بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

جاوید احمد غامدی سیاق وسباق کے آئینہ میں (پندرہویں قسط)

جاوید احمد غامدی سیاق وسباق کے آئینہ میں   (پندرہویں قسط)

ثبوتِ زنا کے لیے چار گواہوں سے متعلق غامدی کا نظریہ ’’حدود و تعزیرات‘‘ کے بڑے عنوان کے تحت دفعہ:۶ کے ضمن میں غامدی صاحب ثبوتِ زنا کے لیے چار گواہ پیش کرنے کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اسی طرح زنا کے جرم میں یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر حال میں چار گواہ ہی طلب کیے جائیں اور وہ اس بات کی شہادت دیں کہ انہوں نے ملزم اور ملزمہ کو عین حالت مباشرت میں دیکھا ہے، قرآن وحدیث کی رو سے یہ شرط صرف اس صورت میں ضروری ہے جبکہ مقدمہ الزام ہی کی بنا پر قائم ہوا ہو اور الزام ان پاک دامن شُرفاء پر لگایا جائے جن کی حیثیت عرفی ہر لحاظ سے مسلم ہو اور جن کے بارے میں کوئی شخص اس بات کا تصور بھی نہ کرسکتا ہو کہ وہ کبھی اس جرم کا ارتکاب کرسکتے ہیں ۔                                            (منشور، ص: ۱۸) تبصرہ: ۔۔۔۔۔ اپنے منشور کی اس دفعہ میں غامدی صاحب نے جرم زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کے مہیا کرنے کو غیر ضروری قرار دیا ہے، گویا ان کے نزدیک جرم زنا بھی عام جرائم کی طرح ہے جس میں دو گواہ کافی ہیں، یہی غامدی کا ذہنی نظریہ ہے، لیکن قرآن پاک میں چار گواہوں کی تصریح موجود ہے، اس لیے غامدی صاحب اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے عجیب منطق بنا کر کئی صورتیں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چار گواہ اس وقت ضروری ہیں جبکہ مقدمہ الزام کی صورت میں ہو، یعنی جب الزام کی صورت نہ ہو تو پھر زنا کے جرم کے ثابت کرنے کے لیے دو گواہ کافی ہیں۔ نیز یہ الزام شرفاء اور پاکدامن لوگوں پر لگا ہو، اگر قحبہ خانہ کی فاحشہ عورت ہو یا پاک دامن لوگ نہ ہوں تو پھر بھی چار گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’برھان‘‘ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کسی شریف آدمی سے زنا کی لغزش ہوجائے تو اسلام یہی چاہتا ہے کہ اس پر پردہ ڈالا جائے اور معاشرہ میں اس کو رسوا نہ کیا جائے۔ مطلب یہ ہو ا کہ دو گواہوں کا قصہ بھی ختم ہوگیا۔ کئی فرضی صورتوں کے بعد غامدی صاحب ’’برھان‘‘ میں بطور خلاصہ یوں لکھتے ہیں : ’’ان دو مستثنیات کے سوا اسلامی شریعت ثبوتِ جرم کے لیے عدالت کو ہر گز کسی خاص طریقے کا پابند نہیں کرتی، لہٰذا حدود کے جرائم ہوں یا ان کے علاوہ کسی جرم کی شہادت ہو، ہمارے نزدیک یہ قاضی کی صواب دید پر ہے کہ وہ کس کی گواہی قبول کرتا ہے اور کس کی گواہی قبول نہیں کرتا ہے، اس میں عورت اور مرد کی تخصیص نہیں ہے۔‘‘ اس عبارت کے بعد غامدی صاحب نے ’’برھان‘‘ میں وہی لمبی عبارت لکھ دی ہے جو اس سے پہلے منشور کی دفعہ:۵ کے ضمن میں ہم نے نقل کردی ہے، یہاں ’’برھان‘‘ میں غامدی صاحب نے یہ نئے گل کھلائے کہ یہی معاملہ غیر مسلموں کی گواہی کا بھی ہے، یعنی معاملہ قاضی کی صواب دید پر ہے، حد زنا میں وہ چاہے مرد کی گواہی قبول کرے، چاہے عورت کی گواہی قبول کرے، چاہے کافر کی گواہی قبول کرے۔ جناب غامدی صاحب نے گواہوں کی صورتوں کو اتنا الجھادیا ہے کہ آدمی سمجھنے سے قاصر ہے، اس میں اتنے اگر چہ مگر چہ اور ایں چنیں آں چناں اور اتنے چوں وچرا سے کام لیا گیا ہے کہ دماغ گھوم جاتاہے، اس کی مثال ایک منطقی کے قصہ کی طرح ہے، قصہ بطور لطیفہ ملاحظہ ہو : ’’ایک منطقی امام مسجد ایک گائوں میں رہتا تھا، بے چارہ فقہ کے مسائل سے ناواقف تھا، گائوں میں ایک کنواں تھا، اس میں ایک دفعہ ایک چوہا گر کر مرگیا، گائوں کے لوگوں نے ان سے مسئلہ پوچھا کہ مولوی صاحب! بتائیے کہ کنویں میں چوہا گرا ہے، کنویں سے کتنے ڈول پانی نکالیں؟ بے چارے نے فقہ پڑھی نہیں تھی، منطق کا ماہر تھا، تو کہنے لگا چوہے کے گرنے کی کئی صورتیں ہیں: یہ چوہا چل کر کنویں میں گرا ہوگا یا دوڑتا ہوا گرا ہوگا۔ پھر یا تو خود دوڑ کر آیا ہوگا، یا کسی نے بھگایا ہوگا۔ پھر یا تو ڈر کی حالت میں گرا ہوگا یا اطمینان سے گراہوگا۔ پھر گرنے کے وقت اس نے چھلانگ لگائی ہوگی یا بغیر چھلانگ کے گرا ہوگا۔ تم لوگ بتائو کہ گرنے کی کونسی صورت تھی؟ کیونکہ ہر صورت کے لیے الگ الگ مسئلہ ہے اور الگ الگ ڈول ہیں اور الگ الگ تعداد ہے۔ لوگوں نے کہا: ہم تو ان صورتوں کو نہیں جانتے کہ چوہا کس صورت میں گرا تھا۔ منطقی نے کہا: پھر جائو، میں بھی نہیں جانتا کہ کس صورت پر فتویٰ دوں، پہلے صورت متعین کرو، پھر فتویٰ لے لو۔‘‘  غامدی صاحب نے شریعت مقدسہ کے اجماعی مسائل میں اسی منطقی امام کی طرح صورتیں بنا بناکر تشکیک پیدا کردی اور پھر اپنے غلط راستے کی طرف راہ فرار اختیار کی، چنانچہ ہر جگہ وہ شقیں بنا بناکر مخاطب کو الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ شریعت ہے جو منقول راستے سے آئی ہے، اس میں غامدی صاحب کی عقلیت اور عقلی گھوڑے دوڑانے کی گنجائش نہیں ہے۔ غلط راستے پر چل پڑنے اور گمراہ ہوجانے اور صحیح راستے پر قائم رہنے کی بنیادی وجہ اور فرق یہ ہے کہ مثلاً: ایک صحیح عالم اور فقیہ جب احادیث اور روایات میں تضاد یا تعارض دیکھتا ہے تو وہ صحیح محمل پر اس کو حمل کرنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی ترجیح دیتا ہے، کبھی توجیہ کرتا ہے، لیکن تمام روایات کا احترام رکھتا ہے کہ نبی اکرم a کی طرف منسوب کلام ہے، انکار نہ ہوجائے۔ یہ سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے اور ہدایت پر استقامت کا بہترین راستہ ہے۔ فقہاء کرام کا اختلاف اور مذاہب اربعہ کا وجود اسی وجہ سے ہے۔ اس کے برعکس مثال کے طور پر ایک آزاد منش محقق اسکالر، دانشور، پروفیسر اور تجدد پسند شخص کے سامنے جب اختلافات پر مبنی روایات آتی ہیں تو وہ فوراً فیصلہ کردیتا ہے کہ یہ نبیa کا کلام نہیں ہوسکتا، کیونکہ نبی a کے کلام میں تو تعارض نہیں ہوسکتا، لہٰذا وہ ان روایات کو غلط کہہ کر راویانِ حدیث پر پورا نزلہ گرادیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ یہ ان غلط لوگوں کی غلط روایات ہیں، لہٰذا اس سے ماخوذ مسئلہ بھی غلط ہے۔ اس طرح وہ شخص سمجھتا ہے کہ میں نے تحقیق کرکے حدیث وسنت کی خدمت کی، لیکن حقیقت میں وہ گمراہی کے گہرے کھڈے میں جاگرتا ہے۔ غامدی صاحب اور ان کے استاد امین اصلاحی صاحب اور حمید الدین فراہی صاحب اور غامدی صاحب کے شاگردوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے، پھر بدقسمتی سے یہ پروفیسر قسم کے لوگ غضب کے اصحاب قلم ہوتے ہیں، ان کے دل ودماغ میں دنگل مشتی اور میدان کی کشتی کا طبعی شوق ہوتا ہے، یہ ذہنی طور پر متکبر بھی ہوتے ہیں اور خود پنداری میں یہ دوسروں کو حقیر بھی سمجھتے ہیں، لہٰذا یہ پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں، پھر اجماعِ امت کا انکار کرجاتے ہیں، شریعت کے مسلمات کو ٹھکراتے ہیں، فقہاء اور مجتہدین کو غلطی پر تصور کرتے ہیں، مفسرین اور مدارس کے علماء کو نابلد اور نا آشنائے علم گردانتے ہیں۔ آج کل یہی معاملہ غامدی صاحب کے ساتھ ہوگیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس اللہ کے بندے نے شریعت کے تمام احکام کو اپنی عقل نارسا پر تولنے کی کتنی بڑی کوشش کی، پھر اتنی غلطیاں کیں جن کا گننا دشوار ہے، تو کس کس بات کا جواب علماء دیں گے؟ کسی نے سچ کہا ہے : تن ہمہ داغ داغ شد

پنبہ کجا کجا نہم ’’جسم سارے کا سارا زخمی زخمی ہے، ہم کہاں کہاں روئی رکھیں گے۔ ‘‘ اب جرمِ زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہوں پر امت کا اجماع ہے اور غامدی صاحب اگر چہ مگرچہ اور ایں چنیں اور آںچناں کرکے اس میں شک ڈالنے کی کوشش میں زورِ قلم لگا کر صفحات کے صفحات سیاہ کیے جارہے ہیں۔ ہم اہل مدارس زیادہ سے زیادہ ایک فقیہ کے فتویٰ تک پہنچ جاتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں، ایک روایت حدیث تک پہنچ جاتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں، لیکن ادھر سے غامدی صاحب جیسے لوگ بغاوت کے جھنڈوں کے ساتھ خروج کرکے آجاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ یہ سب غلط ہے، صرف قرآن صحیح ہے۔ جس طرح غامدی صاحب مسلسل یہی راگ اَلاپتے ہیں کہ اسلوبِ قرآن کا یہ تقاضا ہے، طرز کلام کا یہ تقاضا ہے، فلاں شاعر کا یہ شعر ہے، فلاں ادیب کا یہ ادب ہے اور عقل سلیم کا یہ فیصلہ ہے اور فطرت انسانی کا یہ تقاضا ہے، حمید الدین فراہی نے یہ کہا ہے اور امام امین احسن اصلاحی نے یہ مطلب بیان کیا ہے، رجم اور سنگساری کی سزا کے ساتھ ہمارے فقہاء نے یہ طرفہ معاملہ کیا ہے، پھر کہتا ہے: ’’ برسوں کے مطالعہ اور فکر وتدبر کے بعد ہم اس کہنے پر مجبور ہیں کہ اپنے موقف کی تائید میں انہوں نے (یعنی فقہاء نے) جتنے دلائل پیش کیے ہیں وہ سب منطقی مغالطوں پر مبنی اور بے حد کمزور ہیں، اسے پیش کرنے والے سلف وخلف کے اکابر ہی کیوں نہ ہوں طالب حق کو پوری قوت کے ساتھ اسے رد کردینا چاہیے، پھر کہتا ہے: ہماری رائے میں بہتر یہی ہے کہ ان فقہاء کے بعض دوسرے ارشادات پر تنقید سے پہلے اس اصول کی غلطی واضح کردی جائے، کیونکہ اصل کی تردید کے بعد فروع خود بخود بے معنی ہوجائیں گی۔          (برھان، ص: ۳۷ کا خلاصہ) پھر سنگساری اور رجم کی سزا سے انکار سے متعلق غامدی صاحب لکھتے ہیں: ’’تیسری بات ان روایات سے یہ سامنے آتی ہے کہ سنگساری جیسی شدید سزا کا قانون بیان کرنے کے لیے جو اُسلوب ان میں اختیار کیا گیا ہے، وہ نہایت مبہم اور بے حد غیر واضح ہے، پھر کچھ آگے لکھتا ہے: یہ ہے ان روایات کی حقیقت جن سے قرآن کے حکم میں تبدیلی کی جاتی ہے اور شادی شدہ زانی کے لیے رجم کا قانون اخذ کیا جاتا ہے۔ ان کے اس ابہام اور تناقض کو دیکھئے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ کسی انسان کے لیے سنگساری کی سزا تو بڑی بات ہے، اگر کسی مچھر کو ذبح کردینے کا قانون بھی اس طریقے سے بیان کیا جائے تو کوئی عاقل کیا اسے قبول کرسکتا ہے؟۔ ‘‘                                        (برھان، ص: ۶۲ و ۶۳ کا خلاصہ ) غامدی صاحب برھان، صفحہ:۳۷ پر لکھتے ہیں: ’’علم واستدلال نہ کسی گروہ کی میراث ہے، نہ کسی دور کا خاصہ، اگلوں کو اگر ایک اصول بنانے کا حق تھا تو ہمیں دلائل کے ساتھ اس کے ابطال کا بھی حق ہے، تنقید سے بالاتر اگر کوئی چیز ہے تو وہ قرآن وسنت ہیں اور ان کی تفسیر وتشریح کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو اپنے اندر اس کی اہلیت پیدا کرلے، جو لوگ ہم سے پہلے آئے وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں۔‘‘   (برھان، ص:۳۷) تبصرہ:۔۔۔۔۔ غامدی صاحب کا یہی قلبی استخفاف اور فقہاء سے قلبی بغض جو انہوں نے اکابر امت کے بارے میں اختیار کیا ہے اور اپنے لیے نئے نئے راستوں کو نکالا ہے، انہیں چیزوں نے ہمیں مجبور کیا اور ہمارے قلم میں شدت پیدا ہوگئی تو بقول غامدی صاحب میں بھی کہوں گا: چمن میں تلخ نوائی میری گوارا کر کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی اوپر غامدی صاحب کی جو عبارات میں نے نقل کی ہیں، یہ غامدی صاحب کے دل کی آواز ہے،  یہ ان کی کج راہی اور گمراہی کا ایک حصہ ہے، جس تک وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پہنچنا چاہتا ہے۔ ثبوتِ زناکے لیے قرآن وحدیث سے چار گواہوں کا ثبوت جرمِ زنا کے ثبوت کے لیے قرآن مجید میں تین آیات ایسی ہیں جن میں چار گواہوں کے پیش کرنے کو ضروری قرار دیاگیا ہے، پہلی آیت سورۃ النساء کی آیت: ۱۵ ہے جو اس طرح ہے: ’’وَاللّٰتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ أَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَإِنْ شَھِدُوْا فَأَمْسِکُوْھُنَّ فِیْ الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفَّاھُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً۔‘‘ (سورۃ النساء :۱۵ ) ترجمہ : ’’ اور جو کوئی بدکاری کرے تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ لائو ان پر چار مرد اپنوں میں سے، پھر اگر وہ گواہی دیویں تو بند رکھو ان عورتوں کو گھروں میں، یہاں تک کہ اٹھالیوے ان کو موت یا مقرر کردے اللہ ان کے لیے کوئی راستہ ۔ ‘‘ اس آیت کی تفسیر میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع v لکھتے ہیں: ’’ان آیات میں ایسے مردوں اور عورتوں کے بارے میں سزا تجویز کی گئی ہے جن سے فاحشہ یعنی زنا کا صدور ہوجائے ۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ جن عورتوں سے ایسی حرکت سرزد ہوجائے تو اس کے ثبوت کے لیے چار گواہ مرد طلب کیے جائیں، یعنی جن حکام کے پاس یہ معاملہ پیش کیا جائے ثبوتِ زنا کے لیے وہ چار گواہ طلب کریں، جو شہادت کی اہلیت رکھتے ہوں، اور گواہی بھی مردوں کی ضروری ہے، اس سلسلہ میں عورتوں کی گواہی معتبر نہیں۔زنا کے گواہوں میں شریعت نے دو طرح سے سختی کی ہے، چونکہ یہ معاملہ بہت اہم ہے جس سے عزت اورعفت مجروح ہوتی ہے اور خاندانوں کے ننگ وعار کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے، اولاً تویہ شرط لگائی کہ مرد ہی گواہ ہوں، عورتوں کی گواہی کا اعتبار نہیں کیا گیا۔ ثانیاً چار مردوں کا ہونا ضروری قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ شرط بہت سخت ہے، جس کا وجود میں آنا شاذ ونادر ہی ہوسکتا ہے، یہ سختی اس لیے اختیار کی گئی کہ عورت کا شوہر یا اس کی والدہ یا بیوی، بہن ذاتی پرخاش کی وجہ سے خواہ مخواہ الزام نہ لگائیں، یا دوسرے بدخواہ لوگ دشمنی کی وجہ سے الزام اور تہمت لگانے کی جرأت نہ کرسکیں، کیونکہ اگر چار افراد سے کم لوگ زنا کی گواہی دیں تو ان کی گواہی نا معتبر ہے، ایسی صورت میں مدعی اور گواہ سب جھوٹے قرار دیئے جاتے ہیں، اور ایک مسلمان پر الزام لگانے کی وجہ سے ان پر ’’حد قذف‘‘ جاری کردی جاتی ہے۔‘‘ جرمِ زنا کے ثبوت کے لیے قرآن مجید میں چار گواہوں کا حکم سورۂ نور کی آیت: ۱۳ میں بھی دیا گیا ہے، آیت اس طرح ہے : ’’لَوْ لَا جَآئُ وْا عَلَیْہِ بِأَرْبَعَۃِ شُھَدَآئَ فَإِذْ لَمْ یَأْتُوْا بِالشُّھَدَآئِ فَأُولٰٓئِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ھُمُ الْکَاذِبُوْنَ۔‘‘                                                              (نور:۱۳) ترجمہ: ’’کیوں نہ لائے وہ اس بات پر چار گواہ، پھر جب نہ لائے گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں ۔‘‘ علامہ شبیر احمد عثمانی v اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ’’یعنی اللہ کے حکم اور اس کی شریعت کے موافق وہ لوگ جھوٹے قرار دیئے گئے ہیں جو کسی پر بدکاری کی تہمت لگاکر چار گواہ پیش نہ کرسکیں اور بدون کافی ثبوت ایسی سنگین بات زبان سے بکتے پھریں۔‘‘                                                          (تفسیر عثمانی، ص: ۴۶۸) اس آیت کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ v تفسیر مظہری میں اس طرح بیان فرماتے ہیں، عربی عبارت کا ترجمہ ملاحظہ ہو: ’’مسئلہ:۔۔۔۔۔علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ زنا کے ثبوت کے لیے چار مردوں کی شہادت ضروری ہے، عورتوں کی شہادت سے ثبوتِ زنا نہیں ہوتا اور چار مردوں سے کم کی شہادت بھی کافی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ أَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ‘‘۔ ۔۔۔۔ ’’عورتوں کے زنا پر اپنے میں سے (یعنی مسلمانوں میں سے) چار مردوں کی شہادت لو۔‘‘ دوسری آیت میں ہے :’’ لَوْ لَا جَآئُ وْا عَلَیْہِ بِأَرْبَعَۃِ شُھَدَائَ‘‘۔۔۔۔۔ ’’انہوں نے اس بات پر چار مرد گواہ کیوں پیش نہیں کیے۔ ‘‘          (تفسیر مظہری، ج:۸، ص:۲۴۹- ۲۵۰) قرآن مجید میں سورۂ نساء کی آیت: ۱۵، سورۂ نور کی آیت :۴، ۶، ۸ اور ۱۳ میں صراحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جرم زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور غامدی صاحب کہتے ہیں کہ زنا کے جرم میں یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر حال میں چار گواہ ہی طلب کیے جائیں، جیسا کہ انہوں نے اپنے منشور کے ص: ۱۸ پر لکھا ہے، بہرحال ان پانچ آیتوں کی تفسیر میں مفسرین نے چار ہی گواہوں کی صراحت اور تفصیل بیان کی ہے۔ تفسیر مظہری، تفسیر معارف القرآن اور تفسیر عثمانی کی تصریحات کا مطلب یہ ہے کہ سارے مفسرین نے اسی طرح تفسیر فرمائی ہے، فقہائے کرام میں بھی کسی کا اختلاف نہیں، بلکہ چار گواہوں کی پیشی پر سب کا اتفاق ہے، صرف جاوید احمد غامدی نے کسی دلیل کے بغیر خواہ مخواہ قرآن وحدیث اور مفسرین وفقہاء کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے۔ غامدی صاحب نے ان آیات میں مقدمۂ زنا کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے، ایک مقدمہ الزام اور دوسرا غیر الزام۔ میں غامدی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ مفسرین میں سے کسی نے الزام اور غیر الزام کی بات نہیں کہی ہے، قرآن وحدیث میں بھی اس کی طرف اشارہ نہیں ہے، پھر آپ کیوں ’’اگرچہ مگرچہ اور ایں چنیں وآں چناں‘‘ کرکے مختلف صورتیں بناتے ہیں؟ اور اسلام کے اجماعی عقیدے کے خلاف منشور میں دفعہ بناکر درج کرتے ہیں؟ پھر منشور میں جو کچھ لکھتے ہیں، اپنی کتاب ’’برھان‘‘ کے صفحہ:۲۶ میں اس کے برعکس لکھتے ہیں، ’’برھان‘‘ کی عبارت بھی ایک ہی صفحہ میں آپس میں متضاد ہے، وہاں دیکھا جاسکتا ہے، اتنی محنت کرکے ایک غلط مقصد تک پہنچنے کی ضرورت کیا تھی، جمہور امت کے راستے پر چل پڑتے تو کیا آفت آتی؟ زنا پر احادیث سے چار گواہوں کا ثبوت ثبوتِ زنا کے لیے چار گواہوں کے مہیا کرنے کی واضح اور قطعی حدیث امام مسلم v نے ’’کتاب اللعان‘‘ میں ذکر کی ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’وعن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال: قال سعد بن عبادۃؓ: لو وجدت مع أھلی رجلاً لم أمسہ حتی أٰتی بأربعۃ شھدائ؟ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: نعم الخ ۔‘‘ ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ q سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: حضرت سعد بن عبادہ q نے (آنحضرت a سے) کہا کہ: اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ زنا کرتے ہوئے کسی شخص کو پالوں تو کیا میں اسے ہاتھ لگائے بغیر چار گواہوں کوڈھونڈ کر لائوں گا؟ آنحضرتa نے فرمایا: ہاں! ۔‘‘                                                                       (مشکوٰۃ، ص:۲۸۶) زنا کے اقرار کی صورت میں آنحضرتa نے چار گواہوں کے قائم قام چار دفعہ اقرار کو لازم قرار دیا، چنانچہ حضرت ماعزq وغیرہ سے چار دفعہ اقرار کے بعد فیصلہ فرمایا، مشکوٰۃ کی ’’کتاب الحدود‘‘ میں سات واقعات مذکور ہیں جن میں ثبوتِ جرمِ زنا کے لیے چار گواہوں کا ثبوت ملتا ہے، پھر آنحضرتa نے اس پر رجم کا حکم نافذ کیا۔ غامدی صاحب بہت بڑا بدنصیب آدمی ہے جو رسولa کے فیصلوں کا انکار کرتا ہے اور احادیث کو رد کرتا ہے۔ در اصل قصہ یہ ہے کہ غامدی صاحب مطلق زنا کے بارے میں کوڑوں کی سزا پر زور دیتے ہیں اور رجم کا انکار کرتے ہیں، اس نے کئی کئی تحریفات کیں اور کئی احادیث کا انکار کیا اور اکابر امت کے رجم کے فیصلوں سے راہِ فرار اختیار کیا ہے۔ بخاری ومسلم کی صحیح احادیث کو غلط اور کمزور قرار دیا اور کہا کہ اس کی بنیاد پر تو ایک مچھر کو بھی ذبح نہیں کیا جاسکتا، سنگساری تو بڑی چیز ہے، چونکہ سنگساری کی سزا کے لیے چار گواہوں کی گواہی ضروری ہے، تو غامدی صاحب اسلام سے چار گواہوں کی گواہی کو غائب کرنا چاہتا ہے، تاکہ نہ چار گواہ ہوں اور نہ رجم کی سزا ہو ۔دوسری بات یہ ہے کہ غامدی صاحب اسلام میں قتل اور فساد فی الارض کے سوا کسی چیز میں موت کی سزا کے قائل نہیں ہیں، اس لیے اس نے چار گواہوں کا انکار کیا، تاکہ اس کی وجہ سے رجم اور قتل کا ثبوت نہ ہوجائے اور ان کے مقرر کردہ مذکورہ مُدَّعا کے علاوہ کہیں سے موت کی سزاثابت نہ ہوجائے، ان سے اگر پوچھا جائے کہ مرتکب زنا کی یہ قسمیں آپ نے کہاں سے نکالی ہیں کہ الزام شرفاء پر لگا ہو اور جن کی حیثیت عرفی ہر لحاظ سے مسلم ہو اور مقدمہ الزام کا ہو۔ خدا کا خوف کرو، امت کی شاہراہِ اعظم کو چھوڑ کر بھٹکے ہوئے پھرنے سے یہ بہتر ہے کہ ان کے ساتھ رہو یا خاموش رہو۔ موشگافیوں میں پڑ کر کج بحثی میں خیر نہیں ہے۔ جاوید غامدی کا ایک خطرناک نظریہ جاوید غامدی صاحب نے مضمون نگاری اور قلمکاری کے دبیز پردوں میں اسلام کی مکمل بخیہ گری کی ہے، اسلام کا کوئی شعبہ ایسا نہیں بچا ہے جس میں غامدی صاحب نے ہاتھ کی صفائی کے ساتھ ہاتھ نہ مارا ہو۔ لیکن غامدی صاحب کا ایک خطرناک نظریہ جو اُن کے کلام وتحریرسے مترشح ہوتا ہے، خدا نہ کرے کہ یہ ان کے دل کی آواز ہو، لیکن ان کے بعض الفاظ اور تحریرات انتہائی خطرناک ہیں اور وہ یہ کہ غامدی صاحب اصل پیغمبر حضرت ابراہیم m کو سمجھ رہے ہیں اور محمد رسول اللہ a کو صرف چند اضافوں کے ساتھ دین ابراہیمی کا مجدد قرار دے رہے ہیں، اسی لیے غامدی صاحب اکثر مسائل کے اثبات میں آنحضرت a سے قبل عرب معاشرہ اور جاہلیت کے طور طریقوں اور ان کے اشعار کو مد نظر رکھتے ہیں اور اسی پر زور دیتے ہیں، خدا کرے ایسا نہ ہو، لیکن اگر ایسا ہوا تو شاید غامدی صاحب اسلامی دنیا میں انسانیت کے حوالہ سے بدترین اور سیاہ ترین آدمی ثابت ہوں گے، غامدی کی عبارات ملاحظہ ہوں: ۱:۔۔۔۔۔ ’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی a نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ ‘‘                                         (میزان، ص:۱۰، طبع دوم) غامدی کی کتابوں میں اس طرح کی عبارات مختلف مقامات پر موجود ہیں، اس سے مترشح ہورہا ہے کہ غامدی نبی اکرم a کو دین ابراہیمی کے لیے مجدد اور مصلح سمجھتے ہیں، مستقل نبی تصور نہیں کرتے۔ اوپر تحریر کردہ عبارت کی تائید اور نظریہ میں مزید عبارات ملاحظہ ہوں، غامدی صاحب اپنی کتاب ’’میزان‘‘ ہی کے صفحہ: ۴۸ پر لکھتے ہیں کہ: ۲:۔۔۔۔۔’’دین کے مصادر و مآخذ قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف ہیں۔ ‘‘                                           (میزان، ص:۴۸، طبع دوم) اس عبارت سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ گویا آنحضرت a نے انہیں صحائف ومصادر ومآخذ سے دین اسلام کشید کرکے امت کے سامنے پیش کیا ہے۔ (نعوذباللہ!) غامدی کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو: ۳:۔۔۔۔۔ ’’سنت صرف افعال کا نام ہے، اس کی ابتدا حضرت محمد aسے نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم m سے ہوئی ہے۔‘‘                                (میزان، ص:۱۰و ۶۵، طبع دوم) یہ عبارت بالکل واضح ہے کہ دین کے افعال واعمال کی بنیاد حضرت ابراہیم mکی ذات ہے، آنحضرت a صرف مجدد کی حیثیت سے آئے ہیں ۔ غامدی کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو: ۴:۔۔۔۔۔’’ سنت قرآن سے مقدم ہے۔‘‘                             (میزان، ص: ۵۲، طبع دوم ) اس عبارت میں غامدی صاحب نے کھل کر اپنے نظریہ کا اظہار کیا ہے، کیونکہ جب سب کچھ دین ابراہیمی ہے اور سنت ابراہیمی قرآن سے بہت پہلے اور قرآن پر مقدم ہے، لہٰذا وہی نتیجہ آگیا کہ نبی اکرم a ایک مصلح اور مجدد کی حیثیت سے آئے ہیں، نظام اسلام پہلے سے موجود تھا، غامدی کے نظریہ میں یہی ہونا تھا جو ہوگیا اور اس نے یہی کہنا تھا جو کہہ گیا ۔غامدی کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو: ۵:۔۔۔۔۔ ’’سنت صرف ستائیس اعمال کا نام ہے۔‘‘                (میزان، ص:۱۰، طبع دوم) چونکہ غامدی کے نزدیک آنحضرتa کی حیثیت ایک مجدد کی ہے، لہٰذا ان سے ثابت شدہ ہزاروں سنتوں کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے، حیثیت انہیں سنتوں کی ہے جو قرآن سے پہلے حضرت ابراہیمm سے ثابت شدہ ہیں اور وہ غامدی صاحب کے نزدیک ستائیس ہیں، کبھی چالیس بھی کہہ جاتے ہیں ۔ میرے خیال میں غامدی صاحب کا عقیدہ ونظریہ یہی ہوگا جو ان عبارات سے مترشح ہوتا ہے، خدا کرے ایسا نہ ہو، لیکن غامدی صاحب اپنے علم وقلم کے باوجود گیند کی طرح جو لڑھکتا ہوا نظر آتا ہے اور لمحہ بہ لمحہ اس کا دماغ جو چکر کھاتا ہوا نظر آتا ہے، شاید اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان کے اسلام کی بنیادیں ہل گئیں ہیں۔ غامدی صاحب جاہلیت قدیمہ وجدیدہ کے عربی قصائد سے چوٹی کے اشعار لالاکر سامعین پر ادبی رعب جماتے رہتے ہیں، دیوان حماسہ اور السبع المعلقات وغیرہ سے اپنے مطلب کے اشعار سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میں غامدی صاحب کے عربی اور اُردو ادب کا اعتراف کرتا ہوں، لیکن دین اسلام کی بنیاد ادبی چٹکلوں پر نہیں ہے۔ نیز ادبی ذوق کی ان راہوں میں غامدی صاحب اگر دیکھیں تو کئی اور مسافروں کو بھی ان راہوں میں پالیں گے، میدان کو خالی نہ سمجھیں۔ غامدی صاحب کی جدید تحقیقات انیقہ کے صلہ میں انہیں کا ایک شعر ان کی خدمت میں پیش خدمت ہے جو غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’برھان‘‘ کے خاتمہ پر آخری سطر میں ڈاکٹر محمود الحسن صاحب کے لیے لکھا ہے: نگاہ تیری فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ تیرا گناہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہ اللہ تعالیٰ ہمیں ’’إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا ‘‘پر استقامت عطا فرمائے ۔اور’’قُلْ أٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ‘‘ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آخر میں غامدی صاحب کے شعر کو غامدی صاحب ہی کے لیے پیش کرکے بات ختم کرتا ہوں : چمن میں تلخ نوائی میری گوارا کر کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے