بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

بینات

 
 

توہُّم پرستی کی حقیقت اور اَقسام --- تعارف واحکام

توہُّم پرستی کی حقیقت اور اَقسام 

تعارف واحکام


 توہُّم پرستی کسے کہتے ہیں؟ 

جس چیز کا حقیقت میں کوئی وجود نہ ہو، اس کا وجود یاجس چیز میں خاص تاثیر نہ ہو، اس میں خاص تاثیر کا اعتقاد رکھنا توہُّم پرستی کہلاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر ’’توہُّم پرستی‘‘ کا مطلب خوف یا جہالت کی وجہ سے غیرعقلی عقائد پر یقین رکھنا ہے، جیسے: عوام الناس میں چڑیل اور بھوت وغیرہ کے وجود کا، یا پتھروں وغیرہ کے مؤثر ہونے کااعتقاد رکھنا مشہور ہے۔ 

توہم پرستی کے نقصانات

توہُّم پرستی حق کے قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے،وہ اس طرح کہ حق وباطل میں فرق کرنے والی چیز قرآن وحدیث کی تعلیمات ہیں،جبکہ توہُّم پرست آدمی مادی نفع کی چیزوں کو حق وباطل کے پرکھنے کا معیار بناتا ہے، لہٰذا جس چیز میں اسے نفع نظر آتا ہے،وہ اس کے نزدیک حق اور درست،اور جس چیز میں اُسے نقصان محسوس ہوتا ہے،وہ اس کے نزدیک باطل اورغلط ہوتی ہے۔
توہُّم پرستی اور بدشگونی جیسے عقائد کے حامل افراد کچھ چیزوں، واقعات یا علامات کو اپنے لیے مبارک گرداننے لگ جاتے ہیں اور کچھ کو نقصان دہ یا منحوس۔ توہُّم پرست لوگ منفی خیالات کا شکار ہو کر اپنی خوشیاں اور سکون برباد کرلیتے ہیں اور بہت جلد مایوس ہوجاتے ہیں۔ 

توہُّم پرستی کی وجوہات 

اگرچہ اسلام میں توہُّم پرستی یا بدشگونی کی قطعاً گنجائش نہیں، مگر اس کے باوجود مسلمانوں کی کثیر تعداد اِس مرض کا شکار نظر آتی ہے۔ مسلمانوں میں توہُّم پرستی کی ایک وجہ تو کم علمی اور دینی اَحکام سے ناواقفیت ہے اور دوسری بڑی وجہ ایک لمبا زمانہ برِصغیر پاک وہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں کا ایک ساتھ رہنا تھا، ہندوؤں میں توہُّم پرستی حد درجہ عام ہے، مثلاً: 
*    نومولود کو نظرِبد سے بچانے کے لیے پیشانی پر کاجل (سرمہ)کا نشان لگانا۔
*    شام کے وقت صفائی (جھاڑو لگانے )سے گریز کرنا کہ اس سے دولت کم ہوگی۔
*    مرد کی دائیں اور عورت کی بائیں آنکھ پھڑکنے کو اچھی خبر کی آمد سے مشروط کرنا۔
*    چارپائی پر بیٹھے ہوئے ٹانگیں لٹکی ہونے کی حالت میں ہلانے سے دولت کا ہاتھ سے نکل جانا۔
*    پیاز یا چھری سرہانے رکھنے سے برے خوابوں سے نجات ملنا۔
*    کالی بلّی کا راستہ کاٹنا۔
*    ٹوٹے ہوئے آئینے میں چہرہ دیکھنا۔
*    دودھ کا اُبل کر برتن سے باہر گر جانا ۔
*    مغرب کے بعد گھر کی ساری بتیاں جلا دینا، ورنہ بد روحیں آجانے کا ذہن رکھنا۔
*    خالی قینچی چلانے سے قطع تعلقی ہو جانا۔
*    کانچ کا ٹوٹنا اور بلی یا کتے کا رونا نحوست اور بے برکتی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
*    منڈیر پر کوا بیٹھا تو مہمان آنے والے ہیں۔
*    چھینک آئی تو کوئی یاد کررہا ہے۔
*    دائیں ہاتھ میں خارش ہے تو دولت آئے گی، بائیں میں ہے تو جائے گی۔
*    جھاڑو سیدھاکھڑا کرنا، یا بعد از عصر جھاڑو دینا نحوست ہے، وغیرہ 
یہ سب ہندو معاشرے کے عام توہُّمات ہیں۔موجودہ سائنسی دور میں بھی،جہاں ہر واقعہ اور نظریے کے دلائل اور حقائق تلاش کیے جاتے ہیں، دنیا کی مادی اعتبار سے ترقی یافتہ اَقوام میں بھی توہُّم پرستی عام ہے،مثلاً: 
*    ’’اسپین ‘‘میں منگل کے دن مہینے کی ۱۳؍تاریخ ہو تو اسے قومی طور پر بدقسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 
*    ’’چائنا‘‘ میں۸ ؍کا ہندسہ مبارک اور۴ ؍کا ہندسہ منحوس خیال کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ کچھ لوگ عمارت کی چوتھی منزل تعمیر نہیں کرتے۔ 
*    ’’آئرلینڈ ‘‘ میں دلہنیں اپنے لباس یا زیورات میں چھوٹی گھنٹی ضرور استعمال کرتی ہیں، جسے خوش قِسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
*    ’’روس‘‘ میں خالی بالٹی کہیں لے جانے کو بُرا شگون سمجھا جاتا ہے۔ 
*    ’’فن لینڈ‘‘ کے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اگر مکڑی کو مارا جائے تو اگلے دن بارش ہوگی۔ 
*    ’’پرتگال‘‘ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اُلٹا چلنے سے برائی ہمارا راستہ دیکھ لیتی ہے۔
*    ’’مصر ‘‘ میں خالی قینچی چلانے کو بُرا سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس سے ہوا میں موجود بدروحیں کٹ جاتی ہیں، جس کے باعث ان کو غصہ آجاتا ہے۔ 
*    ’’سوئٹزرلینڈ‘‘ اور ’’نیدرلینڈ‘‘ کے لوگ شادی کے بعد گھر کے باہر صنوبر کا درخت لگاتے ہیں کہ یہ ان کے ازدواجی تعلقات میں مضبوطی ڈالے گا۔ 
*    ’’برطانیہ‘‘ میں چیونٹیوں کی آمد بُرے موسم اور اُن کا قطار میں چلنا بارش ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
*    ’’مغرب‘‘ میں سفید مرغی نظر آنا رحمت، جب کہ سیاہ مرغی کو شیطان کی روح گمان کیا جاتا ہے۔ 

توہُّم پرستی کے عام ہونے میں میڈیا کا کردار 

معاشرے میں جتنی زیادہ توہُّم پرستی عام ہے، اس میں بہت بڑا کردار ہمارے میڈیا یعنی: ذرائع ابلاغ کاہے، ذرائع ابلاغ (یعنی: میڈیا) میں اخبار، کتاب، رسائل وجرائد اور ٹیلی فون، موبائل، ٹیلیوژن، اور انٹرنیٹ وغیرہ سب کچھ شامل ہیں، میڈیا کے نشر کردہ بہت سے پروگرامز، بچوں کے لیے ڈراؤنے ڈرامے، فلمیں وکارٹونز، اور اسی طرح ڈراؤنی جن بھوتوں کی کہانیاں وغیرہ توہُّمات کو سچ ہوتا دکھا کر لوگوں کے ذہنوں میں بے معنی خیالات، یعنی: توہُّمات کو پختہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اخبارات، میگزین اور دیگر رسائل میں آپ کے ستارے کیا کہتے ہیں؟ یا آج کا دن کیسا گزرے گا؟ وغیرہ جیسی خرافات ایک تسلسل کے ساتھ دیکھنے کو ملتی ہیں، جسے تعلیم یافتہ طبقہ بھی بڑے تیقُّن اور دِل چسپی سے پڑھتا ہے، جب کہ اسلام ہمیں ایسا کچھ پوچھنے کے لیے نجومی کے پاس جانے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ آپ کبھی کچھ وقت نکال کر سرچ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان آسٹرولوجیکل فن کی بنیاد یونانی عقائد ہیں، جو سینکڑوں خیالی فلسفوں پر مبنی ہیں، جن کا اِسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔
 

توہُّمات سے متعلق شرعی اَحکام 

دینِ اسلام میں توہُّمات کو سختی سے رد کیا گیا ہے، قبل از اسلام بھی لوگ توہُّم پرستی کا شکار ہوتے تھے۔ عرب معاشرے کے لوگ بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھتے تھے۔گھروں میں دروازے کے بجائے پچھلی دیوار توڑ کر داخل ہونے کو باعثِ برکت سمجھتے تھے۔ 
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لختِ جگرحضرت ابراہیمؓ کی وفات کے دن سورج کو گرہن ہواتھا، کچھ لوگوں نے آپؓ کی وفات کی وجہ سورج گرہن کو سمجھا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسا خیال کرنے سے منع فرما دیا۔
غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ توہُّمات پر یقین رکھنا درحقیقت ’’تقدیر پر یقین ‘‘کا رد ہے۔ سوائے اللہ کے کوئی دن، پتھر، بشر، چرند پرند یا ستارے وغیرہ انسان کے نفع و نقصان کے خالق نہیں ہوسکتے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
’’مَـآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَـۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ۔‘‘      (النساء:۷۹) 
ترجمہ: ’’تجھے جو بھلائی (یا فائدہ) پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور تجھے جو برائی(یا نقصان) پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے (یعنی: تیرے ہی شامتِ اعمال کے سبب)ہے۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عمرو  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاـ: 
’’مَنْ رَدَّتْہُ الطِّیَرَۃُ مِنْ حَاجَۃٍ فَقَدْ اَشْرَکَ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ! مَا کَفَّارَۃُ ذٰلِکَ؟، قَال:’’ اَنْ یَّقُوْلَ اَحَدُہُمْ: اَللّٰہُمَّ لاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُکَ وَلاَ طَیْرَ إِلَّا طَیْرُکَ، وَلاَ إِلٰہَ غَیْرُکَ۔‘‘    (مسند احمد بن حنبلؒ، الرقم: ۵۰۴۵) 
یعنی:’’بدفالی لینا جس شخص کو اُس کے کسی کام سے روک دے تو اُس نے شرک کیا، لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! (اگر کوئی ایسا کر بیٹھا ہے) تو اس کا کفارہ کیا ہو گا؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جواب میں ارشاد فرمایا: اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ شخص اس طرح دعا کرے کہ اے اللہ! تیری طرف سے پہنچنے والی خیر ہی اصل خیر ہے، اور تیری طرف سے پہنچنے والی بُرائی ہی اصل بُراشگون ہے، اور اے اللہ! تیرے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘ 
’’طِیَرَۃ‘‘ بدشگونی اور بدفالی کو کہتے ہیں یعنی انسان کسی چیز کے بارے میں بد گمانی اختیار کرے اور اس بدفالی کاتصور لے لے، زمانۂ جاہلیت میں اِس کا بڑا رواج تھا،لوگ معمولی باتوں سے بد شگونی لیاکرتے تھے، اگر انہیں کہیں جانا ہوتا تو پرندہ کو اُڑاتے، اگر وہ دائیں جانب کو اُڑتا ہواجاتا تو اچھا سمجھتے اور اگر وہ بائیں رخ پر اُڑتا تو اپنے سفر کرنے کونامناسب تصور کرکے اُس سفر سے گریز کرتے، اسی طرح تیروں سے فال نکالتے اور خیر و شر کے فیصلے کرتے۔
حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ اگردل میں کوئی براشگون پیدا ہو تو مذکورہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔ علاوہ ازیں ایسی صورت میں درج ذیل دعا بھی پڑھی جاسکتی ہے:
’’اللّٰہُمَّ لَا یَاْتِيْ بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا اَنْتَ وَلاَ یَدْفَعُ السَّیِّئَاتِ إِلَّا اَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ۔‘‘ (سنن ابی داؤد، الرقم: ۳۹۱۹)
سرکارِ دوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے علاوہ پائے جانے  والے توہُّمات اور قیامت تک کے باطل نظریات کی تردیداور نفی فرما دی اور علی الاعلان ارشاد فرمادیا:
 ’’لَا عَدْوٰی، وَلَا طِیَرَۃَ، وَلَا ہَامَّۃَ، وَلَا صَفَرَ۔‘‘  (صحیح البخاری، الرقم: ۵۷۰۷)
’’ (اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر) ایک شخص کی بیماری کے دوسرے کو (خود بخود)لگ جانے(کا عقیدہ)، بدشگونی لینا، ایک مخصوص پرندے کی بدشگونی (کا عقیدہ)، اور ماہِ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) سب بے حقیقت باتیں ہیں۔‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الطِّیَرَۃُ شِرْکٌ، الطِّیَرَۃُ شرکٌ، الطِّیَرَۃُ شِرْکٌ، ومَا مِنَّا إِلَّا، وَلٰکِنَّ اللہَ یُذْہِبُہٗ بِالتَّوکُّلِ۔‘‘   (السنن لابی داؤد، الرقم: ۳۹۱۵) 
یعنی: ’’بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو (کوئی نا کوئی وہم) ہوجاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی برکت سے اسے دور کر دیتا ہے۔‘‘
بد شگونی کے معنی ہیں: بد فالی اور نحوست، اللہ کے علاوہ کسی چیز کو نفع اور نقصان میں مؤثر بالذات سمجھنا شرک ہے، چونکہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں اور اعمال سے بد فالی لیتے تھے اور اس کو نحوست میں مؤثر سمجھتے تھے، اس لیے احادیث میں بد شگونی کو شرک قرار دیا گیا ہے۔
توہُّم پرستی جیسے برے خیالات سے بچنے والے کے لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  کی حدیث میں ہے کہ: میری اُمت کے ۷۰ ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں، جیسا کہ روایت میں ہے:
’’عن ابن عباسؓ اَنَّ رَسُولَ اللہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  قَالَ: یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِيْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ، ہُمُ الَّذِیْنَ لَا یَسْتَرْقُوْنَ، وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔‘‘   (صحیح البخاری، الرقم: ۶۴۷۲)

 توہُّمات کی اَقسام 

ہمارے معاشرے میں مختلف اَفراد میں مختلف چیزوں کے بارے میں مختلف توہُّمات ونظریات قائم ہیں، اور اُنہیں حیات ِ انسانی میں بہت ہی زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ شریعت کی تعلیمات کے سراسرمتصادم ہیں، ہماری زندگیوں میں مؤثر ہونے والی چند چیزوں کی کچھ تفصیل ذکر کی جاتی ہے:
 

اَسباب کو ہی مؤثرِ حقیقی سمجھنا

انسانی طبقات اَسباب کے میدان میں دو انتہاؤں پر ہیں: ایک طبقہ اَسباب کا انکار ہی کر دیتا ہے اور اَسباب اختیار کرنے کو توکُّل کے منافی سمجھتا ہے، اور دوسرا طبقہ اَسباب کو ہی مؤثرِ حقیقی سمجھتے ہوئے یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے اور ہورہا ہے، وہ اَسباب سے ہی ہو رہا ہے، اور اَسباب کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔ 
پہلا طبقہ: (جس میں زیادہ تر دین سے وابستہ لوگ ہی نظر آتے ہیں) کم عقلی اور بے علمی کی وجہ سے یہ ذہن رکھتاہے کہ محنت کرنے اور کمانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ تو رزق دینے میں ہماری محنت کے محتاج نہیں ہیں، وہ ایسے بھی دینے پر قادر ہیں، لہٰذا ہمیں کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم تو اَعمال کے ذریعے ہی اللہ سے لیں گے، اَسباب کے ذریعے نہیں۔ 
دوسری طرف: دوسرا طبقہ جو اَسباب کو ہی مؤثرِ حقیقی سمجھے ہوئے ہے، اور دین، ایمان ویقین اور اعمال کو کوئی حیثیت ہی نہیں دیتا، اور مادی محنت یعنی ظاہری اَسباب کو ہی اپنی ضروریات کے پورا ہونے اور اپنے مسائل کے حل کرنے میں مؤثر سمجھتا ہے، یہ بھی صراط ِ مستقیم پر نہیں ہے، یہ بھی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے، کیونکہ ظاہری اَسباب تو کسی بھی چیز کے حاصل ہونے کا فقط ایک ظاہری ذریعہ ہوتے ہیں، جیسے: گھروں میں پانی جن نلوں کے ذریعہ پہنچتا ہے،وہ نل پانی پہنچانے کے صرف راستے ہیں،پانی کے حصول میں اُن کا ذاتی کوئی دخل نہیں ہے، بالکل اسی طرح چیزوں کے حصول میں اصل مؤثرِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، جو کسی ظاہری سبب کی محتاج نہیں ہے، چنانچہ وہ ذات بعض اوقات بغیر اسباب کے بھی کسی چیز کے وجودکا مشاہدہ کروا دیتی ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ عامۃالناس کو توکل کے حصول کے لیے ظاہری اسباب اور تدابیر کو چھوڑنا درست نہیں، بلکہ اسباب کے نتائج کو اسباب پر موقوف نہ سمجھنا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھنا،یہ توکل ہے۔ توکل کے دو درجے ہیں: اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اسباب کو چھوڑکر اللہ پر مکمل اعتماد کیا جائے، دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب کو اختیار کرے، لیکن نفع ونقصان کا یقین اللہ کی ذات پر رہے۔ پہلا درجہ خواص کے لیے اور دوسرا عوام کے لیے ہے۔
اس بحث کے خلاصے کے طور پر اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ایک ہے اسباب کا اختیار کرنا اور اُنہیںاستعمال کرنا، اور ایک ہے اُن اسباب کو دل میں اُتارنا اور اُن پر ہی یقین رکھنا، پہلی چیز کو اپنانا محمود اور مطلوب ہے اور دوسری چیز کو اپنانا مذموم ہے۔ ہماری محنت کا رُخ یہ ہونا چاہیے کہ ہم ان اسباب کی محبت اور یقین کو دل سے نکالیںاور اس کے برعکس ’’یقین‘‘ اللہ تعالیٰ پر رکھیں کہ ہماری ہر طرح کی ضروریات پوری کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے، وہ چاہے تو اَسباب کے ذریعے ہماری حاجات وضروریات پوری کر دے اور چاہے تو ان اسباب کے بغیر محض اپنی قدرت سے ہماری ضروریات وحاجات پوری کردے، وہ اس پر پوری طرح قادر اور خود مختار ہے۔ البتہ! ہم اس دارالاسباب میں اسباب اختیار کرنے کے پابند ہیں، تاکہ بوقتِ حاجت وضرورت ہماری نگاہ وتوجہ غیر اللہ کی طرف نہ اُٹھ جائے۔ اس بات میں تو کوئی شک وشبہ ہے ہی نہیں کہ اللہ رب العزت ہماری محنتوں کے محتاج نہیں ہیں، لیکن کیا شریعت کا مزاج اور منشا بھی یہی ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں؟! بالخصوص جب کہ اس ترکِ اسباب کا نتیجہ یہ نکلتا ہو کہ بیوی، بچوں اور والدین کے حقوق تلف ہوتے ہوں اور یہ غیروں کے اَموال کی طرف حرص وہوس کے ساتھ دیکھتا رہے، تو یاد رکھیں ! اس طرح کے لوگوں کو شریعت اس طرزِ عمل کی تعلیم نہیں دیتی، بلکہ سیرتِ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرتِ صحابہؓ تو حلال طریقے سے کسب ِ معاش کی تعلیم دیتی ہے۔
 

اسباب کی اقسام 

اسباب کی تین قسمیں ہیں: 1-قطعی ویقینی اسباب، 2-ظنی اسباب، 3-وہمی اسباب۔
1-قطعی ویقینی اسباب: وہ اسباب ہیںجن پر مسبَّب کا مرتب ہونا یقینی ہے، جیسے بھوک کے وقت کھانا کھانا، پیاس کے وقت پانی پینا، سردی سے تحفظ کے لیے گرم لباس پہننا، ان اسباب کا اختیار کرنا فرض ہے اور موت کا خوف ہو تو ان کا ترک کرنا حرام ہے۔ ان اسباب کا اختیار کرنا توکُّل کے خلاف نہیں ہے۔ البتہ یہاں بھی یہ واضح ہے کہ ان اسباب کو اختیار تو لازمی کریں گے، لیکن ان کے مؤثرِ حقیقی ہونے کا یقین رکھنا جائز نہیں ہو گا۔
2-ظنی اسباب: جیسے بیماریوں کی دوا دارو، جائز دم اور تعویذکہ حصول شفاء کے لیے انہیں ظنِ غالب کا درجہ حاصل ہوتا ہے، ان کا حکم یہ ہے کہ ہم جیسے کمزوروں کو ان اسباب کا ترک کرنا بھی درست نہیں، البتہ جو حضرات قوتِ ایمانی اور قوتِ توکل میں مضبوط ہوں، اُن کے لیے ان اسباب کا ترک جائز ہے۔
3-وہمی اسباب: (یعنی جن کے اختیار کرنے میں شک ہو کہ مفید ہوں گے یا نہیں) حصولِ توکل کے لیے ان کا ترک کرنالازمی ہے۔

جھاڑ پھونک، دَم درود اور تعویذ کا حکم

واضح رہے کہ جس طرح بیماری کی صورت میں دوائی کا استعمال جائز ہے،اسی طرح تعویذ اور دَم بھی جائز ہے اور یہ محض ایک طریقۂ علاج ہے، اور اس کے جواز پر اجماع ہے،البتہ تعویذ اور دَم کے لیے تین شرائط کا پایا جانا لازمی ہے، اگر وہ تین شرائط نہ ہوں تو پھر اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
1- تعویذات کے الفاظ قرآن کریم، یا احادیث سے لیے گئے ہوں، یا اللہ کے اسماء و صفات میں سے ہوں۔
2- عربی زبان میں ہوں اور اگر کسی عجمی زبان میں ہوں تو اس کے الفاظ کے معانی معلوم ہوں۔
3-دَم کرنے اور کرانے والا دونوں یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ دَم اور تعویذ میں خود کوئی تاثیر نہیں، بلکہ مؤثرِحقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، یہ دَم اور تعویذ صرف سبب اور ذریعہ ہیں۔تعویذ کے جواز پر کئی احادیث شاہد ہیں۔
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہٗ مسلم شریف کی شرح ’’تکملۃ فتح الملہم‘‘ (۴/۳۱۷، ۳۱۸) میں لکھتے ہیں: ’’دَم کے بارے میں اصل یہ ہے کہ قرآن کریم، یا اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ، یا صفاتِ مبارکہ پڑھ کر مریض پر دَم کیا جائے اور یہ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کئی احادیث سے ثابت ہے اور تعویذات لکھنا اور اس کو بچوں یا بیماروں کے گلے میں ڈالنا یا لکھ کر پانی میں گھول کر مریض کو پلانا، کئی صحابہ کرامؓ اور تابعین کرامؒ سے ثابت ہے۔ اور احادیثِ مبارکہ میں جن دَموں اور تعویذات سے منع کیا گیا ہے، وہ مشرکین کے دَم تھے، جن میں شیطان سے مدد لیا کرتے تھے۔ اور وہ دَم جن میں شرکیہ کلمات نہ ہوں، وہ جائز ہیں اور کئی احادیث سے ثابت ہیں اور یہی حال حرام ’’تمائم‘‘ (وہ ڈوری،جسے مشرکین مؤثر بالذات سمجھ کر بچوں کے گلے میں نظرِبد سے بچانے کے لیے ڈالتے تھے) کا ہے اور ان حرام تمائم کا آیاتِ قرآنیہ اور اسماء باری تعالیٰ پر مشتمل تعویذات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تعویذات جمہور علمائے کرام کے نزدیک جائز ہیں، بلکہ بعض علمائے کرام نے اس کو مستحب قراردیا ہے، جب منقول و ماثور اذکار پر مشتمل ہوں۔
اس پوری تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی مرض کے لیے تعویذات کا استعمال اسباب کے درجے میں جائز ہے، بشرطیکہ شرکیہ کلمات پر مشتمل نہ ہو اور اس کو مؤثر بالذات نہ سمجھا جائے۔
 

مختلف پتھروں کو مؤثرِ حقیقی سمجھنا 

بعض لوگ مختلف قسم کے پتھروں،جیسے:فیروزہ،زمرد اور یاقوت وغیرہ کو اپنی زندگی پراثر انداز سمجھتے ہیں، اور ان پتھروں کی انگوٹھی بنا کر پہنتے بھی ہیں،تو شرعاًاس کی کوئی حقیقت نہیں۔

ستاروں اور سیاروں کو مؤثرِ حقیقی سمجھنا 

بعض لوگ چاند، سورج، ستاروں اور مختلف سیاروں کو اپنی قسمت پر اثر انداز سمجھتے ہیں، اور ان کی گردش کے ذریعے اپنی قسمت کا حال معلوم کرنے کے لیے نجومیوں کے پاس جاتے ہیں۔ یہ بھی درست نہیں، کیونکہ علمِ نجوم قیاسات، اندازے اور تخمینے پر مشتمل ہے، اس میں کوئی یقینی بات نہیں ہوتی، نیز احادیث میں نجومیوں کے پاس جانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے،چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’مَنْ اَتٰی عَرَّافًا فَسَألَہٗ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَہٗ صَلَاۃٌ اَرْبَعِینَ لَیْلَۃً۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۲۳۰)
’’جوشخص نجومی کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو اُس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔‘‘
مذکورہ تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بعض اخبارات میں ’’آج کا دن کیسا گزرے گا؟‘‘، ’’یہ ہفتہ کیسا رہے گا؟‘‘ کے عنوان سے جو باتیں لکھی جاتی ہیں،شریعت میں اُن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کے فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین