بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ کا سانحۂ ارتحال

 

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ کا سانحۂ ارتحال


الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

 

۲۰ رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۴ مئی ۲۰۲۰ء بروز جمعرات شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ، مولانا بدرِعالم میرٹھی نور اللہ مراقدہم کے شاگردِ رشید، اسلامی اکیڈمی مانچسٹر کے ڈائریکٹر، سٹی جامع مسجد برطانیہ کے بانی، جامعہ ملیہ لاہور کے مہتمم وبانی، رئیس المحققین، قدوۃ المناظرین، عقیدہ ختم نبوت کے محافظ و ترجمان، عظمتِ صحابہؓ واہل بیتؓ کے پاسبان، عالمِ اسلام کے عظیم اسکالر، مناظرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ   ۹۵ سال کی عمر گزار کر برطانیہ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ما أعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔
آپ علم وعمل، ہمہ جہت وسعتِ مطالعہ اور فکر ونظر کی گہرائی، ذہانت وفطانت، قوتِ حافظہ، برجستہ وبرمحل مستدلات میں اپنی نظیر آپ تھے۔ دینی فتنوں کی سرکوبی کا خاص ملکہ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا تھا، جس سے اُمتِ مسلمہ کے مختلف افراد، حلقے اور طبقے ہمیشہ استفادہ کرتے رہے۔ اس بنا پر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ثانی حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن نور اللہ مرقدہٗ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دورہ حدیث سے فراغت پانے والے طلبہ کو مقارنہ بین المذاہب پڑھانے کے لیے شعبان ورمضان میں جامعہ میں آپ کو مدعو کیا کرتے تھے اور آپ اپنے وسیع تر مطالعہ اور معلومات کی روشنی میں طلبہ کو اپنے علوم وتجربہ سے مستفید فرمایا کرتے تھے۔ آپؒ نے ایک عرصہ تک تنظیمِ اہلِ سنت کے ترجمان پہلے سہ روزہ، پھر ہفت روزہ رسالہ’’دعوت‘‘ میں بطور مدیر خدمات انجام دیں، جس سے اس رسالہ کو خوب مقبولیت اور ترقی ملی۔ اس رسالہ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دارالعلوم دیوبندکے اس وقت کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی قدس سرہٗ نے لکھا :
’’قدر الشہادۃ قدر الشہود‘‘ عربی مشہور ضرب المثل ہے، کسی تصنیف وتالیف کی عظمت اور خوبی اس کے مؤلف کی عظمت و شخصیت سے جانی جاسکتی ہے۔ ’’دعوت‘‘ کی تالیف اور سنجیدہ علمی مضامین کی عظمت ومقبولیت کے لیے یہ کافی ہے کہ فاضل محترم علامہ خالد محمود صاحب کا اسم گرامی لے لیا جائے، جو اس کی سرپرستی اور نگرانی کا مبارک کام سرانجام دے رہے ہیں۔ اس پرچہ کے اصلاحی اور محققانہ مضامین خود ہی اس کی خوبی کی ضمانت ہیں۔ ’’دعوت‘‘ اسم بامسمیٰ ہے، اس کے علمی اور دینی مضامین حقیقی معنی میں اسلام اور دین کی دعوت میں اس دورِ پرفتن میں اسلام کی صحیح اور معتدل آواز الحمد للہ! اس پرچہ کے ذریعہ سے بلند ہورہی ہے۔‘‘       (عبقات، جلد اول، ص:۲۱، ط: دارالمعارف، اردو بازار، لاہور)
اور اسی  ہفت روزہ ’’دعوت‘‘کے تحت آپ کی ادارت اور نگرانی میں رسولِ کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نمبر ۱۹۶۲ء، صدیق اکبرؓ   نمبر ۱۹۶۲ء، فاروق اعظمؓ نمبر ۱۹۶۲ء، عثمان غنیؓ نمبر۱۹۶۳ء، علی المرتضیٰؓ   نمبر، خاتم النبیین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نمبر وغیرہ نکالے گئے، جنہوں نے اپنے وقت میں خوب داد سمیٹی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب حفظہ اللہ کے بقول:’’ایک زمانہ تھا کہ ملک کی کسی جماعت ومدرسہ کے جلسہ میں علامہ خالد محمودؒ کی شرکت ضروری تصور ہوتی تھی۔ آپ تحریکِ ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں گرفتار بھی ہوئے۔ ختمِ نبوت کانفرنس چنیوٹ وچناب نگر میں آپ کی شرکت لازمی ہوتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ سال ختمِ نبوت مدرسہ مسلم کالونی چناب نگر کے منتہی طلبہ سے خطاب کے لیے زحمت فرمائی۔ ختم نبوت کانفرنس لندن وبرمنگھم میں آپ ہر سال شریک ہوتے، بڑے اہتمام سے آپ کا بیان ہوتا۔ یورپ، افریقہ، امریکہ تک آپ نے ختم نبوت کے ترانے بلند کیے۔ وفاقی شرعی عدالت لاہور میں ردِ قادیانیت پر آپ کا بیان تحریری جمع کرایا گیا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام برطانیہ کے کاموں میں آپ نے قدرے حصہ ڈالا۔ آپ کا اصل میدان تنظیمِ اہل سنت ہی تھا۔ حضرت علامہ نے مانچسٹر میں اسلامک اکیڈمی ، پھر سٹی جامع مسجد قائم کی جو آپ کے لیے ذخیرۂ آخرت ہیں۔
آپ بلا کے حاضر دماغ تھے، حاضر جوابی آپ پر ختم تھی۔ علمی تحقیقی جوابات کے علاوہ الزامی دندان شکن جوابات کے بلاشبہ بادشاہ تھے۔ اخیر عمر تک کھڑے ہوکر بیان کرتے۔ نکتہ رسی آپ پر ختم تھی۔ بات سے بات نکالنے اور بامقصد نتیجہ خیز بنانے میں مہارتِ تامہ کے حامل تھے۔ اس سال جامعہ اشرفیہ میں ملاقات کے لیے حاضری ہوئی۔ جناب رضوان نفیس ، دوسرے رفقاء ہمراہ تھے، دو باتیں بطور خاص یاد ہیں، فرمایاکہ: قادیانیت کے احتساب کا شکنجہ کسنے کے لیے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی تشکیل وارتقاء مولانا محمد علی جالندھریؒ کا مجددانہ کارنامہ ہے۔ میرے نزدیک اس عنوان پر آپ کا وجود مجددانہ شان کا حامل تھا۔ دوسرا فرمایا: ہمارے بہت سارے محاذ ہیں، ہم نے ان سب کو وقت دیا۔ آپ (فقیر) پچاس سال سے ایک محاذ پر آنکھیں بند کیے کاربند ہیں، اس کے صدقہ میں آپ کو جہاں رحمتِ عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شفاعت نصیب ہوگی، وہاں سیدنا مسیح بن مریم  علیہ السلام  کا دستِ شفقت بھی حاصل ہوگا۔ یہ کہتے ہوئے آواز بھرَّا گئی۔ پھر فرمایا کہ: میں عمر کے اس پیٹے میں ہوں کہ یہ بات بلاوجہ نہیں کہہ رہا، اس پر مجھے انشراح کا مقام حاصل ہے۔‘‘
حضرت علامہ خالد محمودؒ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی سمیت کئی زبانوںمیں یکساں عالمانہ دسترس رکھتے تھے، آپ انگلینڈ میں مقیم تھے، اس وقت علمائے دیوبند کی بزرگ ترین ہستیوں میں سے تھے، آپ نے مختلف دینی محاذوں پر کام کیا اور ہر محاذ کی صفِ اول کی قیادت میں رہے۔ کچھ عرصہ پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت کے جج رہے۔
آپ۱۹۲۵ء میں قصور شہر میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام پیر محمد غنی تھا۔ آپ نے تعلیم کا آغاز قصور سے کیا، اس کے بعد امرتسر جا کر مزید تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۴ء میں جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل، گجرات سے دورہ حدیث شریف کی سعادت حاصل کی اور دوسری بار جب جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورہ حدیث کا آغاز ہورہا تھا تو حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کے کہنے پر کہ: ’’ آپ دورہ حدیث دوبارہ جامعہ اشرفیہ میں پڑھیں، اس سے ادارے کو اور آپ کو فائدہ ہوگا‘‘ حضرت کے حکم کی تعمیل میں دوبارہ دورہ حدیث کیا، یوں آپ دونوں اداروں کے فاضل ہیں۔
آپ کے اساتذہ میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی   ؒ، محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت علامہ ابراہیم بلیاویؒ، مولانا محمد حسنؒ (بانی جامعہ اشرفیہ لاہور)، شیخ الکل مولانارسول خان ہزارویؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، مفتی محمد شفیع عثمانی   ؒ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ، حضرت مولانا شمس الحق افغانی   ؒاور مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نے علومِ اسلامیہ کے چودہ سو سالہ ذخائر میں غوطہ زن ہو کر اہلِ علم کے استفادہ کے لیے گراں قدر علمی سرمایہ تیار کیا، آپ کی تصانیف میں سے چند مشہور یہ ہیں:
۱:- قرآن کریم کے موضوع پر آثار التنزیل۔ ۲ جلد۔ ۲:-  حدیث کے موضوع پر آثار الحدیث، ۲جلد۔ ۳:-  فقہ کے موضوع پر آثار التشریع ،۲ جلد۔ ۴:-  تصوف کے موضوع پر آثار الاحسان، ۲ جلد۔ ۵:-سوال وجواب پر مشتمل عبقات، ۲ جلد۔ ۶:-  ایک تاریخی وتحقیقی دستاویز مطالعۂ بریلویت، ۹ جلد۔ ۷:-  عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم النبوۃ، ۱جلد۔یہ کتاب امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ کی زندگی میں ان کے حکم کی تعمیل میں لکھی تھی، جس پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ نے تاریخی جملہ فرمایا تھا: ’’اگر عصر کے وقت کوئی باطل فتنہ وجود میں آئے اور علامہ خالد محمود کو اس کے رد میں لکھنے کا کہا جائے تو مغرب تک اس فتنہ کے خلاف مدلل تصنیف فرماچکے ہوں گے‘‘۔ ۸:- عقیدۃ خیر الامم فی مقامات عیسی ابن مریم  ؑ،۱ جلد۔ ۹:-  تجلیاتِ آفتاب، ۱جلد۔ ۱۰:- حجیتِ حدیث (انگلش) ۱ جلد۔ ۱۱:-اسلام ایک نظر میں (انگلش) ۱ جلد۔ ۱۲:- معیارِ صحابیت، ۱جلد۔ ۱۳:- عقیدۃ السلام فی الفرق بین الکفر والاسلام۔ ۱۴:- مرزا قادیانی، شخصیت وکردار اپنی تحریرات اور پیش گوئیوں کے آئینہ میں۔
آپ کو علامہ کہنے کی وجہ کے بارے میں مولانا عبدالجبار سلفی لکھتے ہیں کہ :’’میں نے علامہ خالد محمودؒ سے خود پوچھا تھا تو آپ نے فرمایاکہ: ’’ابو العطاء مولوی اللہ دتہ قادیانی سیالکوٹ وارد ہوا اور اہلِ حدیث عالم مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے سینگ لڑانے کے چیلنج دینے لگا، تب مولانا موقع پہ موجود نہ تھے۔ میں نے کہا: پہلے مجھ سے مناظرہ کرو۔ تالی بج گئی کہ واہ واہ نوجوان نے چیلنج منظور کیا ہے، دیکھیے! نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے؟ گفتگو شروع ہوئی (اس دوران علامہ صاحب نے اپنا مخصوص جملہ دُہرایا کہ :’’ہمارا کیا ہے؟ گھڑی دیکھی اوربات کہہ دی!‘‘) چنانچہ چندمنٹوں میں ہی اللہ دتہ قادیانی عرق آلُود ہو چکا تھا۔ عوام توطالبِ حق ہونے سے زیادہ تماش بین ہوتے ہیں۔ لوگوں نے نعرہ بازی شروع کردی کہ ایک لڑکے نے مرزائی رِبّی کے اوسان خطا کردیئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کے اللہ دتہ قادیانی شرمسار ہوکر پنجابی لہجے میں یوں طعنہ زن ہوا کہ:’’جا اوئے جا، تیری تے اجے داڑھی ای نئیں آئی۔‘‘ (جااوجا! تمہاری تو ابھی ڈاڑھی ہی نہیں آئی) علامہ صاحبؒ نے فرمایاکہ: اللہ تعالیٰ نے میرے دماغ میں فی البدیہہ جواب ڈالا: اللہ دتہ قادیانی باریش تھا اورخاصی لمبی ڈاڑھی تھی، میں نے بھی برجستہ پنجابی لہجے میں کہا: ’’ میری داڑھی تے آئی نئیں، پَرتیری میں ریہن نئیں دینی۔‘‘ (میری ڈاڑھی توابھی نکلی ہی نہیں، مگرتیری بھی میں نے نہیں چھوڑنی) اس مکالمہ آرائی میں عوام کاجوش قابلِ دید تھا۔ اس دوران مجمع سے آواز آئی: ’’واہ بھئی علامہ واہ، واہ بھئی علامہ واہ‘‘ یہ الفاظ اللہ جانے کس قلندر کے منہ سے نکلے تھے کہ پھر ‘‘خالد محمود‘‘اور ’’علامہ‘‘ ایسے لازم وملزوم ہوئے کہ روح وجسم کا رشتہ بھی کبھی نہ کبھی ٹوٹ جاتا ہے، مگر ’’خالد محمود‘‘ اور ’’علامہ‘‘ آج دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اکٹھے ہی ہیں۔‘‘
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ :’’ علامہ صاحبؒ فرماتے تھے کہ جس زمانہ میں سینماؤں کا رواج تھا تو اُس دور میں لاہور کے اندر ایک کنونشن منعقد ہوا، جس کاعنوان تھا ’’سینما کے کچھ روشن پہلُو‘‘ فرمایا کہ: مجھے بھی اس میں دعوتِ خطاب دی گئی جو میں نے قبول کرلی۔ معاصر احباب نے کہا کہ علامہ صاحب! آخر آپ وہاں کیا خطاب کریں گے؟ تو میں نے وہی جواب دیا: ’’ہمارا کیا ہے؟ گھڑی دیکھ لی اور بات کہہ دی۔‘‘ چنانچہ میں نے اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ: ’’بھائیو! جو چیز اندھیرا کر کے دیکھی جاتی ہو، اُس کے روشن پہلو آخر کون سے ہوسکتے ہیں؟‘‘ سینمائی نظم کاعلم رکھنے والے جانتے ہیں کہ سینما میں جب شو کا آغاز ہوتا ہے تو لائٹیں بند کردی جاتی ہیں، تو میرا اشارہ اس طرف تھا۔ بس یہ کہنے کی دیرتھی، پوراہال تالیاں پیٹتے ہوئے کھڑا ہوگیا اور میں فورًا اپنی گفتگو ختم کرکے اسٹیج سے اُتر آیا۔‘‘
حضرت علامہ خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ  کے صحبت یافتہ اور تربیت یافتہ محترم جناب سجاد ضیغم صاحب آپ کی تصنیف ’’مطالعۂ بریلویت‘‘ کے بارہ میںلکھتے ہیں کہ: ’’اس موقع پر جسٹس (ر) ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ کی آٹھ جلدوں پر مشتمل کتاب ’’مطالعۂ بریلویت‘‘ کے حوالے سے ایک توضیح ضروری ہے ، کیونکہ کچھ لوگوں نے اس کو تحقیقی اصولوں پر پرکھے اور بالاستیعاب پڑھے بغیر اس پر بے بنیاد تبصرے شروع کر رکھے ہیں، یہ فرقہ واریت پر مبنی نہیں، یہ Bacically ایک بہت وسیع عالمانہ ومحققانہ مطالعہ ہے، اس خاکسار نے علامہ صاحبؒ سے سنا تھا کہ جس وقت انہیں شریعت اپیلٹ بینچ سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا جارہا تھا تو اس وقت Comitte Appointment  نے یہی سوال کیا تھا کہ آپ کی یہ کتاب فرقہ وارانہ ہے؟ آپ نے انہیں جواب دیا تھا کہ میں بنیادی طور پر ریسرچ کا آدمی ہوں تو یہ میرا ریسرچ ورک ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے اس میں فلاں فلاں حوالہ غلط ہے، تو کوئی محقق اس کا رد کردے یا اگر کسی کو اس سے اختلاف ہے تو وہ اس کا استناد واستدلال کے ساتھ جواب لکھے، جو کہ آج تک نہیں ہوسکا۔ صرف یہ کہنا کہ یہ فرقہ وارانہ ہے تو یہ تو کوئی بات نہیں۔ اگر معترضین کے اس موقف کو اصول بنانا ہے تو اس الزام سے تو شاید ان کی اپنی کوئی کتاب نہ بچ سکے۔ میرا انہیں چیلنج ہے ، وہ اسی کلیے کے ساتھ سامنے آجائیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرلیتے ہیں۔ جہاں تک شریعت اپیلٹ بینچ کے فیصلوں کا تعلق ہے وہ میں نے قرآن وسنت کے معیار پر کرنے ہیں۔ اس بیان پر انٹرویو وتقرری کمیٹی کی تسلی ہوئی اور علامہ صاحب کو جج تعینات کردیا گیا۔‘‘
آپؒ کا بیعت کا تعلق یکے بعد دیگرے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا مسیح اللہ خان شیروانی  ؒ اور مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی  ؒسے رہا۔اور آخر میں حضرت مولانا مسیح اللہ خانؒ کے خلیفہ مولانا وصی اللہ صاحب سے تھا، ان سے اجازتِ خلافت بھی تھی۔
آپ کی دینی و علمی خدمات سے مسلمانانِ اہلِ مشرق اور اہلِ مغرب دونوں نے فائدہ حاصل کیا، آپ کا زیادہ وقت اہلِ یورپ کو دین کی دعوت دینے میں گزرا۔ آپ کے اہل وعیال برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں قیام پذیر ہیں۔ علامہ صاحبؒ    قلیل عرصے کے لیے ہر سال پاکستان تشریف لاتے تھے اور قیامِ پاکستان کے دوران مختلف اداروں اور جماعتی احباب کے ہاں وقت گزارتے تھے۔
آپ قدیم وجدید فکر وفلسفہ کے بھی عظیم شناور تھے، جو کہ آپ کی تصانیف سے نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے، آپ قیام پاکستان کے دوران مختلف اوقات میں مرے کالج سیالکوٹ، ڈگری کالج خانیوال اور ایم او کالج لاہور میں بطور پروفیسر خدمات سر انجام دیتے رہے اور بطور خاص عصری تعلیمی اداروں میں علمِ دین کے خلاف پروپیگنڈوں اور باطل کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کرتے رہے۔ 
حضرت علامہ خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ  کی ذات وصفات کا احاطہ کرنا بہت ہی مشکل ہے، آپ کی شخصیت علومِ نبوت کی برکت سے مالا مال اور دفاعِ اسلام کی مجسم تصویر تھی، سفر وحضر میں آپ کو ایک طویل عرصہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ، امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا خیرمحمدجالندھریؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی رفاقت حاصل رہی ہے۔آپ کچھ عرصہ بیمار رہے، بیماری سے پہلے ضعف کی بناپر آپ گرگئے تھے، جس سے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، برطانیہ کے ایک ہسپتال میں اس کے علاج کے سلسلے میں داخل تھے کہ وہاں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔آپ نے اپنے پسماندگان میں تین بیٹے، دو بیٹیاں، ہزاروں شاگرد اور لاکھوں عقیدت مند سوگوار چھوڑے۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب رئیس حضرت مولانا سیدسلیمان یوسف بنوری، ناظم تعلیمات حضرت مولانا مفتی امداد اللہ یوسف زئی، تمام اساتذہ وانتظامیہ حضرت علامہ خالد محمودؒ کے انتقال سے اپنے آپ کو تعزیت کا مستحق سمجھتے ہیں اور حضرت کے اہل وعیال ، پسماندگان اور جملہ متوسلین سے تعزیت کرتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت علامہ صاحبؒ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آپ کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے، آپ کے جملہ متعلقین، احباب، مریدین اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اُمتِ مسلمہ کو جانے والوں کا بدل عطا فرمائے، آمین بجاہ سید الأبرار والمرسلین ، اللّٰہم لاتحرمنا أجرہ ولاتفتنا بعدہ۔
’’بینات‘‘ کے باتوفیق قارئین سے حضرتؒ کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے