بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

 تاریخِ اسلامی میں دروغ گوراویوں کا کردار  اور تدوینِ جدید کی ضرورت


 تاریخِ اسلامی میں دروغ گوراویوں کا کردار 
اور تدوینِ جدید کی ضرورت

 

تاریخ کا لغوی مفہوم
    لغت میں ’’تاریخ‘‘ وقت سے آگاہ کرنے کو کہتے ہیں (یعنی کسی چیز کے واقع ہونے کا وقت بتانا)۔ (۱)
    اہلِ لغت کہتے ہیں کہ: ’’ أرختُ الکتاب و رختُہٗ‘‘ یعنی ’’میں نے لکھنے کا وقت ظاہر کیا۔‘‘ علامہ اسماعیل بن حماد الجوہری (المتوفی: ۳۹۳ھ) فرماتے ہیں کہ: تاریخ اور توریخ دونو ں کے معنی وقت سے آگاہ کرنا ہیں، چناں چہ اس کے لیے’’أرختُ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور ’’ ورختُ‘‘ بھی۔ (۲)
    بعض اہلِ لغت کہتے ہیں کہ: تاریخ ’’أرخ ‘‘ (بضم الھمزۃ و کسرھا) سے مشتق ہے ، ’’أرخ‘‘ وحشی گائے (نیل گائے) کے مادہ بچہ کو کہتے ہیں، اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جس طرح بچہ نومولود ہوتا ہے، اسی طرح تاریخ بھی ایک نو ایجاد شئے ہے۔(۳)

تاریخ کا اصطلاحی مفہوم
 

 تاریخ کی اصطلاحی تعریف میں بڑی بڑی موشگافیاں کی گئی ہیں، یہاں بعض کا تذکرہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
    ۱:… اصطلاح میں تاریخ اس وقت کے بتانے کا نام ہے جس سے راویوں اور ائمہ کے سارے احوال وابستہ ہوتے ہیں، یعنی اُن کی ولادت، وفات، ان کی صحت و عقل، طلبِ علم کے لیے سفر، حج، اُن کا حافظہ، ضبط و اتقان، ان کا عادل ہونا، قابلِ جرح ہونا، وغیرہ تمام باتیں جن کا تعلق ان کے احوال کی چھان بین سے ہو۔
    ۲:… یا اصطلاح میں تاریخ اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بادشاہوں، فاتحوں اور مشہور شخصیات کے احوال، گزرے ہوئے زمانہ کے بڑے اور عظیم الشان واقعات و حوادث، زمانۂ گزشتہ کی تمدن، معاشرت، اخلاق وغیرہ سے واقفیت حاصل کی جاسکے۔
    ۳:…بعض حضرات نے کہا کہ پھر اس مفہوم کو وسعت دے کر وہ سارے امور بھی اس سے ملحق کردیئے گئے جو بڑے واقعات و حوادث سے متعلق ہوں۔ جنگوں، امورِ سلطنت،تہذیب و تمدن، حکومتوں کے قیام، عروج و زوال، رفاہِ عامہ کے کاموں وغیرہ کی حکایت کو بھی تاریخ کہا گیا ہے۔
    خلاصہ اور نتیجہ ان تمام اقوال کا یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ جو حالات و واقعات بقید ِ وقت لکھے جاتے ہیں، ان کو تاریخ کہتے ہیں۔(۴)

تاریخ کی ضرورت وفوائد
 

   تاریخ سے گزشتہ اقوام کے عروج و زوال، تعمیر و تخریب کے احوال معلوم ہوتے ہیں، جس سے آئندہ نسلوں کے لیے کافی عبرت کا سامان میسر آتا ہے، حوصلہ بلند ہوتا ہے، دانائی و بصیرت حاصل ہوتی ہے اور دل و دماغ میں تازگی و نشو نما کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ غرض تاریخ اس کائنات کا پسِ منظر بھی ہے اور پیشِ منظر بھی، اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کرنے میں بھی خوب معاونت حاصل ہوتی ہے۔ (۵)

بہترین مؤرخ کون ؟


    بہترین مؤرخ وہ ہوتا ہے جو سالم العقیدہ اور پاک مذہب ہو، جوکچھ لکھے وہ بیانِ واقع ہو۔ نہ کسی بات کو چھپائے، نہ کوئی غلط بات اپنی طرف سے بڑھائے۔ مؤرخ کے لیے ضروری ہے وہ امانت و دیانت میں ممتاز ہو۔ ذہین، نکتہ رس، منصف مزاج ہونے کے ساتھ ادیب اور قادرالکلام بھی ہو۔ سیاسی، مسلکی وابستگی و تعصب سے پاک ہو۔ امراء و حکام کی خوشنودی اور مادی منافع اور جاہ ومنزلت کی خاطرحقائق کو توڑمروڑ کرکے ضمیر و قلم فروشی کا مرتکب نہ ہو۔ تائیدی اسباب کے مختلف احتمالات میں پہلے سے کسی ایک جانب کو متعین نہ کرے،انصاف کے ساتھ صحیح اور درست سمت کو اختیار کرے،وغیرہ۔(۶)

شرائط ِ مؤرخ 
 

   علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ ’’قاعدۃ في المؤرخین نافعۃ جداً ‘‘ کے عنوان سے تحریر فرماتے ہیں کہ: اہل تاریخ بعض دفعہ کچھ لوگوں کو ان کے مقام و مرتبہ سے گرا کر اور کچھ کو اونچا کر کے پیش کرتے ہیں،یہ یا تو تعصب، یا جہل، یا غیر موثوق راوی کے نقل پر اعتمادِ محض وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔شاید ہی کسی تاریخ کو آپ اس سے خالی پائیں گے۔۔۔۔۔۔اس بارے میں صحیح و صائب رائے ہمارے نزدیک یہ ہے کہ چند شرائط کے بغیر مؤرخین کی نہ تو کسی مدح کو قبول کیا جائے اور نہ ہی جرح کو، وہ شرائط یہ ہیں:۱:… مؤرخ صادق ہو۔ ۲:… روایت باللفظ پر اعتماد کیا ہو، نہ کہ روایت بالمعنی پر۔ ۳:…اس کی نقل کردہ روایت مجلسِ مذاکرہ میں سن کر بعد میں نہ لکھی گئی ہو۔ ۴:… جس سے نقل کر رہا ہو، اس کے نام کی صراحت کرے۔ ۵:… اپنی طرف سے کسی کے حالات بیان نہ کرے۔ ۶:… تراجم میں کثرتِ نقل کو اختیار نہ کرے۔ ۷:… مترجم لہٗ کے علمی اور دینی حالات سے پوری طرح واقف ہو۔ ۸:… حسنِ عبارت کا مالک ہو اور الفاظ کے مدلولات سے واقف ہو۔ ۹:… حسنِ تصور والا ہو، یہاں تک کہ مترجم لہٗ کے تمام حالات اس کے سامنے ہوں، اس کے بارے میں ایسی عبارت لائے جو نہ اُسے اس کے حقیقی مقام سے اونچا کرے اور نہ گرادے۔ ۱۰:… ہویٰ پرستی کا شکار نہ ہو کہ وہ اس کو اپنی محبوب شخصیت کی مدح میں اطناب اور دیگر کے بارے میںتقصیر پر مجبور کرے، یا تو ہویٰ سے بالکل پاک ہو یا اس میں ایسا عدل ہو جو اس کے ہویٰ کو مغلوب کر کے انصاف پر مجبور کرے۔(۷)

تاریخِ قرونِ ثلاثہ 
 

   اس تمہیدی گفتگو کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹ آتے ہیں، ہماری تحریر کا مقصد قرونِ ثلاثہ سے متعلق تاریخ کی تدوین اور دروغ گوراویوں کے کردار اور تاریخ کی تدوینِ جدیدکی ضرورت کے متعلق بحث کرناہے۔ اگرچہ تدوین حدیث بھی تاریخ ہی کا ایک حصہ ہے، مگر وہ ہمارا موضوعِ بحث نہیں، اس سے متعلق سرسری اشاروں پر اکتفا کریں گے۔ اسلام میں تاریخ نویسی کی ابتدا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک سے ہوئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرایا وغزوات کے حالات نہ صرف اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے تھے، بلکہ اپنی اولاد کو بھی اُنہیں یاد کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ لیکن باقاعدہ سے تمام اخبار و وقائع کو بصورتِ تاریخ مدون کرنے کا کام دوسری صدی ہجری میں بنو عباس کے عہد ِحکومت میں شروع ہوا۔ ابتداء میں واقعات کو بیان کرنے کے لیے سند کا اہتمام کیا گیا، یہاں تک کہ اشعار بھی سند کے ساتھ بیان کیے جاتے تھے، چناں چہ ’’تاریخِ طبری‘‘ اور ’’کتاب الأغانی‘‘ اس کا مظہر ہیں، لیکن یہ واضح رہے عام اخبار وو قائع اور اشعار کے راویوں کی بابت بحث و تمحیص اور تحقیق کے باب میں وہ اہتمام اور شدت نہیں برتی گئی جو روایاتِ حدیث کے متعلق بحث وتمحیص اور تحقیق کے باب میں برتی گئی۔

تدوینِ تاریخ میں کار فرما ایک نفسیاتی ضابطہ
 

   یہ بات تو ہر عام و خاص پر واضح ہے کہ انسانی تاریخ میں جب بھی ایک قوم و قبیلہ یا جماعت و پارٹی کی حکومت و اقتدار کو ختم کر کے دوسری مقابل قوم و قبیلہ یا جماعت و پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو وہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی تمام خوبیوں، محاسن، اور تعمیری کاموں کو بھی خامیاں، برائیاں اور تخریب باور کروانے کے لیے پوری حکومتی مشینری کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے۔ تدوینِ تاریخِ اسلامی کے وقت بھی یہ نفسیاتی ضابطہ کار فرما رہا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مصالحت کے بعد سے تقریباً ۱۳۲ ھ تک عالم اسلام پر بنواُمیہ کی حکومت رہی، پھر اس کے بعد ۱۳۲ھ موافق ۷۴۹ء بنو عباس کے ایک شخص ابو العباس السفاح نے بنو اُمیہ کی حکومت ختم کر کے بنو عباس کی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔
    یہ بات بھی بالکل عیاں ہے کہ بنو عباس اور بنواُمیہ کے درمیان زمانہ قدیم سے خاندانی و قبائلی عصبیت کے تحت سخت مخالفت تھی، لہٰذا جب بنو عباس کے دورِ حکومت میں تاریخ کی تدوین شروع ہوئی تو عام طور سے تاریخی و قائع و حوادث کو مرتب کرنے میں اسی نفسیاتی ضابطہ کو پیش نظر رکھا گیا، بلکہ بعض مؤرخین نے حکومتی ظلم و ستم سے بچنے یا حکامِ وقت کی خوشنودی کی خاطر اور اپنی معاشی و تمدنی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے مذکورہ بالا طرز ہی اختیار کیا۔

علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی گواہی
 

   قریبی دور کے ایک مشہور مؤرخ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف’’ الإنتقاد علی التمدن الإسلامي‘‘ میں اسلامی تاریخ کی ابتدائی تدوین کا بہترین جائزہ پیش کیا ہے، چناںچہ علامہ صاحبؒ نے لکھا ہے :
 ’’ اسلامی تاریخ کے مؤرخین عموماً بنو عباس کے عہد میں (پیدا) ہوئے اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ عباسیوں کے عہد میں بنو اُمیہ کی خوبی کی کوئی چیز (بھی) اتفاقاً صادر ہوجاتی تو اس کے قائل کو کئی قسم کی ایذاؤں کا سامنا کرنا پڑتا اور ہتکِ عزت کے علاوہ ناموافق انجام سے بھی دو چار ہونا پڑتا تھا۔ دفترِ تاریخ میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔‘‘ (۸)

راویوں کا نظریاتی کردار
 

   اس کے علاوہ تاریخی واقعات کو نقل کرنے والے راویوں کے نظریات اور مذہبی رجحانات نے بھی ان واقعات کو بیان کرنے اور اس کے لیے اختیار کی جانے والی تعبیر میں مرکزی کردارادا کیا، خصوصاً جب اُنہیں روایت با لمعنی کی عام اجازت بھی حاصل تھی، چناںچہ بہت سارے گمراہ عقائد و افکار کے حامل راویوں نے قرونِ ثلاثہ سے متعلق واقعات کو اپنے مذہبی رجحانات و نظریاتی افکار کے تحت حقائق کو نظر انداز کرکے اس طرح بیان کیا کہ اس سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعینؒ کے بارے میں بہت سارے مطاعن و مثالب پید ا کیے گئے۔

دروغ گو راویوں کے ظہور کے اسباب و اہداف
 

   قرونِ ثلاثہ میں خاص طور سے تدوینِ تاریخ کے زمانہ میں حدیث و تاریخ کے سلسلہ میں دروغ گو راویوں کی ایک بڑی تعداد ظاہر ہوئی، ایک محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے تین سو سے زائد دروغ گو راوی ہیں، جنہوں نے ہمارے صاف و شفاف علمی اور تاریخی ورثہ کو اپنی دروغ گوئیوں سے گدلا کرڈالا، بلکہ بسا اوقات ناپاک بھی کردیا ہے، وہ کون سے اسباب تھے جنہوں نے ان لوگو ں کو دروغ گوئی پر مجبور کیا؟! اور ان کی اس دروغ گوئی اور کذب کے پس پردہ کیا اہداف و مقاصد تھے؟! بعض کی طرف تو ہم اشارہ کرچکے ہیں، یہاں چند اہم اسباب و اہداف کا تذکرہ کرتے ہیں۔
    قارئین کرام! اگر آپ قرونِ ثلاثہ کی تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے تو تدوین کے اس زمانہ میں جھوٹ و کذب کے ظاہر ہونے کے اسباب و اہداف میں تداخل پائیں گے۔ بسااوقات ایک ہی واقعہ میں سبب اور ہدف دو نوںپائے جائیں گے۔ اگر آپ نفس واقعہ کی طرف دیکھیں گے تو آپ کو اس کا سبب نظر آئے گا، لیکن اسی واقعہ پر نتیجہ کے اعتبار سے غور کیا جائے تو اس کا ایک ہدف و غر ض بھی سامنے آئے گی۔ غرض دروغ گوئی و کذب کے بعض ایسے گہرے اور بنیادی اور واضح اسباب ہیں، جن کی وجہ سے قرونِ ثلاثہ کے دوران عام طور سے اور تدوینِ تاریخ کے وقت خاص طور سے دروغ گوئی نے جڑ پکڑ لی تھی۔

 دروغ گوئی کے اہم اور بنیادی اسباب 
 

   ویسے تو دروغ گوئی و کذب کے اسباب کثیر تعداد میں ہیں، ہم یہاں صرف چند اہم اور بنیادی اسباب کے ذکر پر اکتفا کریں گے:

۱:۔۔۔۔۔۔سیاسی اختلافات
 

   بنیادی طور پر سیاسی اختلافات ہی وہ اہم سبب ہے جس نے اُمت مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مختلف باہم مقابل فرقوں میں بانٹ کر ایک دوسرے کے دست و گریباں اور خون کا پیا سا بنادیا۔ سیاسی اختلافات کی ابتداء تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری ایام میں ہوئی اور بالآخر ۱۳۲ھ میں ابولعباس السفاح کے ہاتھوں بنو اُمیہ کے اقتدار کے خاتمہ کی شکل میں اس کے خون آشام نتائج ظاہر ہونے لگے اور عالم اسلام کی موجودہ صورت حال اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اس کی خون آشامی اب بھی اُمتِ مسلمہ کو گھیرے ہوئے ہے۔

۲:۔۔۔۔۔۔فکری اور مذہبی گمراہی و بے اعتدالی
 

   فکری اور مذہبی گمراہی نے اسی سیاسی فتنہ کے بطن سے جنم لیا، اس اندھے سیاسی فتنہ نے فکری اور مذہبی انحراف کو مزید اوندھا اور گہرا کر کے نہ صرف اُسے بنیاد فراہم کی، بلکہ اس کا دفاع کر کے اُسے ایک مقدس، شرعی و مذہبی رنگ دے دیا، جیسا کہ صراطِ مستقیم سے انحراف کرنے والے، اسلام کی طرف منسوب بہت سارے گمراہ فرقوں خوارج و روافض وغیرہ کا حال یہی ہے کہ دونوں نے سیاسی فتنہ کے بطن سے جنم لے کر اسی کی گود میں پر ورش پائی اور اس کی تائید سے صراطِ مستقیم سے منحرف ان فرقوں نے ایک مقدس مذہبی رنگ کا لبادہ اوڑھ لیا، جن کی قداست کے پسِ پردہ اُمت مسلمہ کو گزشتہ تیرہ صدیوں سے لہو لہان کیا جارہا ہے۔

۳:۔۔۔۔۔۔ باطنی امراض(کفر و نفاق اور زندقہ)
 

   باقی رہی بات امراضِ باطنی کی، جیسا کہ کفر، نفاق،زندقہ، حسد، کینہ، دنیا کی محبت و حرص وغیرہ، یہ وہ اسباب ہیں جنہوں نے بہت سارے لوگوں کو دروغ گوئی، اس میں مہارت و امتیاز حاصل کرنے پر اُبھارا اور مجبور کیا، پھر اس کے برے اور زہریلے اثرات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ان امراضِ باطنی اور سیاسی و مذہبی اختلافات میں امتزاج ہوا۔ غرض یہی وہ مرکزی اور گہرے و بنیا دی اسباب تھے جنہوں نے ان دروغ گو راویوں کے لیے زمین ہموار کی اور فضاو ماحول کو سازگار بنایا، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف جھوٹ و دروغ گوئی کی طرف متوجہ ہوئے، بلکہ اس میںایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی نامسعود کی، تاکہ اپنے زعم باطل کے مطابق اس دروغ گوئی کے سہارے اپنے مذہب کی خدمت، مصالح کے حصول اور شہوات کی تکمیل کرسکیں۔

۴:۔۔۔۔۔۔مخصوص فکری و مذہبی فرقہ کی تائید و نصرت
 

   دروغ گوئی و کذب کے ظاہر ہونے کے اسباب میں ایک سبب صراطِ مستقیم سے منحرف رہنے والے مخصوص فکری و مذہبی فرقہ کی تائید و نصرت بھی ہے۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ:
’’ دروغ گواورکذّاب احمد بن عبداللہ جو یباری فرقہ کرامیہ کی نصرت و دفاع کی خاطر محمد بن کرام کے لیے احادیث گھڑا کرتا تھا اور محمد بن کرام انہیں اپنی کتابوں میںذکر کرتا تھا۔‘‘ (۹)
    اس طرح دروغ گو و کذّاب قاضی محمد بن عثمان نصیبی روافض کی تائید و نصرت کی خاطر احادیث گھڑاکرتا تھا۔ اور ابو جارود بن منذر کوفی مثالبِ صحابہؓ میں احادیث وضع کیا کرتا تھا۔ عبدالرحمن بن خراشی شیعی کابھی یہی وطیرہ تھا، اس نے حضرات شیخینr کے مزعومہ مثالب میں دو رسالے تحریر کرکے روافض کے ایک بڑے پیشوا کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے اُسے دو ہزار درہم انعام میں دیے۔(۱۰)
    قارئین کرام! غور فرمائیں کہ مذکورہ بالا تینوں افراد کا ہدف و مقصد وضعِ حدیث سے صرف اپنے مخصوص فرقہ کے فکری و اعتقادی افکار کی تائید کے علاوہ کچھ نہیں، یہ لوگ صرف انبیاء کرامB کے بعد بالاتفاق خیرالبشر و افضل البشر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان درازی اور دلی کینہ کے اظہار کی غرض سے دروغ گوئی کیا کرتے تھے۔ روافض نے اہل بیتؓ و حضرت علی رضی اللہ عنہم پر تین ہزارکے قریب جعلی احادیث وضع کی ہیں۔(۱۱)

۵:۔۔۔۔۔۔ترغیب و ترہیب 
 

   دروغ گوئی کے اہداف میں ایک ہدف لوگوں کو دین کی ترغیب دینا اور ان کے دلوں کو نرم کرنا اور اپنے مزعومہ نظریہ کے مطابق لوگوں کو اجر کی امید دلانا اور گناہ سے روکنے کے لیے ترہیب بھی تھا، جیسا کہ بعض جاہل اور غالی صوفی قسم کے لوگوں نے اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا۔

۶:۔۔۔۔۔۔مادی و معاشی فوائد کا حصول 
 

   دروغ گوئی کے مرکزی اہداف و اسباب میں ایک بڑا اور بنیادی سبب و ہدف جاہل عوام کو اپنی طرف مائل کر کے ان سے مادی و معاشی فوائد حاصل کر کے اپنی خواہشات و چاہتوں کو پورا کرنا بھی تھا۔ یہ طرزِ عمل مخصوص گمراہ فرقوں کے علاوہ قصہ گو اور واعظ قسم کے لوگوں نے بھی اختیار کیا ہوا تھا، یہ لوگوں کو جھوٹی روایات، عجیب و غریب اور محیرالعقول قسم کی باتیں گھڑ کر سنایا کرتے، تاکہ لوگ ان سے متأثر ہو کر ان کی مادی و معاشی ضروریات کی تکمیل میں معاونت کریں۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ:
’’ ابراہیم بن فضل اصفہانی (متوفی: ۵۳۰ھ)اصفہان کے بازار میں کھڑے ہو کر اسی وقت اپنی طرف سے احادیث گھڑ کر لوگوں کو سنایا کرتا تھا اور ان روایاتِ کاذبہ کے ساتھ صحیح روایات کی اسانید کو جوڑا کرتا تھا۔‘‘(۱۲) 

۷:۔۔۔۔۔۔ شخصی یا گروہی مفادات
 

   جھوٹ و کذب میں منافست کا ایک سبب و ہدف اپنے شخصی یا گروہی مفاد کے لیے بعض برگزیدہ اور بڑے لوگوں کی مدح یا مذمت میں احادیث وضع کرنا بھی تھا،جیسا کہ روافض کا یہ عمومی حال تھا، علامہ ذہبیؒ نے امام مازریؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نعیم بن حماد امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مثالب میں جھوٹی روایات و ضع کیا کرتا تھا۔ (۱۳) 
علامہ ذہبیؒ ہی نے لکھا ہے کہ: احمد بن عبداللہ جو یباری نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مدح میں ایک حدیث وضع کی تھی۔(۱۴) ان تمام اسباب و اہداف میںغور و فکر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کذب و دروغ گوئی کے پھیلنے، پھلنے اور پھولنے کی اساس و بنیاد تو ان دروغ گوراویوں کے باطنی و داخلی امراض کے سبب وجود پذیر ہوئی، لیکن سیاسی، گروہی اور مادی و معاشی عوامل نے اس کی گہرائی و نشاط میں اضافہ کر کے اسے مزید سہ آتشہ بنایا۔

دروغ گوئی کے تاریخِ اسلامی پر آثارِ سیئہ

دروغ گوراویوں کے اس مخصوص مکتبۂ فکر نے ہماری پوری تاریخِ اسلامی پر عام طور سے اور قرونِ ثلاثہ پر خاص طور سے بہت سے زہریلے اور برے اثرات چھوڑے۔ مقامِ دعوت و غور وفکر یہ ہے کہ ان دروغ گو اور کذّاب ( اور متہم بالکذب) لوگوں کی روایات ہماری تاریخ، ادب، عقائد اور دینی تصانیف میں سرایت کرگئیں، اور اُن کے ایک بڑے اور معتدبہ حصہ کو اپنے جھوٹ سے فاسد کرڈالا، جس کے نتیجہ میں وہ تصانیف ثقہ روایات کے ساتھ اَبا طیل، خرافات و متناقضات کا مجموعہ بن کر رہ گئیں۔

تاریخِ طبری کا ایک سرسری جائزہ

جن حقائق کا ہم نے گزشتہ سطور میں تذکرہ کیا، ان کا ہماری اسلامی تاریخ سے کتنا تعلق ہے اور اس کے کیا برے اثرات مرتب ہوئے،ان کا ایک سر سری جائزہ لینے کی غرض سے ہم نے کتبِ تاریخ میں سے علامہ ابن جریر بن یزیدطبری (متوفی: ۳۱۰ھ) کی مشہور و معروف تصنیف ’’تاریخ الأمم والملوک‘‘ المعروف ’’تاریخ الطبری‘‘ کا بطور نمونہ کے انتخاب کیا ہے، تاریخِ طبر ی ہمارے عہدِ اسلامی کی تاریخ کا اہم مصدر ہو نے کے علاوہ قرونِ ثلاثہ کے حوالہ سے سب سے اہم، کثیر المعلومات اور مستند کہی جانے والی کتاب ہے۔ اس لیے طبری اور ان کی کتاب کا مختصر ساتعارف کروانے کے بعد ہم اپنے اصل موضوع پر گفتگو کریں گے، تاکہ قاری پر یہ بات واضح ہو جائے کہ علامہ طبری خود توثقہ ہیں، لیکن ان کی کتاب رطب و یابس کا مجموعہ ہے۔

ابن جریر طبری کا مختصر تعارف

نام محمد، ولدیت جریر،دادا کا نام یزیداور کنیت ابو جعفر ہے، پیدائش طبرستان میں ہوئی تواس کی نسبت سے طبری کہلاتے ہیں۔ سن ولادت میں دو قول ہیں:۱:…۲۲۴ھ ہجری کے آخر میں۔ ۲:…۲۲۵ھ ہجری کے اول میں۔ ابن جریر خود اپنے ابتدائی حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ: میں نے سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ یاد کرلیا۔ آٹھ سال کی عمر میں لوگوں کو نمازیں پڑھانا شروع کردیں اور نوسال کی عمر میں حدیث لکھنا شروع کردیا تھا۔ ابن جریر طبری نے علوم و فنون کی تکمیل کے لیے مختلف علماء اورعلاقوں کی طرف اسفار کیے۔ عراق میں ابومقاتل سے فقہ پڑھی،احمدبن حماد دولابی سے کتاب المبتدا لکھی،مغازی‘ محمد بن اسحاق کے واسطہ سے سلمہ بن فضل سے حاصل کیے اور اسی پر اپنی تاریخ کی بنیاد رکھی۔کو فہ میں ہناد بن سری اور موسیٰ بن اسماعیل سے حدیث لکھی۔ سلیمان بن خلادطلحی سے قراء ت کا علم حاصل کیا۔ پھر وہاں سے بغداد لوٹ آئے، احمد بن یوسف تغلبی کی صحبت میں رہے اور اس کے بعد فقہ شافعی کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی کو اپنامسلک ٹھہرا کر کئی سال تک اس کے مطابق فتویٰ دیتے رہے، بیروت میں عباس بن ولید بیروتی سے شامیوں کی روایت میں قراء ات و تلاوت مکمل کی۔
مصر میں بھی ایک طویل دور تک قیام پذیر رہے، اسی اثنا میں شام چلے گئے، پھر لوٹ آئے اور امام مزنی اور عبدالحکم کے صاحبزادوں سے فقہ شافعی کا علم حاصل کیا اورابن وہب کے شاگردوں سے فقہ مالکی کی تحصیل کی۔ غرض علامہ طبری نے حدیث، تفسیر، قراء ات، فقہ،تاریخ، شعر و شاعری اور تمام متداول علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ مختلف عنوانات پر ۲۶؍ کے قریب کتابیں تصنیف کیں، ان میں تفسیر طبری کے علاوہ تاریخِ طبری بہت زیادہ مشہور و معروف ہے۔(۱۵)

تاریخِ طبری کا مختصر تعارف

اس کتاب کا نام ’’تاریخ الرسل والملوک ‘‘ یا ’’تاریخ الأمم و الملوک‘‘ ہے، البتہ تاریخِ طبری کے نام سے عوام و خواص میں مشہور ہے۔ علامہ طبری کی یہ تصنیف عربی تصانیف میں مکمل اور جامع تصنیف شمار کی جاتی ہے۔ یہ کتاب ان سے پہلے کے مؤرخین: یعقوبی، بلاذری، واقدی، ابن سعد وغیرہ کے مقابلہ میں اکمل اور اُن کے بعد کے مؤرخین، مسعودی، ابن مسکویہ، ابن اثیر اور ابن خلدون وغیرہ کے لیے ایک رہنما تصنیف بنی۔ معجم الادباء میں یا قوت حموی نے لکھا ہے کہ: ابن جریر نے اپنی اس تالیف میں۳۰۲ ہجری کے آخر تک کے واقعات کو بیان کیا اور بروز بدھ ۲۷؍ ربیع الاول ۳۰۳ہجری میں اس کی تکمیل کی۔(۱۶)

طرزِ نگارش

ابن جریر نے اپنی تاریخ کی ابتداء حدوثِ زمانہ کے ذکر، اولِ تخلیق یعنی قلم و دیگر مخلوقات کے تذکرہ سے کیا، پھر اس کے بعد آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء و رسلB کے اخبار و حالات کو تورات میں انبیاء علیہم السلام کی مذکورہ ترتیب کے مطابق بیان کیا، یہاں تک کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تمام اقوام اور ان کے واقعات کو بھی بیان کیا ہے۔اسلامی تاریخ کے حوادث کو ہجرت کے سال سے لے کر ۳۰۲ہجری تک مرتب کیا اور ہر سال کے مشہور واقعات و حوادث کو بیان کیا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں حدیث، تفسیر، لغت، ادب، سیرت، مغازی، واقعات و شخصیات، اشعار، خطبات اور معاہدات وغیرہ کو خوبصورت اسلوب میں مناسب تر تیب کے ساتھ ہر روایت کو اس کے راوی اور قائل کی طرف (بغیر نقد و تحقیق کے ) منسوب کیا اور اُسے کتاب اور فصول کے عنوان سے تقسیم کرکے ان کو علماء کے اقوال سے مزین کیا ہے۔

مصادرِ تصنیف 

طبری نے اپنی اس تصنیف کے لیے جن مصادر کا انتخاب کیا، وہ یہ ہیں:۱:… تفسیر‘ مجاہد اور عکرمہ وغیرہ سے نقل کی۔ ۲:…سیرت‘ ابان بن عثمان، عروہ بن زبیر، شرجیل بن سعد، موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق سے نقل کی۔ ۳:…ارتداد اور فتوحاتِ بلاد کے واقعات‘ سیف بن عمر اسدی سے نقل کیے۔ ۴:…جنگ جمل اور صفین کے واقعات‘ ابو مخنف اور مدائنی سے نقل کیے۔۵:… بنواُمیہ کی تاریخ‘ عوانہ بن حکم سے نقل کی۔ ۶:…بنو عباس کے حالات‘ احمد بن ابو خیثمہ کی کتابوں سے لکھے۔ ۷:…اسلام سے قبل عربوں کے حالات‘ عبید بن شریۃ الجرہمی، محمد بن کعب قرظی اور وہب بن منبہ سے لیے۔ ۸:…اہلِ فارس کے حالات‘ فارسی کتابوں کے عربی ترجموں سے لیے۔ ۹:…پوری کتاب میں مصنف کا اُسلوب یہ ہے کہ واقعات و حوا دث اور روایات کو ان کی اسناد کے ساتھ بغیر کسی کلام کے ذکر کرتے چلے گئے ہیں۔ ۱۰:…جن کتابوں اور مؤلفین سے استفادہ کیا ہے تو جگہ جگہ ان کے ناموں کی صراحت کی ہے۔۱۱:…تاریخِ طبری کے بہت سارے تکملات لکھے گئے اور کئی لوگوں نے اس کا اختصار بھی کیا اور خود طبری نے سب سے پہلے اس کا ذیل لکھا۔ بعض حضرات نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا، پھر فارسی سے ترکی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا۔(۱۷)

ابن جریر طبری کا مذہب 

محترم قارئین کرام! تاریخِ طبری کے مصنف’’ ابن جریر طبری ‘‘کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سنی شافعی المسلک تھے،طبقات شافعیہ اور دیگر رجال کی کتابوں میں یہی مذکور ہے،(۱۸) لیکن یہ یاد رہے کہ اسی نام وولدیت سے ایک اور شخص بھی گزرا ہے جو رافضی تھا،چناںچہ علمائے رجال نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری رافضی تھا،اس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں،ان میں سے ایک ’’کتاب الرواۃ عن أہل البیت‘‘بھی ہے،حافظ سلیمانی ؒکے کلام ’’ کان یضع للروافض‘‘ کا مصداق بھی یہی شخص ہے۔(۱۹)
 علامہ ابن قیم ؒ نے لکھا ہے کہ ابن جریر طبری (سنی)کے بارے میں(مسح رجلین کے قائل ہونے کاشبہ) اس لیے پیدا ہوا، کیوں کہ ابن جریر جو مسح رجلین کا قائل تھا وہ ان کے علاوہ ایک اور شخص ہے جو شیعی تھا، ان دونوں کا نام اور ولدیت ایک جیسی ہے، میں نے اس (ابن جریر شیعی) کی شیعہ مذہب کے اُصول و فروع کے بارے میں کتابیں دیکھیں ہیں۔(۲۰)
حافظ ابن حجر ؒ نے فرمایا کہ: ابن جریر کے بارے مسح رجلین کے قائل ہونے کی جو حکایت بیان کی جاتی ہے تو اس سے مراد محمد بن جریر بن رستم رافضی ہے، کیوں کہ یہ ان کا مذہب ہے(نہ کہ اہل سنت کا)۔(۲۱)
چوں کہ دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے، اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے، سنی ابن جریر کے دادا کا نام یزید ہے اور رافضی ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے۔(۲۲)
 خود شیعہ مصنفین اور اصحابِ رجال میں سے بحرالعلوم طباطبائی،ابن الندیم، علی بن داؤد حلّی، ابو جعفر طوسی،ابو العباس نجاشی اور سیّد خوئی وغیرہ نے ابن جریر بن رستم طبری کے اہل تشیع میںسے ہونے کی تصریح کی ہے۔(۲۳) بہرحال دونوں ناموں اور ولدیت و کنیت میں تشابہ ہے، اسی تشابہ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر شیعی کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے، چناںچہ ڈاکٹر ناصر بن عبداللہ بن علی قفازی نے ’’ أصول مذھب الشیعۃ الإمامیۃ الإثني عشریۃ عرض و نقد‘‘ میں لکھا ہے :
’’روافض نے اس تشابہ کو غنیمت جان کر ابن جریر سنی کی طرف بعض ان کتابوں کی نسبت کی ہے جس سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے،جیسا کہ ابن الندیم نے الفہرست، ص:۳۳۵ میں ’’کتاب المسترشد في الإمامۃ‘‘ کی نسبت ابن جریر سنی کی طرف کی ہے حالاں کہ وہ ابن جریر شیعی کی ہے،دیکھیے: طبقات أعلام الشیعۃ في المائۃ الرابعۃ، ص: ۲۵۲، ابن شہر آشوب، معالم العلماء،ص:۱۰۶،آج بھی روافض بعض ان اخبار کی نسبت امام طبری کی طرف کرتے ہیں جن سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے، حالاں کہ وہ اس سے بری ہیں،دیکھیے: الأمیني النجفي، الغدیر:۱/۲۱۴-۲۱۶۔ روافض کے اس طرزِ عمل نے ابن جریر طبری سنی کو ان کی زندگی میں بہت سارے مصائب سے دوچار کیا، یہاں تک کہ عوام میں سے بعض لوگوں نے اُنہیں رفض سے متَّہم بھی کیا، جیسا کہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، دیکھیے: البدایۃ و النہایۃ: ۱۱/۱۴۶۔‘‘(۲۴)

موضوعِ بحث

اس وقت ہمارا موضوع ِ بحث علامہ ابن جریر بن یزید طبری شافعیؒ اور ان کی تاریخ ہے، کیونکہ موصوف بڑے اور بلند مرتبہ کے عالم سمجھے جاتے ہیں، خاص کر قرونِ ثلاثہ کی تاریخ کے حوالہ سے ان کا نام اور کتاب کسی تعارف کی محتاج نہیں، قدیم و جدید تمام مؤرخین نے ان سے استفادہ کیا ہے۔

تاریخِ طبری کا اجمالی جائزہ

ان ساری خصوصیات کے باوجود تاریخِ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے، جب کہ عدالتِ صحابہ کرامؓ پرموجود قطعی نصوصِ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے پیشِ نظر منصف مزاج اہل علم امام طبری اور خاص کر ان کی تاریخ میں مروی اس طرح کی روایات پر کلام کرنے پہ مجبور ہوئے ہیں،چوں کی تاریخِ طبری بڑے بڑے دروغ گو، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات سے بھری ہوئی ہے، بطور مثال کے تاریخِ طبری کی روایات کا ایک جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹرخالد علال کبیر صاحب نے تاریخِ طبری میں موجود ثقہ و غیر ثقہ راویوں کی روایات کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا ہے،چناں چہ وہ لکھتے ہیں کہ: تاریخِ طبری میں اس کے بارہ (۱۲) مرکزی رواۃ کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں، جن میں سے سات راوی کذّاب یا متہم بالکذب ہیں اور پانچ ثقہ ہیں:

دروغ گواور متہم بالکذب راویوں کی روایات کا اجمالی خاکہ

محمد بن سائب کلبی کی بارہ (۱۲) روایات،ہشام بن محمد کلبی کی پچپن (۵۵) روایات،محمد بن عمر کی چار سو چالیس (۴۴۰)روایات،سیف بن عمر تمیمی کی سات سو (۷۰۰)روایات،ابو مخنف لوط بن یحییٰ کی چھ سو بارہ (۶۱۲)روایات،ہیثم بن عدی کی سولہ(۱۶) روایات،محمد بن اسحاق بن یسار(۲۵) کی ایک سو چونسٹھ (۱۶۴)روایات ہیں،ان سب کی روایات کا مجموعہ جن کو مؤرخ طبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے وہ انیس سو ننانوے( ۱۹۹۹) ہے۔

ثقہ راویوں کی روایات کا اجمالی خاکہ

زبیر بن بکار کی آٹھ(۸)روایات،محمد بن سعد کی ایک سو چونسٹھ (۱۶۴)روایات،موسی بن عقبہ کی سات(۷)روایات،خلیفہ بن خیاط کی ایک(۱) روایت،وھب بن منبہ کی چھیالیس (۴۶)روایات ہیں۔تاریخِ طبری کے ان پانچ ثقہ راویوں کی روایات کا مجموعہ دو سو چھبیس( ۲۲۶) ہے۔
تو گویا تاریخِ طبری میں دو سوچھبیس( ۲۲۶)ثقہ روایات کے مقابلہ میں ان سات دروغ گو اور متہم بالکذب راویوں کی انیس سو ننانوے( ۱۹۹۹) روایات ہیں، ان دونوں کے تناسب سے اندازہ لگاجاسکتا ہے کہ تاریخِ طبری جیسی قدیم اور مستند سمجھی جانے والی کتاب کا جب یہ حال ہے تو تاریخ کی باقی کتابوں کا کیا حال ہوگا۔ (۲۶)

علامہ طبری کا اعتراف

مذکورہ بالا باتوں کی تائید خود علامہ طبری کے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں اس اعتراف سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے واضح طور سے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بغیر نقدو تمحیص کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے راویوں کی روایات کو ان کی اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ چناںچہ قارئین کے اطمینانِ قلبی کی خاطر علامہ طبری کی وہ پوری عربی عبارت پیشِ خدمت ہے، جس میں انہوں نے محض سند کے ساتھ بغیر نقد و تمحیص کے روایات ذکر کرنے کا اعتراف کیا ہے:
’’ فما یکن في کتابی ھذا من خبر ذکرناہ عن بعض الماضین مما یستنکرہٗ قارئُہٗ، أو یستشنعہٗ سامعہٗ من أجل أنہٗ لم یعرف لہٗ وجھًا في الصحۃ، ولا معنی في الحقیقۃ، فلیعلم أنہٗ لم یؤت في ذٰلک من قبلنا، و إنما من قبل بعض ناقلیہ إلینا، وإنا إنما أدینا ذٰلک علی نحوما أدی إلینا ۔‘‘(۲۷)
محترم قارئین کرام! کیا صرف سند کے ساتھ رطب و یابس، غث و سمین اور ثقہ و غیر معتبر ہر طرح کی روایات کا نقل محض کسی بھی ثقہ مصنف کے لیے معقول عذر بن سکتا ہے؟ اس پر اپنی ذاتی رائے اور نقطہ نظرپیش کرنے کی بجائے ہم محقق علماء کی آرا نقل کر کے فیصلہ انصاف پسند قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ 
 

علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا اعتراف

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ابن جریر طبری ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک ثقہ ہیں،لیکن ان کے بارے میں تشیع کی طرف میلان کا قول بھی مروی ہے، چناں چہ علامہ ذہبیؒ اور حافظ ابن حجر ؒ نے ان کی توثیق کرنے کے ساتھ ساتھ دبے لفظوں میں ان کے تشیع کی طرف میلان کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:’’ ثقۃ صادق فیہ تشیع یسیر و موالاۃ لاتضر ۔‘‘(۲۸)شاید ان دونوں حضرات کے کلام کامقصد یہ ہو کہ چوں کہ علامہ طبری نے اپنی تاریخ میںایسی روایات بغیر نقد و کلام کے نقل کی ہیںجن سے ان کا تشیع کی طرف میلان معلوم ہوتا ہے،لہٰذا اس تصریح کے بعد طبری کی وہ تمام روایات جن سے اہل تشیع کے مخصوص افکار کی تائید ہوتی ہے، وہ غیر معتبر قرار پائیں گی۔ 

محققِ عصر مولانا محمد نافع رحمۃ اللہ علیہ کا تبصرہ

تاریخِ طبری میں منقول معتضد با للہ عباسی کا رسالہ جسے مؤرخ طبری نے ۲۸۴ھ کے تحت بلاکسی نقد و تحقیق و تمحیص اور کلام کے نقل کیا ہے، جس میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حضرات کے خلاف سب و شتم اور لعن طعن کرنے کے جواز میں مواد فراہم کیا اور اس میں موجباتِ لعن و طعن درج کیے ہیں،اس رسالہ پر تنقید کرتے ہوئے ’’الطبری کی حکمت عملی‘‘ کے تحت محققِ عصر، یگانۂ روزگار اور عبقری شخصیت حضرت مولانا محمد نافع رحمۃ اللہ علیہ ، فاضل دارالعلوم دیوبند نے’’ فوائدِنافعہ ‘‘میں جو کچھ فرمایا، وہ من و عن پیشِ خدمت ہے:
’’غور طلب بات یہ ہے کہ صاحب التاریخ محمد ابن جریر الطبری کے لیے عباسیوں کے اس فراہم کردہ غلیظ مواد کو من و عن نقل کے کے اپنی تصنیف میں شامل کرنے کا کون سا داعیہ تھا؟ اور اس نے کون سی مجبوری کی بنا پر یہ کارِ خیر پورا کیا؟ گو یا الطبری نے اس مواد کو اپنی تاریخ میں درج کر کے آنے والے لوگوں کو اس پر آگاہ کیا اور سب وشتم اور لعن طعن کے جو دلائل عباسیوں نے مرتب کروائے تھے، ان پر آئندہ نسلوں کو مطلع کرنے کا ثواب کمایا؟ چناںچہ شیعہ اور روافض رسالہ مذکورہ میں مندرجہ مواد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی کتب میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر مطاعن قائم کرتے ہیں اور شدید اعتراضات پیدا کرتے ہیں۔ درحقیقت الطبری نے اہلِ اسلام میں انتشار پھیلانے اور افتراق ڈالنے کے لیے بڑی عجیب تدبیر اور حکمت عملی اختیار کی، جس سے مخالفین صحابہؓ کو یک گونہ رہنمائی حاصل ہوئی اور ان کو عداوت پوری کرنے کے لیے ایک تیار شدہ مواد دستیاب ہوگیا۔ کئی لوگ ان دلائل پر نظر کرنے میں متذبذب ہوں گے، کئی ناظرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متنفر ہوں گے اور بعض قارئین دل برداشتہ ہو کر اموی صحابہ رضی اللہ عنہم سے منحرف ہو جائیں گے۔ الطبری کو اس باطل مواد کو اس تفصیل کے ساتھ ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے تھا، بلکہ صرف ایک واقعہ تاریخ کی حیثیت سے اجمالاً ذکر کردینا کافی تھا، جیسا کہ باقی مؤرخین نے واقعہ ہذاکو اجمالاً درج کیا ہے اور دلائل کی تفصیل کی طرف نہیں گئے اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ذکر کیا تھا تو اس مواد کے بطلان پر کچھ تو کلام کرنا چاہیے تھا، تاکہ لوگ اس سے غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں، لیکن الطبری نے ایسا نہیں کیا۔یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب التاریخ طبری کی نیت بخیر نہ تھی، بلکہ فاسد تھی، اوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں الطبری خود سوء ظنی کا مریض تھا۔ (لکل امریٔ مانوی۔ جزاہ اللّٰہ تعالٰی علی حسب مرامہٖ)۔‘‘(۲۹)
 

مولانا مہرمحمد میانوالوی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے

’’ابن جریر طبری کا مذہب‘‘اس عنوان کے تحت مولانا مہرمحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ: 
’’یہ وہی امام طبری المتوفی ۳۱۰ھ ہیں جنہیں اہل بغداد نے تشیع سے متہم کر کے اپنے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا تھا(۳۰)،گو شیعہ نہیں ہیں، تاہم اپنی تاریخ یا تفسیر میں ایسی کچی پکی روایات خوب نقل کر دیتے ہیں جو شیعہ کی موضوع یا مشہور کی ہوئی ہوتی ہیں۔‘‘ (۳۱)

عرب علماء کی رائے

معاصر عرب اہل علم حضرات میں سے ڈاکٹر خالد علال کبیر صاحب (۳۲)نے اپنی کتاب ’’مدرسۃ الکذابین في روایۃ التاریخ الإسلامي و تدوینہ‘‘ میں مؤرخ طبری کے اس مخصوص طرزِ عمل کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’میرے نزدیک انہوں نے یہ (یعنی تحقیق و تمحیص کے بغیر صرف اسانید کے ساتھ روایات کو نقل کر کے) ایک ناقص کام کیا ہے، اور ان تمام روایات کے وہ خود ذمہ دار ہیں جو انہوں نے اپنی تاریخ میں مدون کی ہیں،پس انہوں نے عمداً دروغ گو راویوں سے بکثرت روایات نقل کیں اور ان پر سکوت اختیار کیا، یہ انتہائی خطرناک معاملہ ہے جو بعد میں آنے والی بہت ساری نسلوں کی گمراہی کا سبب بنا، اُنہیں (طبری) کو چاہیے تھا کہ وہ ان دروغ گو رایوں کا بغیر ضرورت کے تذکرہ نہ کرتے، یا ان پر نقد کرتے اور ان کی روایات کی جانچ پڑتال کرتے، صرف ان کی اسانید کے ذکر پر اکتفا کر کے سکوت اختیار نہ کرتے۔ نقد ِ روایات اس لیے ضروری تھا، کیوں کہ تاریخِ طبری کا مطالعہ کرنے والوں میں غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے جن میں اتنی علمی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ان روایات پر سند و متن کے اعتبار سے نقد کرسکیں، چہ جائے کہ اگر اس سے استفادہ کرنے والے صرف حدیث، تاریخ و دیگر علوم میں متبحر ہوتے تو تب یہ طے شدہ بات تھی کہ وہ نقد و تمحیص کا عمل انجام دیتے۔‘‘ (۳۳)
ڈاکٹر صاحب موصوف مزید لکھتے ہیں کہ :
’’اس معاملہ کو اس سے بھی زیادہ سنگین اس بات نے کردیا کہ طبری کے بعد آنے والے اکثر مؤرخین نے قرونِ ثلاثہ کے بارے میں ان سے بکثرت روایات نقل کی ہیں، جیسا کہ ابن جوزی نے اپنی کتاب ’’المنتظم‘‘ میں، ابن الاثیر نے ’’الکامل‘‘ میں اور ابن کثیر نے ’’البدایۃ‘‘میں بغیر سند کے نقل کیا ہے، اور ان حضرات کا اس طرح بغیر سند کے روایات نقل کرنے سے ثقہ اور دروغ گو راویوں کی روایات خلط ملط ہوگئیں ہیں، بسا اوقات تاریخِ طبری کی طرف مراجعت کے بغیر ان روایات میں تمیز مستحیل ہوجاتی ہے۔‘‘(۳۴)
محترم قارئین! یہ تو صرف تاریخِ طبری سے متعلق ایک سرسری جائزہ ہے، ورنہ ہر روایت پر سند اور متن کے اعتبار سے تفصیلی کلام کے لیے مستقل دفتر کی ضرورت ہے، ممکن ہے کہ کسی کو اس جائزہ سے اختلاف ہو یا وہ اُسے مبالغہ پر محمول کرے،یا حقیقت سے بعید قرار دے، لیکن یاد رہے اس طرح کی باتیں کرنے والا یا تو تاریخ اور اس کی تدوین اور پسِ منظر اور اس میں دروغ گوئی کے اسباب و اہداف سے ناواقف ہوگا، یا واقفیت کے باوجود انکار کررہا ہوگا تو اُسے تجاہلِ عارفانہ کی بجائے تجاہلِ جاہلانہ و عنادیہ میں سے قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ یہاں تو صرف ایک کتاب کے بارے میں ایک سرسری ساجائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اگر کوئی صاحبِ علم و تجربہ اور درستگیِ فکر کا حامل مؤرخ تاریخ، تراجم، فِرَق اور مختلف مذاہب سے متعلق کتابوں کا نقد و تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں ایک معتدلانہ جائزہ لے گا تو وہ اس سے بھی زیادہ عجیب وہ غریب، باہم متناقض اور مستحیل قسم کی روایات کو پائے گا، جنہیں قرونِ ثلاثہ میں اُمتِ مسلمہ کے سیاسی، گروہی اور مختلف فر قوں کی تقسیم کے نتیجہ میں دروغ گو راویوں کا لازمی نتیجہ ہائے فکر قرار دیئے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں پائے گا۔

 افتراق و انتشار اور گروہی اختلافات کی اَساس

غرض کذّاب اور دروغ گو راویوں کی موضوع ومن گھڑت اور نصوصِ شریعت و حاملینِ دینِ متین سے متصادم روایات ہی اُمتِ مسلمہ میں افتراق و انتشار اور تمام گروہی اختلافات کی اَساس و بنیاد ہیں، جن کو صراطِ مستقیم سے منحرف فرقوں نے جب مذہبی قداست کا لبادہ اوڑھا دیا تو اس مکتبۂ فکر کے ماننے والوں نے ان روایات کو دین اور رجال پر طعن کرنے، گمراہ افکارکی نصرت و تائید، مسلمہ حقائق اور متوارث تاریخِ اسلامی میں تشکیک پیدا کرنے کے لیے بطور سلاح کے استعمال کرنا شروع کردیا۔    

اتحادِ اُمت کا نسخہ کیمیا

اُمتِ مسلمہ کا درد رکھنے والا منصف مزاج محقق ضرور اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان دروغ گو مکتبہ فکر کے گمراہ لوگوں نے اپنے مخصوص افکار و عقائد کی بنیاد اپنے مکتبۂ فکر کے ان مخصوص اور دروغ گو راویوں کی روایات پر رکھی ہے، اور قرآن کریم اور سنتِ صحیحہ و دیگر نصوصِ شریعت کو درخورِ اعتناء نہیںسمجھا۔ اگر یہ گمراہ فرقے آج بھی قرآن کریم، سنتِ صحیحہ اور دیگر متواتر و قطعی نصوصِ شریعت کی طرف رجوع کریں گے تو اُمتِ مسلمہ میں ہر طرح کے اختلاف ختم ہو جائیں اور یہ اُمت پھر سے ایک جسد و قلب کی مانند متفق و متحد ہو جائے گی، اُمتِ مسلمہ کی اتحاد کا یہی ایک نسخۂ کیمیا ہے۔

تدوینِ جدید کی ضرورت

موجودہ حالات میں اُمتِ مسلمہ کے اختلافات، انتشار اور فرقوں میں تقسیم کو دیکھتے ہوئے ایک معتدل اور اُمت کا درد رکھنے والا مؤرخ ضرور تاریخِ اسلامی کی تدوینِ جدید کی آواز اٹھائے گا۔ تدوینِ جدید کے لیے کیا جانے والا جدید مطالعہ درج ذیل نکات کی روشنی میں ہو تو زیادہ مفید مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے:
۱:…شریعتِ مطہرہ اور درایت و عقل کے خلاف روایت مردودہے، چناںچہ علما ء نے صراحت کی ہے کہ جو روایت بھی درایت اور عقل کے خلاف ہو، یا اُصولِ شریعت کے مناقض ہو تو جان لیں کہ وہ روایت موضوع ہے اور اس کے راویوں کا کوئی اعتبار نہیں۔ اسی طرح جو روایت حس اور مشاہدہ کے خلاف ہو، یا قرآن کریم، سنتِ متواترہ اور اِجماعِ قطعی کے مبائن ہو تو وہ روایت بھی قابلِ قبول نہیں۔(۳۵)
۲:… صحابہؓ وائمہ دین کی عیب جوئی سے متعلق روایت بھی قابلِ اعتبار نہیں،کیوں کہ روایات وضع کرنے والوں میں بعض لوگ وہ ہیںجنہوں نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ دین کی برائیاں اور عیب بیان کرنے کے لیے،یا اپنے دیگر مذموم اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے روایات وضع کی ہیں۔ ان کا یہ عمل یا تعنت و عناد کی وجہ سے ہے یا تعصب و فساد کی وجہ سے ہے، پس ان لوگوں کی روایات کا کوئی اعتبار نہیں، جب تک کہ ان کی کوئی سند معتمد نہ پائی جائے، یا سلف صالحین میں سے کسی نے اس پر اعتماد نہ کیا ہو۔(۳۶)
علامہ نووی ؒ نے قاضی عیاضؒ اور علامہ مازری ؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ:
’’ ہمیں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے اور ہر بری خصلت کی ان سے نفی کا حکم دیا گیا ہے ، لہٰذا اگر اُن کے بارے میں کسی روایت میں اعتراض پایا جائے اور اس کی صحیح تایل کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس روایت کے راویوںکی طرف جھوٹ کی نسبت کریں گے۔‘‘ (۳۷)
علامہ عبدالعزیز پِرہاڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ:
’’ اس بارے میں اہلِ سنت کا مذہب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی مناسب تاویل کی جائے اور اگر مناسب تاویل ممکن نہ ہو تو اس روایت کو رَد کر کے سکوت اختیار کرنا واجب ہے اور طعن کو بالیقین ترک کرنا ہوگا، اس لیے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مغفرت اور جنت کا وعدہ کیا ہے۔‘‘(۳۸)
۳:…نہایت اعتدال کے ساتھ ان تمام مؤرخین کی کتابوں سے ثقہ اور جھوٹے و کذّاب راویوں کی روایات میںتمیز کی جائے، جنہوں نے اپنی کتابوںمیں دونوں طرح کی روایات کو جگہ دی ہے، جیسا کہ خلیفہ بن خیاط، محمدبن سعد، زبیر بن بکار، موسیٰ بن عقبہ، وہب بن منبہ،ابن جریر طبری اور ابن اثیر وغیرہ۔
۴:…تاریخی روایات کی سند اور متن ہر دو اعتبار سے نقد و تمحیص و تحقیق کے مسلمہ قواعد کی روشنی میں جائزہ لے کر ان پر محتاط و محققانہ کلام کیا جائے۔
۵:… اس بات میں بھی تفریق ضروری ہے کہ مؤلف اور صاحبِ تاریخ خود تو ثقہ ہیں، لیکن اس نے نقلِ واقعات و روایات میں دروغ گو اور کذّاب راویوں پر اعتماد کیا ہے، جیسا کہ ابن جریر طبری کا حال ہے، ایسی صورت میں اس مؤرخ کی صرف ثقہ راویوں والی روایات مقبول قرار پائیں گی، دروغ گو و کذَّاب رواۃ کی روایات مردود سمجھی جائیںگی۔(۳۹)
۶:…اگر صاحبِ تاریخ خود کذّاب ودروغ گو ہو تو پھر اس کی کتاب میں موجود ثقہ لوگوں کی روایات بھی غیر معتبر قراردے دی جائیںگی۔
۷:…اصل اور ضابطہ تو کذاب راویوں کی روایات کے بارے میں عدمِ قبولیت کا ہے،البتہ اگر ان کی کوئی روایت،قرآن کریم، سنتِ مبارکہ اور اجماعِ اُمت کے مخالف نہ ہو تو دیگر ثقہ راویوں کی روایت کی تائید میں قرائن ومرجحات کی موجودگی میں قبول کرنے کی گنجائش ہوگی۔
۸:…دینی اُمور، صحابہ کرامؓ، ائمہ و سلف صالحین کے علاوہ دیگر دنیاوی معاملات میں اگر کسی ثقہ راوی کی روایت دستیاب نہ ہو تو بصورتِ مجبوری دروغ گو راویوں سے منقول روایات نقلِ واقعہ کی غرض سے ذکر کرنے کی گنجائش ہوگی، مگر اس سے علم یقین حاصل نہ ہو گا۔ 
۹:… تاریخ اور تحقیق کے نام پر محض مؤرخین کی ذکر کردہ روایات سے اخذ کردہ نتائج بھی غیر مقبول شمار ہوں گے، البتہ حقیقی اور مسلمہ اُصولوں کے تحت روایت قابل قبول قرار پائے تو اس سے ماخوذ نتائج درست قرار دیئے جائیں گے۔
۱۰:…اس پورے عمل کے دوران اس بات کا استحضار رہے کہ ہماری تاریخ دروغ گو مکتبہ فکر کے اغواکاری کا شکار رہی ہے، لہٰذا معمولی غفلت سے بھی موجودہ اور آئندہ آنے والی اُمتِ مسلمہ کی نسلوں میں تشکیک، تحریف، تضلیل، ائمہ دین و اسلاف سے بیزاری اور گروہی اختلافات کی آڑ میں ان تاریخی روایات کی بنیاد پر کشت و خون کی ہولیاں کھیلی جائیں گی۔(۴۰)

أللّٰھم أرنا الحقّ حقًّا وارزقنا اتباعہٗ و أرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہٗ

حواشی و حوالہ جات

۱:… القاموس المحیط للفیروز آبادی، فصل الہمزۃ،ج:۱، ص:۳۱۷ ۔ المحکم والمحیط الاعظم لابن سیدۃ، فصل الخاء واللام والہمزہ،ج:۵، ص: ۲۳۸، دار الکتب العلمیہ ، بیروت۔ المعجم الوسیط ، باب الہمزہ،ج: ۱، ص: ۱۳،دار النشر۔ تاج العروس،أرخ،ج: ۷، ص:۲۲۵،دار الہدایہ۔ لسان العرب، أرخ،ج: ۳، ص: ۴، دار صادر۔
۲:…الصحاح ،ج: ۱، ص: ۴۴۰، مختار الصحاح، باب الألف ،ج: ۱، ص: ۱۳،مکتبۃ لبنان ناشرون۔
۳:… القاموس المحیط للفیروزآبادی، فصل الہمزۃ،ج: ۱، ص: ۳۱۸ ۔ المحکم والمحیط،ج: ۵، ص: ۲۳۸ ۔ المغرب، الہمزہ مع الرائ، ج:۱،ص: ۳۵،مکتبۃ اسامۃ بن زید حلب ۔ لسان العرب،ج: ۳، ص: ۴ ۔ الصحاح،ج: ۱، ص: ۴۴۰۔
۴:…تفصیل کے لیے دیکھئے : الشماریخ فی علم التاریخ للسیوطی،ج: ۱، ص: ۱۰-۱۴، الدار السلفیۃ کویت۔ تاریخ ابن خلدون ، ج:۱، ص: ۳، ۹،۳۵ ۔ تاریخ الإسلام للذہبی،ج: ۱، ص: ۱۲،دار الکتاب العربی۔ تاریخ الطبری،ج: ۱، ص: ۱۲،دار الکتب العلمیہ۔
۵:… الکامل فی التاریخ ،ج: ۱، ص: ۹،دار ا

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے