بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

بینک میں فریڈم اکاؤنٹ کھولنا اوربینک سے قرض لینے یا دینے کا حکم!

بینک میں فریڈم اکاؤنٹ کھولنا
اوربینک سے قرض لینے یا دینے کا حکم!

 

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعلمائے عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہم نے حبیب بینک میں ایک اکاؤنٹ فریڈم اکاؤنٹ کے نام سے کھولا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ بینک کو ہم۲۵۰۰۰( پچیس ہزار ) روپے دیتے ہیں، جس کے عوض میں وہ ہمیں چند سہولتیں مفت فراہم کرتا ہے: ۱- چیک بک، ۲-اسٹیٹمنٹ،۳-ایک شہر سے دوسرے شہر کو پیسے منتقل کرنے کی سہولت۔ ( ان سب صورتوں میں ہم سے کوئی چارجز وصول نہیں کیے جاتے) نیز دوسرے لوگ بھی ہمارے اس فریڈم اکاؤنٹ سے مفت میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب سہولتیں اس بنیاد پر ہوتی ہیں کہ ہمارے ۲۵۰۰۰( پچیس ہزار )روپے رکھے ہوئے ہیں، اگر مہینے میں ۲۵۰۰۰( پچیس ہزار )روپے سے بیلنس کم ہوجائے (چاہے وہ ایک ہی دن کیوں نہ ہو) تو مذکورہ ماہ میں کسٹمر (یعنی گاہک) کی جانب سے کی جانے والی ہر ڈیبٹ ٹرانزیکشن پر ۵۸ روپے چارجز لاگو ہوںگے، یعنی اس مہینے میں جو سہولت بینک نے ہمیں دی تھی، وہ ختم کر دیتا ہے اور پورے مہینے کے چارجز وصول کرلیتا ہے اور یہ بھی کہ اگر ہم کبھی اپنی رقم نکلوانا چاہیں تو پوری رقم ہمیں دی جاتی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے :
۱:… فریڈم اکاؤنٹ کھولنا اور اس کی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا شریعت میں کیسا ہے؟
 ۲:…اور کیا ہم بینک والوں سے قرض لے اور دے سکتے ہیں؟
 ۳:…اور کیا ہم بینک والوں کا کھانا کھاسکتے ہیں؟ 
۴:…اور بینک والوں کا مکان کرائے پر لے سکتے ہیں یا نہیں؟
تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔ 
وضاحت: 
ہماری جمع کردہ رقم پر کوئی سود نہیں لگتا، بلکہ ہمارے مطالبے کے وقت ہمیں جمع شدہ رقم ہی واپس کی جاتی ہے۔
                                           مستفتی:عبد الجبار،سائٹ ٹاؤن کراچی
الجواب باسمہٖ تعالیٰ
۱…واضح رہے کہ بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں جو رقم رکھی جاتی ہے، اس کی حیثیت قرض کی ہے، گویا صارف نے بینک کو قرض دیا ہوا ہے۔
دکتور عبد الرزاق سنہوری فرماتے ہیں:
’’إذا کانت الودیعۃ مبلغاً من النقود أو أی شیئ آخر مما یہلک بالاستعمال، وکان المودع عندہ مأذوناً لہ فی استعمالہ اعتبر العقد قرضاً‘‘۔       (الوسیط فی شرح القانون المدنی، عقد الودیعۃ، الفصل الرابع، ۷؍۷۵۳، ط:دار احیاء التراث العربی)
آگے لکھتے ہیں:
’’وأکثر ما ترد الودیعۃ الناقصۃ علی ودائع النقود فی المصارف حیث تنتقل ملکیۃ النقود إلی المصرف ویرد مثلہا بل ویدفع فی بعض الأحیان فائدۃ عنہا، فیکون العقد فی ہذہ الحالۃ قرضاً أو حساباً جاریاً … علی أن ہناک من الفقہاء من یمیّز بین الودیعۃ الناقصۃ والقرض وستریٰ فیما یلی إلاّ جدویٰ من ہذا التمییز‘‘۔                        (ایضا ً،۷؍۷۵۵)
    آگے چل کر فیصلہ سناتے ہیں:
’’والصحیح إذن أنہ لامحل للتمییز بین الودیعۃ الناقصۃ والقرض‘‘۔ (أیضاً، ۷؍۷۵۷)
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں فریڈم اکا ؤنٹ کھولنا جائز نہیں، کیونکہ اس اکاؤنٹ کو کھولنے کے لیے ضروری ہے کہ صارف کے اکاؤنٹ میں پچیس ہزار( ۲۵۰۰۰)روپے ہوں، یہ صارف کا بینک کو قرضہ دینا ہے اور اس کے ذریعہ درج ذیل فوائد حاصل کرتے ہیں:۱-مفت چیک بکس، ۲-اسٹیٹمنٹ، ۳- مفت منی ٹرانسفر (ایک شہر سے دوسرے شہر رقم کی منتقلی) 
حالانکہ قرض دے کر اس کے بدلہ فائدے حاصل کرنا جائز نہیں، اسے شریعت نے سود کہا ہے:
فتاویٰ شامی میں ہے:
’’وفی الأشباہ: کل قرض جر نفعاً حرام‘‘۔ (الدر المختار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، ۵؍۱۶۶، ط: سعید)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ فریڈم اکاؤنٹ کھولنا جائز نہیں، باوجود اس کے کہ وہ کرنٹ اکاؤنٹ ہے، کیونکہ یہ قرض منفعت کے ساتھ مشروط ہے۔
۲…عام طور پر بینک سے قرضہ لینا اور اسے قرضہ دینا، سود کے معاملہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ سود کی اسلام میں کسی طور اجازت نہیں، لہٰذا ہر وہ قرض جو سود پر مشتمل ہو، اس کا لین دین حرام ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
’’وَأَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَوا‘‘۔                               (البقرۃ:۲۷۵) 
ترجمہ: ’’حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے‘‘۔ (بیان القرآن)
نبی کریم ا نے سود لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
’’عن جابرؓ قال: لعن رسول اللّٰہ ا آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدہ وقال: ہم سواء‘‘۔                   (مشکاۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الربا ۱؍۲۴۴،ط:قدیمی)
ترجمہ:…’’حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ا نے سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، سودی لین دین کا کاغذ لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر، سب پر لعنت فرمائی ہے، نیز آپ ا نے فرمایا کہ: یہ سب (اصل گناہ میں) برابر ہیں۔                                 (مظاہر حق جدید، ۳؍۶۸،ط:دار الاشاعت)
۳… بینک میں کام کرنے والے ملازم کی آمدنی کا ذریعہ صرف بینک ہی ہو یا بینک کے علاوہ کوئی اورآمدنی کا ذریعہ بھی ہو، لیکن بینک کی کمائی زیادہ ہو تو ایسے لوگوں سے کھانے ، پینے کی کوئی چیز لینا جائز نہیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
’’اٰکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولایأکل مالم یخبرہ أن ذلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقرضہ ، وإن کان غالب مالہ حلالاً لابأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا، کذا فی الملتقط‘‘۔              (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثانی عشر، ۵؍۳۴۳،ط:رشیدیۃ)
۴…بینک والوں کا مکان کرائے پر لینا مکروہ ہے، لہٰذا اس سے بچنا چاہئے۔
 فتاویٰ شامی میں ہے: 
’’رجل اکتسب مالاً من حرام ثم اشتری فہذا علی خمسۃ أوجہ: إما أن دفع تلک الدراہم إلی البائع أولاً، ثم اشتری منہ بہا أو اشتری قبل الدفع بہا ودفعہا أو اشتری قبل الدفع بہا ودفع غیرہا أو اشتری مطلقاً ودفع تلک الدراہم أو اشتری بدراہم آخر ودفع تلک الدراہم… وقال الکرخیؒ: فی الوجہ الأول والثانی لایطیب فی الکل، لکن الفتوی الآن علی قول الکرخیؒ دفعاً للحرج عن الناس‘‘۔       (رد المحتار، کتاب البیوع، باب المتفرقات، ۵؍۲۳۵،ط:سعید) 
                                                                                        فقط واللہ اعلم
          الجواب صحیح                        الجواب صحیح                       کتبہ
     محمد عبد المجید دین پوری                   شعیب عالم                   محمد عمران ممتاز
                                                                    متخصص فقہ اسلامی 
                                                          جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے