بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1442ھ- 26 نومبر 2020 ء

بینات

 
 

بکریاں چرانا اور چھوٹے بچے پڑھانا

بکریاں چرانا اور چھوٹے بچے پڑھانا

 

 

حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد پاک ہے: 
’’مَابَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا إِلَّا رَعَی الْغَنَمَ، فَقَالَ أَصْحَابُہٗ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ أَرْعَاھَا عَلٰی قَرَارِیْطَ لِأَھْلِ مَکَّۃَ۔‘‘             (صحیح البخاری، رقم الحدیث:۲۲۶۲، باب رعی الغنم علی قراریط، ج:۳، ص:۸۸، طبع: دارطوق النجاۃ) 
ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء کرامعلیہم السلام  بھیجے، ہر ایک نے بکریاں چرائی ہیں۔ صحابہؓ نے پوچھا: آپ نے بھی؟ فرمایا: ہاں! میں بھی اہلِ مکہ کی بکریاں کچھ اُجرت پر چرایا کرتا تھا۔‘‘
علماء نے انبیاءعلیہم السلام  کے بکریاں چرانے کی کچھ وجوہات بیان کی ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس مرحلہ (پراسس) سے ان کے اندر کچھ اوصاف پیدا کیے جو ایک نبی میں لازماً موجود ہونے چاہئیں، مثلاً: نبی نے قوم کی قیادت کرنی ہوتی ہے، لوگ مختلف راستوں پر بھاگ رہے ہوتے ہیں، ان کو کنٹرول کرنا اور ایک سیدھے راستے پر چلانا بہت مشکل کام ہے، جو بلاشبہ بغیر ٹریننگ کے سرانجام نہیں دیا جاسکتا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبوت سے قبل اپنے نبیوں کی یہ ٹریننگ اور تربیت بکریاں چروا کران کے اندر قیادت اور لیڈکرنے کی صلاحیت پیدا کی۔ 
دوسری چیز جو ہر نبی میں ہونی چاہیے، وہ صبر اور اُمت کا غم ہے، چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ: ایک دن حضرت موسیٰ  علیہ السلام  نبوت سے قبل حضرت شعیب  علیہ السلام  کی بکریاں چرا رہے تھے کہ ایک بکری بھاگ گئی، حضرت موسیٰ  علیہ السلام  اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگے، لیکن بکری بھاگتی ہی چلی گئی، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کے پاؤں پر بھاگنے کی وجہ سے آبلے پڑ گئے، بالآخر انہوں نے اس بکری کو پکڑ ہی لیا، چنانچہ انہوں نے جب بکری کو پکڑا تو بجائے مارنے کے آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس بکری سے کہنے لگے: اگر تجھے مجھ پر رحم نہیں آیا تو اپنے آپ پر ہی رحم کھاتی۔ اگر تجھے میرے پاؤں پر رحم نہیں آیا تو کم از کم اپنے آپ پر ہی رحم کھاتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: نبوت کے لیے موسیٰ ہی موزوں ہیں، کیونکہ اُمت کا غم کھانے اور ان کی طرف سے ایذاء وتکلیف کو برداشت کرنے کے لیے جس حوصلے اور دل وجگر کی ضرورت ہے، وہ ان میں موجود ہے۔
قیادت اور لیڈر شپ پیدا کرنے کے لیے یہ کام ہر نبی سے کروایا گیا، پھر زمانے کے ساتھ ساتھ یہ علم ترقی کرتے کرتے آج سوشل سائنس کے عنوان سے یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے اور مغربی ممالک، یورپ وامریکا کے اکثر لوگ اپنے بچوں کوپہلی ترجیح کے طور پر سوشل سائنس ہی پڑھاتے ہیں، تاکہ ہمارے بچے دنیا کی قیادت کرسکیں۔ 
ڈاکٹر اور انجینئر تو ہم اُجرت پر بھی رکھ لیں گے، کیونکہ وہ ایک پیشہ ہے، جب کہ سوشل سائنس قیادت کرنے اور لوگوں پر حکمرانی کرنے کا علم ہے۔ یہ بات تو میں نے ضمناً عرض کردی، جیسا کہ مضمون کے عنوان میں آپ کو نظر آرہا ہوگا کہ میں نے لکھا ہے: بکریاں چرانا اور چھوٹے بچے پڑھانا۔ تو میں یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ پاکستان کی مساجد میں صبح یا شام کے وقت ایک آدھ گھنٹے کے لیے محلے کے تیس چالیس بچے پڑھنے آتے ہیں، ایک گھنٹے میں انہیں پڑھانا، قاعدہ، ناظرہ کا سبق سننا اور پھر نماز، کلمے دعائیں یاد کروانا اور اس سب کے ساتھ ساتھ ان کو کنٹرول کرکے رکھنا بھی بکریاں چرانے سے کم نہیں ہے۔ جیسے بکریوں کے گلے سے ایک بکری ایک طرف بھاگ جاتی ہے اور دوسری دوسری طرف، پھر کوئی بکری کسی کے کھیت میں چھلانگ لگا لیتی ہے اور کوئی کسی نازک پھول یا پودے پر منہ مارتی ہے، ایسے ہی ایک گھنٹے میں چالیس بچوں کو پڑھانا اور کنٹرول کرنا بھی نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے۔
 وقت کی کمی کے باعث اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ سبق سننے کے علاوہ کوئی اور کام کیا جائے، لیکن شرارتی بچوں کو ساتھ ساتھ کنٹرول کرنا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے۔ آج کل کے دور میں جو قاری صاحب تین چار سال تک اس طرح بچوں کو پڑھالے، اُسے کافی حد تک انسانوں کے بے ہنگم ریوڑ کو کنٹرول کرنے کا طریقہ آجاتا ہے، جو کسی نعمت سے کم نہیں۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے