بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

بینات

 
 

تقریظ، تنقید اور تبصرہ نگاری پر ایک نظر  (پہلی قسط)


تقریظ، تنقید اور تبصرہ نگاری پر ایک نظر

 (پہلی قسط)


تحریر و تصنیف تاریخی لحاظ سے بود و باش کے مختلف سانچوں میں ڈھلتی رہی ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ تحریر و تصنیف چمڑے کے ٹکڑوں، ہڈیوں اور کھجور کی چھالوں پر ہوتی تھی، چنانچہ تصنیف محض جمع و وضع کا نام تھا، تدوین و ترتیب کے مستقل اصول موجود نہ تھے۔ موجودہ دور میں رموزِ تحریر فنی اور تحقیقی اعتبار سے تہذیب و تنقیح کے آسمانِ عروج کو چھو چکا ہے، چنانچہ یہ بات مسلم ہے کہ متقدمین کے ہاں آزاد تحریروں میں عموماً ابہام کی جن مشکل صورتوں سے قاری کو دو چار ہونا پڑتا تھا، زمانہ کی تیز رفتاری اور سہولت پسندی کے تقاضے کافی حد تک اس کی تحلیل کرچکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن مضامین کو زمانۂ قدیم میں محض چند سطور میں ادا کردیا جاتا تھا، اب انتہائی بسط و وسعت کے ساتھ کئی کئی صفحات بھی کماحقہ اس کی وضاحت نہیں کرپاتے۔ پھر تالیفِ کتاب بھی ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جو ذیلی طور پر بے شمار جزئیات کا مرقع ہوتی ہے۔ خطۃ البحث سے لے کر خاتمۃ الکتاب اور وضعِ فہارس تک اور تقدمۃ الکتاب، مقدمۃ الناشر ، مقدمۃ المحقق، مقدمۃ المصنف، تبصرۃ المعاصرین، نقد بر کتاب، تحقیقِ کتاب، تخریجِ کتاب ، تعارفِ کتاب، تقریظِ کتاب نثر یا شعر کی صورت میں، اسی طرح پسند فرمودہ، عرضِ حال یا بہ دعا فلاں جیسے بے شمار عنوانات، عربی، فارسی اور اُردو کی حالیہ کتب میں ہر پڑھنے والے کی نظرسے ضرور گزرتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں تقریظ الکتاب سے متعلق چند اہم مباحث پیشِ خدمت ہیں:

لفظِ تقریظ کی حقیقت

یہ ’’تقریظ الأدیم‘‘ سے ماخوذ ہے، یعنی کھال کی دباغت (صفائی) میں حد درجہ مبالغہ کرنا اور ’’تقریظ الکتاب‘‘ کا معنی ہے : صاحبِ کتاب اور موادِ کتاب کی خوبیاں بیان کرنا، یہاں تک کہ اس میں مبالغہ پیدا ہوجائے، چنانچہ کہا جاتا ہے: ’’قرّظ الرجلَ: أي مدحہ و أثنٰی علیہ، والتقریظ مدح الإنسان وہو حي‘‘ ، اس کی ضد ’’تابین‘‘ ہے: ’’ إذا مدحہٗ میتا‘‘، یعنی مرنے کے بعد کسی کی توصیف بیان کرنا، ابو زید  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: ’’ فلان یقرظ صاحبہٗ: إذا مدحہٗ بباطل أو حق۔‘‘
لفظ ’’تقریض‘‘ جو ضاد کے ساتھ ہے، مشترک لفظ ہے ، مدح اور ذم دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ، چنانچہ کہاجاتا ہے: ’’قد قرضہ: إذا مدحہ أو ذمہ۔‘‘ (لسان العرب ،ج: ،ص: ، مادہ: قرظ، ط: دار احیاء التراث) 

تقریظ کا اصطلاحی معنی

دکتور محمد التوبخی تقریظ کا اصطلاحی معنی ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 
’’سبغ الثناء علی عمل أدبي أو غیر أدبي أو مدح لشخص علی ما قام بہ أمام حشد من الحضور۔‘‘ (المعجم المفصل ،ج: ۱،ص:۲۷۳ ) 
’’کسی ادبی یا غیر ادبی کارنامے پرکسی کی تعریف میں حد درجہ مبالغہ کرنا یا جم غفیر کے روبرو کسی کی بہترین کارکردگی پر اس کو سراہنا تقریظ کہلاتا ہے۔‘‘ 
اس کے بعد ’’تقریظ الکتاب‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’تقریظ الکتاب : کتابۃ جملۃ سطور في مطلع الکتاب أو في خاتمتہ تشمل الثناء علی مضمون الکتاب واھمیتہ و الدوافع إلی طبعہ أو تالیفہ ویکتبھا عادۃً المؤلف باسم الناشر أو غیرہٖ بأسلوب موجز فیہ إثارۃ دعائیۃ لاقتناء الکتاب۔‘‘  (المعجم المفصل فی الادب) 
’’ کتاب کے شروع یا خاتمۃ الکتاب کے پاس چند تعریفی کلمات لکھنا جو مضمونِ کتاب اور اس کی اہمیت پر مشتمل ہوں ، نیز یہ بات بھی لکھنا کہ وہ کون سے اسباب تھے جس نے کتا ب کی طباعت یا تالیفِ کتاب کی دعوت دی ، عموماً اس قسم کے کلمات مؤلف ، ناشرِ کتاب یا کسی اور شخصیت کے نام سے معنون کرتا ہے جو انتہائی مختصر ہوتے ہیں اور اس میں حصولِ کتاب کی طرف رغبت دلائی جاتی ہے۔ ‘‘

تقریظ کی اقسام 

متاخرین کے ہاں ’’تقریظ الکتاب‘‘ کی بنیادی تین قسمیں ہیں : 
۱:-تقریظ الکتاب بمدح المؤلف:۔۔۔۔۔۔۔ اس قسم کی تقریظ میں صاحبِ کتاب کی علمی شان اور عظمت کو بیان کرنے کے ساتھ ضمنی طور پر کتاب کے محاسن اور خصوصیات کو ذکر کیا جاتا ہے ، معائب کو ذکر کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے ، لیکن اہلِ تحقیق کے ہاں اس قسم کی تقریظ قابلِ تعریف نہیں ہے۔
۲:-تقریظ بطرز مقدمۃ المؤلف:۔۔۔۔۔۔۔ کتاب کی ابتدا میں ایک طویل مقدمہ ذکر کرنا جس میں کتاب سے متعلق اہم نکات اور موضوع و اغراض کتاب سے متعلق اہم عرض داشت پیش کی جائیں ، اس قسم کی تقریظ طوالت کی بنیاد پر مقدمہ کتاب کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔
۳:-تقریظ المترجم و المحقق و الشارح ، قائم مقام مقدمۃ الکتاب:۔۔۔۔۔۔۔ اس قسم کا مقدمہ عموماً کسی کتاب کی تشریح ، تحقیق یا ترجمہ کرتے وقت شارح کے ہاتھوں سر انجام پاتا ہے ، جس میں کتاب کی خصوصیات اور مدح شامل ہوتی ہے۔ (دانش نامہ بزرگ اسلامی، مرکز دائرہ اسلامی، بر گرفتہ از مقالہ تقریظ ،ج:۱۴ ،ص: ۶۰۳۱ ) 
تقریظ کی ضد تنقید ہے۔

تنقید کا مفہوم
 

تنقید نقد سے ماخوذ ہے ، جس کا معنی ہے کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنا اور اصطلا حاً کسی تعلیمی یا علمی مسئلے یا کتاب پر اس انداز سے غور کرنا کہ اس کتاب کے قوی اور کمزور پہلو نمایاں ہوجائیں۔ (اصولِ تحقیق :۹۲، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد) 

تقریظ اور تنقید میں فرق 
 

تقریظ میں بنیادی طور پر کسی کتاب اور صاحبِ کتاب کے محاسن بیان کیے جاتے ہیں اور معائب کے ذکر سے چشم پوشی کی جاتی ہے ، جب کہ تنقید میں مقصود معائب کا ذکر ہوتا ہے۔ ( لغۃ العرب : انسٹاس ماری کرملی ، ص:۵۰۴۱ ، بغداد) 

تنقید کی نشاۃ

ویسے تو نفسِ تنقید کی بنیاد خیرالقرون میں بھی ملتی ہے جس کو محدثین جرح سے تعبیر کرتے ہیں ، لیکن باقاعدہ تنقیدِ کتاب کے لیے بنیادی مآخذدرج ذیل ہیں :

۱:-صحیفہ یرموکیہ 

یہ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کے ہاتھ لگا تھا، لیکن چونکہ اس کا حوالہ مستند نہیں تھا ، اس لیے تابعین نے اس پر اعتماد نہیں کیا ، چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: 
’’رابعہا : أن عبد اللّٰہ کان قد ظفر في الشام بحمل جمل من کتب أہل الکتاب فکان ینظر فیہا ویحدث منہا فتجنب الأخذ عنہ لذٰلک کثیر من أئمۃ التابعین، واللّٰہ أعلم۔‘‘ (فتح الباری ،ج: ۱،ص: ۲۰۷،ط: دار المعرفۃ ، بیروت) 
۲:-اسماء المدلسین(مؤلفہ: شیخ حسن بن علی الکرابیسی ، المتوفی :۵۴۲ھ ) 
تدلیس فی الحدیث کے موضوع پر لکھی جانے والی سولہ مشہور کتب میں سے تاریخی اعتبار سے پہلی باضابطہ کتاب ہے ،چونکہ مذکورہ کتاب میں علامہ کرابیسی نے بعض کبار تابعین پر نقد کیا تھا ، اس لیے کتاب علماء کرام کے ہاں قابلِ نقض قرار پائی ، حافظ ابن رجب حنبلیؒ (المتوفی :۵۹۷ھ) شرح علل ترمذی میں اس کے متعلق رقم طراز ہیں :
 ’’وقد تسلط کثیرون ممن یطعن في أہل الحدیث علیہم بذکر شيء من ہٰذہ العلل‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’قد ذکر کتابہ للإمام أحمد فذمہ ذما شدیدا ، وکذٰلک أنکرہ علیہ أبو ثور وغیرہ من العلماء۔‘‘        (شرح علل ترمذی، ج:۲، ص:۸۹۲-۸۹۳) 
’’علامہ کرابیسی ؒ نے اپنی کتاب میں محدثین ثقات پر طعن کیا تھااور جب کسی مجلس میں امام احمد کے ہاں اس کتاب کا تذکرہ کیا گیا تو امام احمد ؒ نے اس پر شدید تنقید کی،اسی طرح ابوثور اور دیگر علماء کے ہاں بھی یہ موجبِ نقد قرار پائی۔‘‘
مذکورہ عبارت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کتبِ تحقیقیہ پر نقد کرنے کا رواج خیر القرون میں عام تھا۔

تنقیدِ کتاب کے لیے سب سے طویل اور وقیع مجموعہ 

اس بارے میں سب سے طویل کتاب ‘‘کتب حذر منھا العلماء‘‘ کے نام سے موسوم ہے، مؤلف شیخ ابو عبیدہ مشہور بن حسن بن آل سلمان (معاصر) ہیں۔ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔ انتہائی مدلل انداز میں مختلف موضوعات سے متعلق تقریباً ۱۵۰ کتابوں پر متقدمین کی تنقیدات کو جمع کیا ہے۔ اس کے علاوہ خود مؤلف نے بھی عصرِ حاضر کی کئی کتابوں پر نقد کیا ہے، خصوصاً محققین احناف کے خلاف انہوں نے خوب زور آور قلم چلایا ہے۔ اگر اس پہلو سے قطع نظر کیا جائے تو کتاب بہت مفید ہے۔

تقریظ کی نشاۃ اور ارتقاء 

درایۃ الحدیث کے اس اصو ل کے تحت کہ ہر وہ چیز جس کی اصل اور سند نہ ہو، وہ ناقص شمار ہوتی ہے۔ (معرفۃ الحدیث : ۶) 
 یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ کیا تقریظ کی کوئی معتبر اصل و اساس ہے یا نہیں؟ دورِ حاضر میں بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ تقریظ اہلِ عجم کی بدعتوں میں سے ایک بدعت ہے ، جو خارج از کار و امورِ زائدہ میں سے ہے ، لہٰذا تقریظِ کتاب کے لیے مشایخ واکابر کو آمادہ کرنا اہلِ علم کی شان نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تلاش و تفحُّص کے بعد کئی ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو تقریظِ کتاب کے لیے کم ازکم اصل کی حیثیت اختیار کرسکتے ہیں ، ذیل میں اس قسم کے چند شواہد پیشِ خدمت ہیں:
۱:- ظالم بن عمرو ابو الاسود الدؤلی، ان کے متعلق امام احمد العجلیؒ (۲۶۲ھ) ’’کتاب الثقات‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’وہو أول من تکلم في النحو۔‘‘ (الثقات : ۸۰۴) 
حافظ ذہبیؒ (المتوفی: ۷۴۸ھ) نے تاریخِ اسلام اور ابن ندیم نے ’’الفہرست‘‘ میں کئی ایک مسند روایتیں ذکر کی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علم النحو کی باقاعدہ تدوین بھی انہوں نے کی۔ حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں : ’’وقد أمرہٗ علي بوضع النحو۔‘‘ اگلے صفحات میں حافظ ذہبیؒ نے وہ بات ذکر کی ہے جو ہمارا مقصود ہے، چنانچہ فرماتے ہیں :
’’ فلما أراہ أبو الأسود ماوضع، قال : ما أحسن ہٰذا النحو الذي نحوت و من ثم سمي النحو نحوا۔‘‘  (تاریخ اسلام ،ج: ۲،ص: ۷۳۵، دار الغرب) 
مندرجہ بالا عبارت کے پیشِ نظر بطور دلیل یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حضرت ابو الاسود الدؤلیؒ کے مدون کردہ نحوی کتابچہ کو دیکھنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے اس کی مدح و تحسین فرمائی۔ (اور یہ تقریظ بصورتِ تبصرہ تھی، کیونکہ تبصرہ جب کتاب کے محاسن کو پیشِ نظر رکھ کرکیا جائے تو وہ تقریظ بن جاتا ہے ، جیساکہ اس کی تفصیل آتی ہے) اگر تقریظ‘ مؤلف اور مؤلف کی خوبی بیان کرنے کا نام ہے تو یہاں دونوں وصف موجود ہیں ، تبھی تو انہوں نے فرمایا کہ: یہ کیا ہی شاہکار طریقہ ہے، چنانچہ یہ حسنِ تالیف کی طرف اشارہ ہے، پھر فرمایا: ’’الذي نحوت‘‘ یعنی جس کا ارادہ آپ نے کیا ہے ، گویا کہ صاحبِ تالیف کے کمال کی گواہی ہے۔ مذکورہ بالا دلیل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خیر القرون میں اگرچہ مروجہ تقریظ کتاب کا وجود نہیں، لیکن کم ازکم تقریظ کے لیے اصل کا پتہ چلتا ہے، جس کی بنیاد پر بعض لوگوں کا تقریظ کے متعلق یہ دعویٰ کہ یہ بھی اہلِ عجم خود ساختگی ہے ، قابلِ التفات نہیں۔
۲:- امام مالکؒ نے مؤطا کی تصنیف سے فراغت کے بعد اس کی اشاعتِ عام سے پہلے علما ء مدینہ کی تائید حاصل کرنے کی غرض سے اپنی کتاب کو ان کے سامنے پیش کیا ، چنانچہ سب نے اس کی تحسین کی ، علامہ زرقانی  ؒ اس کو یوں لکھتے ہیں : 
’’وروٰی أبوالحسن بن فہر عن علي بن أحمد الخلنجي : سمعت بعض المشایخ یقول: قال مالک: عرضت کتابي ہٰذا علی سبعین فقیہا من فقہاء المدینۃ، فکلہم واطاني، فسمیتہ الموطا۔‘‘        (زرقانی ،ج: ۱،ص:۶۲ ، ط:مکتبۃ الثقافیۃ) 
مذکورہ عبارت اگر چہ تقریظِ کتاب یا تقدیمِ کتاب کے لیے تصریح نہیں بن سکتی، لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ خیر القرون میںمرتب کیا جانے والا حدیث کاصحیح ترین ذخیرہ ہے، اور مجموعہ کے مؤلف نے کتاب کے متعلق اربابِ علم کی رائے جاننے کے لیے ان کی خدمت میں کتاب پیش کی ،تو سب نے اس کی توثیق اور تحسین کی۔فقہائے مدینہ نے اگر چہ امام مالک ؒ کی کتاب کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ، لیکن یہ حقیقتاً تقریظ ہی تھی اور یہ بات آئندہ آنے والی شرائط سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔
۳:- امام بخاری ؒ (۲۵۶ھ) کی بے نظیر و لاجواب کتاب ’’الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و سننہ و أیامہ المعروف ب’’ صحیح البخاري‘‘ جب تکمیل کو پہنچی تو انہوں نے اس کو مشاہیرپر پیش کیا، جس مین امام احمد بن حنبلؒ (۲۴۱ھ)، یحییٰ بن معینؒ (۲۳۳ھ) ، علی بن المدینیؒ (۲۳۴ھ) جیسی نابغۂ روزگار اور علمی شخصیا ت شامل ہیں ، چنانچہ سب نے اس کو اچھا جانا، مگر چار روایتوں پر عدمِ اعتماد کا اظہار کیا۔ حافظ صاحبؒ اس کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ لما ألف البخاري کتاب الصحیح عرضہٗ علٰی أحمد بن حنبل و یحیی بن معین و علي بن المدیني و غیرھم فاستحسنوہ و شھدوا لہ بالصحۃ إلا في أربعۃ أحادیث۔‘‘ (الھدی الساری ،ص:۹،دار السلام) 
ان ائمہ کا مذکورہ تبصرہ چونکہ مدحیہ تھا، لہٰذا یہ تقریظ کہلایا ، پھر یہ تقریظ کی شرائط سے ہم آہنگ بھی ہے کہ کتاب میں موجود مصدقہ مواد کی گواہی دی گئی اور قابلِ نقد پہلوکو اجاگر کیا گیا، جیسا کہ عنقریب آنے والی شرائط سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔                                        (جاری ہے)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے