وتالیفات
حضرت الاستاذؒ ایک کامیاب قلم کار اور مصنف تھے۔ جب بھی آپ نے کسی موضوع پر لکھنے کی ضرورت محسوس کی، آپ نے اس موضوع پر ضرور لکھا اور مدلل لکھا۔ آپ نے فرقِ باطلہ کے تعاقب کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا ہے، چاہے وہ مرزائی عقائد ودعاوی ہوں یا قرآن کریم کی معنوی تحریف، ایرانی انقلاب ہو یا شیعی باطل عقائد، فتنۂ انکارِ حدیث ہو یا حجیتِ حدیث کا مسئلہ سب موضوعات پر آپ نے اپنی تحریر مطالعہ کی روشنی میں مدلل میں پیش کی ہے، جس پر کہیں بھی انگلی رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ آپ کی تحریری صلاحیت کی وجہ سے صفر ۱۴۰۵ھ (اکتوبر ۱۹۸۴ء) میں آپ کو دار العلوم کی انتظامیہ نے ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ کا ایڈیٹر بنادیا۔ آپ نے اکتوبر ۱۹۸۴ء سے نومبر ۲۰۱۶ء تک اس ماہنامہ کی ادارت بحسن وخوبی انجام دی۔ ماہنامہ دار العلوم کے موجودہ ایڈیٹر استاذِ محترم مولانا سلمان صاحب بجنوری-حفظہ اللہ- اس حوالے سے رقم طراز ہیں:
 ’’حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب کی ادارت ماہ نامہ دار العلوم کی تاریخ میں مولانا سید ازہر شاہ قیصرؒ کی طرح بہت طویل ہے۔ وہ ۱۹۸۴ء میں مدیر بنائے گئے اور ابھی گزشتہ ماہ نومبر ۲۰۱۶ء میں اپنی بڑھتی عمر اور بلند پایہ تدریسی اور علمی مصروفیات کی بنا پر اس خدمت سے معذرت کی۔ اس طویل مدت میں ان کے رواں قلم سے اداریوں کے علاوہ بھی بے شمار مضامین صادر ہوئے۔ ان کے علمی مضامین کا مجموعہ (تین جلدوں میں) ’’مقالاتِ حبیب‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ عربی اور اردو میں تقریباً تیس کتابیں یا رسائل ان کے قلم سے وجود میں آچکے ہیں۔ حضرت موصوف کے دورِ ادارت میں متعدد خاص نمبر بھی شائع ہوئے، جن میں ’’ختمِ نبوت نمبر‘‘ اور ’’الاحسان نمبر‘‘ خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔‘‘ (اداریہ ماہ نامہ دار العلوم، دسمبر ۲۰۱۶ء)
آپؒ مؤتمر فضلائے دار العلوم دیوبند کے ترجمان ماہ نامہ ’’القاسم‘‘ کے بھی مدیر رہے۔ واضح رہے کہ اس مؤتمر کا قیام سن ۱۹۸۰ء میں عمل میں آیا تھا۔
حضرتؒ نے اپنے سیال قلم سے تقریباً تیس کتب ورسائل تحریر فرمائے جو سب شائع شدہ ہیں، جب کہ آپ کی کچھ تحریریں ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہیں۔ آپ کی کچھ تصانیف کے نام یہ ہیں: ۱:-تذکرۂ علماء اعظم گڑھ ، ۲:-شجرۂ طیبہ، ۳:- اجودھیا کے اسلامی آثار ، ۴:-بابری مسجد حقائق اور افسانے ، ۵:-اسلام کانظامِ عبادت ، ۶:- اسلام میں تصورِ امارت ، ۷:- مقالاتِ حبیب ( تین جلدیں) ، ۸:-متحدہ قومیت علماء اسلام کی نظر میں ، ۹:- خمینیت، عصرِ حاضر کا عظیم فتنہ، ۱۰:- خلیفہ مہدی صحیح احادیث کی روشنی میں، ۱۱:- خواتینِ اسلام کی بہترین مسجد ، ۱۲:- امام کے پیچھے مقتدی کی قراءت کا حکم ، ۱۳:- مسائلِ نماز ، ۱۴:- امام ابوحنیفہ ؒ کا علمِ حدیث میں مقام و مرتبہ، ۱۵:-شرح مقدمہ شیخ عبدالحق دہلویؒ ، ۱۶:- نور القمرفي توضیح نزہۃ النظر شرح نخبۃ الفکر ، ۱۷:-امام ابو داؤدؒ اور ان کی سنن ، ۱۸:-شیعیت، قرآن و حدیث کی روشنی میں، ۱۹:- شیوخ أبي داؤد في السنن(عربی) ، ۲۰:- حدیث و سنت پر نقد ونظر، ۲۱:- بابری مسجد تاریخ کے مختلف مراحل میں، وغیرہ۔
تنظیمی سرگرمیاں
یہ حقیقت ہے کہ آپ تدریس وتعلیم کے آدمی تھے، اس کے باوجودبھی آپ کچھ تنظیمی سرگرمیوں سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ جب سن ۱۹۸۰ء میں، قدیم فضلاء دار العلوم دیوبند کی تنظیم ’’عالمی مؤتمر فضلاء دار العلوم دیوبند‘‘ کا قیام عمل میں آیا، تو اس وقت آپ جامعہ اسلامیہ، بنارس میں تدریسی خدمات میں مشغول تھے۔ تنظیم کے ذمہ داروں کی دعوت پر آپ بنارس سے تشریف لائے، آپ کو تنظیم کا ناظم منتخب کیا گیا۔ جب اس تنظیم کے ترجمان کے طور پر ماہ نامہ ’’القاسم‘‘ کا اجراء عمل میں آیا تو آپ اس کے ایڈیٹر بھی بنائے گئے۔ آپ نے تنظیم کی نظامت اور رسالہ کی ادارت بحسن وخوبی انجام دی۔ آپ جمعیت علماء ہند کے ایک اہم رکن، بلکہ ایک مدت تک جمعیت کی مجلسِ عاملہ کے رکن رہے۔ آپ پابندی سے جمعیت کی میٹنگوں اور پروگراموں میں شرکت کرتے تھے۔ جمعیت میں آپ کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی اور آپ کے مشورے کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جمعیت کی قرارداد عام طور آپ ہی تحریر فرماتے تھے۔ سن ۱۴۲۰ھ میں دار العلوم دیوبند نے ’’ردِعیسائیت کمیٹی‘‘ قائم کی، آپ کو اولاً اس کمیٹی کا نگراں بنایا گیا، پھر بعدمیں آپ اس کمیٹی کے ناظم بنائے گئے۔ بڑھتی تدریسی وتصنیفی مشغولیات کی بنا پر سن ۱۴۳۸ھ میں آپ نے اس کمیٹی کی نظامت سے استعفا دے دیا۔
استاذِ محترمؒ کی وفات اور پس ماندگان
تدریسی مشغولیات کی وجہ سے استاذِ محترمؒ کا یہ معمول تھا کہ پورے سال پابندی سے دیوبند میں رہتےتھے۔ رمضان المبارک کی تعطیل کلاں میں آپ اپنے وطن جگدیش پور، اعظم گڑھ تشریف لاتے اور تعطیل کے ایام وطن میں اہل وعیال کے ساتھ گزارتے تھے، اس سال یعنی شعبان ۱۴۴۲ھ میں بھی آپ نے معمول کے مطابق یہی کیا، آپ صحت وعافیت کے ساتھ اپنے وطن پہنچے۔ جب آپ دیوبند سے اپنے وطن کے لیے چلے ہوں گے تو ملنے جلنے والوں کو یہ گمان بھی نہیں ہوا ہوگا کہ اب حضرت دیوبند کی سرزمین پر دوبارہ واپس نہیں آئیں گے اور اپنے وطن کی خاک میں مل جائیں گے۔ بہرحال وسطِ رمضان میں آپ کی طبیعت خراب ہوئی، ڈاکٹر نے ٹائی فائیڈ بخار کی تشخیص کی، آپ کا علاج شروع ہوا، چند دنوں بعد سوشل میڈیا پر یہ خبر آئی کہ آپ رو بصحت ہو رہے ہیں، الحمد للہ۔ پھر دوبارہ آپ کی طبیعت بگڑنی شروع ہوگئی، آپ کو علاج کے لیے اسپتال میں ایڈمٹ ہونا پڑا، علاج پابندی سے چلتا رہا، پھر چند دنوں بعد آکسیجن کی کمی ہونے لگی اور دن بدن آپ کی صحت بگڑتی چلی گئی، تا آں کہ ۱۳؍مئی ۲۰۲۱ء مطابق ۳۰؍رمضان۱۴۴۲ء کو دو پہر پونے ایک بجے کے قریب آپ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
حیاتِ انساں ہے شمعِ صورت، ابھی ہے روشن ابھی فسردہ
نہ جانے کتنے چراغ یوں ہی جلا کريں گے، بجھا کریں گے
آپ کے پس ماندگان میں آپ کی اہلیہ محترمہ، دو لڑکیاں اور دو لڑکے جناب مولانا عبید الرحمٰن صاحب قاسمی اور جناب عبد الرحمٰن صاحب ہیں۔ آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے پوتے جناب مولانا عفان صاحب قاسمی نے پڑھائی۔ لاک ڈاؤن کے باوجود قرب وجوار کے قصبہ اور گاؤں سے طلبہ وعلماء اور عوام وخواص کی ایک بڑی تعداد نے جنازہ میں شرکت کی۔ آپ کی تدفین آپ کے گاؤں کے قبرستان میں عمل میں آئی۔ اللہ پاک حضرت الاستاذؒ کی دینی وملی اور سماجی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے، آمین! 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے