بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

جاوید احمد غامدی سیاق وسباق کے آئینہ میں ( آٹھویں قسط )

جاوید احمد غامدی سیاق وسباق کے آئینہ میں        (آٹھویں قسط)   تصویر کشی سے متعلق غامدی کا نیا مذہب

    ’’معاشرتی سطح پر‘‘ بڑے عنوان کے تحت دفعہ: ۱۲ کے ذیل میں غامدی صاحب موسیقی اور تصویر کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ تصویر، موسیقی اور دوسرے فنونِ لطیفہ کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے کہ ان میں سے کوئی بھی اصلاً ممنوع نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی نوعیت اور ان کا استعمال ہے جو بعض حالات میں ان کی ممانعت کا سبب بن جاتا ہے اور اس طرح از روئے تشریع نہیں بلکہ از روئے قضاء بعض صورتوں میں ان کی حرمت کا حکم دیا جاتا ہے۔‘‘           (منشور:۱۳) تبصرہ:۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے اس دفعہ کے تحت تصویر کشی اور موسیقی کے دو بڑے موضوعات کو چھیڑ دیا ہے۔ تعجب ہے کہ اسلام میںکوئی اور بات غامدی صاحب کو نہیں ملی کہ اسلام کی حمایت میں اپنا زورِ قلم دکھائیں اور کفار، اغیار اور فساق واشرار کے خلاف میدان کارزار میں اُتر کر اہل باطل کے خلاف اپنے قلم کا جوہر دکھائیں۔ اس بدقسمت کو اگر کوئی چیز ملی تو وہی ملی جس سے دین ودنیا اور غیرت وشرافت کا جنازہ نکل جائے اور اس کے آقا یہود ونصاریٰ اس سے خوش ہوجائیں۔

کیا تصویر اصلاً ممنوع نہیں ہے؟

    تاریخ اسلام اس پر گواہ ہے کہ توحید کے خالص عقیدہ میں جب بھی شرک کی پیوندکاری ہوئی ہے، اس کے لیے دو راستے اختیار کیے گئے ہیں: ایک تصاویر اور مجسموں کا راستہ استعمال کیا گیا ہے اور دوسرا مزارات، قبروں، مقبروں اور قبرستانوں اور آستانوں کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔      یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ شرک اور کفر کا دور حضرت نوح m کے زمانہ سے شروع ہوا۔ حضرت نوح m کی قوم کو ابلیس نے مجسمہ پرستی اور تصویر سازی کی پوجا پاٹ میں ایسا لگادیا کہ ساڑھے نو سو سال تک حضرت نوح m کی دعوت وتبلیغ اور دن رات کی محنت اور سمجھانے کے باوجود وہ قوم شرک اور کفر سے باز نہ آئی اور آخرکار طوفانِ نوح میں تباہ ہوگئی۔ اسی طرح قوم عاد وثمود اور حضرت ابراہیم m کی قوم مجسمہ پرستی میں اتنا آگے بڑھ گئی کہ ہلاکت وتباہی کو سینہ سے لگالیا، لیکن بت پرستی اور تصویر سازی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوئی، چنانچہ یہ قومیں تباہ ہوگئیں۔ یہود و نصاریٰ نے انبیائے کرام o کی قبروں کو سجدہ گاہوں میں تبدیل کیا اور طرح طرح کے مجسموں اور تصاویر سے اپنے گرجوں اور عبادت گاہوں کو بھردیا۔ نبی اکرم a نے وفات سے کچھ پہلے مرضِ وفات میںنہایت سختی سے یہود ونصاریٰ پر لعنت بھیجی کہ انہوں نے انبیائے کرام o اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہیں بنالیا اور نیک لوگوں کے مجسموں اور تصاویر کی پوجا شروع کردی۔ اس لیے آنحضرت a نے اپنی امت کو متنبہ فرمایا کہ تم یہ کام نہ کرو، کیونکہ یہ شرک کے آنے کا سب سے خطرناک راستہ ہے۔ شاعر نے خوب کہا : دین احمد میں ابھی تک بت پرستی آئی نہیں اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں     یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری v کی کتاب ’’دورِ حاضر کے فتنے‘‘ سے ایک روح پَروَر مقالہ نقل کروں جس سے تصویر کی حرمت پر اجماع اور تصویر کے مفاسد پر بھرپور کلام امت کے سامنے آجائے ، چنانچہ حضرتؒ لکھتے ہیں: ’’اباحیت کا فتنہ فوٹو اور تصویر کے فتنہ انگیز نتائج     اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، قرب قیامت کی وجہ سے اس تیزی سے فتنوں پر فتنے اٹھ رہے ہیں کہ ایمان کی سلامتی مشکل ہورہی ہے اور اعمال صالحہ کی توفیق سلب ہوتی جارہی ہے۔ ایک فتنہ تنہا بذاتِ خود فتنہ ہوتا ہے اور ایک فتنہ مختلف فتنوں کو جنم دیتا ہے، مثلاً: فوٹو گرافی کا فتنہ شروع ہوا، یہی کیا کم گناہ تھا کہ اس سے سینکڑوں فتنے پیدا ہوئے۔ حضرت حق جل شانہٗ کا علم ہر شئے کو محیط ہے، اس کے علم میں ہے کہ فلاں فتنہ فلاں فلاں اسباب وذرائع سے اُبھرے گا۔ اس بنا پر شریعتِ الٰہیہ کا منشأ یہ ہوتا ہے کہ جو چیز کسی درجہ میں معاصی اور گناہوں کا سبب بن سکتی ہو اس کو منع فرمائے۔ انسانی عقل بسا اوقات اپنے قصورِ علم اور کم فہمی کی وجہ سے اس کی علت وحکمت کو محسوس نہیں کرسکتی۔ انسان بسااوقات تعجب کرتا ہے کہ بظاہر اس معمولی بات کو اتنی سختی سے کیوں روکا گیا؟ لیکن بعد میں واقعات وشواہد سے اس کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ شریعتِ الٰہیہ نے جو فیصلہ کیا تھا‘ عین حکمت تھا۔ ایک مصوری کے پیٹ سے کیسے کیسے فتنے پیدا ہوگئے۔ شریعت محمدی نے ابتدا ہی سے فرمادیا تھا کہ قیامت کے دن سخت ترین عذاب صورت بنانے والوں کو ہوگا، اور کبھی یہ فرمایا کہ: ’’ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا ہے اس میں روح پھونکو ‘‘اور کبھی یہ ارشاد فرمایا کہ: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے‘‘ اور کہیں یہ فرمایاکہ:’’ صورت سازی حق تعالیٰ کی خالقیت کی نقل کرنی ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔     اسلام دین قیم ہے، اس نے کفر وشرک، بدعت وضلالت اور کج راہی وگمراہی کا ایک ایک کانٹا چن چن کر صاف کردیا۔ تمام اولادِ آدم کو ایک صاف، سیدھا اور نکھرا ہوا ’’صراط مستقیم‘‘ عطا کیا جس پر چل کر وہ امن وامان اور راحت وعافیت کی زندگی بسر کرسکے اور مرنے کے بعد قرب ورضا اور جنت نعیم کی وارث بنے۔ قرآن میں ہے: ’’ تِلْکَ الدَّارُالْأٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَایُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِیْ الْأَرْضِ وَ لَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔‘‘                                                    (القصص:۱۸۳) ترجمہ :۔۔۔۔۔’’ یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کرتے ہیں جو نہ تو زمین میں سرکشی چاہتے ہیں اور نہ فساد، اور اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔‘‘     اسلام نے انسانیت کے اعمال واخلاق کے تزکیہ کے لیے شر وفساد کے تمام راستوں کو مسدود کردیا۔ شرک جو اسلام کی نظر میں سب سے بڑا ظلم ہے، تاریخ شاہد ہے کہ وہ دنیا میں مجسموں، مورتیوں اور تصویروں اور فوٹوؤں کے راستہ سے آیا تھا۔ اس لیے اسلام نے اس منبع کفر وشرک کو حرام اور تصویر سازوں کو ملعون اور بدترین خلق قرار دے کر اس راستہ کو بند کیا۔ صحیحین میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ t کی روایت سے یہ حدیث موجود ہے کہ آنحضرت a کے مرضِ وصال میں ایک دفعہ ازواج مطہراتu آپ کے پاس جمع تھیں، کسی تقریب سے ’’ماریہ‘‘ نامی کنیسہ(گرجا) کا ذکر چھڑا، حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ rکو چونکہ ہجرتِ حبشہ کے دوران اس کے حالات معلوم کرنے کا موقع ملا تھا، اس لیے ان دونوں نے اس کے حسن تعمیر اور وہاں کی آراستہ تصویروں کا تذکرہ کیا۔ آنحضرت a یہ گفتگو سن رہے تھے، بستر علالت سے سر اٹھایا اور فرمایا: ’’  أولئک إذا مات فیھم الرجل الصالح بنوا علٰی قبرہٖ مسجدًا ثم صوروا بہٖ تلک الصورَ أولئک شرارُ خلقِ اللّٰہ۔‘‘                              (مشکوٰۃ: ۳۸۶) ترجمہ:’’ ان لوگوں میں جب کسی نیک آدمی کا انتقال ہوجاتا یہ اس کی قبر پر عبادت گاہ بنالیتے، پھر ان تصویروں سے اُسے آراستہ کرلیتے تھے، یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں بدترین قسم کے لوگ ہیں۔ ‘‘     ایک حدیث میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ t فرماتی ہیں کہ آنحضرت a سفر پر  تھے، آپ aکی تشریف آوری سے پہلے میں نے گھر میں ایک طاقچہ پر کپڑے کا پردہ لٹکادیا تھا، جس میں تصویریں بنی تھیں، جب آنحضرت a نے اسے دیکھا تو چہرۂ انور پر غضب کے آثار نمودار ہوئے اور نہایت نفرت کے لہجہ میں فرمایا: ’’یا عائشۃ ! إن أشد الناس عذابًا عنداللّٰہ یوم القیامۃ الذین یضاھون بخلق اللّٰہ۔‘‘                                                                                   (صحیح مسلم، ج: ۲، ص: ۲۰۱) ترجمہ:۔۔۔۔۔ ’’عائشہ! قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ِخلق میں مقابلہ کرتے ہیں۔‘‘     صحیح مسلم اور مسند احمد کی حدیث میں ہے: ’’إن أشدالناس عذابًا یوم القیامۃ المصورون ۔‘‘                (مسلم، ج:۲، ص:۲۰۱ ) ترجمہ:’’یقینا سب سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق قیامت کے دن تصویر ساز ہوں گے۔     اور صحیحین اور دوسری کتب حدیث میں بہت سی احادیث صحیحہ مبارکہ موجود ہیں جو جاندار چیزوں کی تصویر سازی کی حرمت اور ملعونیت کو بیان کرتی ہیں اور تمام فقہائے امت نے متفقہ طور پر جاندار چیزوں کی تصاویر کو حرام قرار دیا ہے۔     بدقسمتی سے عالم اسلام کی زمامِ قیادت کافی عرصہ سے ناخدا شناس تہذیبوں اور بددین قوموں کے ہاتھ میں ہے، جن کے یہاں (الا ماشاء اللہ!) دین ودیانت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور شرم وحیائ، عفت وعصمت، غیرت وحمیت کا لفظ ان کی لغت سے خارج ہے۔ ان کے نزدیک فکر وفن اور دغا وفریب کا نام ’’سیاست‘‘ ہے۔ انسانیت کشی کے اسباب ووسائل کا نام ’’ترقی‘‘ ہے۔ فواحش ومنکرات کا نام ’’آرٹ‘‘ ہے۔ مرد وزن کے غیر فطری اختلاط کا نام ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’خوش اخلاقی‘‘ ہے۔ پردہ دری اور عریانی کا نام ’’ثقافت‘‘ ہے اور پس ماندہ ممالک ان کی اندھی تقلید اور نقالی کو فخر سمجھتے ہیں۔ اس لیے آج سارے عالم میں فتنوں کا دور دورہ ہے، اور شاید یہ دجالِ اکبر کے دجالی فتنہ کی تیاری ہورہی ہو۔ خصوصاً عالم اسلام ہر معصیت، ہر فتنہ اور ہر برائی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ آئے دن کے ان ہزاروں فتنوں میں ایک ’’فوٹو‘‘ کا فتنہ ہے، جہاں دیکھیں فوٹو گرافر موجود ہیں۔ دعوت وضیافت ہو یا مجلس نکاح، اجلاس ہو یا پرائیوٹ اجتماع، ہرجگہ فوٹوگرافر موجود ہوگا اور کیمرہ سامنے۔ اس معصیت نے وبائی فتنہ کی شکل اختیار کرلی ہے، جس سے بچنا دشوار ہوگیا ہے، کوئی بالارادہ بچنا بھی چاہے، تب بھی اسے معاف نہیں کیا جاتا، بے خبری میں اس کا فوٹو بھی لے لیا جاتا ہے اور دوسرے دن اخبارات کے صفحات پر دنیا کے سامنے پیش بھی کردیا جاتا ہے۔ آج ان فوٹو گرافروں، کیمرہ بازوں اور اخبار نویسوں کے طفیل عریاں غلاظت کے انبار ہمارے گھروں میں داخل ہورہے ہیں، اور اس سے پورا معاشرہ متأثر، بلکہ متعفن ہورہا ہے۔ مگر حیف ہے کہ اس پر کوئی گرفت کرنے والا نہیں۔ ستم یہ کہ اس عمومی اور عالم گیر صورت نے عام طبقہ کے ذہن سے یہ خیال ہی ختم کردیا ہے کہ یہ بھی کوئی ناجائز کام یا معصیت اور گناہ ہے، کیونکہ برائی کا خاصہ ہے کہ جب وہ عام ہوجاتی ہے اور اس پر گرفت کا بندھن ڈھیلا ہوجاتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کی نفرت وحقارت دلوں سے نکلتی جاتی ہے اور قلوب مسخ ہوتے جاتے ہیں اور نوبت یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ وہ (برائی) معیارِ شرافت بن جاتی ہے۔ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا مزاج     اور اس کو کج نظر اور غلط پندار لوگ ’’انسانی قدروں کی تبدیلی‘‘ سے تعبیر کرنے لگتے ہیں، ورنہ ظاہر ہے کہ جب تک انسان، انسان ہے اور اس کی انسانیت باقی ہے، تب تک کسی ’’انسانی قدر‘‘ کے بدل جانے کا تصور ہی غلط ہے، ہاں! انسان نما جانور، انسان ہی نہ رہیں کسی اور نوع میں تبدیل ہوجائیں تو دوسری بات ہے۔     چند دن ہوئے ایک عالم کے یہاں خصوصی دعوت تھی، وہاں دو ایک مشہور شخصیتیں بھی مدعو تھیں اور خصوصی مہمان بھی تشریف فرماتھے، راقم الحروف کو بھی شرکت کی نوبت آئی اور سوء اتفاق سے مجھے ان ہی کے ساتھ بٹھادیا گیا۔ یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ ایک عالم کے مکان پر خصوصی دعوت میں فوٹوگرافر کیمرہ لے کر آموجود ہوگا، جب فوٹو گرافر سامنے آیا تو راقم الحروف نے سختی سے روکا اور ایک دوسرے عالم نے بھی شدید نکیر فرمائی۔ اطمینان ہوا کہ فتنہ ٹل گیا، لیکن کچھ وقفے کے بعد دوبارہ کسی قدر فاصلہ پر دروازہ پر کھڑا دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس نے ہماری بے خبری اور غفلت سے فائدہ اٹھاکر اپنا ارادہ پورا کرلیا۔ اگلے دن ’’جنگ‘‘ کے صفحات پر تین اشخاص کا جن میں ایک راقم الحروف تھا فوٹو آگیا اور ستم ظریفی یہ کہ نیچے یہ عبارت لکھ دی ’’گروپ فوٹو‘‘۔ انا للہ۔ تصویر سازی کی حرمت پر اجماع     حدیث نبوی میں تصویر سازی پر جو شدید وعید آئی ہے، وہ ہر جاندار کی تصویر میں جاری ہے اور تمام امت جاندار اشیاء کی تصاویر کی حرمت پر متفق ہے، لیکن خدا غارت کرے اس مغربی تجدد کو کہ اس نے ایک متفقہ حرام کو حلال ثابت کرنا شروع کردیا، اس ’’فتنۂ اباحیت‘‘ کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا مرکز مصر اور قاہرہ تھا، چنانچہ آج سے نصف صدی پہلے قاہرہ کے مشہور شیخ محمد بخیت مطیعی نے جو شیخ الازہر بھی تھے ’’إباحۃ الصورِ الفو تو غرافیۃ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ تالیف کیا تھا، جس میں انہوں نے کیمرے کے فوٹوکے جواز کا فتویٰ دیا تھا، اس وقت عام علماء مصر نے ان کے فتویٰ کی مخالفت کی، حتیٰ کہ ان کے ایک شاگرد رشید علامہ شیخ مصطفی حمامی صاحب نے اپنی کتاب ’’النھضۃ الإصلاحیۃ للأسرۃ الإسلامیۃ‘‘ میں اس پر شدید تنقید کی اور اس کتاب میں صفحہ: ۲۶۰ سے صفحہ: ۲۶۸ اور صفحہ: ۳۱۰ سے صفحہ: ۳۲۸ تک اس پر بڑا بلیغ رد لکھا، ایک جگہ وہ لکھتے ہیں: ’’تمام امت کے گناہوں کابار شیخ کی گردن پر ہوگا کہ انہوں نے تمام امت کے لیے شر اور گناہ کا دروازہ کھول دیا‘‘۔ اسی زمانہ میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم کے قلم سے ماہنامہ ’’معارف‘‘ میں ایک طویل مقالہ شیخ مطیعی کے رسالہ کی روشنی میں نکلا، اس وقت امام العصر مولانا انور شاہ کشمیر v کو جب اس کی اطلاع ہوئی اور اس مضمون سے واقف ہوئے تو آپ کی تحریک پر آپ کے تلامذہ میں سے حضرت مولانا محمد شفیع صاحب نے ماہنامہ ’’القاسم‘‘ میں (جو دار العلوم دیوبند کا ماہنامہ تھا) اس پر تردیدی مقالہ شائع فرمایا۔ وہ مقالہ حضرت شیخ کشمیری v کی راہنمائی میں مرتب ہوا، جسے بعد میں ’’التصویر لأحکام التصاویر‘‘ کے نام سے حضرت مفتی صاحب نے شائع فرمایا۔‘‘     یہ واضح رہے کہ حضرت سید سلیمان ندوی صاحب موصوف مرحوم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری سالوں میں جب کہ آپ کی عمر مبارک ساٹھ تک پہنچ چکی تھی، جن چند مسائل سے رجوع فرمالیا تھا ان میں فوٹو کے جواز کے مسئلہ سے بھی رجوع فرمایا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے ’’آزاد‘‘ صاحبِ قلم نے اگر چہ ذوالقرنین کو سائرس بناکر اس کے مجسمہ کا فوٹو (اپنی تفسیر) ترجمان القرآن میں شائع کیا تھا، لیکن بعد میں اسے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے تمام نسخوں سے نکال کر تصویر کے حرام ہونے کا اعلان کردیا تھا۔     الغرض نہ صرف ہمارے اکابر بلکہ تمام فقہائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ فوٹو حرام ہے۔ البتہ پاسپورٹ وغیرہ ضروریات کے لیے نصف چھوٹے فوٹو کو اس سے مستثنیٰ کرنا ہوگا، اس کا گناہ ان لوگوں کے ذمہ ہے جن کی طرف سے یہ مجبوریاں عائد کی گئیں ہیں۔ اس لیے یہ واضح رہے کہ میرا مسلک یہی ہے کہ فوٹو بِلا اِن خاص ضرورتوں کے ناجائز اور حرام ہے۔ اگر میری بے خبری میں، چالاکی سے کسی نے فوٹو لے لیا تو اس کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔ اگر چہ اس ملعون فن سے اسلامی معاشرہ میں نفرت عام نہیں رہی، ناواقف عوام اسے معمولی اور ہلکی چیز سمجھنے لگے ہیں اور کچھ لوگ تو اس کے جواز کے لیے بھی حیلے بہانے تراشنے لگے ہیں۔ لیکن کون نہیں جانتا کہ کسی معصیت کے عام ہونے یا عوام میں رائج ہونے سے وہ معصیت ختم نہیں ہوجاتی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول a نے کسی چیز کو جب حرام قرار دے دیا تو اس کے بعد خواہ سو بہانے کیے جائیں، مگر اس کے جواز کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ آج کل سود، بیمہ اور اسی قسم کی بہت سی چیزیں جنہیں مغربی تہذیب وتمدن کی بد دینی نے جنم دیا ہے‘ ہمارے جدید تمدن میں گھس آئی ہیں اور اب پوری طرح ان کا رواج ہے۔ لیکن کون مسلمان ہوگا جو یہ کہنے کی جرأت کرے کہ یہ سب جائز ہیں؟ ہاں یہ ممکن ہے کہ گناہ میں عموم بلویٰ کی وجہ سے آخرت کی سزا میں کچھ تھوڑی بہت تخفیف ہوجائے، اس کا علم حق تعالیٰ ہی کو ہے۔     اللہ تعالیٰ رحم فرمائے قرب قیامت کی وجہ سے اس تیزی سے فتنوں پر فتنے اٹھ رہے ہیں کہ ایمان کی سلامتی مشکل ہورہی ہے اور اعمال صالحہ کی توفیق سلب ہوتی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ایک  مصوری کے پیٹ سے کیسے کیسے فتنے پیدا ہوں گے، شریعت محمدیہ نے ابتدا ہی سے فرمادیا تھا: ’’إن أشد الناس عذابًا یوم القیامۃ المصورون ۔‘‘ (صحیح مسلم، ج: ۲، ص:۲۰۱) ترجمہ: ۔۔۔۔۔’’یعنی سخت عذاب قیامت کے دن صورت بنانے والوں کو ہوگا۔ ‘‘     اور کبھی یہ فرمایا کہ: ’’ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا ہے اس میں روح پھونکو۔‘‘ اور کبھی یہ ارشاد فرمایا کہ:’’ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیںہوتے۔‘‘ اور کہیں یہ فرمایا کہ:’’ صورت سازی حق تعالیٰ کی خالقیت کی نقل کرنی ہے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ تصویر کے معاملہ میں شریعت محمدیہ کی سختی کی وجہ     تصویر کے معاملہ میں اس شدت کی بنیاد درحقیقت یہ ہے کہ دین اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے، یعنی حق تعالیٰ کی وحدانیت کا بہ دل وجان اقرار کرنا خواہ توحید ذات الٰہی کی ہو یا توحید صفات الٰہی کی ہو یا توحید افعال الٰہی کی ہو، اسلام میں کسی قسم کا شرک قابل برداشت نہیں، اس لیے ابتدا ہی سے شریعت نے تمام اسباب شرک پر جن میں تصویر بھی شامل ہے، شدید پابندی لگادی۔ اسی لیے میں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی گناہ نہ تھا، لیکن اس وقت جب کہ حق تعالیٰ نے حضرت رسول اللہa کی زبان مبارک کے ذریعہ یہ اعلان کرایا تھا اور یہ احکام نازل فرمائے تھے، خیال بھی نہیں گزر سکتا تھا کہ آئندہ چل کر یہ فتنہ کتنے عظیم الشان فتنوں کا ذریعہ بنے گا۔ تصویر اور اس کے گندے اور فتنہ انگیز نتائج     آج اسی مصوری کی وجہ سے حسن وجمال کی نمائش ہوتی ہے اور اسی تصویر سازی کی وجہ سے بے حیا قوموں کی عورتوں کے عریاں فوٹو‘ بد اخلاقی، بد اطواری اور خدا فراموش زندگی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہی لعنت شہوانی وحیوانی جذبات بھڑکانے کا سبب ہے۔ اسی لعنت کی وجہ سے کتنے معصوموں کا خون بہہ رہا ہے اور کتنی جانیں تلف ہورہی ہیں اور خود کشی کی کتنی واردتیں ہورہی ہیں۔ تھیڑ اور سینما کے پردوں پر اسی مصوری کی وجہ سے بے حیائی کے مظاہر اور روح فرسا مناظر سامنے آرہے ہیں۔ اسی فتنہ کی وجہ سے نہ کسی کی آبرو محفوظ ہے، نہ تہمت تراشی سے کوئی بچ سکتا ہے۔ کسی کا سر اور کسی کا دھڑلے کر جو چاہے کرشمہ سازی دکھلائے۔ کسی کو بدنام کرنا ہو، اس کے بالائی بدن کی صورت لے کر کسی طوائف کے عریاں فوٹو میں پیوند لگاکر جو چاہے کرلیجئے۔ آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ایک بڑی قوی اسلامی مملکت کی تباہی وبربادی اور اس کے حکمران کی جلاوطنی میں یہی فتنہ ایک مؤثر عامل ثابت ہوا ہے۔ اس قسم کی عریاں تصویروں کے ذریعہ ملک میں ان کی بد اخلاقی وبے حیائی وبے دینی کا پروپیگنڈہ کیا گیا اور بدنامی کی انتہا کردی گئی اور آخر تخت وتاج سے محرومی کا باعث بنا۔ افسوس کہ واقعہ کی پوری تفصیل سے معذور ہوں۔ الغرض اس فتنے کے کرشموں سے نہ دین محفوظ ہے نہ اخلاق، نہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ کسی کا ایمان، نہ آبرو محفوظ ہے نہ کسی کی عصمت۔ فواحش ومنکرات کی اشاعت میں مصوری کا اتنا بڑا دخل ہے کہ اسی کی وجہ سے تقویٰ وطہارت وپاکیزہ زندگی کی بنیادیں ہل گئیں، لیکن آج کل کی اصطلاح میں یہ ثقافت اور آرٹ ہے، اور غضب یہ کہ اس کو ’’اسلامی آرٹ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے: بسوخت عقل زِ حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست!     تھیڑ، سینما اور یہ فلمیں جن سے آج معاشرہ ہلاکت کے کنارے پہنچ گیا ہے، یہ تمام اسی مصوری کی بدولت ہے اور یہ فتنہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ مسجدیں جو خالص عبادت گاہیں ہیں، وہ بھی اس سے محفوظ نہیں۔ نکاح کی محفلوں سے مقامات مقدسہ تک، ہر جگہ یہ فتنہ پہنچ گیا ہے۔ بعض وہ حکومتیں جو اسلامی قانون جاری کرنے کی مدعی ہیں اور وہ جن کا دعویٰ اتباعِ سنت ہے، ان کے ہاں یہ فتنہ اس قدر شباب پر ہے اور آب وتاب سے ہے کہ’’ الامان والحفیظ‘‘ بہرحال یہ فتنہ اتنا عالمگیر ہوگیا ہے کہ نہ مسجد بچی نہ مدرسہ، نہ اسلامی ملک بچا نہ صالح مسلمان بچے۔         (دور حاضر کے فتنے، ص: ۴۵-۵۵)     حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری v کا پر مغز ، پر سوز اور دلدوز کلام یہاں پر مکمل ہوا۔ اس کلام کے بعد بھی اگر کوئی شخص تصاویر میں تقسیم کرتا ہے کہ باعث فساد تصاویر عارضی طور پر ازروئے قضا ممنوع ہیں، اصلاً ان میں ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ہے، وہ شخص پرلے درجے کا بے دین اور بے عقل ہے، کیونکہ وہ خالص مفسد چیز میں سے مصلح چیز کو برآمد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ غامدی صاحب کی گمراہی کو ذرا دیکھیں، کہتے ہیںکہ: ’’ بعض حالات میں تصاویر کی جو حرمت اور ممانعت ہے وہ شریعت کی طرف سے نہیں، بلکہ قضاء قاضی کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی مصلحۃً ایک آدمی کا اپنا فیصلہ ہے، اندازہ لگالیجئے! غامدی صاحب شریعت کے ایک حرام حکم کو کس دیدہ دلیری سے حلال کہتے ہیں اور اس کو اپنے منشور کا دفعہ بناتے ہیں۔ تصویر سے متعلق غامدی کا نظریہ کفر کی سرحدوں کو چھورہا ہے۔ غامدی صاحب کے منشور کو چھیڑنے اور اس کے الگ الگ دفعات پرلکھنے سے مجھے یہ خوشی ہورہی ہے کہ اس کے ضمن میں تصویر کشی، فوٹو سازی اور موسیقی پر بھرپور کلام ہورہا ہے اور طلبہ وعلماء کے سامنے دین اسلام کا ایک ایک حکم واضح ہورہا ہے، خاص کر حضرت بنوری v کا عظیم مقالہ منظر عام پر آرہا ہے۔                                                                   (جاری ہے)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے