بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

حج مبرور کی علامت!

حج مبرور کی علامت!

 

الحمد للّٰہ وسلام علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

انسان ہو یا حیوان، شجر ہو یا حجر، جمادات ہوں یا نباتات، عبادات ہوں یا مطلق اعمال، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر ایک کی ہیئت، صورت اور ظاہری شکل بنائی ہے اور ایک اس کا باطنی وجود وروح اس میں مقرر کی ہے۔ اور ان دونوں کے ملاپ سے چیز وجود میں آتی اور برقرار رہتی ہے۔ اگر ان میں سے ایک ہو اور دوسری نہ ہو تو وہ چیز نہ وجود میں آتی ہے اور نہ ہی اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔ مثلاً : عالم ارواح میں انسان کی روح تھی، لیکن جسم نہ تھا، اس لیے خالی روح کو کسی نے انسان نہیں کہا۔ عالم دنیا میں جب انسان بچہ کی صورت میں پیدا ہوا تو روح اور جسم سے مرکب تھا، لیکن انسانی وجود سے روح جیسے ہی خارج ہوئی تو اب وہ انسانی ڈھانچہ، میت یا لاش تو کہلایا، کسی نے اس کو کامل اور مکمل انسان نہیں کہا۔ یہی حال اعمال کا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان اعمال کی ایک ہیئت وصورت اور شکل بنائی ہے اور ایک اس میں روح رکھی ہے، مثلاً: نماز‘ قیام، رکوع، سجود اور تشہد پر مشتمل ہے، یہ نماز کی ظاہری صورت اور شکل ہے اور مسلمان نماز صرف اپنے خالق ومالک اور اپنے معبود برحق کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہی پڑھتا ہے، یہ اس کی روح اور حقیقت ہے۔ روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد، علم، حتیٰ کہ ایک ایک عمل میں یہی دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور عمل کو مقبولیت کے درجہ تک پہنچاتی ہیں، جیسا کہ نماز کی ظاہری ہیئت وشکل کے بارہ میں آپ a نے ارشاد فرمایا: ’’صلوا کما رأیتمونی أصلی‘‘۔ (بخاری،ج:۲،ص:۸۸۸) ۔۔۔۔۔ ’’نماز اسی طرح ادا کرو جس طرح مجھے نماز پڑھتا دیکھتے ہو‘‘۔ یعنی نماز پڑھنے کا طریقہ اور انداز بھی وہی ہونا چاہیے جو آپ a نے اپنایا اور اختیار کیا۔ اس طریقہ میں جان بوجھ کر تبدیلی کی گئی یا عدم توجہی اختیار کی گئی تو وہ نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ نہیں پاسکے گی، جیسا کہ ایک صحابی ؓ مسجد نبوی میں تشریف لائے اور اپنے انداز میں نماز پڑھی، آپ a نے اُسے فرمایا: ’’ارجع فصل فإنک لم تصل۔‘‘ (بخاری،ج:۱،ص:۱۰۹،طبع:قدیمی) ۔۔۔۔۔۔ ’’جاؤ! نماز پڑھو، تم نے صحیح طریقے سے نماز ادا نہیں کی۔‘‘ گویا نماز کی شکل وصورت کا لحاظ از حد ضروری ہے۔ اسی طرح نماز صرف اور صرف اپنے رب کی رضا کے حصول اور اس کی خوشنودی کے لیے پڑھنا چاہیے، اس میں ریا، دکھاوا اور کوئی غلط نیت نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کہ آپ a کا ارشاد ہے: ’’من صلّٰی یرائی فقد أشرک۔‘‘ (مشکوٰۃ، ص:۴۵۵) ۔۔۔۔۔۔۔ ’’جس نے ریاکاری کے طور پر نماز ادا کی، اس نے شرک کیا ‘‘۔اور دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اُسے کہا جائے گا کہ جس کے لیے تم نے نماز پڑھی تھی، اس کا ثواب بھی اسی سے وصول کرو۔ اسی طرح حج کی بھی ایک ظاہری شکل ہے کہ حاجی محرم ہو، مرد ہے تو احرام کی علامت دو چادروں میں لپٹا ہو، زبان پر تلبیہ کا ترانہ، بیت اللہ کا طواف، حجر اسود کا استلام، طواف کے بعد مقامِ ابراہیم کے پاس دوگانہ واجب الطواف، پھر استلام کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی اور دعائیں ہوں، آٹھ ذوالحجہ سے نو ذوالحجہ کی صبح تک منیٰ میں قیام اور پانچ نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام ہو، نو ذوالحجہ زوال سے مغرب تک عرفات میں وقوف ہو، غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ کی طرف کوچ ہو، مغرب وعشا کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا دھیان اور فکر ہو۔ دس ذوالحجہ کی صبح کو سورج نکلنے سے پہلے منیٰ کی طرف روانگی، پھر جمرہ عقبہ کی رمی، قربانی، حلق، طوافِ زیارت، طوافِ وداع۔ یہ سب اعمال حج کی شکل اور صورت ہیں اور اس شکل وصورت کاہر لحاظ سے خیال رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ان افعال واعمال کو کرنا جس طرح آپ a اور صحابہ کرام s نے کیا ہے، انہیں ایام میں کرناجو اس کے لیے مخصوص ہیں، اسی ترتیب سے کرنا جس ترتیب پر آپ a نے کیا ہے اور انہی مقامات: بیت اللہ، صفا، مروہ، منیٰ، عرفات، مزدلفہ پر ان کو کرنا حج کہلاتا ہے، جیسا کہ آپ a نے حجۃ الوداع کے موقع پر انہیں مقامات اور انہیں ایام میں حج کے افعال واعمال کرکے بتلایا اور فرمایا تھا: ’’لتأخذوا مناسککم۔‘‘ (مشکوٰۃ،ص:۲۳۰) ۔۔۔۔۔ ’’کہ مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔‘‘اسی طرح حج کی ایک روح بھی ہے اور اس کی رعایت کرنا بھی انتہائی ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَلِلّٰہِ عَلٰی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ‘‘۔                                                         (آل عمران:۹۷) ترجمہ:’’اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا اس گھر کا جو شخص قدرت رکھتا ہو اس کی طرف چلنے کی اور جو نہ مانے تو پھر اللہ پرواہ نہیں رکھتاجہاں کے لوگوں کی‘‘۔ حضور اکرم a کا ارشاد ہے: ’’من حج للّٰہ فلم یرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ أمہ۔ ‘‘(مشکوٰۃ،ص:۲۲۱) ترجمہ:’’جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے حج کیا اور کوئی بے ہودگی اور گناہ کا کام نہیں کیا تو وہ اس دن کی طرح لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے جنا ‘‘۔ اسی طرح جب حج کی ظاہری شکل وصورت کا بھی خیال رکھا جائے اور اس کی روح کو بھی اپنایا جائے تو ایسا حج ‘ حج مبرور کہلاتا ہے، جس کا ثواب جنت ہے، جیسا کہ آپ a نے ارشاد فرمایا:  ’’العمرۃ من العمرۃ کفارۃ لما بینہما والحج المبرور لیس لہٗ جزاء إلا الجنۃ ‘‘۔ (مشکوٰۃ،ص:۲۲۱) ترجمہ:’’عمرہ کے بعد عمرہ کرنا دونوں کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘  یعنی حج مبرور کرنے والے کے صرف گناہ معاف نہیں ہوتے، بلکہ بلاحساب وکتاب اُسے جنت کا داخلہ نصیب ہوجاتا ہے، اس لیے صحابہ کرام s جمرات کرتے ہوئے یہ دعائیں کرتے تھے: ’’أللّٰہم اجعلہ حجًّا مبرورًا وذنبًا مغفورًا۔‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقی،ج:۵،ص:۲۱۱، طبع:دارالکتب العلمیۃ بیروت) ۔۔۔۔۔ ’’اے اللہ! ہمارے حج کو حج مبرور بنادے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے۔‘‘ حج مبرور کیسے بنے گا؟ اس کی کیا علامات ہیں؟ اس بارہ میں علمائے کرام کے کئی اقوال ہیں: ۱:…حج مبروروہ حج ہے جس میں حج کے مسائل اور اس کے مناسک پر پورے طور سے عمل ہوا ہو، مکمل طور پر اُسے ادا کیا گیا ہو، یہ اسی وقت ہوگا جب حج کی ادائیگی شریعت اور سنت کی روشنی میں ہوگی، اپنی من مانی اور رخصتوں کو، گنجائشوں کو تلاش کرکے خلافِ سنت نہ کیا گیا ہو، نہ دم اور صدقہ واجبہ سے تلافی کی گئی ہو، چنانچہ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں: ’’الحج الذی وفیت أحکامہ ووقع موقعًا‘‘۔(فتح الباری، ج:۳،ص:۲۹۸) ۲:… حج مبرور وہ حج ہے جس میں ریا اور شہرت نہ ہو: ’’الذی لاریاء ولا سمعۃ فیہ‘‘۔ (شرح لباب، ص:۲۹، مرعاۃ، ص:۹۶)یعنی حج میں یہ ذہن میں نہ ہو کہ لوگ جان لیں، تاکہ مجھ کو اچھا سمجھیں، لوگوں کو معلوم اور ظاہر ہوجائے کہ میں حج کی سعادت حاصل کررہا ہوں، لوگ میرے معتقد ہوجائیں، مجھے حاجی کہیں۔ اس سے آج کل عوام کا بچنا مشکل ہورہا ہے۔ ایسی بات اختیار کرتے ہیں جس سے ریا اور شہرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لوگوں میں اعلانِ اشتہار ہوتا ہے، ایک بھیڑ جمع کی جاتی ہے۔ روانگی اور واپسی میں جشن منایا جاتا ہے، اسٹیج پر کرسی پر بیٹھ کر مجمع میں حج کے واقعات اور اپنا کارنامہ بیان کیا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں میں تعریف حاصل کرنا ہوتا ہے، پس ایسا حج‘ حج مبرور کی صفت سے خالی ہے۔ روانگی کے وقت گھروں پر اور ائیرپورٹ پر جشن کی شکل دیکھئے! تب اندازہ ہوگا۔ ۳:… حج مبرور وہ ہے جو قبول ہوجائے: الحج المبرور المقبول۔ (فتح الباری،ج:۳، ص:۲۹۸) ظاہر ہے کہ حج میں مقبولیت کی شان اسی وقت پیدا ہوگی جب اس میں حرام یا ملاجلامال یا مشتبہ مال نہ لگایا ہو، خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو، تقویٰ، خوف خدا، شریعت اور سنت کے طریقہ پر کیا گیا ہو۔ ۴:…حج مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ شامل نہ ہو: ’’الحج المبرور الذی لایخالطہ شیء من المأثم‘‘ (عمدۃ،ج:۹،ص: ۱۳۳، شرح لباب، ص:۲۹) یعنی حج کے امور میں سے کوئی بات ایسی نہ ہوئی ہو،جس کی تلافی دم یا صدقہ واجبہ سے کی گئی ہو یا یہ کہ حج میں عام گناہ، جیسے: بدنگاہی، بے پردگی، غیبت، ایذا رسانی، جھگڑا، وغیرہ جو گناہ غفلت اور نفس کی وجہ سے ہوجاتے ہیں، وہ نہ ہوئے ہوں، یہ بھی بڑی ہمت اور عزیمت کی بات ہے۔ عموماً عورتیں بے پردگی بہت کرتی ہیں، جس کی وجہ سے حج مبرور کی فضیلت سے محروم ہوجاتی ہیں۔ ۵:…حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد گناہوں سے بچتا ہو، گناہوں کا ارتکاب نہ ہوتا ہو، یعنی پہلے کے مقابلہ میں اس میں احتیاط پیدا ہوگئی ہو، چونکہ گناہ کی سزا مواخذہ اور مبرور کی جزا جنت دونوں میں تضاد ہے:’’الذی لایعقبہ معصیۃ ‘‘۔(ابن ماجہ،کتاب الحج،ج:۲،ص:۹۶۴،طبع: دارالفکر،بیروت) ۶:… حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد اس کے حالات پہلے سے بہتر ہوگئے ہوں، تقویٰ اور نیکی کے امور میں زیادتی ہوگئی ہو۔(معارف، ص:۲۳۲)اعمال حسنہ اور ذکر وعبادت وغیرہ پہلے سے زائد ہورہے ہوں، آخرت کے اعمال میں زیادتی ہو: ’’من علامات القبول أنہ إذا رجع یکون حالہ خیرًا ماکان‘‘۔(معارف،ج:۲،ص:۲۳۲) ۷:… حج مبرور وہ ہے جس میں حج کے بعد دنیا سے زہد، بے پرواہی اور آخرت کی جانب رغبت ہو: ’’أن یرجع زاہدًا فی الدنیا راغبًا فی الآخرۃ‘‘۔ (القریٰ،ص:۳۴، شرح لباب، ص:۳۰) پس جو حجاج کرام ان تمام باتوں کی رعایت کریں گے اور جن میں یہ باتیں پائی جائیں گی، وہ حج مبرور کے مستحق ہوں گے۔ حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے حج کو حج مبرور بنانے کی کوشش فرمائیں۔ حجاج کرام کے پیش نظر رہے کہ حج میں توحید اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا مظاہرہ ہے، اس میں اپنے نفس اور خواہش کو بالکل آڑے نہ آنے دیں۔ اسی طرح سفر حج سفرِآخرت کا نمونہ بھی ہے، جیسے مرنے والا کفن میں لپٹا ہوا بے یارومددگار پڑا ہوتا ہے اور دوسروں کے رحم وکرم پر ہوتا ہے، اسی طرح حاجی کو بھی چاہیے کہ احرام پہن لینے کے بعد اب اپنی مرضی، اپنی چاہت سب کچھ ختم کرکے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہوجائے۔ حاجی کو سوچنا چاہیے کہ جن مقاماتِ مقدسہ میں جارہا ہے، یہ وہ تمام مقامات ہیں جہاں انبیاء کرام o ، صحابہ کرامs، اولیائے عظام، علمائ، صلحائ، اتقیاء اور بزرگانِ دین w تشریف لائے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ِبیکراں اور فیوضِ غیر متناہیہ کا افاضہ ہوا تھا، امید ہے کہ جب حاجی ان کا اتباع کرے گا اور ان افعال کو ٹھیک ٹھیک ادا کرے گا تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوگا۔ حج ایک امتحان بھی ہے، جو سچے عاشق ہوتے ہیں وہ تکالیف اور مصائب کی پرواہ نہیں کرتے، وہ سب کچھ اپنے محبوب کی رضا اور خوشنودی کے لیے برداشت کرتے ہیں۔حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ نیت کریں کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے ہی حج کررہا ہوں۔ ریا، نمود ونمائش اور شہرت میرا مطلوب ومقصود نہیں اور نہ ہی حج کے نام پر سیر وسیاحت، تفریح اور آب وہوا کی تبدیلی کے لیے حج کا سفر اختیار کیا ہے۔علمائے کرام اور بزرگانِ دین نے حجاج کرام کے لیے جو نصائح اور ہدایات تلقین کی ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصراً اُنہیں یہاں نقل کردیا جائے: ’’۱:… آدمی کو چاہیے کہ روانگی سے قبل اپنے ملنے والوں سے معافی تلافی کرالے، تاکہ اگر سفر میں موت آجائے تو معاملہ صاف ہو۔ ۲:… روانگی سے قبل دو رکعت نفل ادا کرے اور دل میں تصور ہو کہ یہ نمازِ استغفار پڑھ رہا ہوں۔ ۳:… پھر نفل ادا کرنے کے بعد مراقبہ کرے، آنکھ بند کرکے دل میں سن بلوغ سے آج تک گناہوں کا تصور کرے اور ساتھ ہی اپنی ذلت، رسوائی اور اللہ کی عزت وعظمت کا تصور کرے، پھر اپنے گناہوں پر پشیمانی کا تصور کرے، پھر دعا مانگے کہ کہ یا اللہ! میں آئندہ کوئی گناہ نہ کروں گا، اب مجھے بخش دے، مگر دو رکعت نفل کے بعد مراقبہ سے قبل تین بار ’’استغفراللّٰہ ربی من کل ذنب وأتوب إلیہ‘‘ پڑھ لے۔ ۴:… مکہ شریف میں جاکر مراقبۂ موت ’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ کرے، پھر شب کو ۳۱۳ بار ’’لاإلٰہ إلا اللّٰہ ‘‘کا ذکر کرے۔ ۵:… مکہ مکرمہ میں صدقہ وخیرات میں کثرت کی جائے، اس لیے کہ یہاں ایک کا لاکھ ملتا ہے۔ ۶:… مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کے رہنے والے اگر غیر شرعی کام بھی کریں تو نہ وہاں سعودیہ میں اور نہ واپس آکر اپنے ملک میں، نہ دل میں اور نہ زبان سے کسی غیر کے سامنے ان کی عیب جوئی کرے، کیونکہ وہ اللہ کے شہر والے ہیں اور وہ مدینہ والے نبی کریمa کے شہر والے ہیں، ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ان کی عیب جوئی کریں۔ اور یہ بات اللہ اور رسول a کو سخت ناپسند ہے۔ ۷:… جب مدینہ منورہ یا روضۂ رسول اللہ (l) دکھائی دے، درود کثرت سے شروع کردے۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے غسل یا وضو کرے اور دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرے، پھر نبی کریم a کے روضۂ اطہر کی زیارت کرے، اس وقت پڑھے: ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللّٰہ !‘‘ اس کے بعد ’’السلام علیک یا أبابکر الصدیقؓ خلیفۃ رسول اللّٰہ !‘‘پھر پڑھے: ’’السلام علیک یا عمر بن الخطاب خلیفۃ رسول اللّٰہ !‘‘ مدینہ شریف میں حتیٰ الوسع نماز مسجد نبوی میں پڑھنی چاہیے اور مسجد قبا میں بھی کچھ نوافل وغیرہ پڑھنی چاہئیں۔ لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلٰی التَّقْوٰی، یہ مسجد قبا کی تعریف میں فرمایا گیا ہے۔ مقام احد میں جاکر زیارت کرنا اور وہاں دعا مانگنا کہ یا اللہ! ان شہداء کے طفیل میرے قلب کو منور فرما اور جنت البقیع میں روزانہ یا کبھی کبھی زیارت کے لیے جانا اور وہاں بھی دعاء مذکورہ بالا مانگنا چاہیے اور سفر حج میں جو دعائیں بزرگوں نے لکھی ہوئی ہیں، وہ ضرور ی نہیں، بلکہ مدینہ منورہ میں فرض وسنت کے علاوہ نبی کریمa پر درود شریف کی کثرت رکھنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو حج مبرور کی سعادت سے نوازیں اور بار بار اپنے گھر کی مقبول حاضری نصیب فرمائیں۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے