بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

بینات

 
 

بیت المقدس اور عالمِ اسلام

بیت المقدس اور عالمِ اسلام


قمری سال کے آخری ماہ ذی الحجہ ۱۳۸۹ھ کے اواخر میں قاہرہ میں ’’مجمع البحوث الإسلامیۃ‘‘ کی پانچویں کا نفرنس منعقد ہوئی، اس دفعہ حکومتِ پاکستان کی وساطت سے راقم الحروف کو کانفر نس میں شمولیت کی دعوت ملی، یعنی رسمی (سرکاری) طور پر پاکستانی مندوب کی حیثیت سے جا نا پڑا۔
ہوا یہ کہ جنوری۷۰ء کے آخر میں اسلام آباد سے وزراتِ قانون کے سیکرٹری نے ٹیلیفون کیا کہ قاہرہ میں ایک علمی کا نفر نس ہورہی ہے اور آپ کو پاکستانی نمائندہ کی حیثیت سے جانا ہوگا، میں نے عذر کیا کہ میں فر وری ۷۰ء کی ۴؍ تاریخ کو حجِ بیت اللہ الحرام کا عزم کرچکا ہوں، اس لیے میں کا نفر نس کی شمولیت سے معذرت خواہ ہوں۔ سیکرٹری صاحب کی طرف سے اصرار ہوا اور فرمایا کہ حجِ بیت اللہ سے واپس آکر تشریف لے جائیں۔میں نے کہا: یہ بھی مشکل ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے تاریخ معلوم کر نے کے لیے ٹیلیگرام دلوایا ہے، یہ ہو سکے گا کہ آپ جدہ سے قاہرہ براہِ راست چلے جائیں، چنانچہ دوبارہ ٹیلیفون آیااور تاریخ معلوم ہوئی کہ ۲۷ ؍فروری۱۹۷۰ء، ۲۱؍ ذی الحجہ ۱۳۸۹ھ کو کانفرنس شروع ہو گی اور جب ٹکٹ آجائے گا تو پاکستانی سفارت خانے جدہ بھیج دیا جائے گا، پاکستانی سفیر مقیم جدہ سے رابطہ قائم رکھیں اور ٹکٹ وصول کر کے قاہرہ چلے جائیں، میں نے عرض کیا کہ: یہ ممکن ہے۔
 ۲۶؍ فروری ۷۰ء کو پاکستانی سفیر مقیم جدہ سے ملا، معلوم ہوا کہ ایک خط آیا ہے کہ بنوری کو قاہرہ جانے پر آمادہ کریں، ٹکٹ جب پہنچ جائے گا فوراً بھیج دیں گے اور آپ فوراً اُن سے رابطہ قائم کرکے پہنچادیں۔ لیکن ۲۶؍ فروری تک نہ پہنچنے پر مزید تاخیر مشکل تھی، اس لیے سفیر صاحب کے مشورے سے طے پایا کہ اس ٹکٹ کے انتظار کیے بغیر قاہرہ پہنچ جانا چاہیے۔(۱) 
حج کا موسم تھا، اس زمانہ میں ہوائی جہازوں پر رش ہونے کی وجہ سے عین وقت پر سیٹ کا ملنا بہت دشوار ہوتا تھا، لیکن ’’الوکالۃ الحسینیۃ‘‘ سے مراسم وتعلقات کی وجہ سے یہ مرحلہ بآسانی طے ہوا اور ۲۷-۲۸ کی درمیانی شب میں قاہرہ پہنچ گیا۔
 یہ کا نفر نس تمام سابقہ مؤ تمرات سے زیادہ اہم تھی اور نظم ونسق کے اعتبار سے بھی ممتاز تھی، ہرنما ئندہ کے لیے مستقل کا ر تھی اور اس پر مثلاً وفدِ پا کستان کی چٹ لگی ہوئی تھی اور مندوب کے ساتھ ایک مر افق عالم ہوتا تھا کہ جب کسی کام کی ضرورت پیش آئے، مثلاً: ٹکٹ، ویزہ، وغیرہ، وغیرہ تو وہ اِن کاموں کو انجام دے۔
جمعہ ۲۷؍ فروری سے کا نفر نس کا افتتاح ہوا اور جمعرات ۵ ؍مارچ ۷۰ء کو یہ کا نفر نس ختم ہو گئی، لیکن جمعہ کو عام تعطیل ہونے کی وجہ سے کوئی خاص کام نہیں ہوا تھا، صرف جامع ازہر میں تمام مندوبین نے نمازِ جمعہ ادا کی تھی اور شام کو ایک بڑے اور شاندار ہوٹل میں استقبالیہ دیا گیا تھا۔ ۲۸؍ فروری ۷۰ء کی صبح ۱۰؍ بجے سے باقاعدہ کانفرنس شروع ہوئی، جس میں چالیس (۴۰) ملکوں کے ایک سو نمائندوں نے شرکت کی، ’’شیخ الأزہر‘‘ اور ’’وزیر شئون الأوقاف والأزہر‘‘ اور ’’مجمع البحوث الإسلامیۃ‘‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحلیم محمود نے مؤثر مقالات پڑھے۔ اسی روز شام کو اور اگلے روز ’’کلمۃ الوفود‘‘ کے عنوان سے نمائندوں کو اپنے تأثرات کے اظہار کا موقع دیا گیا کہ جو کہنا چاہیں کہیں۔
یوں تو عام طور سے ’’مجمع البحوث‘‘ کی جو کا نفر نسیں ہوتی رہی ہیں ان میں زیادہ تر علمی مقالات جو’’مجمع البحوث‘‘ کے اعضاء لکھ کر لاتے ہیں پڑھے جاتے ہیں اور مندوبین کو ان پر بحث ومباحثہ کا حق دیا جاتا ہے، لیکن اس دفعہ تمام کانفرنس میں فلسطین اور قدس کا مسئلہ خاص طور پر پیشِ نظر تھا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کانفرنس کا اصلی منشأ یہی ہے کہ تمام عالمِ اسلامی کی رائے اس سلسلہ میں معلوم کی جائے اور اس مشکل کے حل کے لیے ان کے ذہنوں میں جو تجو یز یں ہیں وہ معلوم کی جائیں اور اس طرح تمام عالمِ اسلام کو ان نمائندوں کے ذریعہ بیت المقدس کے مسئلہ پر متفق کیا جائے، اسی لیے اکثر مقالات کا تعلق اسی موضوع سے تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقالات کے موضوعات کا علم ہونے کے بعد طبعاً مند وبین کو بھی اپنے ملکوں کی طرف سے اسی موضوع پر اظہارِ خیال ضروری تھا، چنانچہ اپنی مملکتِ خداداد پاکستان کی طرف سے راقم الحروف نے بھی اسی موضوع پر اظہارِ خیال کیا، جس کا ترجمہ وخلاصہ حسب ذیل ہے :
جنابِ صدر اور معزز حاضرین!
میں جمہوریہ عربیہ متحدہ کا عموماً اور ادارہ ’’مجمع البحوث الإسلامیۃ‘‘ کا خصوصاً شکر گزار ہوں، جن کی مساعی سے ہمیں اس خالص اسلامی مسئلہ پر اظہارِ خیال کا موقع ملا، میں اپنی حکومت مملکتِ اسلامیہ جمہور یہ پاکستان اور اس کے باشندوں کی طرف سے، یعنی حکومت اور پبلک دونوں کی طرف سے ہدیۂ شکر پیش کرتا ہوں اور واضح الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ بیت المقدس پر یہود کے غاصبانہ قبضہ سے تمام عالمِ اسلامی کو بے حد صدمہ ہے اور اس صدمے میں ملتِ پاکستان کسی عربی مملکت سے پیچھے نہیں، بلکہ احتجاج کے طور پر جلسوں اور جلو سوں کے لحاظ سے شاید آگے ہو، مجا ہد ین’’ الفتح‘‘ ہمارے ملک میں پہنچ چکے ہیں اور بیشتر مساجد میں جمعہ کے دن مسلمانوں دل کھول کر اُن کی اعانت کرتے ہیں، جامع مسجد نیوٹاؤن کراچی میں راقم الحروف بھی اس تعاون میں حصہ لیتار ہا ہے اور مدرسہ عر بیہ اسلامیہ کے فاضل اساتذہ نے نہایت مؤثر انداز میں ان کی عر بی تقر یر وں کی اردو زبان میں تر جمانی کی ہے۔
محترم حضرات! میرے خیال میں بیت المقدس کے مسئلہ کاحل صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے اسلامی جہاد، لیکن اسلامی جہاد کے لیے جن اُمور کی ضرورت ہے، میرے ناقص خیال میں وہ حسب ذیل ہیں:
۱:۔۔۔۔۔ اولاً: اس جہاد کا مقصد قومیت، وطنیت، جنسیت سب سے بالاتر ہونا چاہیے اور واحد مقصد صرف اعلاء کلمۃ اللہ ہونا چاہیے۔
۲:۔۔۔۔۔ ثانیاً: حتی المقدور اسباب ووسائل اور سامانِ جنگ مہیا کرنے کے بعد اعتماد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو، نہ کہ اسباب ووسائل پر۔
۳:۔۔۔۔۔ ثالثاً: اسلامی جہاد میں استعماری طاقتوں میں سے خواہ مغرب میں ہوں یا مشرق میں، ان دونوں میں سے کسی پر بھی اعتماد کرنے کے بجائے صرف اور محض حق تعالیٰ کے اس کلمہ پر تو کل واعتماد کرنا ہوگا جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے: ’’ لا شر قیۃ ولا غربیۃ ۔‘‘
 ۴: ۔۔۔۔۔ رابعاً: ہماری زندگی میں مغربی تہذیب کے زہر یلے اثر سے جو تعیُّشات سرایت کر گئے ہیں، ان کو ایک قلم چھوڑنا ہوگا، سادی زندگی، سادی معاشرت اختیار کرنی ہوگی، جب تک عیش و عشرت کی یہ زندگی ختم نہ ہوگی کامیابی موہوم ہے۔
 ۵ :۔۔۔۔۔ خا مساً: قرآ ن کریم نے جس آیت کر یمہ (۱)میں سامانِ جہاد کی تیاری -جس میں جہاد بالمال بھی شامل ہے-(اس کی تفصیل زبانی بیان کی) کا حکم دیا ہے، اس کے آخر میں ارشاد ہے: ’’وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۔‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کریمہ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر تم جہاد فی سبیل اللہ کرو گے تو اس کے پورے پورے نتائجِ حسنہ پاؤگے اور کوئی ظالم طاقت تم پر مسلط نہ ہو سکے گی، لہٰذا کسی ظالم طاقت کا ہم پر مسلط ہونا اس کی دلیل ہے کہ ہم نے کما حقہ جہاد فی سبیل اللہ کا فر یضہ انجام نہیں دیا۔ میری دعا اور آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے صحیح اسلامی جہاد کر نے کی تو فیق عطا فرمائے۔
     چنانچہ ’’مقترحات من کلمۃ السید محمد یوسف البنوري وفد پاکستان‘‘ کے عنوان سے اس تقریر کا چھپا ہوا خلاصہ عربی میں کا نفر نس کے اگلے اجلاس میں تقسیم کیا گیا۔
     کا نفر نس کے اختتام کے بعد جمال عبد الناصر سے گو رنمنٹ ہاؤس میں مند وبین کی ملاقات مقرر تھی، چنانچہ تمام مندوبین اپنی اپنی کاروں میں تنہا -اس موقع پر جو مرا فقین مقرر تھے ان کو بھی علیحدہ کردیا گیا- جمال عبدالناصر سے ملاقات کے لیے گئے، ملا قات ہوئی اور صدر موصوف نے سب سے پرتپاک مصافحہ کیا، اس اثناء میں جو شخص ان سے کچھ کہنا چاہتا تھا کہتا بھی تھا اور بہت اطمینان سے وہ سنتے بھی تھے۔ راقم الحروف نے ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر صرف حق تعالیٰ کی ذات کی طرف اور اس کے دین کی تائید کی طرف تو جہ ہوگی تو غیبی امداد ضرور آئے گی:
’’اِنْ تَنْصُرُوْا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَ امَکُمْ۔‘‘ (محمد:۷)
’’ اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین کی امداد کروگے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔‘‘
ملاقات کے بعد جمال عبدالناصرنے مختصر سی تقریرکی، جس کا حاصل یہ تھا:
’’ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ مصر آئے اور بیت المقدس کے استرداد کے لیے ہمدردانہ غور و خوض کیا، جو قراردادیں آپ حضرات نے پاس کی ہیں، وہ میں نے پڑھ لی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جائے، اس وقت جو ہماری کوششیں کار فرما ہیں، وہ مشکل کے حل کر نے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ہمارا مقابلہ تنہا اسرائیل سے نہیں ہے، بلکہ پس پردہ بہت بڑی طاقتور حکومت امریکہ سے ہے، جو اسرائیل کو ہر طرح امداد پہنچا رہی ہے، ابھی کچھ دن ہوئے کہ جدید ترین بمبار طیارے امریکہ نے اسرائیل کو دیئے ہیں، دنیا کے تمام یہودی اسرائیل کی کافی امداد کررہے ہیں، پانچ سو ملین ڈالر کا چندہ اسرائیل کو ابھی ابھی پہنچاچکے ہیں اور مزید پانچ سو ملین ڈالر کی امداد پہنچائی جانے والی ہے، اس لیے مسلمانوں کو اور تمام عالمِ اسلام کو بھی اسی طرح اس عظیم مقصد کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے ،یہ مسئلہ تنہا عرب قوموں کا نہیں، تمام عالم اسلام کا ہے، بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے، اس لیے کہ دو ہزار عیسائیوں کو بھی قدس سے نکلنا پڑا ہے، جو لوگ پناہ گزین بن کر ہمارے ملک میں آئے ہیں ان میں عیسائی بھی کافی ہیں۔ ضرورت ہے کہ تمام مسلمان متحد ہو کر ہماری طرح امداد واعانت کریں، تاکہ ہم اسرائیل کے مقابلہ کے لیے جد ید ترین اسلحہ مہیا کرسکیں، اگر مسلمانوں نے کما حقہ توجہ کی تو کچھ بعید نہیں کہ آئندہ سال اس کانفرنس کے مو قع پر یہ حالات بدل چکے ہوں گے۔
 آخر میں جمال عبدالناصر نے مندوبین کے اعزاز کے طور پر اپنے ساتھ ہر ایک کا یادگار فوٹو کھنچو انے کے لیے کہا۔ راقم الحروف کی جب باری آئی تو صف سے علیحد ہ ہوکر پیچھے کرسی پر جا بیٹھا، دو شخص آئے کہ جمال عبدالناصر بلا رہے ہیں کہ فوٹو لیا جائے، میں نے معذرت کی اور کہا کہ میں اس کو صحیح نہیں سمجھتا اور میرے نزدیک اس کی کوئی دینی قیمت بھی نہیں، اس لیے معذرت خواہ ہوں۔ اگلے روز پہلی فرصت میں قاہرہ سے جدہ کے لیے سیٹ مل گئی اور قاہرہ سے جدہ ہو کر مدینہ طیبہ پہنچا اور مدینہ سے مکہ مکرمہ۔ غرض جو سفر درمیان میں ناتمام رہا تھا‘ پورا کرکے مراجعت بالخیر ہوئی، وللّٰہ الحمد ۔
 خوشی ہوئی کہ عین اس وقت جب کہ قاہرہ کانفرنس ختم ہوئی، جدہ میں اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کی کانفرنس منعقد ہوئی اور کثرتِ رائے سے طے پایا کہ ممالکِ اسلامیہ کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم اور مشترکہ سیکرٹریٹ جس کے ذریعہ تمام مشترکہ اسلامی مسائل حل کیے جائیں قائم کیا جائے۔ رباط کانفرنس میں یہ تجویز پاس ہوگئی اور اس کی تشکیل کے انتظامات بھی شروع ہوگئے۔ مز ید خوشی کی بات یہ ہے کہ ہماری مملکت کے ایک معزز وزیر نے اس سلسلہ میں قابلِ قدر کردار ادا کیا اور تمام مندوبین نے اس کی تحسین کی۔ شام وعراق کی عدمِ شمولیت سے افسوس ہوا، اِن حکومتوں کا عدمِ اشتراک ان کی نیتوں کی غمازی کر رہا ہے، آج سب سے بڑ افتنہ یہی ہے کہ اکثر ملو ک وامر اء کے دلوں میں شقاق و نفاق بھر ہوا ہے، ’’ تَحْسَبُھُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُھُمْ شَتّٰی‘‘ کا مصداق ہیں، اسی لیے اعداء کے دلوں میں اُن کی ہیبت اور رعب ختم ہوگیا۔ دوسرا فتنہ علماء امت کا اختلاف ہے، جس کی وجہ سے عوام کے دلوں سے علماء کی عظمت ومحبت نکل گئی، بلکہ دین سے برگشتہ ہور ہے ہیں، بلا تخصیص تمام علماء پر اس کی مسئولیت عائد ہوتی ہے، ابھی وقت ہے، کا ش! اب بھی علماء اُمت متفق ومتحد ہوکر تمام باطل قوتوں کی سرکوبی کے لیے متحد ہوجائیں اور صرف اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کی اُمت کو دعوت دیں۔

 و ما علینا إلا البلاغ المبین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے