بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

بینات

 
 

جھوٹ معاشرہ کو تباہ وبرباد کرتا ہے

جھوٹ معاشرہ کو تباہ وبرباد کرتا ہے

 

سب جانتے ہیں کہ بے بنیاد باتوں کو لوگوں میں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور افواہ کا بازار گرم کرنےسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ہاں! اتنی بات تو ضرور ہے کہ یہی جھوٹ، چاہے جان کر ہو، یا اَنجانے میں ہو، کتنے لوگوں کو ایک آدمی سے بدظن کردیتا ہے، لڑائی، جھگڑا اور خون وخرابہ کا ذریعہ ہوتا ہے، کبھی تو بڑے بڑے فساد کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات پورے معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ جب جھوٹ بولنے والے کی حقیقت لوگوں کے سامنے آتی ہے، تو وہ بھی لوگوں کی نظر سے گرجاتا ہے، اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور پھر لوگوں کے درمیان اس کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

جھوٹ کیاہے؟

لفظ جھوٹ کو عربی زبان میں ’’کذب‘‘ کہتے ہیں۔ خلافِ واقعہ کسی بات کی خبر دینا، چاہے وہ خبر دینا جان بوجھ کر ہو، یا غلطی سے ہو، جھوٹ کہلاتا ہے۔ (المصباح المنیر) اگر خبر دینے والے کو اس بات کا علم ہو کہ یہ جھوٹ ہے، تو وہ گنہگار ہوگا، پھر وہ جھوٹ اگر کسی کے لیے ضرر کا سبب بنے، تو یہ گناہِ کبیرہ میں شمار کیا جائے گا، ورنہ تو گناہِ صغیرہ ہوگا۔

قرآن کریم میں جھوٹوں کا انجام

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انسان کوئی بات بلا تحقیق کے اپنی زبان سے نہ نکالے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے، تو پھر اس کی جواب دہی کے لیے تیار رہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
’’وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا۔‘‘ (سورۃ الاسراء:۳۶) 
ترجمہ: ’’اور جس بات کی تحقیق نہ ہو اس پر عمل در آمد مت کیا کر، کان اور آنکھ اور دل ہر شخص سے اس سب کی پوچھ ہوگی۔‘‘
آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 
’’یعنی بے تحقیق بات زبان سے مت نکال، نہ اس کی اندھا دھند پیروی کر، آدمی کو چاہیے کہ کان، آنکھ اور دل و دماغ سے کام لے کراور بقدرِ کفایت تحقیق کرکےکوئی بات منہ سے نکالے یا عمل میں لائے، سنی سنائی باتوں پر بے سوچے سمجھے یوں ہی اَٹکل پچو کوئی قطعی حکم نہ لگائےیا عمل درآمد شروع نہ کردے۔ اس میں جھوٹی شہادت دینا، غلط تہمتیں لگانا، بے تحقیق چیزیں سن کرکسی کے درپے آزار ہونا، یا بغض و عداوت قائم کرلینا، باپ دادا کی تقلید یا رسم و رواج کی پابندی میں خلافِ شرع اور ناحق باتوں کی حمایت کرنا، اَن دیکھی، یا اَن سنی چیزوں کو دیکھی یا سنی ہوئی بتلانا، غیر معلوم اشیاء کی نسبت دعویٰ کرنا کہ میں جانتا ہوں، یہ سب صورتیں اس آیت کےتحت میں داخل ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن تمام قویٰ کی نسبت سوال ہوگاکہ ان کو کہاں کہاں استعمال کیاتھا؟ بے موقع تو خرچ نہیں کیا؟‘‘ (تفسیر عثمانی)
انسان جب بھی کچھ بولتا ہے تو اللہ کے فرشتے اسے نوٹ کرتے رہتے ہیں، پھر اسے اس ریکارڈ کے مطابق اللہ کے سامنے قیامت کے دن جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ‘‘ (سورۂ ق:۱۸) 
ترجمہ: ’’وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا، مگر اس کے پاس ہی ایک تاک لگانے والا تیار ہے۔‘‘
یعنی انسان کوئی کلمہ جسے اپنی زبان سے نکالتا ہے، اُسے یہ نگراں فرشتے محفوظ کرلیتے ہیں۔ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں، خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب اور خیر یا شر ہو یا نہ ہو۔
امام احمدؒ نے بلال بن حارث مزنیؓ سے روایت کیا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان بعض اوقات کوئی کلمۂ خیر بولتا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، مگر یہ اس کو معمولی بات سمجھ کر بولتا ہے، اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ثواب کہاں تک پہنچا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی رضاء دائمی قیامت تک کی لکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کوئی کلمہ اللہ کی ناراضی کا (معمولی سمجھ کر) زبان سے نکال دیتا ہے، اس کو گمان نہیں ہوتا کہ اس کا گناہ ووبال کہاں تک پہنچے گا؟ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص سے اپنی دائمی ناراضی قیامت تک کے لیے لکھ دیتے ہیں۔ ‘‘ (ابن کثیر، تلخیص، از: معارف القرآن، ج:۸، ص:۱۴۳)
جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہےاور یہ ایسا گناہِ کبیرہ ہے کہ قرآن کریم میں، جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِيْنَ‘‘ (سورۂ آلِ عمران: ۶۱) 
ترجمہ: ’’لعنت کریں اللہ کی اُن پر جو کہ جھوٹے ہیں۔‘‘

حدیث شریف میں جھوٹ کی مذمت

جیسا کہ مندرجہ بالا قرآنی آیات میں جھوٹ اور بلا تحقیق کسی بات کے پھیلانے کی قباحت و شناعت بیان کی گئی ہے، اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی اس بدترین گناہ کی قباحت وشناعت کھلے عام بیان کی گئی ہے۔ ہم ذیل میں چند احادیث مختصر وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں:
ایک حدیث میں یہ ہے کہ جھوٹ اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے، لہٰذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو ایمان کا منافی عمل قرار دیا ہے۔ حدیث ملاحظہ فرمائیے:
’’عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ –رَضِيَ اللہُ عَنْہُ- اَنَّہٗ قِيْلَ لِرَسُوْلِ اللہِ -صَلَّیی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ-: اَ يَکُوْنُ الْمُـؤمِنُ جَبَاناً؟ فَقَالَ: ’’نَعَمْ.‘‘ فَقِيْلَ لَہٗ: اَ يَکُونُ الْمُـؤمِنُ بَخِيْلاً؟ فَقَالَ: ’’نَعَمْ‘‘. فَقِيْلَ لَہٗ: اَ يَکُوْنُ الْمُـؤمِنُ کَذَّاباً؟ فَقَالَ: ’’لاَ‘‘(مؤطا امام مالک، حدیث : ۳۶۳۰/۸۲۴) 
ترجمہ:’’حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ – بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا: کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘ پھر سوال کیا گیا: کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےجواب دیا: ’’ہاں۔‘‘ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’ نہیں (اہلِ ایمان جھوٹ نہیں بول سکتا)۔‘‘
ایک حدیث شریف میں جن چار خصلتوں کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق کی علامات قرار دیا ہے، ان میں ایک جھوٹ بولنا بھی ہے، لہٰذا جو شخص جھوٹ بولتا ہے، وہ خصلتِ نفاق سے متصف ہے۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
’’اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِيْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ کَانَتْ فِيہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِيْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰی يَدَعَہَا: إِذَا اؤتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.‘‘ (صحیح بخاری، حدیث : ۳۴) 
ترجمہ: ’’جس میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اور جس شخص میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت پائی جائے، تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، تا آں کہ وہ اسے چھوڑدے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو دھوکہ دے اور جب لڑائی جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے۔‘‘
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، تورحمت کے فرشتے اس سے ایک میل دور ہوجاتے ہیں:
 ’’إِذَا کَذَبَ العَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْہُ الْمَـلَکُ مِيْلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِہٖ۔‘‘ (سنن ترمذی : ۱۹۷۲) 
ترجمہ: ’’جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس سے جو بدبو آتی ہے اس کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہوجاتا ہے۔‘‘
ایک حدیث میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو فسق و فجور اور گناہ کی طرف لے جانے والی بات شمار کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:
’’ ۔۔۔۔۔۔ إِنَّ الْکَذِبَ يَہْدِيْ إِلَی الْفُجُوْرِ، وَإِنَّ الْفُجُوْرَ يَہْدِيْ إِلَی النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَکْذِبُ حَتّٰی يُکْتَبَ عِنْدَ اللہِ کَذَّابًا۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث : ۶۰۹۴) 
ترجمہ: ’’۔۔۔۔۔۔ یقیناً جھوٹ برائی کی رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، تا آں کہ اللہ کے یہاں ’’کذّاب‘‘ (بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھا جاتا ہے۔‘‘
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔ خیانت تو خود ہی ایک مبغوض عمل ہے، پھر اس کا بڑا ہونا یہ کتنی بڑی بات ہے! حدیث ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
’’کَبُرَتْ خِيَانَۃً اَنْ تُحَدِّثَ اَخَاکَ حَدِيْثًا ہُوَ لَکَ بِہٖ مُصَدِّقٌ، وَاَنْتَ لَہٗ بِہٖ کَاذِبٌ۔‘‘ (سنن ابو داود، حدیث: ۴۹۷۱) 
ترجمہ: ’’یہ ایک بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو، جس حوالے سے وہ تجھے سچا سمجھتا ہے، حال آں کہ تم اس سے جھوٹ بول رہےہو۔‘‘
ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ شمار کیا ہے:
’’عَنْ اَبِي بَکْرَۃَ -رَضِيَ اللہُ عَنْہُ- قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ-: ’’اَلاَ اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟‘‘ ثَلاَثًا، قَالُوْا: بَلٰی يَا رَسُولَ اللہِ! قَالَ: ’’الإِشْرَاکُ بِاللہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ -وَجَلَسَ وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ- اَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ.‘‘ قَالَ: فَمَا زَالَ يُکَرِّرُہَا حَتّٰی قُلْنَا: لَيْتَہٗ سَکَتَ۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث: ۲۶۵۴) 
’’حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ گناہ نہ بتلاؤں جو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑے ہیں؟ تین بارفرمایا۔ پھر صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: ہاں! اے اللہ کے رسول!۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ ـــــــپھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تکیہ پر) ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایاــــــ: ’’خبردار! اور جھوٹ بولنا بھی (کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ ہے)۔‘‘ 
صرف یہی نہیں کہ ایسا جھوٹ جس میں فساد و بگاڑ اور ایک آدمی پر اس جھوٹ سے ظلم ہو رہا ہو، وہی ممنوع ہے، بلکہ لطف اندوزی اور ہنسنے ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ بولنا ممنوع ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’وَيْلٌ لِّلَّذِيْ يُحَدِّثُ بِالْحَدِيْثِ لِيُضْحِکَ بِہِ الْقَوْمَ فَيَکْذِبُ، وَيْلٌ لَہٗ، وَيْلٌ لَہٗ.‘‘ (سنن ترمذی، حدیث: ۲۳۱۵) 
ترجمہ: ’’وہ شخص برباد ہو جو ایسی بات بیان کرتا ہے، تاکہ اس سے لوگ ہنسیں، لہٰذا وہ جھوٹ تک بول جاتا ہے، ایسےشخص کے لیے بربادی ہو، ایسے شخص کے لیے بربادی ہو۔‘‘

جھوٹ بولنا حرام ہے

شریعتِ مطہرہ اسلامیہ میں جھوٹ بولنا اکبر کبائر (کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ) اور حرام ہے، جیسا کہ قرآن واحادیث کی تعلیمات سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
’’إِنَّمَا يَفْتَرِي الْکَذِبَ الَّذِيْنَ لاَ يُؤْمِنُوْنَ بِآيَاتِ اللہِ وَأُوْلٰـئِکَ ہُمُ الْکَاذِبُوْنَ‘‘ (سورۃ النحل:۱۰۵) 
ترجمہ: ’’پس جھوٹ افترا کرنے والے تو یہ ہی لوگ ہیں، جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے۔‘‘ 
ایک دوسری جگہ ارشادِ خداوندی ہے: 
’’وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلاَلٌ وَّہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لاَ يُفْلِحُوْنَ‘‘ (سورۃ النحل:۱۱۶) 
ترجمہ: ’’اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹا زبانی دعویٰ ہے، ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگادو گے، بلا شبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں، وہ فلاح نہ پاويں گے۔‘‘

چند مواقع پر جھوٹ کی اجازت

شيخ الاسلام ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف نوویؒ (۶۳۱-۶۷۶ھ) اپنی مشہور کتاب: ’’ریاض الصّالحین‘‘ میں ’’باب بیان ما یجوز من الکذب‘‘ کے تحت رقم طراز ہیں:
’’آپ جان لیں کہ جھوٹ اگرچہ اس کی اصل حرام ہے، مگر بعض حالات میں چند شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ .... اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بات چیت مقاصد (تک حصول) کا وسیلہ ہے، لہٰذا ہر وہ اچھا مقصد جس کا حصول بغیر جھوٹ کے ممکن ہو، وہاں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اگر اس کا حصول بغیر جھوٹ کے ممکن ہی نہ ہو، وہاں جھوٹ بولنا جائز ہے۔ پھر اگر اس مقصد کا حاصل کرنا ’’مباح‘‘ ہے، تو جھوٹ بولنا بھی مباح کے درجے میں ہے۔ اگر اس کا حصول واجب ہے تو جھوٹ بولنا بھی واجب کے درجے میں ہے ۔ چنانچہ جب ایک مسلمان کسی ایسے ظالم سے چھپ جائے، جو اس کا قتل کرنا چاہتا ہے، یا پھر اس کا مال چھیننا چاہتا ہے اور اس نے اس مال کو چھپا کر کہیں رکھ دیا ہو، پھر ایک شخص اس حوالے سے سوال کیا جاتا ہے (کہ وہ شخص یا مال کہاں ہے؟) تو یہاں اس (شخص یا مال) کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے۔ اسی طرح کسی کے پاس امانت رکھی ہوئی ہو، ایک ظالم شخص اس کو غصب کرنا چاہتا ہے، تو یہاں بھی اس کو چھپانے کےلیےجھوٹ بولنا واجب ہے۔ زیادہ محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان صورتوں میں ’’توریہ ‘‘ اختیار کیا جائے۔ توریہ کا مطلب یہ ہے کہ (بولنے والا شخص) اپنے الفاظ سےایسے درست مقصود کا ارادہ کرے، جو اس کے لحاظ سے جھوٹ نہ ہو، اگرچہ ظاہری الفاظ اور مخاطب کی سمجھ کے اعتبار سے وہ جھوٹ ہو۔ اگر وہ شخص ’’توریہ‘‘ سے کام لینے کے بجائے صراحتاً جھوٹ بھی بولتا ہے، تویہ ان صورتوں میں حرام نہیں ہے۔‘‘ (باب بیان ما یجوز من الکذب، ریاض الصالحین)

جھوٹ اعتماد و یقین کو ختم کردیتا ہے

مذکورہ بالا استثنائی صورتوں کے علاوہ ہمیں جھوٹ بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، لہٰذا جھوٹ بولنا دنیا و آخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے۔ جھوٹ اللہ رب العالمین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔ جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے، جو دوسری بیماریوں کے مقابلہ میں بہت عام ہے۔ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ اس جھوٹ سے انھوں نے کیا پایا اور کیا کھویا؟ جب لوگوں کو جھوٹے شخص کی پہچان ہوجاتی ہے، تو لوگ اس کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والا شخص کبھی کبھار حقیقی پریشانی میں ہوتا ہے، مگر سننے والا اس کی بات پر اعتماد نہیں کرتا۔ ایسےشخص پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے اعتماد و یقین کو مجروح کرچکا ہے۔

حرفِ آخر

جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ لوگوں کے درمیان لڑائی، جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان عداوت و دشمنی کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس سے آپس میں ناچاقی بڑھتی ہے۔ اگر ہم ایک صالح معاشرہ کا فرد بننا چاہتے ہیں، تو یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم لوگوں کو جھوٹ کے مفاسد سے آگاہ اور باخبر کریں، جھوٹے لوگوں کی خبر پر اعتماد نہ کریں، کسی بھی بات کی تحقیق کے بغیر اس پر ردّ ِعمل نہ دیں۔ اگر ایک آدمی کوئی بات آپ سے نقل کرتا ہے تو اس سے اس بات کے ثبوت کا مطالبہ کریں۔ اگر وہ ثبوت پیش نہیں کرپاتا تو اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دیں اور اسے دھتکاریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت ناپسند نہیں تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کسی کے حوالے سے یہ معلوم ہوجاتا کہ وہ دروغ گو ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کدورت بیٹھ جاتی اور اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل صاف نہیں ہوتا، جب تک یہ معلوم نہ ہوجاتا کہ اس نے اللہ سے اپنے گناہ کی نئے سرے سے توبہ نہیں کرلی ہے۔ (مسند احمد، بحوالہ احیاء العلوم، ج:۳، ص:۲۰۹)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے