بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1442ھ- 27 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

حضرت دین پوری شہید ؒ کے ملفوظات

 حضرت دین پوری شہید ؒ کے ملفوظات

    ٭… دین کے حصول کے لئے بنیادی شرط اخلاص ہے، چند اور شرائط ہیں جن کا اہتمام ضروری ہے، ایک یہ ہے کہ طالب علم تواضع وانکساری کرے، تکبر نہ کرے، تعلیمی طور پر اگر اچھا ہے تو یہ نہ سمجھے میں بہت کچھ ہوں۔ تکبر اور غرور اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے، اپنے دوستوں سے عجز وانکساری سے پیش آنا اللہ کو پسند ہے، تکبر وغرور سے پیش آنا اللہ کو پسند نہیں۔ بڑائی صرف اس کے لئے ہے، اس کو اپنے اندر لانے سے اجتناب کرے اور کسی کو اپنے سے حقیر نہ سمجھے۔ اور تواضع صرف اس کا نام نہیں کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے۔ جو پھٹے پرانے کپڑے میں دوسروں کو حقیر سمجھے وہ اللہ کو پسند نہیں اور اچھے کپڑوں میں ہوکر دوسروں کو اپنے سے بڑا سمجھے وہ اللہ کو پسند ہے۔ اپنے چھوٹوں سے بھی شفقت سے پیش آئے۔ اور علم کے حصول کی ایک شرط تکرار اور مطالعہ ہے، اس کا اہتمام کرنا چاہئے۔ وقت ضائع نہ کریں، بلکہ اس کو تکرار ومطالعہ میں استعمال کریں۔ اور درسی کتابیں پڑھے اور اگر اس سے فارغ ہوجائے تو غیر درسی مفید کتاب کا مطالعہ کرے، یہ نہیں کہ ڈائجسٹ کا مطالعہ کرے۔ ہمارے اکابر جن کے ہم نام لیوا ہیں، ان کو اگر کوئی تکلیف ہوتی تو پھر وہ مطالعہ کرتے اور کتاب کی محویت ان کو وہ تکلیف بھلا دیتی تھی۔     ٭…تکرار ہمارے ہاںیوں ہوتا ہے کہ ایک کہتا ہے اور باقی سنتے ہیں، لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے صرف تکرار کرانے والے کوفائدہ ہوتا ہے اور سننے والے کو نہیں ہوتا۔ دو دو کی جوڑی بناکر ایک دن ایک کرائے، دوسرے دن دوسرا کرائے، اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ صرف سننے والے نہ بنیں، بلکہ سنانے والے بھی بنیں۔ وقت کا خیال رکھیں۔ آپ اپنے گھربار، وطن، بھائی بہن کو چھوڑ کر یہاں آتے ہیں، آپ اس وقت سے فائدہ اٹھائیں۔ فضول، لایعنی باتوں، دل لگی کی باتوں کی بجائے اچھی چیزوں میں وقت کو استعمال کریں۔ اور اس کے ساتھ جو آپ نے علم حاصل کیا ہے اس پر عمل بھی کریں، علم سے صرف پڑھ لینا مقصود نہیں، علم صرف کالے حروف کا نام نہیں ہے، علم کے ساتھ عمل نہیں ہوگا تو اس کی مثال گدھے کی ہے، قرآن نے کہا ہے :’’مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَاۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ الخ‘‘۔     ٭…اگر حدیث پڑھنے کے بعد زندگی کو بدلنے کا داعیہ پیدا نہیں ہوتا، مسائل پڑھنے کے بعد مسائل پر چلنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا تو آپ کو فائدہ نہیں ہوگا ۔آپ یہاں عالم بننے کے لئے آئیں ہیں، گدھا بننے کے لئے نہیں آئے۔ آپ مشکوٰۃ میں کتاب الدعوات پڑھیں گے، اس میں دعائیں ہیں، آپ ان کو یاد کرلیں اور عمل میں لے آئیں تو پھر آپ کو مشکل نہیں ہوگی اور ساتھ میں معاصی سے بچیں۔ علم کے تقاضے کو پورا کریں، ورنہ علم کا نور نہیں ملے گا، جیساکہ امام شافعیؒ نے کہا ہے: شکوت إلی وکیع سوء حفظی

فأوصانی إلی ترک المعاصی فإن العلم نور من إلٰہٍ

ونور اﷲ لایعطی لعاصی     ٭…مستشرقین بسا اوقات بہت اچھے علمی نکات بیان کرتے ہیں، لیکن ہم ان کو عالم نہیں کہتے، کیونکہ وہ عمل نہیں کرتے۔ اگر عمل کرتے تو پھر مسلمان ہوجاتے، ایمان لے آتے ۔ حروف میں مہارت حاصل کرنے والا عالم نہیں ہے اور علم کالے حروف میں مہارت کا نام نہیں ہے، اس لئے اپنی زندگی کو علم کے تقاضے کے مطابق بنائیں۔ ہم جماعت کے فضائل پڑھتے ہیں، تکبیر اولیٰ کے فضائل پڑھتے ہیں، تہجد کے فضائل پڑھتے ہیں، وہ اس لئے نہیں کہ عوام کو سنائیں، بلکہ اس لئے کہ ہم خود اس پر پہلے عمل کریں۔     ٭… علم کا، کتاب کا، استاذ کا ادب کریں۔ کتاب کا ادب اس لئے کہ وہ علم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ استاذ کا ادب اس لئے کہ وہ علم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اگر ان کی بے ادبی کی تو بظاہر امتحان میں کامیاب ہوجائے، لیکن اس کے علم سے فائدہ نہیں ہوگا۔ علم سے فائدہ استاذ کے ادب سے ہوگا ۔     ٭…آپ نے علم کو حاصل کیا اور اس علم کو آگے چلایا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے علم کی خدمت لی گئی۔ آج ہماری مجلسیں اگر گرم ہوتیں ہیں تو استاذ کی غیبت اور تبصرے سے ہوتی ہیں۔ اور جس مدرسہ اور جامعہ میں ہم پڑھتے ہیں تو اس سے خیر خواہی ہمارا ملی اور دینی فریضہ ہے۔ اگر ہم اس سے خیر خواہی نہ کریں تو ہم سے بڑا دغاباز، نمک حرام کوئی نہیں ہوگا۔اور جو کتاب آپ کو اس مدرسہ سے ملے اس کی حفاظت کریںاور اپنی کتاب سے بڑھ کر حفاظت کریںاور اس کو اس طرح رکھیں کہ بعد والا بھی اس کو استعمال کر سکے۔     ٭…اسلام بہت آسان ہے، آپ چاہیںتو اس میں بہت نیکیاں کما سکتے ہیں، روشن دان ہواء کے لئے بنوائیں تو مفید ہے، لیکن اذان کے لئے نیت کرلیں اور بنوالیں تو ثواب ہوگا۔ غذا کھائیں تاکہ پیٹ بھرے تو مفید ہے، لیکن حصول علم میں تقویت کے لئے نیت کرلیں تو ثواب ہوگا۔ طالب علم مجاہد وغازی ہے اور وہ جہاد میں ہوتا ہے جب تک لوٹ نہ جائے۔ تو اس میدان میں محنت کریں اور جو خزانے یہاں موجود ہیں ان کو حاصل کریں، تاکہ آپ کو فائدہ ہو۔ دل کے اندر سے بغض، حسد، کینہ نکال دیں۔ یہ بری صفات علم سے نور نکال کر بے نور کردیتی ہیں۔ بے نور ہونا الگ بات ہے اور بدشکل ہونا الگ بات ہے۔ اور کینہ والے کے لئے مغفرت کی عام رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی۔ اپنے اندر سے اخلاق رذیلہ کو نکال دیں۔ اور آپ نے سنا ہے کہ جس گھر میں کتاہو اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، اسی طرح جس دل میں دنیا کی محبت کا کتا ہو، اخلاق رذیلہ ہوں، وہاں اللہ کی رحمت نہیں آتی، اور علم نہیں آتا۔اپنے ساتھیوں سے ایثار کرنے والے بنیں اور اپنے ساتھیوں سے اچھا سلوک کریں اور اپنے ساتھیوں کی قیمتی چیزوں کو دیکھ کر ان کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، اور اس کا خیال بھی دل میں نہ لائیں، بلکہ اپنے سے اچھا پڑھنے والے کو دیکھیں،صف اول کے اہتمام کرنے والے کو دیکھیں۔ دنیا کے معاملات میں اپنے سے کمتر کو دیکھیں اور دین کے معاملے میں اپنے سے اچھے کو دیکھیں تو آپ سکون سے رہیںگے۔     ٭… دعاؤں کا اہتمام کریں اور یہ دعا کریں کہ اے اللہ! ہمارے علم کو نافع بنا اور ان کے لئے خیر کی دعائیں کریں جو آپ کے علم کا ذریعہ بنے ہیں اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں واساتذہ کے لئے غائبانہ دعائیں کریں۔     ٭… جو بات سمجھ میں نہ آئے، اس کو بغیر سمجھے آگے نہ بڑھئے اور اس کو پوچھ لیں اور بار بار پوچھ لیں اور اگر نہیں آتا ہوگا تو مجھے یہ کہنے میں عار نہیں ہوگا کہ مجھے نہیں آتا اور آپ بزاخفش کی طرح سر نہ ہلائیں۔اگر آپ کو سمجھ نہ آیا اور آپ نے کہا ہاں! سمجھ میں آگیا تو دو نقصان ہوںگے:۱…کتاب سمجھ میں نہیں آئے گی۔ ۲…آپ جھوٹ بولنے والے بن جائیںگے۔     ٭…ائمہ کرام کا جو اختلاف ہے وہ ان کے استدلال کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہے اور ان حضرات نے اپنے اجتہاد سے نکالا ہے اور ہرایک کا اجتہاد اخلاص پر مبنی تھا اور ہم اپنے مذہب کے بارے میں کہیں گے: ’’مذہبنا حق ویحتمل الغلط‘‘ اور ان کے مذہب کے بارے میں کہیں گے کہ ’’مذہبہ غلط ویحتمل الحق‘‘ ہم اپنے مذہب کو حق سمجھیں، لیکن دوسرے ائمہ کے مذہب کو طعن وتشنیع کا نشانہ نہ بنائیں اور ان کی توہین وتنقیص نہ کریں۔     ٭…انسان کی قیمت کوئی چیز ادا نہیں کرسکتی اور مال کی انسان سے کوئی مناسبت نہیں، ایک بیٹے کو اس کے باپ کے قتل ہوجانے پر لاکھوں روپے بھی باپ کی شفقت نہیں دلا سکتے اور ایک بیوی کو خاوند کے قتل پر کئی لاکھ روپے مل جائیں ،وہ شوہر کا پیار نہیں لاسکتے۔     ٭…حضرت علیؓ نے ایک شخص کو اپنے بیٹے سے اس کی بیٹی کے نکاح کے بارے میں ارشاد فرمایا، اس نے کہا کہ میں مشورہ کرکے آتا ہوں۔ وہ باہر نکلا تو پھر ایک دوست راستے میں مل گیا،اس نے اس کو مسئلہ بتایا کہ یہ بات ہے۔ اس نے کہا کہ تم ان کے نکاح میں مت دو، یہ سید لوگ ہیں، تمہاری بیٹی کو نوکر کی طرح رکھیںگے۔ تو وہ سوچ میں پڑگیا اور کہنے لگا کہ واقعی میں نہیں دیتا۔ اس دوست نے کہا کہ میرا بیٹا ہے، تم اس کو اپنی بیٹی دے دو۔ وہ رضامند ہوگیا اور دونوں نے راستے میں رشتہ بھی طے کردیا۔ اب وہ دوسرا آدمی مسجد میں آیا اور حضرت علیؓ سے کہنے لگا کہ میں اپنی بیٹی آپ کے بیٹے کے نکاح میں دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے میں نے کسی اور سے بات کرلی ہے، وہ کہنے لگا کہ ابھی وہ میرے بیٹے سے اپنی بیٹی کا رشتہ کرواکر گیا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ: ٹھیک ہے اور اس کی بیٹی سے رشتہ کردیا، تو پہلا آدمی اتنی دیر میں آگیا، جب اس نے دیکھا کہ اس نے اپنی بیٹی کا رشتہ کروادیا ہے تو کہنے لگا کہ تم نے مجھ کو منع کیا اور خود رشتہ کروادیا، وہ دوسرا آدمی کہنے لگا کہ یہ رشتہ ایسا تھا جس کے آنے کے بعد سوچ وبچار کرنا بیوقوفی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس خاندان کا رشتہ کسی بے وقوف خاندان سے نہ ہوجائے۔     ٭…ایک اور واقعہ ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ جن کی عمر زیادہ ہوگئی تھی، انہوں نے اور ایک نوجوان نے ایک عورت کے گھر رشتہ کا پیغام بھیجا، آپ کو مسئلہ معلوم ہوگا کہ جب تک منگنی نہ ہوجائے تو دوسرا آدمی رشتہ بھیج سکتا ہے تو حضرت مغیرہؓ نے رشتہ کا پیغام بھیج دیا، لیکن ان کو اندازہ تھا کہ وہ عورت نوجوان کو منتخب کر لے گی۔ آپ اور وہ نوجوان دونوں اس عورت کے گھر پر آئے اور پردہ میں بیٹھ گئے۔ آپ نے پوچھا کہ گھر کا نظام کس طرح چلاتے ہو؟ اس نوجوان نے کہا کہ میں انتظامی آدمی ہوں، گھر کے ایک ایک انتظام کو دیکھتا ہوں اور جب سودا لے کر آتا ہوں تو حساب کرتا ہوں اور معلوم کرتا ہوں کہ کتنا استعمال ہوگیا، میں اس معاملے میں سخت ہوں، پھر اس نوجوان نے آپ سے گھر کے نظام کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ میں سیدھا سادہ آدمی ہوں، میں کیا اتنے انتظامات کروں، میں تو سودا لاتا ہوں اور گھر میں ڈال دیتا ہوں اور جب ختم ہوجاتا ہے تو یہ نہیں پو چھتا کہ (اتنی جلدی) ختم ہوگیا، بلکہ اور لے کر آجاتا ہوں۔ اس کے بعد یہ دونوں حضرات چلے گئے تو عورت کی طرف سے پیغام آیاکہ میں مغیرہ بن شعبہؓ سے نکاح کرنا چاہتی ہوں ۔ ان دونوں واقعات سے بتانا مقصود ہے کہ جب فوراً فیصلہ کرنا ہو اور کام بھی فائدہ کا ہو تو زیادہ مشوروں اور سوچ کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے۔     ٭…دورانِ سبق نظر عموماً سامنے رہتی ہے، دائیں بائیں کم دیکھنا ہوتا ہے، خصوصاً وہ حضرات جو کمرے سے باہر بیٹھے ہیں اور خصوصاً ان میں جو دیوار کی آڑ میں بیٹھے ہیں، تمام وہ جو میری نظر میں نہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ میں نہیں دیکھ رہا، بلکہ سمجھیں کہ کوئی دیکھ رہا ہے، میں مشہور واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں کہ حضرت عمرؓ رات کو گشت فرمارہے تھے تو ماں اور بیٹی کے مکالمے کی آواز آئی، تو بیٹی نے کہا کہ دودھ میں پانی نہ ملائیں، امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے منع کیا ہے۔ ماں نے کہا کہ عمر کہاں ہم کو دیکھ رہا ہے؟ تم ملادو!بیٹی نے کہا کہ عمر نہیں تو عمر کا خدا تو دیکھ رہاہے۔ اور آپ نے اگلے دن اس لڑکی سے اپنے بیٹے کا نکاح کروایا اور اسی کی اولاد سے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ پیدا ہوئے۔ تو میں نہیں دیکھ رہا تو اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ آپ کو مسؤلیت عند اللہ کا خیال ہونا چاہئے، آپ کو خیال ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سوال کرسکتے ہیں، اس وجہ سے سبق کے دوران آپ کو اس کا استحضار ہونا چاہئے۔     ٭…آج کے دور میں کیس دو طرح کے ہوتے ہیں: (۱)فوجداری کیس۔ (۲)دیوانی کیس۔     ۱:…فوجداری کیس وہ ہوتا ہے جس میں جرم ثابت ہوجانے پر جسمانی یا مالی سزا دی جاتی ہے۔     ۲:…دیوانی کیس وہ ہوتا ہے جس میں جرم ثابت ہوجانے پر کوئی سزا نہیں آتی، صرف متنازعہ شئے کو حقدار کے حوالے کردیا جاتا ہے۔     ٭…ایک دوست دوسرے کسی دوست کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا کہ کیا بتاؤں؟ بیٹا نافرمان ہوگیا، بیٹی اپنے آشنا کے ساتھ چلی گئی اور بیوی لڑ جھگڑ کر چلی گئی، اس نے کہا کہ کام کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا کہ قسمت کے حال بتا رہا ہوں، یعنی اپنی قسمت خراب ہے اور دوسروں کی قسمت بتا رہا ہوں۔     ٭…ایک وکیل صاحب کیس لڑرہے تھے اور جج صاحب ان کے خلاف فیصلہ کرنے والے تھے تو اس نے قانون کی کتاب لی اور اس میں مختلف صفحوں پر قائد اعظم رکھ دیئے، یعنی نوٹ رکھ دیئے اور جج کو کہا کہ جج صاحب! یہ قانون کی کتاب ہے، اس میں میرے دلائل موجود ہیں۔ جج صاحب نے کتاب اٹھائی اوران صفحوں کو دیکھا، جہاں پر نوٹ رکھے تھے اور پھر بولنے لگا کہ ابھی دو دلائل کم ہیں (یعنی دو نوٹ اور چاہئیں)     ٭…قرعہ اندازی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک قرعہ اندازی مستحقین میں استحقاق کے اثبات کے لئے ہوتی ہے اور یہ احناف کے نزدیک جائز نہیں اور ایک قرعہ اندازی مستحقین میں حق کو متعین کرنے کے لئے ہوتی ہے اور یہ احناف کے نزدیک جائز ہے۔ البتہ امام شافعیؒ کے نزدیک قرعہ اندازی کی پہلی صورت بھی جائز ہے۔     ٭…بعض ظاہر بین حضرات (یعنی غیر مقلدین) یہ مسئلہ غلط بیان کرتے ہیں کہ احناف کی کتاب ہدایہ ج:۴، ص:۴۵۲ پر لکھا ہے کہ غصب کرکے قربانی کرنا جائز ہے، حالانکہ احناف یہ نہیں کہتے کہ غصب کرو، بلکہ اب جس نے یہ کر لیا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس کو بیان کیا ہے، ورنہ غصب ہمارے نزدیک بھی حرام ہے، گناہ ہے، بلکہ جس نے غصب کیا، اب اس کی حیثیت بدل گئی ہے اور ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ جائز ہونا قضاء ً ہے، دیانۃً تو ہمارے نزدیک بھی جائز نہیں۔     ٭…چھینک پر اللہ کی بہت سی نعمتیں ہیں، ان میں سے ایک طرف چھینک آنے سے انسان کے دماغ میں تازگی حاصل ہوتی ہے اور نشاط پیدا ہوتا ہے اوردوسرا چھینک آنے پر چہرے کی کیفیت کیسی ہوتی ہے کہ بالکل بگڑجاتا ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس چہرے کو چھپائے اور ناک سے کچھ ذرے پانی کے آجاتے ہیں تو اس الحمد ﷲ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے کہ جس طرح چھینک آنے پر چہرہ بدلا ہے، اس کو ہمیشہ کے لئے ایسا کردے، لیکن ایسا نہیں کیا تو اس پر الحمد ﷲ کہا جائے۔ اب حدیث پر عمل کرنے کی نیت سے الحمد ﷲ کہا تو ایک ثواب اور اس نعمت کے استحضار پر الحمد ﷲ کہا تو پھر دوہرا اجر ہے۔ اسی وجہ سے کہا ہے کہ جب آدمی پانی پئے تو الحمد ﷲ کہے، کیونکہ جب الحمد ﷲ کہے گا تو یہ الحمد ﷲ بدن کے روئیں روئیں سے نکلے گا۔     ٭…جمائی کے دوران منہ کو حتیٰ الامکان بند کرے، منہ کو کھولے تو پھر اس کے اندر مکھی تو چھوڑیئے، ایک چڑیا بھی جاسکتی ہے ۔ شریعت نے انسان کو یہ احکامات اس کے فائدے کے لئے دیئے ہیں اور منہ کے سامنے ہاتھ رکھنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ منہ زیادہ نہ کھلے، ورنہ زیادہ منہ اگر کھل گیا تو پھر جبڑا اپنے مقام سے نکل کر نیچے بھی آسکتا ہے اور میں نے ایک آدمی کو دیکھا ہے کہ اس کا جبڑا زیادہ زور سے جمائی لینے کی وجہ سے نیچے آگیا تھا اور پھر ایک ڈاکٹر نے ہاتھ مار کر اُسے ٹھیک کیا۔ جمائی پر منہ بند کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ منہ میں گندگی نہیں جائے گی اور منہ کی بدبو ظاہر نہ ہوگی۔ شریعت نے انسان کے عیوب چھپانے کے مختلف طریقے بتائے ہیں۔     ٭…اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھئے کہ حلقوم گول پائپ ہے،جو سکڑتا بھی نہیں اور کھلتا بھی نہیں، کیونکہ اس میں سے ہوا گزرتی ہے، جبکہ کھانے کا پائپ ’’مریٔ‘‘ ہے جو سکڑتا بھی ہے اور کھلتا بھی ہے، کیونکہ اگر بڑا کھا نا آجائے ، بڑا لقمہ آجائے تو وہ اس میں جھٹکا دینے سے اتر جاتا ہے اور سانس (ہوا) کی نالی میں کوئی چیز چلی جائے تو انسان کو کھانسی آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے حلقوم ومرئ کو ایک ساتھ رکھا ہے،اگر سانس اور کھانے کی نالی ایک ہوتی تو انسان کھانا کھاتا اور اس کا سانس بند ہوجاتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں اور انسان پر اس کی نعمتیں ہے۔     ٭…خنزیر حرام ہے، اس کی وجۂ حرمت تو معلوم نہیں،لیکن شایدیہ وجہ ہوسکتی ہے کہ اس میں بے غیرتی ہے اور جو انسان اس کا گوشت کھائے گا تو وہ بھی اس کی طرح بے غیرت بن جائے گا، کیونکہ خنزیروں کے نَر کی پوری لائن ایک مادہ کے پیچھے لگی رہتی ہے اور وہ باری باری فارغ ہوتے ہیں تو آج امریکہ میں یہی ہورہا ہے کہ انسان بے غیرت بن گیا ہے۔ دار الافتاء میں ایک جرمنی کی عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچی تھی، اس نے اسلام قبول کیا، میں نے کلمہ پڑھایا اور جب اسلام لانے کا سرٹیکفکیٹ لکھا تو پھر میں نے پوچھا کہ شادی شدہ ہے؟ تو اس نے کہا کہ غیر شادی شدہ ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ بچی کس طرح؟ کہنے لگی: وہاں یہ کوئی معیوب بات نہیں، ایسا ہوتا رہتا ہے۔      ٭…عام طور پر عمر کے بڑھتے بڑھتے قویٰ میں کمزوری آجاتی ہے، تأثیر کم ہوجاتی ہے، شاید یہی عمل ہم نے نحو کے عامل کے ساتھ کیا ہے کہ عبارت پڑھتے ہیں تو وہ اپنا عمل نہیں دے پاتا، کیونکہ عامل بھی اتنے عرصے سے عمل دیتے دیتے بوڑھے ہو گئے ہیں، اب’’ فی‘‘ جر نہ دے ،فعل ‘فاعل کو نصب دے دے، وغیرہ۔ بھائی! ابھی ہم نے پڑھاہی کیا ہے؟ ابھی سے ہماری عبارتیں کمزور ہیں، ہم ان امور کا خیال رکھیں۔     ٭…ہم اس تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ اپنی باطنی تعلیم کی طرف بھی توجہ دیں، ہمیں صرف ظاہری طور پر حروف پر توجہ دے دینا کافی نہیں، جیساکہ ایک آدمی عبارت صحیح پڑھ لیتا ہے اور اس کو اس کے معافی معلوم نہیں تو اس کو فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح ہم اس علم کو ظاہری طور پر پڑھ لیں اور باطنی طور پر نہ ہو تو فائدہ نہیں۔ باطنی چیز اخلاق، کردار اور ہمارے اُٹھنے بیٹھنے سے معلوم ہو کہ ہم علوم نبویہ کے پڑھنے والے ہیں۔ہم علم پڑھ رہے ہوں، لیکن ہماری شکل وصورت اس کے مطابق نہ ہو تو پھر ہم کو اس علم کا کیا فائدہ؟ ہمارا صرف طوطے کی طرح علم پڑھنا کافی نہیں۔ طوطا مکلف نہیں ہم مکلف ہیں۔ ہمارا اُٹھنا بیٹھنا، کھانا، پینا، رہنا سہنا، وغیرہ ہر چیزمیں صفائی ستھرائی ہو، ہم ہر جگہ کے اعتبار سے طہارت کو دیکھیں، ہرکام میں سلیقہ ہو، ہر چیز کو صاف رکھیں۔ اور جہاں رکھنے کی چیز ہے وہاں رکھیں، ایک ناڑی دان کو اس کی جگہ پر نہ رکھنے سے بعد میں اس کو ڈھونڈنے کے لئے آدمی کتنا وقت لگائے گا؟ہر کام کو سلیقہ سے کرنے کے لئے ابھی سے کوشش کریں اور اس کو نخرے بازی نہ سمجھیں، جو لوگ صفائی وسلیقہ کااہتمام کرتے ہیں تو اس کو لوگ نخرے باز کہتے ہیں، یہ نخرہ بازی نہیں۔ تکبر تو دل میں ہوتا ہے، ظاہر میںصفائی وسلیقہ تکبر نہیں ہے۔ اور نمازوں کا اہتمام ہو اور صف اول میں ہوں ، یہ نہ ہو کہ صف اول میں دوسرے لوگ ہیں اورہم پچھلی صفوں میں ہوں۔صف اول پر ہمارا قبضہ ہواور پھر بیٹھ کر ذکر واذکار کرلیں۔ استغفار، درود شریف، اورفرشتوں کی تسبیح پڑھ لیں۔ اپنے کو ذکر کا عادی بنائیں۔ اپنے کو ایسا نہ بنائیں جس کی وجہ سے کسی کو حرف گیری کا موقع ملے۔ حضرت عالمگیر بادشاہؒ ہندوستان میں ایک عالم گزرے ہیں، وہ اپنے ہاتھوں سے قرآن شریف لکھ کر بیچا کرتے اور کمائی کرتے۔اب ہم نے جو روپ دھارا ہوا ہے، اس کی لاج رکھنی چاہئے اور اگر آپ کے کسی کام سے کوئی قابل اعتراض بات آئے گی تو آپ کی ذات پر نہیں آئے گی ، بلکہ سارے پڑھنے والوں پر آئے گی، سارے بنوری ٹاؤن والوں پر آئے گی۔ ابھی سے اپنے آپ کو درست کرنے کی توجہ کریں اور سنت پر ڈھالنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔     ٭…کھجور کے نکلنے سے لے کر پکنے تک کے دس نام ہیں، لیکن چار مشہور ہیں: ۱…بسر ۔ ۲…مذنب۔۳…رطب۔ ۴…تمر۔بسر کہتے ہیں کہ جو سخت اور پیلی رنگ کی ہوتی ہے، مذنب کہتے ہیں جو سخت ہوتی ہے ،لیکن پکی ہوتی ہے۔ رطب کہتے ہیں جو نرم اور پکی ہو جائے۔ تمر کہتے ہیں جو بالکل پک جائے ۔     ٭…ریشم وہ ہوتا ہے جو کیڑے سے ریشہ نکلتا ہے اور وہ بڑھتا رہتا ہے اور وہ کیڑا اس میں مرجاتا ہے تو اس کو اس سے نکال کر ریشم بنایا جاتا ہے، اس کو پہننے سے منع کیا ہے اور یہ حرام ہے، لیکن جو ریشم مصنوعی ہوتا ہے ،اس کو پہننے میں ممانعت نہیں ہے۔     ٭…مردوں کو چاندی کی انگوٹھی پہننے کی اجازت ہے، لیکن وہ ایک مثقال ساڑھے چار ماشے سے کم ہو اور پتھر، لوہے، تانبے وغیرہ کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، لیکن انگوٹھی کا نگینہ پتھر کا ہو تو اجازت ہے، لیکن انگوٹھی نگینہ ہاتھ کے پشت کی جانب نہ ہو، بلکہ ہتھیلی کی جانب ہو۔     ٭…چاندی کی انگوٹھی پر سونے کا پانی چڑھانا جائز ہے اور اس پر نام لکھوانا بھی جائز ہے، لیکن اگر اسمائے الٰہیہ یا متبرک اسماء ہوں تو پھر اس کو گندی جگہ یا بیت الخلاء وغیرہ میں پہن کر جانا جائز نہیں۔     ٭… مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا     مذکورہ شعر کے بارہ میں فرمایا:اس کے دو مطلب ہیں: پہلا مطلب یہ ہے کہ مکھی کو باغ میں جانے نہ دو، ورنہ وہ پھولوں سے شہد بنائے گی اور اس سے موم نکلے گا اور موم سے موم بتی بنے گی اور موم بتی سے پروانے کا قتل ہوگا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مگس سے مراد سرمہ کی سلائی ہے اور باغ سے مراد آنکھوں کی پلکوں کا باغ ہے، سلائی کو سرمہ دانی میں نہ ڈالو اور آنکھوں میں نہ لگاؤ،ورنہ سرمئی آنکھوں کو دیکھ کر کئی پروانے مرجائیںگے، یعنی عورت کی آنکھ کے سرمہ کو دیکھ کر مرد وں کاناحق خون ہوگا۔     ٭…شاہ ولی اللہؒ کے بیٹے حضرت شاہ عبد القادرؒ جنہوں نے قرآن کا ترجمہ اردو میں کیا ہے، بڑے صاحب کشف آدمی تھے، ان کا اردو ترجمہ اردو زبان کا پہلا ترجمہ ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے تھے کہ: اگر قرآن پاک اردو زبان میں نازل ہوتاتو شاہ صاحبؒ کے ترجمہ میں نازل ہوتا۔ رمضان میں تراویح ہوتی تو شاہ عبد العزیزؒ آدمی بھیجتے کہ وہ رمضان کی پہلی تراویح میں ایک پارہ پڑھتے ہیں یا دو پارے، کیونکہ صاحب کشف آدمی تھے تو دو پارے پڑھنا گویا رمضان کے ۲۹ روزے ہونے کی علامت تھی اور ایک پارہ پڑھنا رمضان کے ۳۰ روزے ہونے کی علامت تھی۔       ٭…وہ کھیل جس کے سبب جسمانی وذہنی طور پر فائدہ ہو اور فرائض متروک نہ ہوتے ہوں اور کسی کا حق ضائع نہ ہوتا ہو اور وہ کوئی پیشہ نہ ہو تو اس صورت میں وہ جائز ہے اور اگر یہ شرائط نہیں ہیں تو پھر جائز نہیں ہے۔ اب فٹ بال، والی بال، کرکٹ وغیرہ میں یہ دیکھا جائے اور خاص کر آج کل تو کرکٹ میں فرائض متروک ہو رہے ہیں اور وہ پیشہ بن گیا ہے تو پھر یہ کھیل جائز نہیں اور حدیث میں ہے: ’’من حسن إسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ‘‘ کے مطابق یہ کھیل لایعنی ہے، اس کھیل والوں کو پیشہ ور کھلاڑی کہا جاتا ہے اور یہ قوم کے ہیرو کہلاتے ہیں، حالانکہ یہ زیرو ہیں۔ اس کے علاوہ اسنوکر، ہاتھ سے فٹ بال، ویڈیو گیم، کیرم بورڈ وغیرہ کھیلنا بھی جائز نہیں۔ اور اس کے علامہ جس کھیل میں ذہنی وجسمانی ورزش ہے، وہ مباح کے طور پر جائز ہے، نہ کہ اس میں ثواب ہے۔ اور اگر ان کھیلوں میںشرط ہے تو پھر حرام ہوگا اور اگر شرط نہیں تو عبث ہے۔عبث اور لہو میں فرق ہے کہ عبث جس میں بالکل فائدہ نہ ہو، جبکہ لہو کہتے ہیں جس میں ذہنی فائدہ ہو، اسی وجہ سے شطرنج کھیلنے کو لہو کہا گیا ہے۔ ان کھیلنے والوں کو سلام کہا جائے یا نہیں؟ اس کے بارے میں حضرات صاحبین ؒ فرماتے ہیں کہ ان کو سلام نہ کیا جائے، تاکہ ان کو تنبیہ ہوجائے کہ ہماری اتنی بھی اہمیت نہ رہی، اس کھیل کی وجہ سے کہ سلام کیا جائے۔ اور حضرت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ان کو سلام کیا جائے، تاکہ ان پر شفقت ہو اور جتنی دیر وہ سلام کا جواب دیںگے اتنی دیر تو وہ غفلت سے دور رہیں گے۔(ہدایہ، ج:۴، ص: ۴۷۵)     ٭…اللہ نے انسان میں فطری طبیعت رکھی ہے اور فطری تقاضے میں جذبات وخواہشات کا پیدا ہونا ہے، اس کو پورا کرنے کے لئے اللہ نے نظام بھی بنایا ہے۔      ٭…بچوں کو سزا دینے میں اور سزاؤں کے تجویز کرنے میں پانی پتی صاحبان مجتہد کا درجہ رکھتے ہیں۔ زنجیروں سے باندھنا، بیڑیاں لگانا، کرسی بنانا وغیرہ نہ جانے کیا کیا اصطلاحات انہوں نے ایجاد کر رکھی ہیں۔حدیث میں ہے کہ اگر غلام کو سزا سے کم مارا تو قیامت میں بدلا نہیں لیا جائے گا اور اگر برابر دی تو حساب برابر رہے گا اور اگر زیادہ مارا تو پھر غلام کو آقا سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ شریعت نے غلام کو بظاہر انسانوں سے نکال کر حیوان کی طرح رکھا ہے ، لیکن اس کو حقوق دیئے ہیں، پھر بھی اس کے بارے میں یہ ارشاد وارد ہوا ہے ،تو وہ بچہ جو غلام نہیں، اس کو اس طرح مارنا کہاں جائز ہوگا؟ بغل میں دبا کراس پر دوسرے ہاتھ کی کہنیاں چلانا کتنا ظلم ہے!۔     ٭…تقسیم ہند سے پہلے مدارس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ دیہاتوں کے جو طلبہ عالم بن کر آتے تو اپنے علاقہ میں مدرسہ قائم کرتے اور وہ اپنا کام وغیرہ بھی کرتے اور طلبہ بھی ان کے ساتھ پڑھتے اور ان کا کام میں ہاتھ بٹاتے تھے۔     ٭…شریعت اسلامی کی سزائیں جن کو حدود کہا جاتا ہے، اس کے ذریعے کسی کو صرف سزا دینا مقصود نہیں ہے، بلکہ لوگوں کو عبرت دلانا مقصود ہے، تاکہ لوگ اس چیز سے بچ چائیں۔     ٭…روافض بہت ساری اشیاء کا انکار کرتے ہیں تو امام ابوحنیفہؒنے صرف مسح علی الخفین کو  اہل سنت کی علامت کیوں قراردیا؟ تو جواب یہ ہے کہ روافض کی کتب میں لکھا ہے کہ ہر چیز میں تقیہ جائز ہے، لیکن مسح علی الخفین میں تقیہ جائز نہیں تو وہ اس کا انکار کھل کرکرتے ہیں، بقیہ اشیاء کے انکار میں تو تقیہ کا شبہ ہے، اس لئے مسح علی الخفین اہل سنت کی علامتِ مخصوصہ ہے۔     ٭…ایک بادشاہ نے ایک وزیر سے پوچھا کہ تعلیم وتربیت غالب رہتی ہے یا فطرت؟ وزیر نے کہا کہ فطرت۔ بادشاہ نے کہا: نہیں! تربیت غالب رہتی ہے۔ وزیر خاموش ہوگیا، بادشاہ کے دربار  میں بلیاں اپنے ہاتھوں پر موم بتیاں لے کر کھڑی رہتی تھیں، جس کی روشنی میں دربار میں روشنی رہتی تھی، ایک دفعہ وہ بلیاں دربار میں موم بتیاں لئے کھڑی تھیںکہ وزیر چپکے سے چوہا لے آیا اور دربار میں چھوڑدیا، ساری بلیوں نے موم بتیاں پھینکیں اور چوہے کے پیچھے بھاگیں۔ وزیر نے بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سلامت ! بلیوں کی تعلیم موم بتیاں اٹھانا تھی، لیکن فطرت چوہا کھانے کی اس پر غالب آئی، اور انہوں نے موم بتیاں چھوڑ دیں، تو بادشاہ کی سمجھ میں بات آئی۔لیکن بعض مرتبہ تربیت کرنے والے فطرت کو بھی بدل دیتے ہیں، جیسے رسول اللہ ا نے صحابہ کرامؓ کی ایسی تربیت فرمائی کہ پہلے جو جان لینے والے تھے، جان دینے والے بن گئے، یہ مربی کا کام ہے، وہی اس طرح تربیت کرسکتا ہے۔     ٭…مجھے ایک آدمی نے ایک غیر مقلد کی تقریر کا جملہ سنایاتھا کہ تقلید قلادہ سے ہے اور اس کا معنی کتے کے گلے کا پٹا (تو ان لوگوں کے گلوں میں وہ پڑاہے) میں نے اس سے کہا: اگر قلادہ کا یہی معنی ہے تو اس سے کہہ دو کہ ہم کو یہ معنی بھی قبول ہے، کیونکہ اصول ہے کہ شہروں میں دو قسم کے کتے ہوتے ہیں، بعض کے گلے میں پٹا ہوتا ہے اور بعض آوارہ ہوتے ہیں اور ان کے گلے میں پٹا نہیں ہوتا۔وہ کتے جن کے گلے میں پٹا نہ ہو، بلدیہ والے ان کو زہر دے کر ماردیتے ہیں اور جس کے گلے میں پٹا ہو تو وہ اس کو کسی کا سمجھ کر نہیں مارتے تو ہمارے گلوں میں اگر امام ابو حنیفہؒ کی تقلید کا پٹا ہے تو پھر ہم شیطان جو بلدیہ والوں کی شکل میں ہے کہ حملے سے محفوظ ہیں، جبکہ یہ تو بغیر پٹوں کے ہیں تو شیطانی حملوں سے نہیں بچ سکیں گے اور جو کتاجتنا زیادہ موذی ہوتا ہے ،اس کواتنا زیادہ زہر دے کر مارتے ہیں۔     ٭…حضرت بنوریؒ ان لوگوں میں سے تھے جو صدقات کو واپس کردیا کرتے تھے۔ رمضان میں لوگ آتے اور دیتے تو آپ فرماتے کہ یہ لے جاؤ، ہمارے پاس بہت ہے، کسی دوسرے مدرسہ والے کو دے دو۔ اور جن سے تعلق ہوتا تو وہ اگر زکوٰۃ دیتے تو فرماتے کہ جب تک اس کے ساتھ غیر زکوٰۃ کی رقم نہیں دوگے تو یہ قبول نہیں کریںگے اور ان لوگوں سے فرماتے کہ تم ہم کو زکوٰۃ کی رقم دے کر احسان نہیں کرتے، بلکہ ہمارا شکر ادا کرو کہ ہم قبول کر لیتے ہیں۔ کراچی کے اس زمانے کے ۲۲؍اونچے خاندانوں میں سے ایک خاندان کے آدمی حضرت بنوریؒ کے ساتھ گھر کی طرف جارہے تھے تو آپؒ اچانک مڑے اور ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ اگر نہیں دوگے تو تم کو جوتے پڑیں گے۔ یہ ہم لوگوں کا احسان ہے کہ ہم قبول کر لیتے ہیں اور ان کو صحیح مصرف میں لگاتے ہیں، وہ آدمی کہتے ہیں: حضرت بنوریؒ کا ہاتھ ہل رہا تھا اور مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جوتے ابھی لگنے والے ہوں۔      حضرت مولانا فضل محمد سواتیؒ جو ہمارے ابو داؤد و مشکوٰۃ ثانی کے استاذ ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت بنوریؒ کے پاس بیٹھا تھا تو فون آیا، آپ نے فرمایا کہ ہمارے پاس آدمی نہیں ہے، آپ لاسکتے ہیں تو لے آئیں اور فون رکھ دیا۔ میں نے پوچھا کہ کس کا فون تھا؟ کہنے لگے کہ ایک صاحب کا تھا، کہہ رہے تھے کہ میرے پاس غیر زکوٰۃ کے ۲۵؍ پچیس ہزار روپے ہیں، کسی آدمی کو بھیج کر منگوا لیں۔ میں نے کہا کہ حضرت! آج کل ویسے بھی غیر زکوٰۃ کی رقم کی ضرورت ہے، اگر منگوا لیتے تو فائدہ ہوجاتا۔ فرمایا کہ اگر ہمارے مقدر میں ہوگا تو خود آجائے گا اور نہیں ہوگا تو آدمی کے بھیجنے سے بھی نہیں ملے گا۔ وفارقتک برہن لافکاک لہ یوم الوداع فأمسٰی الرہن قد غلقا     ٭… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ولکم فی القصاص حیٰوۃ‘‘ تو اس میں حیات اس طرح ہے کہ جب قاتل کو معلوم چلے گا کہ مجھ کو بھی قتل کے بدلے قصاص میں قتل کیا جائے گا تو وہ قتل کرنے سے باز آجائے گا جس سے دونوں کو حیات ملے گی، ورنہ تو دونوں مارے جائیںگے اور اس طرح بھی حیات ہے کہ جب قاتل کو مقتول کے بدلے قصاصاً قتل کیا گیا تو پھر دونوں خاندان سکون میں آجائیںگے اور پھر اس سے دونوں طرح حیات ہوگی، ورنہ دونوں میں جھگڑا شروع ہوگیا تو بہت سے مارے جائیںگے اور قاتل کو اگر قتل نہ کیا تو وہ اور دوسروں کو قتل کردے گا، جس سے وہ لوگوں کے قتل ہونے کا سبب بنے گا تو اس کو قتل کرنے کے بعد وہ لوگ اس کے قتل سے بچ کر حیات پالیں گے۔     ٭…حضرت ابو بکر صدیقؓ سے ان کے بیٹے حضرت عبد الرحمنؓ نے اسلام لانے کے بعد کہا کہ اباجان ! اسلام لانے سے پہلے بدر کی جنگ میں آپ میرے وار میں کئی مرتبہ آئے، لیکن میں نے باپ سمجھ کر وارنہیں کیا اور چھوڑ دیا۔ آپ ؓ نے فرمایا کہ: اگر تم میرے وار میں آتے تو میں تم پر وار ضرور کرتا، کیونکہ تم کافر تھے (اور رسول اللہ ا کے خلاف لڑرہے تھے) اس زمانے میں جنگ قومیت یا لسانیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اسلام کی بنیاد پر تھی اور آج یہاں لڑنا قومیت، عصبیت ، لسانیت کی بنیادپر ہوتا ہے۔     ٭…شریعت نے تو ڈاڑھی کو منفعتِ جمال بتایا ہے، لیکن آج کہتے ہیں کہ ڈاڑھی میں جمال نہیں ہے۔ حضرت قاری محمد طیبؒ ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ آج مغربی تہذیب نے ہر چیز کو الٹا کردیا ہے، پہلے کہتے تھے چراغ تلے اندھیرا اور آج کہتے ہیں بلب کے اوپر اندھیرا، اسی طرح ڈاڑھی کا حال ہے، پہلے یہ جمال کہلاتی تھی اور آج بدصورتی کہلاتی ہے،العیاذ باﷲ۔ میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی مجلس میں بزرگ سے کہ حضرت!دعا فرمائیں میرا بیٹا ٹھیک ہوجائے، انہوں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ کہنے لگی کہ ابھی جوان ہے اور اس نے ڈاڑھی رکھ لی ہے۔ میں نے یہ اپنے کانوں سے سناہے، آج ذہن ہی الٹا ہوگیا ہے۔     ٭…آپس میں لڑنا تہذیب اور ثقافت کے خلاف عمل ہے اور یہ ممنوع فعل ہے، لیکن جب اس کو غیروں نے اپنایا اور باکسنگ شروع ہوئی تو پھراسی کو تہذیب اور ثقافت کہا جارہا ہے ۔ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ ایک دوسرے کو زخمی کردیا جائے۔ دو گدھے ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں اور سارے لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر ان کو دیکھ رہے ہیں۔     ٭…جس مسئلہ میں صحابہ کرامؓ کا اختلاف ہو، اس میں ایک کے مسلک کو حق اور دوسرے کو باطل نہیں کہہ سکتے، کیونکہ دونوں حق پر تھے، ان میں صرف ترجیح دے سکتے ہیں۔ اسی ضمن میں یہ بھی سمجھ لیں کہ سماع موتیٰ کے مسئلہ میں صحابہ کرامؓ کے زمانے سے اختلاف رہا ہے تو اس میں تشدد کرنا اور دوسرے کو گمراہ اور باطل قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس میں نسبت اوپر تک جائے گی اور صحابہ کرامؓ کی بے ادبی لازم آتی ہے، ان کی گستاخی لازم آتی ہے اور صحابہ کرامؓ کی گستاخی سلب ایمان کا سبب بن جاتی ہے، لہٰذا اس طرح کے مسائل میں زیادہ تشدد نہ کریں۔     ٭… اصل غنائ‘ نفس کا غناء ہے، آدمی کے پاس کچھ نہ ہو اور اس میں استغناء ہو تو یہ مالدار ہے اور جس میں استغناء نہ ہو اور مال بہت ہو تو وہ گداگر ہی ہے اور مانگنے کی عادت بہت بری ہے۔ ناراض نہ ہوں، میں کہتا ہوں کہ وہ مہتمم حضرات جو مدارس کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیتے ہیں، وہ بھی ان گداگروں سے کم نہیں ہیں، ان الفاظ کو غور سے سنیں اور سمجھیں اور ان لوگوں کے بارے میں رسول اللہ ا کا وہ فرمان پورا صادق آتا ہے: ’’إن اﷲ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر‘‘ اللہ تعالیٰ نفس کا غناء عطا فرمائے، آمین۔ ہمارے حضرت بنوریؒ کے استغناء کی برکت سے یہ مدرسہ چل رہا ہے اور آج بھی اس کا کوئی سفیر نہیں، قربانی کوئی دیتا ہے اور کھاتا کوئی ہے۔ حضرت بنوریؒ نے قربانی دی ہے اور ہم کھا رہے ہیں، ہم کہاں ان جیسی قربانی دے سکتے ہیں؟۔     ٭…ہم نے ہدایہ رابع مولانا بدیع الزمانؒ سے پڑھی ۔۱۹۷۱ء ۱۳۹۱ھ میں دورہ کیا، یہاں سادسہ میں آیا۔     ٭…استیجار علی القرآن تو جائز ہے، لیکن اپنے کو دوسروں کے گھروں پر جاکر بے عزت کرنا جائز نہیں ہے، ہاں جو بہت مجبور ہیں، ان کے لئے مجبوری کی صورت میں جائز ہے۔     ٭…مسجد کسی جگہ پر بنادی جائے اور وہاں پر نماز شروع کروادی جائے اور لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر اس کو گرانے کی اجازت نہیں۔ آج ہمارے ہاں مساجد گرائی جارہی ہیں، اگر ہندو مساجد گرائیں تو ہم جلسے جلوس کرتے ہیں اور ریلیاں نکالتے ہیں، لیکن جب ہم خود گرائیں گے تو پھر کل ہم ہندؤں کو کس منہ سے کہیں گے کہ مساجد نہ گراؤ؟۔     ٭…ایک وقت تھا کہ کتاب شروع ہو رہی تھی اور سال گزر گیا اور کتاب ختم ہوگئی ،ظاہری حالات کے اعتبار سے تقریباً ۱۰ ماہ آپ کی رفاقت حاصل رہی۔ اس میں اپنے طور پر اور انسانی کوشش کے طور پر اس بات کی کوشش رہی کہ آپ کو کتاب سے متعلق سمجھاؤں، ہوسکتا ہے کہ میں اس میں کامیاب رہا ہوں، اسی میں بعض اوقات ایسا ہوا کہ کسی کے ساتھ ایسے معاملات کئے کہ وہ سمجھیں کہ میری عزت نفس کے خلاف کیا ہے، ایسا نہیں ، اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو معذرت کرتا ہوں ۔میں آپ سے امید رکھتا ہوں کہ اب جو ظاہری تفریق ہو رہی ہے تو وہ ذہنی اور قلبی نہیں ہوگی، بلکہ صرف جسمانی ہوگی ۔ذہنی وقلبی تفریق نہ ہونے کی صورت یہ ہے کہ آپ اور میں ایک دوسرے کو دعاؤں میں یاد رکھیں: ہمارا خون بھی داخل ہے تزئین گلستاں میں ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے     آپ اور میں جہاں ہوں، ایک دوسرے کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ آئندہ کی زندگی ایک دشوار گذار زندگی ہوگی اور طالب علمی کی زندگی ایک لاابالی زندگی ہوتی ہے۔ ہمیں جب اپنی طالب علمی کی زندگی یاد آتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ وہ برقرار رہتی، لیکن حالات کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے، آج اگر ذمہ داریاں نہ آتیں تو یہ دنیا کی مختلف رنگ وبو نہ ہوتیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ’’واختلاف اللیل والنہار‘‘ فرمایاہے، اگر رات کی تاریکیاں نہ ہوتیں تو مشکل ہوتی، حالات کے تغیرات آتے ہیں اور عقل مند وہ ہے جو ان کے آنے سے پہلے ان کی تیاری کرلے تو آئندہ حالات میں تغیر آنے والا ہے، انسان کو کہا ہے کہ آخرت کی تیاری کرنی ہے، کیونکہ آگے حالات میں تغیرات آنے والے ہیں۔ آگے والے حالات اس سے علیحدہ ہیں، تو ان کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔ہم بھی اپنی عملی زندگی کی تیاری کریں، ہم آپ جب باہر نکلیںگے تو بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑے گا، جو صرف آپ کے دوست اور دشمن کے نہیں ہوںگے، بلکہ آپ کے مخالف بھی ہوسکتے ہیں اور آپ سے بڑے بھی ہوسکتے ہیں، تو عملی زندگی کی تیاری ابھی سے کرنا شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، ہم سب کو عافیت سے رکھے اور عملی زندگی اچھی کردے ، آمین۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے