بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

تعلیمی ادارہ اور مشاہرہ کی کٹوتی

تعلیمی ادارہ اور مشاہرہ کی کٹوتی

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ: ۱:.... ایک اسلامی تعلیمی ادارے میں انتظامیہ کی طرف سے یہ قانون بنایا گیا ہے کہ اگر کوئی استاذ بروز جمعہ یا پیر(کسی بھی وجہ سے) چھٹی کرلے تو چھٹی والے دن کی تنخواہ کی کٹوتی کے ساتھ ساتھ ہفتہ اور اتوار (مجوزہ تعطیلات ) کے ایام کی تنخواہ بھی کاٹ لی جائے گی،یعنی اگر کوئی بروز جمعہ یا پیر چھٹی کرلے تو چھٹی ایک دن کی مگر تنخواہ تین دن کی کاٹی جائے گی۔ ۲:.... اسی طرح عام تعطیلات سے متصلہ آخری دن یا تعطیلات کے بعد پہلے دن بھی چھٹی کی جائے گی تو عام تعطیلات کے تمام ایام کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی،مثلاً کسی استاذ نے ۴؍نومبر ۲۰۱۱ء (جمعہ) کو چھٹی کی یا ۱۰ ؍نومبر جمعرات کو چھٹی کی تو بجائے ایک دن کے پورے ۶ دن ( تعطیلاتِ عید الاضحی ) کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔ الف:آیا اس طرح جبراً عام تعطیلات والے دنوں کی تنخواہ کی کٹوتی کرلینا از روئے شریعت جائز ہے؟ ب: کیا ایک دن کی رخصت پر ایک سے زیادہ دن کی تنخواہ کی کٹوتی شرعاً جائز ہے اور یہ ظلم وزیادتی کے زمرے میں نہیں آتا؟ ج:اگرچہ یہ اصول فریقین کی رضامندی (ایک کی بامر مجبوری) سے نافذ ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کو تسلیم کئے بغیر نوکری حاصل کرنا اور برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ کیا شرعاً ایسا اصول وضع کرنا اور نہ ماننے پر نوکری سے برخاست کردینا درست ہے؟ ۳:.... اسی طرح اسکول انتظامیہ ہر ماہ تنخواہ میں سے پانچ فیصد(%۵) زرِ ضمانت کے طور پر منہا کرتی ہے جو کہ صرف اس صورت میں واپس ملے گا جب تعلیمی سال کے اختتام پر ادارہ چھوڑنے کی ایک ماہ پیشگی اطلاع دی گئی ہو،جبکہ انتظامیہ کی طرف سے ملازمت سے برخاستگی یا تعلیمی سال کے دوران نوکری چھوڑنے کی صورت میں زرِ ضمانت کو منہا کرنا، منجمد کرنا یا ادا کرنا انتظامیہ کا صوابدیدی حق ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح عام تعطیلات والے دنوں کی تنخواہ کی کٹوتی اور زرِ ضمانت ضبط کرنے کی صورت میں اسکول انتظامیہ کے پاس جو رقم بچتی ہے ، کیا وہ ادارے کے حق میں شرعاً جائز ہے؟ اور کیا وہ ادارے کا منافع شمار ہوگی؟ یا اس کو کسی اور مصرف میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟   (مستفتی:عین شین مرسل،بفرزون ،کراچی) الجواب باسمہٖ تعالیٰ واضح رہے کہ کسی ادارے میں اگر ملازم کے ساتھ وقت دینے کی بنیاد پر اجرت طے ہوجائے، تو وہ ملازم اجیر خاص کہلاتا ہے اور اجیر خاص مقررہ وقت ادارے میں حاضر رہنے اور خود کو مذکورہ کام کے لئے سپرد کردینے سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے،خواہ ادارے کا ذمہ دار اس سے مذکورہ کام لے یا نہ لے۔ مذکورہ تمہید کے بعد صورتِ مسؤلہ میں تعلیمی ادارے کے استاذ کی حیثیت ادارے کے لئے اجیر خاص کی ہے،لہٰذا وہ مقررہ وقت دیتے ہوئے خود کو کام کے لئے سپرد کرنے پر اجرت کا مستحق ہوگا۔ ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں ہے: ’’والثانی وھو الأجیر الخاص ویسمیٰ أجیراً وحدہ وھو من یعمل لواحد عملاً موقتا بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسہٖ فی المدۃ وإن لم یعمل‘‘۔                                                                        (فتاوی شامی،۶/۶۹،ط:سعید) ’’شرح المجلہ لسلیم رستم باز ‘‘ میں ہے: ’’الأجیر علیٰ قسمین ، الأوّل الأجیر الخاص وھو الذی استوجر علیٰ أن یعمل للمستأجر فقط کالخادم مشاھرۃ عملاً موقتاً بمدۃ معلومۃ…‘‘۔     (کتاب الإجارۃ،الباب الاول،رقم المادۃ:۴۲۲،ج:۱،ص:۲۳۶،مکتبہ حنفیہ، کوئٹہ) اگرمذکورہ تعلیمی ادارے کا استاد مقررہ وقت سے غیر حاضر رہتا ہے، تو وہ صرف حاضری کے وقت کے بقدر اجرت کا مستحق ہوگا، نہ کہ غیرحاضراوقات کا،ادارہ تنخواہ سے غیر حاضری کے بقدر رقم منہا کرنے کا مجاز ہوگا۔’’المبسوط للسرخسی‘‘  میں ہے: ’’ولوکان یبطل من الشھر یوماً أو یومین لایرعاھا حوسب بذلک عن أجرہ سواء کان من مرض أو بطالۃ لأنہ یستحق الأجر بتسلیم منافعہ وذلک ینعدم فی مدۃ البطالۃ سواء کان بعذر أو بغیر عذر‘‘۔                                                  (کتاب الإجارۃ،۱۵/۱۸۳، ط:دارالکتب العلمیۃ،بیروت ) ’’المحیط البرھانی‘‘ میں ہے: ’’ولوکان تبطل یوما أو یومین فی الشھر أو مرض سقط بقدرہٖ لأنہ لم یسلم نفسہ للرعی فی مدۃ التبطل والمرض وأجیر الواحد إنما یستحق الأجر بتسلیم النفس فی المدۃ فإذا لم یسلم نفسہ للرعی فی بعض المدۃ لم یستحق الأجر بقدرہٖ‘‘۔        (کتاب الأجارۃ،۱۲/۶۱،ط:المجلس العلمی ،بیروت) ۱،۲:....اگر ادارے کا استاد کسی دن غیر حاضر رہے تو ادارے کی انتظامیہ کو صرف اسی دن کی تنخواہ کی کٹوتی کا اختیار حاصل ہے، ایک دن کی غیر حاضری پر تعطیلات کے دنوں کی تنخواہ کاٹنا شرعاً ناجائز اور ظلم وزیادتی ہے، ادارے کے لئے اس رقم کو منافع سمجھ کرلینا اور اس کا استعمال کرناجائز نہیں،بلکہ اس کو واپس کرنا ضروری ہے۔ حدیث شریف میں ظلم اور کسی کے مال کو اس کی رضامندی کے بغیر لینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔حدیث شریف میں ہے: ’’وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ألالاتظلموا ، ألا لایحل مال امرئ إلا بطیب نفسہ منہ ، رواہ البیہقی فی شعب الإیمان‘‘۔                  (مشکوٰۃ،باب الغصب والعاریۃ،۲۵۵،ط:قدیمی) ترجمہ:’’حضرت ابوحرۃ رقاشی (تابعی)اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خبردار! کسی پر ظلم نہ کرنا،کسی بھی دوسرے شخص کا مال(لینا یا استعمال کرنا)اس کی مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں‘‘۔ ۳:....ادارہ کی انتظامیہ کا تنخواہ سے ہر ماہ پانچ فیصد(%۵) زرِ ضمانت کے طور پر منہا کرنا تو منع نہیں ہے،لیکن ملازمت ختم ہونے پر واپس کردینا لازم ہے، ورنہ ادارہ والے گناہ گار ہوں گے اورادارہ کے لئے اس رقم کو استعمال میں لانا جائز نہیں ہوگا۔’’البحر الرائق‘‘میں ہے: ’’لایجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی ، والحاصل أن المذھب عدم التعزیر بأخذ المال‘‘۔  (فصل فی التعزیر،۵/۶۸،رشیدیہ)  ’’شرح الآثار ‘‘ میں ہے: ’’التعزیر بالمال کان فی ابتداء الإسلام والحاصل أن المذھب عدم التعزیر بأخذ المال‘‘۔(کتاب الحدود ،باب التعزیر ،مطلب فی التعزیر بأخذ المال،۴/۶۱،ط:سعید)                                                                فقط واللہ اعلم         الجواب صحیح                    الجواب صحیح               کتبہ    محمد عبدالمجید دین پوری             محمد انعام الحق        محمد نواز یوسف زئی                                                          متخصصِ فقہ ِ اسلامی                                           جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے