بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

توبہ کا مفہوم، اقسام واہمیت اور طریقہ کار

 توبہ کا مفہوم، اقسام واہمیت اور طریقہ کار

    ابنِ قیم v فر ماتے ہیں: ’’توبہ انسان کی پہلی، درمیانی اور آخری منزل ہے، بندہ سالک اُسے کبھی اپنے سے جدا نہیں کرتا، مدت تک توبہ اور رجوع کی حالت میں رہتا ہے۔ اگر ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف سفر اختیار کرتا ہے تو توبہ اس کا رفیق ہوتا ہے جہا ں وہ جائے، پس توبہ بندہ کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی، بلکہ ابتدا کی طرح موت کے وقت اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔‘‘( مدارج السالکین، صفحہ: ۱۴۱)     توبہ دل کا نور ہے،نفس کی پاکیزگی ہے، توبہ انسان کو اس حقیقی زندگی کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ: اے غافل انسان !آؤ! قبل اس کے کہ زندگی کا قافلہ کوچ کر جائے اور موت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آ موجود ہو،توبہ کرنے والوں کی ہم نشینی اختیار کر لیں،کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ قبر محض ایک گڑھا نہیں،بلکہ جنت کے باغو ں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا  ہے۔ (کما رواہ الترمذي في سننہ عن أبي ھریرۃ ؓ،کتاب صفۃ القیامۃ:۴/۶۳۹-۶۴۰،رقم الحدیث :  ۲۴۶۰ )     پس جس کی ابتدا توبہ اور رجوع سے روشن اور چمکدار ہوگی، اس کی انتہا بھی نور مغفرت سے منور ہوگی،جو اللہ کی طرف رجوع اور توبہ میں اخلاص اور سچائی کو اختیار کر ے گا، اللہ تعالیٰ اُسے خاتمہ بالخیر کی تو فیق عطا فرمائیں گے۔ توبہ سب کے لیے     توبہ صرف گنہگاروں کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ سب ایمان والوں کو توبہ کا حکم دیا گیا ہے، اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے : ’’وَتُوْبُوْا إِلٰی اللّٰہِ جَمِیْعًا أَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘۔               (النور :۳۱) ترجمہ:’’اورتوبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمان والو! تاکہ تم بھلائی پائو‘‘۔(ترجمہ از شیخ الہندؒ)     صحیح مسلم میں حضرت مزنی q سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا :اے لوگو! گناہوں سے باز آجاؤاور اللہ کی طرف رجوع کر لو اور میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، رقم:۷۰۳۴)     غور فرمائیں کہ جب اللہ تعالیٰ کے آخری نبی a جو اولین وآخرین کے سر دار ہیں، بخشے بخشائے ہوئے ہیں، تمام جنتیوں کے سردار ہیں، مقامِ محمود کے مالک ہیں،وہ ایک دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ واستغفار کے عمل کو ا ختیار کرتے ہیںتو ہم گنہگار اور خطا کار امیتوں کو کس قدر توبہ واستغفار کا اور اللہ کی طرف رجوع کا اہتمام کر نا چاہیے!۔ گناہوں سے فوری توبہ کی ضرورت       آج کے اس پرآشوب ماحول میں تمام اہل ایمان کو چاہیے کہ بغیر کسی استثنا کے فوری توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ موت سے پہلے موقع ہے، اسے ضائع نہ کریں،اللہ رحیم و کریم بھی اپنے بندوں کی توبہ کا انتظار فرماتے ہیں اور ان کی توبہ کو قبول کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بندہ توبہ کرے اور وہ قبول فرمائے،چنانچہ قرآن کریم میں ارشادِ خداوندی ہے: ’’وَاللّٰہُ یُرِیْدُ أَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْْکُمْ‘‘۔                   (النسائ:۲۷) ترجمہ:’’اوراللہ چاہتا ہے کہ تم پر متوجہ ہوئے‘‘۔ (ترجمہ از: شیخ الہندؒ) گناہ کرکے توبہ نہ کرنے کا انجام     یہ یاد رکھیں کہ گناہ کا صدور ہونا ایمان کے منافی نہیں۔ ایمان والے سوائے انبیا o کے کوئی بھی معصوم نہیں اورعام انسانوں سے گناہ کا ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ گناہ کا ہوجانا اور بھول چوک تو انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ یہ اتنا خطر ناک اور ہلاکت خیز نہیں،جتنا گناہ ہوجانے کے بعد توبہ نہ کرنا اور اس سے غفلت اختیار کرنا ہلاکت آمیز اور تباہ کن ہے۔ مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ q سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا : ’’والذی نفسی بیدہ لو لم تذنبوا لذھب اللّٰہ بکم ولجاء بقوم یذنبون فیستغفرون اللّٰہ فیغفر لھم‘‘۔           (صحیح مسلم،باب سقوط الذنوب بالاستغفار، رقم :۷۱۴۱ ) ترجمہ :’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے،اگر تم گناہوں کا ارتکاب نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ختم کر کے ایسی قوم کو لے آئیں گے جو گناہ کرے گی اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے گی تو اللہ ان کی مغفرت فرما دیں گے۔ سنن ِترمذی اور سننِ ابنِ ماجہ میں حضرت انس q سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا:  ’’کل بني آدم خطاء وخیر الخطائین التوابون ‘‘۔(سنن الترمذي، کتاب صفۃ القیامۃ، رقم :۲۴۹۹) ترجمہ:’’ تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں ‘‘۔     ان روایات سے معلوم ہوا کہ بندہ کا توبہ کرنااور اللہ کی طرف رجوع کر ناانتہائی ضروی ہے، ورنہ اسے اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے شمار کیا جائے گا، امام مجاہدv فرماتے ہیں: ’’من لم یتب إذا أصبح وإذا أمسٰی فہو من الظالمین‘‘۔ ترجمہ:’’جو شخص (ہر روز) صبح و شام توبہ نہیں کرتاوہ ظالمین میں سے ہے‘‘۔(تفسیر الثعلبي :۱/۱۱۹)     طلق بن حبیب v فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق کی ادائیگی بہت بڑی بات ہے، مگر تم توبہ کی حالت میں صبح و شام کرو ‘‘۔(تفسیر ابن کثیر ؒ :۸/۷۸،التفسیر المنیر :۱۳/۲۵۶)     ابنِ رجبv فرماتے ہیں :’’جس نے بغیر توبہ کیے صبح و شام کی و ہ خطرے میں ہے، اُسے یہ خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ کہیں بغیر توبہ کے اللہ سے ملاقات نہ ہوجائے اور اللہ اس کاشمار ظالموں میں نہ کردیں‘‘۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَأُولٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ‘‘۔(الحجرات:۱۱) ۔۔۔۔’’ اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہیں بے انصاف‘‘۔ (لطائف المعارف،ص:۴۵۸)     ابن قیم vنے لکھا ہے کہ ا للہ تعالیٰ نے آیت ’’مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَأُولٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ‘‘ میں بندوں کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں :۱:…توبہ کرنے والے۔ ۲:… ظالم، اور یقیناًان دو کے علاوہ کوئی تیسری قسم نہیں،اور توبہ نہ کرنے والوں کو اللہ نے ظالم شمار کیا ہے۔(مدارج السالکین،صفحہ:۱۴۲) معصیت کے نقصانات        حضرت ابنِ قیم vفرماتے ہیں کہ بندے کو چاہیے کہ اسے معلوم ہو کہ گناہ و معاصی نقصان دہ اور ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں،جس طرح مختلف قسم کے زہر سے بدن انسانی متأ ثر ہوتا ہے اور ہلاکت کا باعث بنتا ہے، ایسے ہی گناہ سے انسانی دل متأ ثر ہو تا ہے۔ دنیا وآخرت میں جتنے شرور و بیماریاں ہیں، ان سب کا سبب صرف گناہ اور معاصی ہیں۔(الداء والدوائ،ص:۶۰)     کسی اللہ والے کا قول ہے: ’’لاتنظر إلٰی صغر الخطیئۃ ولٰکن انظر إلٰی مَنْ عصیتَ ‘‘۔ ترجمہ:’’ تم گناہ کے چھوٹے ہونے کو مت دیکھو، بلکہ تم جس کی معصیت کر رہے ہو اس کی عظمت کوپیش نظر رکھو‘‘۔    ( أخرجہ أحمد في الزھد، ص:۴۶۰، تھذیب الداء و الدواء : ۱/۵۴)     حضرت بشرv فرماتے ہیں: ’’لو تفکر النّاس في عظمۃ اللّٰہ ما عصوا اللّٰہَ عزّ و جلّ ‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر ؒ :۲/۱۸۵) ترجمہ:’’ اگر اللہ کی عظمت لوگوں کے پیشِ نظر رہے تو وہ اللہ کی نا فرمانی سے باز آجائیں گے ‘‘۔ توبہ کی تعریف     گناہوں اور معصیت سے جس توبہ کا ہم سے بار بار مطالبہ کیا گیا ہے، اس کی حقیقت سے واقف ہونا انتہائی ضروری ہے۔اگر توبہ کی حقیقت نہ پائی جا رہی ہو توصرف زبان سے توبہ توبہ کہنا کافی نہیں۔     لغت میں توبہ لوٹنے اور رجوع کر نے کو کہتے ہیں،علامہ رازی v نے’’ مختار الصحاح، صفحہ: ۵۹‘‘ میں اور علامہ فیروز آبادی v نے ’’القاموس المحیط،صفحہ:۵۹‘‘ میں لکھا ہے :’’ تاب إلٰی اللّٰہ‘‘  اور ’’توبۃ‘‘ گناہ اور معصیت سے لوٹنے کو کہا جاتا ہے۔شریعت میں اللہ کی معصیت و نا فرمانی کو ترک کرکے اس کی اطاعت اختیار کر نے کوتوبہ کہتے ہیں۔ توبہ کی حقیقت اور مراتب     سچی توبہ کے لیے علما نے کچھ شرائط ذکر کی ہیں،چنانچہ امام قرطبی v فرماتے ہیں :  ’’ھی الندم بالقلب، وترک المعصیۃ فی الحال، و العزم علٰی ألا یعود إلٰی مثلھا، وأن یکون ذلک حیائً من اللّٰہ‘‘۔                          (تفسیر القرطبی، سورۃ النساء :۵/۹۱) ترجمہ:’’(یقیناً سچی توبہ ) وہ یہ ہے کہ (اس میں یہ درج ذیل چیزیں پائی جائیں) : ۱:… گناہ پر دل سے ندامت ہو، ۲:…فوری طور پر گناہ کو ترک کرے، ۳:…اور پکا ارادہ کرے کہ دوبارہ اس معصیت کا ارتکاب نہیں کرے گا، ۴:…اور یہ سب کچھ ’’اللہ کی حیا‘‘کی وجہ سے ہو ‘‘۔ مراتب ِ توبہ     توبہ کے تین مراتب ہیں :۱:…توبہ کا سب سے بڑا اور لازمی درجہ ترکِ کفراور قبول ایمان ہے۔۲:… اس کے بعد دوسرا بڑا درجہ کبائر(بڑے گناہوں ) سے توبہ کا ہے۔۳:…تیسرا مرتبہ صغیرہ گناہوں سے توبہ کا ہے۔ توبہ کی اقسام      توبہ کی دو قسمیں ہیں:۱:…واجب ، ۲:…مستحب۔ کسی بھی مامور کے ترک اورمحظور و ممنوع کام کے کرنے سے توبہ کرنا فی الفور واجب اور ضروری ہے اور یہ تمام مکلف اہلِ ایمان پر واجب ہے۔ مستحبات کے ترک اور مکروہات کے ارتکاب سے توبہ کرنا مستحب ہے۔ (جامع الرسائل لابن تیمیۃؒ،رسالۃ فی التوبۃ :۱/۲۲۷) سچی اور صحیح توبہ کی شرائط     ۱:…فوری طور سے معصیت وگناہ سے باز آنا۔     ۲:…تمام سابقہ گناہوں پر دل سے ندامت ہو، حضور a کا ارشاد ہے :’’الندم التوبۃ‘‘، یعنی ندامت توبہ ہے۔ (مسند أبی یعلی، مسند عبد اللہ بن مسعودؓ،رقم :۴۹۶۹،۵۰۸۱، ۵۱۲۹)ندامت ہی توبہ کا رکنِ اعظم ہے۔      ۳:…دوبارہ گناہ کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم۔ (تفسیر السراج المنیر:۲/۶۸)     ۴:…لوگوں کے حقوق کی ادائیگی،یا ان سے معاف کرانا۔(تفسیرابن کثیر:۸/۱۶۹، تفسیر الخازن:۷/۱۲۲)     ریاض الصالحین،صفحہ:۱۲میں امام نووی vنے لکھا ہے کہ اگر معصیت کا تعلق آدمی سے ہو تو اس کے لیے چار شرائط ہیں، تین وہ جن کا اوپر تذکرہ ہوا اور چوتھی یہ کہ لوگوں کے حقوق سے خود کو بری کرے، اگر کسی کا مال یا اس طرح کی کوئی اور چیز لی ہے تو واپس لوٹا دے، اگر کسی پر جھوٹی تہمت وغیرہ لگائی ہے تواس سے معافی طلب کرے یا اس کو ’’حد‘‘ پر قدرت دے اور اگر کسی کی غیبت کی ہے تو اس کی بھی معافی مانگے۔     ۵:… توبہ نصوح اور سچی توبہ کی پانچویں شرط یہ ہے کہ بندہ اخلاص کو اختیار کرے، یعنی اللہ کے عذاب کے خوف و ڈراور اس کی مغفرت و ثواب کی امید پر گناہوں کو ترک کرے۔     ۶:… چھٹی شرط یہ ہے کہ توبہ کا عمل ’’توبہ کے وقت ‘‘ میں ہو۔ توبہ نصوح کسے کہتے ہیں؟     اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کو’’ توبہ نصوح ‘‘کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا تُوْبُوْا إِلٰی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا‘‘۔                        (التحریم:۸) ترجمہ:’’ اے ایمان والو! توبہ کرواللہ کی طرف صاف دل کی توبہ‘‘۔(ترجمہ ازشیخ الہندؒ)      توبہ نصوح سے کیا مراد ہے؟ آئیے !صحابہ کرامs،تابعینؒ،سلف صالحینؒ اور مفسرین کرامw کے اقوال کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں،’’ نصوحًا ‘‘ النصحسے ماخوذ ہے،عربی میں سلائی کرنے کو کہتے ہیں، گویا توبہ گناہوں کی پھٹن کو رفو کر کے ایسے ختم کر دیتی ہے، جیسا کہ درزی اوررفو گرکسی پھٹے ہوئے کپڑے کو سلائی و رفو کر کے اس کی پھٹن کوبالکل ختم کر دیتا ہے۔ توبہ نصوح کو سچی، خالص اور محکم و پختہ توبہ بھی کہا جاتا ہے۔’’نُصوحًا‘کو نون کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے،ایسی توبہ کو کہا جاتا ہے کہ جس سے آدمی نصیحت حاصل کر ے۔ (تفسیر السمعانی:۵/۴۷۷)      امام فراء vفرماتے ہیںکہ آیت میں ’’نصوحًا ‘‘توبہ کی صفت ہے،معنی یہ ہے کہ وہ توبہ اپنے کرنے والے کو اس بات کی فہمائش کرے کہ ان گناہوں کی طرف لوٹنے کو ترک کرے جن سے اس نے توبہ کی ہے،اور وہ ایسی سچی اور نصیحت آمیز توبہ ہے کہ کرنے والے اپنے نفس کو گناہوںکی گندگی سے پاک کرتے ہیں۔(تفسیر الرازی،سورۃ التحریم:۱/۴۴۹۰)      امام قرطبی v نے لکھا ہے کہ اصلِ توبہ نصوح خالص ہونا ہے،ملاوٹ سے پاک شہد کو’’ عسل ناصح‘‘ کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ ’’نصاحۃ ‘‘بمعنی سلائی سے ماخوذ ہے،اس سے اخذ کی دو وجہیں ہیں:۱:…اس توبہ نے اس کی اطاعت الٰہی کو محکم و پختہ کیا ہے، جیسا کہ درزی سلائی سے کپڑے کو محکم و پختہ کردیتا ہے،۲:… اس توبہ نے اسے اللہ کے اولیاء کے ساتھ جوڑا، جمع کیا اور ملایا ہے،جیسا کہ درزی سلائی کے ذریعہ کپڑے کے مختلف حصوں کو آپس میں ملا تا اور جوڑ دیتا ہے۔ (تفسیر القرطبی:۱۸/۱۹۹)     حضرت معاذ qکے سوال پر حضور اکرم a نے فرمایا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ بندہ اپنے کیے ہوئے گناہ سے نادم ہو کر اللہ کی طرف یوں بھاگے کہ دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹے، یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے۔ (الدر المنثور:۶/۲۸۴)     حضرت عمرؓ،ابی بن کعبؓ اور معاذs فرماتے ہیں :’’التوبۃ النصوح أن یتوب ثم لا یعود إلی الذنب کما لایعود اللبن إلی الضرع ‘‘۔۔۔۔۔’’ توبہ نصوح یہ ہے کہ وہ توبہ کرے اور پھر اس گناہ کی طرف دوبارہ نہ لوٹے،جس طرح دودھ تھنوں میں لوٹ کر واپس نہیں جاتا۔(تفسیر القرطبی،سورۃ التحریم:۱۸/۱۹۷)      حضرت حسنv فرماتے ہیں کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ بندہ اپنی سابقہ گناہ آلودزندگی پرنادم ہو، دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹنے کے عزم کے ساتھ۔کلبی v نے کہا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ زبان سے استغفار کرے،دل سے ندامت اختیار کرے اور اپنے بدن کو قابو میں رکھے۔ قتادہ v نے کہا کہ سچی نصیحت آمیز توبہ کو نصوح کہتے ہیں۔(تفسیر الخازن:۷/۱۲۱)     سعید بن جبیرv فرماتے ہیں کہ: ’’نصوح‘‘ مقبول توبہ کو کہتے ہیں، اور توبہ اس وقت تک قبول نہیں کی جاتی ہے، جب تک اس میں تین چیزیں نہ پائی جائیں: ۱:…عدم قبولیت کا خوف ہو۔ ۲:… قبولیت کی امیدہو۔ ۳:…طاعات پر ثابت قدمی ہو۔     محمد بن سعیدقرظی v کہتے ہیںکہ: توبہ نصوح چار چیزوںکے پائے جانے کا نام ہے: ۱:… زبان سے استغفار کرنا۔۲:… بدن سے گناہوں کواکھیڑ پھینکنا۔۳:…دل سے دوبارہ لوٹنے کے ترک کا اظہار کرنا۔ حضرت ابن عباسr سے بھی یہی منقول ہے۔ (البحرالمدید:۸/۱۲۷)۔ ۴:…برے دوستوں کی صحبت سے دوری اختیار کرنا۔۵:…ذون النون v نے کہا: اہل خیر کی صحبت اختیارکرنا۔(تفسیر الخازن:۷/۱۲۲)     سفیان ثوری v نے فرمایا کہ چار چیزیں توبہ نصوح کی علامت ہیں:۱:… ’’القلّۃ‘‘یعنی گناہوں کو زائل کرنا۔۲:…  ’’العلّۃ‘‘یعنی اللہ کی یاد سے دل بہلانایاتشویش میں مبتلا ہونا یعنی نادم ہونا۔ ۳:… ’’الذلّۃ‘‘یعنی انکساری اور تابعداری اختیار کرنا۔۴:…’ ’’الغربۃ‘‘یعنی گناہوں سے دوری و جدائی اختیار کرنا۔     فضیل بن عیاض v  نے فرمایا کہ:( توبہ کے بعد)گناہ اس کی آنکھوں میں کھٹکے، گویا وہ اُسے برابر دشمنی کی نگاہ سے دیکھ رہا ہو۔     ابوبکر واسطی v  نے فرمایا :توبہ نصوح (خالص) توبہ کا نام ہے، نہ کہ عقد معاوضہ کا،اس لیے کہ جس نے دنیا میں گناہ کیا اپنے نفس کی سہولت اور مفاد کی خاطر اور پھر توبہ کی اسی نفس کی سہولت کے پیش نظر تو اس کی توبہ اپنے نفس کے لیے ہوگی، نہ کہ اللہ کے لیے۔(تفسیر الثعلبی:۹/۳۵۰)     ابوبکر مصری v نے فرمایا:توبہ نصوح مظالم کے لوٹانے یعنی حقوق والوں کے حقوق ادا کرنا، دعویداروں سے حقوق معاف کروانا، اور طاعات پر مداومت کرنے کو کہتے ہیں۔     رابعہ بصریہ xنے کہا:ایسی توبہ جس میں گناہ کی طرف واپس لوٹنے کا خیال نہ ہو۔ ذوالنون مصری v  نے کہا: توبہ نصوح کی تین علامتیں ہیں:۱:۔۔۔قلت ِکلام۔۲:۔۔۔قلت ِ طعام۔۳:۔۔۔ قلت ِ منام۔     شقیق بلخی v نے کہا کہ: توبہ نصوح کرنے والا بکثرت اپنے نفس پر ملامت کرے اور ندامت اس سے کبھی جدا نہ ہو ،تاکہ وہ گناہوں کی آفتوں سے سلامتی کے ساتھ نجات پاسکے۔     سری سقطی v نے کہاکہ: توبہ نصوح ایمان والوں کو اصلاحِ نفس کی فہمائش کیے بغیر نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ جس کی توبہ درست قرار پائی تو وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ سب لوگ اس کی طرح توبہ نصوح کرنے والے ہوں۔(تفسیر الثعلبی:۹/۳۵۰)     جنید بغدادی v نے فرمایا: توبہ نصوح یہ ہے کہ وہ گناہوں کوایسے بھول جائے کہ پھر ان کا تذکرہ بھی نہ کرے،کیوں کہ جس کی توبہ درست قرار پاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا بن جاتا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی وہ اللہ کے ماسوا کو بھول گیا۔     سھل تستری v نے فرمایا: توبہ نصوح اہل سنت والجماعت کی توبہ کا نام ہے، اس لیے کہ بدعتی کی کوئی توبہ نہیں،حضور a کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ اللہ نے ہر صاحب بدعت کو توبہ کرنے سے محجوب کردیا ہے۔     فتح موصلی v کہتے ہیں کہ: اس کی تین علامتیں ہیں:۱:… نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنا۔ ۲:…بکثرت رونا۔ ۳:… بھوک اور پیاس کی مشقت کو برداشت کرنا، یعنی قلت ِطعام و شراب۔ (الکشف والبیان :۹/۳۵۱)      حضرت عمر q سے توبہ نصوح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؓ نے فرمایاکہ آدمی برے عمل سے توبہ کرے اور پھر کبھی اس کی طرف لوٹ کر نہ جائے۔     حضرت حسن v نے فرمایا: توبہ نصوح یہ ہے کہ تو گناہ سے ویسے ہی نفرت کر جیسے تو نے اس سے محبت کی اور جب تجھے یاد آئے تو اس سے توبہ و استغفار کر۔(تفسیرابن کثیر:۸/۱۶۸)      ابو بکر وراق v نے کہا :توبہ نصوح یہ ہے کہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو جائے، جیسا کہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوںنے توبہ کی تھی۔(تفسیر القرطبی:۸/۲۸۷)     ابو عبد اللہ v کہتے ہیں کہ: دس چیزوں کا نام توبہ نصوح ہے:۱:… جہل سے نکلنا، ۲:… اپنے فعل پر نادم ہونا، ۳:… خواہشات سے دوری اختیار کرنا، ۴:… سوال کیے جانے والے نفس کی پکڑ کا یقین، ۵:… ناجائز معاملات کی تلافی کرنا، ۶:…ٹوٹے ہوئے رشتوں کا جوڑنا، ۷:…جھوٹ کو ساقط کرنا، ۸:… برے دوست کو چھوڑنا، ۹:…معصیت سے خلوت اختیار کرنا، ۱۰:…غفلت کے طریق سے عدول کرنا۔ (حقائق التفسیر للسلّمي:۲/۳۳۷)     علامہ شبیر احمد عثمانی v لکھتے ہیں کہ: توبہ نصوح سے مراد صاف دل کی توبہ ہے، وہ یہ ہے کہ دل میں پھر اس گناہ کا خیال نہ رہے، اگر توبہ کے بعد انہی خرافات کا خیال پھر آیا تو سمجھو کہ توبہ میں کچھ کسر رہ گئی ہے اور گناہ کی جڑ دل سے نہیں نکلی، رزقنا اللّٰہ منھا حظًا وافرًابفضلہ و عونہ وھو علٰی کل شئیئٍ قدیر۔(تفسیر عثمانی، سورۃ التحریم : ۸) باعتبارِ وقت و زمانہ کے توبہ کی اقسام     باعتبارِ وقت و زمانہ کے توبہ کی دو قسمیں ہیں :ایک یہ کہ ہر انسان اپنی زندگی میں موت کی ہچکچاہٹ سے پہلے پہلے توبہ کرلے، اس لیے کہ سانسیں اکھڑنے کے بعد کی جانے والی توبہ کاکوئی اعتبار نہیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ حَتّٰی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الْآنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ أُوْلَـئِکَ أَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا أَلِیْمًا‘‘ ۔(النساء :۱۸) ترجمہ:’’اور ایسوں کی توبہ نہیں جو کیے جاتے ہیںبرے کام، یہاں تک کہ جب سامنے آجائے ان میں سے کسی کی موت تو کہنے لگا میں توبہ کرتا ہوں اب،اور نہ ایسوں کی توبہ جو مرتے ہیں حالت کفر میں، ان کے لیے ہم نے تیار کیا ہے عذاب درد ناک۔   (ترجمہ از شیخ الہندؒ)     رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا : ’’إنّ اللّٰہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر ‘‘۔        (سنن الترمذي، کتاب الدعوات، رقم:۳۵۳۷) ترجمہ:’’بے شک اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس کی روح گلے تک نہ پہنچے (یعنی جب تک اس کی سا نسیں نہ اکھڑ جائیں)‘‘۔      توبہ کی دوسری قسم وقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ تمام مخلوق کی توبہ اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہونے لگے اور جب سورج مغرب سے طلوع ہو نے لگ جائے تو پھراس وقت کسی کی بھی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ حضو ر a نے فرمایا :’’من تاب قبل أن تطلع الشمس من مغربھا تاب اللّٰہ علیہ ‘‘۔۔۔۔  یعنی ’’جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمائیں گے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعائ،رقم:۶۸۶۱)  توفیقِ توبہ کے اعتبار سے لوگوں کی قسمیں     اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی توفیق ملنے اور نہ ملنے کے اعتبار سے لوگوں کی مختلف قسمیں بنتی ہیں:     ۱:… ایک قسم تو ان لو گوں کی ہے جن کو زندگی بھر سچی توبہ کی تو فیق نہیں ملتی، ان کی تمام عمر سنِ شعور سے لے کر موت تک پورا عرصہ گناہوں اور معصیت میں صَرف ہو جا تا ہے، یہاں تک کہ اسی حالت میں ان کو موت آجا تی ہے، یہ بد بخت لوگوں کی حالت ہے۔     ۲:… ان سے قبیح اور برے وہ لوگ ہیںجن کو ابتدا سے لے کر آخر تک تمام عمر نیک اعمال کی توفیق ملتی رہی، پھر آخری وقت میں کسی برے عمل میں مبتلا ہوجائیں، یہاں تک کہ وہ اسی برے عمل کو کرتے ہوئے مر جائیں،جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ اہل جنت والے اعمال اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ جہنمی لو گوں والا کوئی عمل اختیار کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔  (صحیح البخاری،کتاب الأنبیائ، باب قول اللّٰہ تعالٰی:وإذ قال ربک للملائکۃ إني جاعل في الأرض خلیفۃ، رقم: ۳۳۳۲)      ۳:…ایک تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنا کل متاع عزیز اور ساری زندگی غفلت و دھوکے میں گزار دیتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں کسی عملِ صالح کی توفیق مل جاتی ہے ا ور وہ اس پر انتقال کر جاتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو عمر بھر جہنمی لوگوں والے اعمال کر تے رہے، یہاں تک کہ ان کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ اہلِ جنت جیسا عمل اختیار کر کے جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔(حوالہ سابق)     یہ بات تو واضح ہے کہ اعما ل کا دار و مدار خاتمہ پر ہے،اعتبار خیر یا شر پر خاتمے کا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ فرماتے ہیں تو اسے کسی نیک عمل کی توفیق عنایت فرمادیتے ہیں، پھر اسی پر اس کی روح قبض کر لیتے ہیں۔(سنن الترمذي،کتاب القدر، رقم:۲۱۴۲)     ۴:…ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ اور پل پل اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزار تے ہیں، پھر موت سے پہلے ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اب اللہ سے ملاقات کا وقت آن پہنچا ہے تو وہ اس ملاقات کی تیاری میں لگ جاتے ہیں اور ایسا زادِ راہ و توشہ اختیار کرتے ہیں جو اس ملاقات کے شایانِ شان ہو۔یہ لوگوں کی سب سے بہترین اشرف و اعلیٰ قسم ہے۔ حضرت ابنِ عباس r فرماتے ہیں کہ: جب نبی a پر  {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ}(النصر:۱) نازل ہوئی جس میں رسول اللہ a کو دنیا سے پردہ کرنے کے بارے میں اشارہ فرمایا گیا ہے تو آپ a اپنی تمام تر صلاحیتیں اور کوششیں آخرت میں کام آنے والے اعمال میں صرف کرنے لگے (جیسا کہ نبوت ملنے کے بعد سے آپ a کا معمول تھا) (الدر المنثور، سورۃ النصر:۱۵/۷۲۲-۷۲۳ ۔ تفسیر ابن کثیر: ۶/۵۶۲)     حضرت ام سلمہt فرماتی ہیں کہ رسول اللہ a حیات کے آخری لمحات میں اٹھتے، بیٹھتے، آتے جاتے ہر وقت ’’سبحان اللّٰہ و بحمدہ أستغفر اللّٰہ و أتوب إلیہ ‘‘کہا کر تے تھے، میں نے آپ a سے اس کثر ت کے بارے میں پوچھا تو آپ a نے فرمایا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے،پھر آپ a نے سورۂ نصر تلاوت فرمائی۔ (تفسیر ابن کثیر،النصر:۶/۵۶۴۔تفسیر القرطبی،النصر:۱۰/۱۶۶)      آپ a کی عادتِ شریفہ یہ تھی کہ ہر سال رمضان میں دس دن اعتکاف فرماتے اور حضرت جبرئیل mکو ایک دفعہ قرآن مجید سناتے تھے، وصال والے سال بیس دن اعتکاف کیا اوردو دفعہ قرآن پاک کا دور فرمایا اور آپ a فرماتے تھے کہ اب اللہ سے ملاقات کا وقت قریب ہے،پھر آپ a نے حجۃ الوداع، آخری حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر ارشاد فرمایا : لوگو! مجھ سے حج کے مسائل سیکھو،شاید میں اس سال کے بعددوبارہ حج نہ کر سکوں، یا آپ سے نہ مل پاؤں۔(صحیح مسلم، کتاب الحج، رقم :۳۱۳۷)      اس کے علاوہ آپ a نے قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے اور ان پر عمل کر نے کا حکم دیا اور مدینہ واپس آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد دنیا سے پردہ فرمالیا۔ (تفسیر القرطبی:۲۰/۱۶۷) گناہوں سے توبہ کا طریقہ     علماء کرام نے فرمایا کہ بندہ جن گناہوں میں مبتلا تھا، ان سے توبہ کا طریقہ یہ ہے دیکھا جائے کہ اس گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق سے ہے یا بندوں کے حقوق سے؟ اگر اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے کوئی حق ہے، جیسا کہ ترکِ نماز کا مرتکب تھا تو اس گناہ سے توبہ اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتی، جب تک قلبی ندامت کے ساتھ فوت شدہ نمازوں کی قضا نہ پڑھ لے،اسی طرح روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ کا معاملہ ہے کہ جب تک سابقہ روزوں اور زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں کرے گا، اس وقت تک اس کی توبہ کامل نہیں ہوگی۔ اگر گناہ کسی کو ناحق قتل کا ہے تو اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کرے، اگر اولیاء مقتول نے اس کا مطالبہ کیا ہے تو، ورنہ دیت ادا کرے۔ اگر کسی پر ایسی جھوٹی تہمت لگائی ہے جس سے ’’حد ‘‘ لازم آتی ہے تواپنے آپ کو اس کے لیے پیش کرے۔ اگر قتل اور تہمت میں اسے معاف کردیا گیا تو ا خلاص کے ساتھ ندامت اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کافی ہوجائے گا۔ اسی طرح چور، ڈاکو،شرابی اور زانی بھی توبہ کرلیں اور ان گناہوں کو ترک کریں اور پنی اصلاح کریں تو ان کی توبہ درست ہوجائے گی۔اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو اگر قدرت رکھتا ہو تو فوراً صاحب حق کا حق ادا کردے، اگر فوری ادائیگی کی قدرت نہ ہو تو جتنی جلدی ممکن ہو قدرت ہونے پر ادائیگی کا عزم کرلے۔ اگر کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کا سبب اختیار کیا ہے تو فوری طور سے اس سببِ نقصان کوزائل کردے،پھر اس مسلمان بھائی سے معافی طلب کرے اور اس کے لیے استغفار بھی کرے،اور اگر صاحب حق نے اس کو معاف کردیا تو یہ اس گناہ سے بری ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی دوسرے کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچایا تھا یا ناحق اسے ستایا تھا او ر اس صاحب حق سے ناد م ہو کر معافی مانگی،اورآئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم بھی ہو اور برابر اس سے معافی طلب کرتا رہا، یہاں تک اس مظلوم نے اسے معاف کردیا تو اس کے وہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ (تفسیر القرطبی: ۱۸/ ۱۹۹، ۲۰۰)     یہی حال باقی تمام معاصی و گناہوں کا ہے کہ اگر حقوق اللہ سے تعلق ہے تو ذکر کردہ شرائط کے مطابق توبہ کرے اور اگر بندوں کے حقوق کا معاملہ ہو تو مذکورہ طریقۂ توبہ کو اپنانے کے ساتھ حقوق کی ادائیگی کرے یا معاف کروائے۔ سلفِ صالحین کا طرزِ عمل     سلفِ صالحین کی رائے یہ کہ جس شخص کی موت کسی نیک عمل جیسے رمضان کے روزے یا حج یا عمرہ کے بعد واقع ہوجائے تو اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ جنت میں جا ئے گا۔ خود اکابرین سلفِ صالحین عمر بھر نیک اعمال میں صَرف کرنے کے با وجود موت کے وقت توبہ و استغفار کا اہتمام کرتے اور اپنا عمل استغفار اور کلمہ طیبہ ’’لاإلٰہ إلا اللّٰہ ‘‘پر ختم کیا کرتے تھے۔علاء بن زیاد کا جب آخری وقت آپہنچا تو رونے لگے، کسی نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا : اللہ کی قسم! میری یہ خواہش و چاہت ہے کہ توبہ کے ذریعے موت کا استقبال کروں۔ ان سے عرض کیا گیا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ ایسا کرلیں، انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا،وضو کیا،پھر نئے کپڑے منگوائے، انہیں زیب تن کیا، پھر قبلہ کی جانب رخ کرکے اپنے سر کو دو مرتبہ جھکایا، پھر پہلو کے بل لیٹ گئے اور روح پرواز کر گئی۔ عامر بن عبد اللہ ؒ وقت ِ اجل رونے لگے اور فر مانے لگے: ایسے ہی وقت کے لیے عمل کرنے والے عمل کرتے ہیں۔ اے ! اللہ! میں آپ سے اپنی کمی اور کوتاہی کی معافی چاہتا ہوں اور اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں،پھر اس کے بعد مسلسل ’’لاإلٰہ إلا اللّٰہ ‘‘کا ورد کرتے رہے، یہاں تک کہ روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ عمرو بن العاص vنے موت کے وقت فرمایا:اے اللہ! آ پ نے ہمیں طاعت کا حکم دیا، ہم نے اس کی کوتا ہی کی اور آپ نے معاصی سے منع کیا ہم ان کا ارتکاب کر بیٹھے، ہمارے لیے سوائے آپ کی معافی و مغفرت کے اور کوئی چارہ کار نہیں، پھر اس کے بعد ’’لاإلٰہ إلا اللّٰہ ‘‘ کا ورد کر تے رہے، یہاں تک کہ موت نے آلیا۔ توبہ کی دعوت      برادرانِ عزیز !آج انسان گناہ و معاصی کے بحرِعمیق میں ڈوبا ہوا ہے، نفس بشر خطا و لغزش سے بچا ہوا نہیں، لیکن مایوس ہونے کی قطعا ً ضرورت نہیں، ہر وہ شخص جس نے گناہ و معصیت کے ذریعے اپنے نفس پر ظلم و زیادتی کی ہے، اسے اس بات کی خوشخبری ہو کہ اللہ پاک اپنے پاک کلام میں انہیں توبہ ورجوع کی دعوت بھی دے رہے ہیں اور یہ اعلان بھی فرما رہے ہیں کہ وہ تمام گناہوں کو معاف کرنے والے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِگرامی ہے: ’’قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوْا عَلٰی أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا إِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ وَأَنِیْبُوْا إِلٰی رَبِّکُمْ وَأَسْلِمُوْا لَہٗ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَّأْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ‘‘۔                                                      (الزمر :۵۳-۵۴) ترجمہ:…’’ کہہ دے: اے میرے بندو! جنہوں کہ زیادتی کی ہے اپنی جان پر، آس مت توڑو اللہ کی مہربانی سے، بے شک اللہ بخشتا ہے سب گناہ، وہ جو ہے وہی گناہ معاف کر نے والا مہربان ہے،اور رجوع ہو جائو اپنے رب کی طرف اور اس کی حکم برداری کرو پہلے اس سے کہ آئے تم پر عذاب، پھر کوئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا۔ (ترجمہ از شیخ الہندؒ)      ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے: ’’وَإِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰی‘‘۔                 (طہ:۸۲) ترجمہ) اور میری  بڑی بخشش ہے اس پر جو توبہ کرے اور یقین لائے اور کرے بھلے کام، پھر راہ پر رہے۔                                               (ترجمہ از شیخ الہندؒ)     حضرت ابنِ عباس r اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’مَن آیس عبادَ اللّٰہ بعد ھذا فقد جحد کتابَ اللّٰہ ‘‘۔        (تفسیر ابن کثیر:۷/۱۰۸) ترجمہ:’’جس نے اس کے بعد اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کیا تو گویا اس نے کتاب اللہ کا انکار کیا‘‘۔     حماد بن سلمہ v جب سفیان ثوری v کی عیادت کے لیے آئے تو ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ میرے جیسے کی مغفرت فرمائیں گے؟ تو حماد بن سلمہ v نے فرمایا :اللہ کی قسم! اگر مجھے اللہ اوراپنے والدین میں کسی ایک کا محاسبہ اختیار کرنے کا کہا جائے تو میں اللہ کے محاسبہ کو اختیار کروں گا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ میرے والدین سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔     ابنِ قدامہ v نے ’’کتاب التوابین‘‘ میں ایک نو جوان کا قصہ نقل کیا ہے کہ رجاء بن سور کہتے ہیں: ایک دن صالح کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ گفتگو فرما رہے تھے، انہوں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک نوجوان سے کہا : اے نوجوان(قرآن میں سے) پڑھو، اس نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تلاوت کی: ’’وَأَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْآزِفَۃِ إِذِ الْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیْنَ مَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ‘‘۔                                       (غافر :۱۸) ترجمہ:…’’ اور خبر سنا دے ان کو اس نزدیک آنے والے دن کی جس وقت دل پہنچیں گے گلوں کو تو وہ دبا رہے ہوں گے، کوئی نہیں گناہ گاروں کا دوست اور نہ سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے۔                     (ترجمہ از شیخ الہندؒ)     شیخ صالح v نے آیت کی تفسیر میں فرمایا :جب رب العٰلمین خود لوگوں سے مطالبہ کرنے والے ہوں تو اس دن ظالموں کے لیے کیسے کوئی دوست سفارش کرنے والا ہوگا؟اگر تم لوگ وہ منظر دیکھ لو کہ جب گناہ گاروں کو زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر ننگے پیر اور برہنہ حال جہنم کی طرف لایا جائے گا، ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں پیلی اور جسم خو ف سے پگھلے جا رہے ہوں گے اور وہ پکار رہے ہوں گے : اے ہماری ہلاکت! اے ہماری موت! یہ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ ہمیں کہاں لے جا یا جا رہا ہے ؟،وہ کیا ہی منظر ہوگا جب ملائکہ انہیں آگ کی لگاموں کے ذریعے ہانکتے لے جا رہے ہوں گے، کبھی منہ کے بل انہیں گھسیٹا جا رہا ہوگااور کبھی اس حال میں کہ وہ خون کے آنسو رو رہے ہوں گے،دل ان کے حیران اور وہ تکلیف سے چلا رہے ہوں گے،وہ ایک ایسا خوفناک منظر ہوگاکہ کوئی آنکھ اسے دیکھنے کی متحمل نہیں ہو سکتی، کسی دل میں اتنا حوصلہ نہیں کہ بے قرار نہ ہو اور قدم اس دن کی شدت کی وجہ سے بے قابو ہوں گے۔پھر روتے ہوئے فرمانے لگے: کیا ہی برا منظر اور کیا ہی برا انجام ہوگا۔ان کے ساتھ سامعین بھی رونے لگے، حاضرین مجلس میں ایک گناہ ومستی میں ڈوبا ہوا جوان بھی بیٹھا ہوا تھا،اس نے شیخ کی یہ گفتگو سن کر کہا:اے ابو البشر !کیا یہ سارا کچھ جوآپ نے بیان کیا قیامت کے دن ہوگا؟ شیخ نے فرمایا،ہاں! اے میرے بھتیجے! اس سے بھی بڑھ کر حالات ہوں گے،مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آگ میں چیخ رہے ہوں گے، یہاں تک کہ چیختے چیختے ان کی آواز بیٹھ جائے گی اور عذاب کی شدت کی وجہ سے صرف ایک بھنبناہٹ باقی رہ جائے گی۔اس غافل جوان نے یہ سن کر ایک چیخ ماری اور کہا : اے اللہ! ہائے میری زندگی کے غفلت کے ایام،ہائے میرے آقا و مولا! میں نے اطاعت میں کوتاہی سے کام لیا، ہائے افسوس! میں نے اپنی عمر دنیا کی فانی زندگی کے لیے برباد کردی، اس کے بعد اس جوان نے رونا شروع کردیا اور قبلہ رخ ہوکر کہنے لگا: اے اللہ! آج میں ایسی توبہ کے ساتھ آپ کی طرف رجوع کرتا ہوں جس میں کسی ریا کا شائبہ نہیں۔ اے اللہ! میری توبہ قبول فرما اور میرے سابقہ معاصی کو معاف فرما اور میری لغزشوں سے در گزر فرما! مجھ پر اور حاضرین مجلس پر رحم فرما اور اپنا فضل و کرم ہمارے شامل حال فرما۔ اے ارحم الرٰحمین!اے اللہ !آپ کے لیے میں اپنی گردن سے گناہوں کے بار اتار پھینکتا ہوں اور اپنے تمام اعضاء و جوارح اور سچے دل کے ساتھ رجوع کرتا ہوں۔اے اللہ! اگر آپ میری توبہ قبول نہیں کریں گے تو یہ میری ہلاکت اور بربادی ہے، اس کے بعد وہ جوان بے ہوش ہوکر گر پڑا، اُسے وہا ں سے منتقل کیا گیا۔شیخ صالح اپنے ساتھیوں کے ساتھ کچھ دنوں تک اس کی عیادت کرتے رہے،پھر اس جوان کا انتقال ہوا،اس جوان کے جنازہ میں خلقِ خدا نے شرکت کی، وہ روتے ہوئے اس کے لیے دعائے مغفرت کر رہے تھے۔ شیخ صالح گاہے بگاہے اس جوان کا اپنی مجلس میں تذکرہ کرتے اور فرماتے :میرے والدین اس پر قربان ہوں، یہ قرآن کا قتیل ہے،یہ وعظ اور غم وحزن کاقتیل ہے (یعنی قرآن کی اس آیت اور اس کی تفسیر نے اس نوجوان پر اتنا اثر ڈالا کہ وہ قیامت کے د ہشت ناک احوال کے خوف سے جان سے گزر گیا ) راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے موت کے بعد ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا کہ تمہا را کیا بنا ؟ اس نے کہا کہ شیخ صالح کی مجلس کی برکت میرے شامل حال رہی اور میں اللہ کی وسیع رحمت میں داخل ہوا، یعنی میری مغفرت کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو گناہ کو گناہ سمجھ کر اس سے بچنے اور سچی توبہ کی توفیق دے اور تمام امت ِمسلمہ کی مغفرت فرمائے۔(آمین)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے