بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی،کردار و اثرات وسعت کا راز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحدید کی تدبیر

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی،کردار و اثرات  وسعت کا راز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحدید کی تدبیر

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کو اللہ تعالیٰ نے من جملہ دیگر خصوصیات کے چار بنیادی خصوصیات اور امتیازات سے نوازا ہے:پہلی خصوصیت و امتیاز ’’مقبولیت و مرجعیت‘‘ ہے، جو حضرت بانی ٔجامعہ اور ان کے رب کریم کے درمیان اخلاص تام و مناجات خاصہ کا نتیجہ ہے۔ دوسری خصوصیت :جو پہلی خصوصیت ہی کا ثمرہ ہے ،وہ یہ ہے کہ امت کی نفع رسانی اور فیض فراہمی میں اس ادارے کو اللہ تعالیٰ نے ملک کے چپے چپے سے لے کر عالمِ انسانیت کے اطراف و اکناف تک رسائی اور اثرر و رسوخ سے نواز رکھا ہے ۔ پاکستان کا کوئی علاقہ یا دنیا کا کوئی خطہ بنوری ٹاؤن کے علمی وروحانی فیض سے شاید ہی خالی ہو، وللّٰہ الحمد والمنۃ۔ تیسری خصوصیت :خدمت ِدین، احیاء ِدین اور ابقاء ِدین کے لئے مخلصانہ ،و الہانہ جذبات و افکار یہاں کے ہر فاضل اور طالب علم کو غیبی خزائن کے طور پر ودیعت ہو جاتے ہیں، جن کی تحریض و تحریک، بنوری ٹاؤن کے طالبِ علم اور فاضل کو دینِ اسلام کی خدمت میںمصروف رکھنے کے لئے کسی نہ کسی شعبہ سے وابستگی پر مجبور کردیتی ہے، جس کا دنیوی صلہ اپنی مادر علمی کی طرح مقبولیت و مرجعیت کی شکل میں ملنے لگتا ہے اور بنوری ٹاؤن کے فاضل کا دینی کردار، دین کے ہر شعبہ میں امتیازی و قائدانہ قرار پاتا ہے، جس کا فطری رد ِعمل یہ سامنے آتا ہے کہ دشمنانِ اسلام اور ہر شعبۂ زندگی سے وابستہ بے دین افراد بنوری ٹاؤن کو اپنا حریف و مقابل سمجھ کر اس کے بارے میں منفی فکر و عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جامعہ کو دور سے دیکھنے اور سننے والے سادہ لوح لوگ ایسے منفی افکار و کردار سے متاثر ہو کر غلط فہمی کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی ایک چوتھی نمایاں ، بے مثال خصوصیت جو مذکورہ تینوں خصوصیات کا مجموعہ ، نتیجہ یا لازمہ ہے ، وہ یہ ہے کہ بنوری ٹاؤن دنیا کے ان منفرد اداروں میں سے ایک ادارہ ہے جہاں دنیا کے ہر ملک اور اپنے ملک کے ہر خطے اور ہرزبان کے طالب علم پڑھتے ہیں اور پڑھ چکے ہیں۔ مرکز (بنوری ٹاؤن) میں کراچی کی مقامی قوموں اور زبانوں والے جب کہ شاخوں میں کراچی سے باہر کی قوموں اور زبانوںوالے طلبہ زیادہ ہیں۔ اس وقت مجموعی تعدادتقریباً ۱۲۰۰۰ ہے اور اس علاقائی و لسانی تنوع کے باوجود آج تک ہمارے علماء و طلبہ کے درمیان علاقائیت و لسانیت کی بنیاد پر پیش آنے والے کسی واقعہ کی ادنیٰ مثال پیش نہیں کی جاسکتی ۔ یہ خصوصیت جامعہ کے علاوہ دیگر دینی مدارس میں بھی نمایاں طور پر موجود ہے جو خالص دینی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے، بنوری ٹاؤن کو یہاں اپنے مدارس میں بھی ایک امتیاز حاصل ہے کہ یہاںادارے کے اہتمام و انتظام کے اندر بھی علاقائی و لسانی شناخت کودین و دیانت کے پاؤں تلے روندنے کی اعلیٰ مثال بھی ملتی ہے۔ چنانچہ جامعہ کے پہلے مہتمم وبانی محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نسلاً حسینی سید، آبائی وطن کے لحاظ سے ہندوستان کی ریاست پٹیالہ کے ایک قصبہ ’’بنور‘‘ سے تعلق رکھنے والے تھے، پھر آباء و اجداد تجارتی اسفار میں آتے جاتے جلال آباد اور پشاور میں اقامت پذیر ہوئے، حضرت بنوریؒ نے علمی و عملی زندگی ڈابھیل (گجرات )یا پھر سندھ میں گزاری ، اور یہیں سندھ (کراچی) میں مدفون ہوئے۔ ان کے سانحۂ ارتحال کے بعد ان کی مسندِ اہتمام پر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن رحمہ اللہ مسند نشین ہوئے، جو نسلاً پشتون اور وطناً صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے تھے۔ ان کے بعد بنوری ٹاؤن کے مسندِ اہتمام پرحضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار دہلوی شہید رحمہ اللہ فائز ہوئے،  جو ہندوستان سے قیامِ پاکستان کی تحریک میں شامل ہو کر ہجرت کرکے آنے والے پاکستانیوں میں شمار ہوتے تھے، اور پھر ان کی شہادت فاجعہ کے بعد مسندِ اہتمام جن کے سپرد ہوا، وہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب( زید مجدھم و طال بقائہم بالصحۃ والعافیۃ)ہیں، جن کاآبائی تعلق ہزارہ ڈویژن کے ضلع ایبٹ آباد سے ہے۔  جامعہ بنوری ٹاؤن کی یہ بے مثال خصوصیات جہاں خالص وقف دینی ادارہ ہونے کی دلیل ہیں، وہاں لسانیات و علاقائیت زدہ ذہنیت کے لئے مختلف زبانوں اور قوموں پر مشتمل حسین گلدستہ کا مظہر بھی ہیں، جہاں ہر قوم اور زبان کے لوگ بلا امتیازِ ذات سجتے اور ججتے رہے ہیں ، اور الحمد ﷲ! اب بھی جامعہ کے ہر شعبہ میں یہی مظہر و منظر پیش ہو رہا ہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کی یہی وہ خصوصیات ہیں جو اعداء ِ اسلام اور دشمنانِ وطن اوروحدت ِملی کے ڈاکہ زنوں کوچبھتی ہیں اوروہ جامعہ کے بارے میں عدمِ برداشت کا شکار ہیں ۔ایک عرصہ سے مختلف حربوں کے ذریعہ بنوری ٹاؤن کے ’’کردارواثرات ‘‘کوکم کرنے کی ناکام کوششیں ہورہی ہیں ، کبھی جھوٹے پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں، کبھی یہاں کے علماء و طلبہ کو آتے جاتے ہوئے جام ِشہادت تھما دیا جاتا ہے۔ لیکن دشمنانِ اسلام اور بنوری ٹاؤن کے حاسدین کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جامعہ‘ الحمدللہ! خالص دینی تعلیمی ادارہ ہے ،جو دینِ اسلام کی نشر و اشاعت اور حفاظت کے خدائی منصب کا رکھوالا ہے، جس طرح اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے اورنیست و نابود ہوگئے، اسی طرح اس مرکز ِدین کو ویران کرنے اور اس کے ’’کردارواثرات‘‘ کو محدود کرنے کی ناکام کوششیں کرنے والے بھی خود ہی مٹ جائیں گے، إن شاء اللّٰہ۔ دینِ اسلام اور اسلامی مراکزکے دشمنوں کویہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ بنوری ٹاؤن‘ الحمدللہ! جس اخلاص و للہیت کی بنیادوں پر قائم ہوا ہے، اس کا فیض قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ علمائے اسلام اور طلبۂ دین اسی اخلاص و للہیت سے اپنا اپنا حصہ پاتے رہیں گے اورگلشن ِبنوری کی چہل پہل یوں ہی برقرار رہے گی۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ کے علمی کارواں کے اخلاص و للہیت میں خونِ شہیداں سے مزید جلاتوپیدا ہو رہی  ہے، مگر ہمارے عزم واستقلال کوکوئی گزند نہیں پہنچی۔ دشمنانِ اسلام کو نہیں بھولناچاہئے کہ اسلامی تاریخ میں جس تحریک اور مشن کی آبیاری شہداء کے خون سے ہوئی ہے، وہ تحریک محدود یا ختم ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ جوش و جذبہ کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھتی رہی ہے، وقتی خونی رکاوٹیں مزید طوفانی انداز سے آگے بڑھنے کا ذریعہ ثابت ہوتی رہی ہیں۔ دین ِ اسلام اور بنوری ٹاؤن کے نادان دشمن اگر یہ سمجھتے ہیں کہ بنوری ٹاؤن کے علماو طلبہ کو خون میں نہلا دینے سے شایدبنوری ٹاؤن کا دینی و تعلیمی کردار محدود ہوجائے گا یا خدا نخواستہ ختم ہوجائے گا تو یہ ان نادان دشمنوں کی بڑی نادانی ہے۔ دنیا جانتی ہے اور جو نہیں جانتے وہ جامعہ کے دفترِتعلیمات سے اعداد و شمار لے کر اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب ۱۹۹۷ء میںحضرت مولانا ڈاکٹرمحمد حبیب اللہ مختار شہیدرحمہ اللہ اور حضرت مولانا مفتی عبد السمیع صاحب رحمہ اللہ کو شہید کیا گیا تو اس وقت دورہ ٔحدیث سے فارغ ہونے والوں کی تعداد تقریباً۲۴۰ تھی اور ان کے بعد حضرت بنوریؒ کی مسند ِحدیث کے ایک اور نمایاں بزرگ ،بنوری ٹاؤن کے شجرِ سایہ دار، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کو ۲۰۰۰ء میں درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے بنوری ٹاؤن سے چھینا گیا تو اس وقت طلبۂ حدیث کی تعداد میں پہلے سے تقریباًایک تہائی (۳۴۴)اضافہ ہو چکا تھا اور جب ۲۰۰۴ء کو مسندِ بنوری کی رونق حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ کے سرمایۂ گراں مایہ سے بنوری ٹاؤن کو محروم کیا گیا تو تشنگانِ علوم نبوت کا بنوری ٹاؤن کی طرف رجحان پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا، اُس وقت صرف دورۂ حدیث کے طلبہ کی تعداد پانچ سو سے متجاوز ہو چکی تھی، اسی طرح دیگر شہداء کے خون کی برکت سے طلبہ ِ دین کی دینی حمیت اورایمانی حرارت میں مزید اضافہ ہی ہوتا رہااور بنوری ٹاؤن کی طرف علومِ دینیہ کے طلبہ کا رجحان ومیلان پہلے سے مزید بڑھتا ہی رہا، چنانچہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۳ء کے حالیہ واقعہ میں جب حضرت بنوریؒ کی مسند ِحدیث کے ایک اور معصوم و خلیق ، نفیس وشریف، بے ضرر و گمنام وارث، حضرت مولانا مفتی محمد عبد المجید دین پوری شہید رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء حضرت مولانا مفتی صالح محمد کاروڑی شہید ؒاور مولانا حسان علی شہید رحمہم اﷲ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ ہم سے جدا کر لیا گیا تواس وقت صرف دورۂ حدیث کے طلبہ کی تعداد ۶۱۳ ہے ۔اضافہ کایہی تناسب مجموعی تعداد میں بھی ہوتاچلا آرہاہے، لہٰذاہمارے دشمنوں کو اس سے اندازہ لگانا چاہئے کہ بنوری ٹاؤن پر کاری سے کاری ضربیں لگانے سے اور بنوری ٹاؤن کے قلب و جگر یا دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر بار بار وار کرنے سے بنوری ٹاؤن کا’’ کردار و اثر ‘‘محدود و متاثر ہونے کی بجائے اپنے شہیدوں کے خون سے مزید جلا پاتا ہے اور بنوری ٹاؤن کے اساتذہ اور طلبہ کوبھرپور ہمت وحوصلہ کے ساتھ آگے بڑھنے اور اپنی منزل کی طرف گامزن رہنے کے لئے تازہ جوش و جذبہ ملتا ہے اوربنوری ٹاؤن پر عوام و خواص کے اعتماد میں مزیداضافہ ہی ہورہا ہے۔ بہر حال ہمیں اپنے شہیدوں کی جدائی کا طبعی حزن و ملال اپنی جگہ ہے، اس سے بھی انکار نہیں، اگر دشمن یہ سمجھ کر خوش ہو سکتا ہے کہ اس نے ہمارے دلوں اور کلیجوں پر چھریاں چلادی ہیں اور ہماری ریڑھ کی ہڈی پر وار کرنے میں وہ کامیاب ہو چکا ہے تو بحیثیتِ دشمن وہ اُسے اپنی کامیابی گردانے، مگر ساتھ ساتھ یہ یقین بھی کرے کہ الحمد ﷲ! ہم جن بزرگوں کے پیروکار اورنام لیو ا ہیں وہ خونِ شہادت کو قیمتی جانوں کے ضیاع سے زیادہ دینِ اسلام کی بقاء کی ضمانت سمجھتے ہیں اور اس ضمانت کے لئے کام آنے کو اپنے لئے باعثِ فخر و امتیاز گردانتے ہیں۔ اپنے شہیدوں کے خون سے ہمارے ایمان و یقین میں پختگی نصیب ہو رہی ہے کہ ہمارے شہیدوںکے مقدس خون سے دین اسلام اور گلشن ِاسلام ( بنوری ٹاؤن) کے کردار و اثرات محدود ہونے کی بجائے الحمدﷲ وسعت پذیر ہیں۔ اگر دشمنانِ اسلام ہمارے کردار و اثرات کو مٹانے کے لئے ہمارے خون کو ضروری سمجھتے ہیں تو اُنہیں پہلے تو محسوسات و مشاہدات کی دنیا میں جا کر دیکھنا چاہئے کہ جتنا خون بہا یا جائے گا ،خون کے طوفانی سیلاب میں اتنا ہی اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس سے بنوری ٹاؤن کے کردار و اثرات میں قطعا ًکمی نہیں آئے گی، جیساکہ ہماراماضی اورحال اس پرشاہد ہیں۔ البتہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے کردار و اثرات کو محدود کرنے کی ایک ممکنہ صورت ہے، جس میں شاید دشمن کو کچھ کامیابی مل سکے ،وہ صورت اصحابِ اخدود کے ’’غلام‘‘ کی طرح ہم خود بتا دیتے ہیں،وہ تدبیر یہ ہے کہ بنوری ٹاؤن کے کردار و اثرات کو دو چیزوں سے وسعت مل رہی ہے :ایک وہ اخلاص و للہیت جس پر بنوری ٹاؤن قائم ہوا ہے ۔ظاہر ہے وہ تو حضرت بانی ٔجامعہ اور ان کے رب لم یزل کے درمیان ایک تعلق و ربط اورمعاہدہ ہے،جودائم رہنے کے لئے قائم ہوچکا ہے، اُسے ختم کرنا دشمنوں اورحاسدوں کے بس میں نہیں ہے۔ دوسری چیز جو بنوری ٹاؤن کے کردار و اثرات میں جلا پیدا کرتی جارہی ہے ،وہ یہاں کے علماء و طلبہ کا ناحق خون ہے، یہ ناحق خون ایک مادی جان تو چھین لیتا ہے، مگر شہید کے کردار و عمل کو اگلی نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے ۔اگر دشمن چاہتاہے کہ وہ بنوری ٹاؤن کے کرادر و اثرات کو محدود کرنے میںکسی حد تک کامیاب ہوجائے تو اس کا یہی حل ہے کہ جامعہ کے علماء و طلبہ کا ناحق خون بہانے سے باز آجائے اور بنوری ٹاؤن کو زمانہ کے فطری انحطاط کے مقابلے کے لئے چھوڑ دے ۔بنوری ٹاؤن سے وابستہ موجودہ یا آئندہ علماء و طلبہ اگر حضرت بنوری رحمۃاللہ علیہ کے اخلاص و للہیت کی چھتری تلے مصروف کار رہے تو وہ کردار کی دنیا میں زندہ سلامت رہیں گے، ورنہ خود ہی زمانے کے فطری انحطاط کی نذر ہو کر گوشۂ گمنامی میں جا گزیں ہو جائیں گے۔ اُنہیں مٹانے کے لئے دشمن کو کسی تدبیر میں الجھنے کی ضرورت نہیں، تقدیر ہی کافی ہوگی۔ بہرکیف ہمارے حالیہ شہداء ،پیکر اخلاص و عمل، مجسمۂ تقویٰ و تواضع ،مخزن ِعلم و تدین ، منبعِ نصح و لطف حضرت اقدس مولانا مفتی محمد عبد المجید دین پوری شہید رحمہ اللہ اور ان کے نیکو کار بااعتماد رفیق ِکار، فرض شناس و ذمہ دار ،دار الافتاء بنوری ٹاؤن کے محور و مدار مولانا مفتی صالح محمد صاحب شہید رحمہ اللہ اور ان کے دنیا و آخرت کے سفر کے ہمراہی و ہم رکاب، باوقار و باادب، خادم و شاگرد مولانا حسان علی شہید رحمہ اللہ اور ان کے بعد چند دنوں کے فاصلے سے جو طلبہ اس قافلۂ شہداء میں شامل ہوئے،ایک بنوری ٹاؤن کے درجۂ سادسہ کے جواں سال طالب علم روح اللہ باجوڑی اور درجۂ اولیٰ کے دو ننھے منے شہید طلبہ طلحہ فرید کراچوی اور عثمان ابراہیم کراچوی رحمہم اللہ ہیں، وہ بھی اپنے عنفوان ِشباب اور نوعمری میں اپنے خون سے بنوری ٹاؤن کے کردار واثرت کو جلا بخشنے والے سعادت مند شہیدوں کے قافلے میں شریک و شمارہوئے ہیں ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے شہیدوں کی تاریخ جب بھی پڑھی جائے گی، وہاں جامعہ کے اکابر و مشائخ شہداء کے ساتھ ساتھ ان نو عمر شہیدوں کو بھی یاد کیا جاتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کو اعلیٰ علیین میں رفعتیں اور بلندیاں نصیب فرمائے، چھوٹے بڑے تمام شہداء کے لواحقین و پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اس پر اجرِ جزیل عطا فرمائے، آمین مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاھَدُوْااللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُوَمَابَدَّلُوْاتَبْدِیْلاً۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے