بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

بینات

 
 

بارہ ربیع الاول میں خیرات اور محفلِ نعت  منعقد کرنے کی شرعی حیثیت 


بارہ ربیع الاول میں خیرات اور محفلِ نعت  منعقد کرنے کی شرعی حیثیت 


کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
بندہ بارہ ربیع الاول کو خیرات اور محفلِ نعت منعقد کروانا چاہتا ہے، شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟ چار محترم مہینے کونسے ہیں؟ اور محترم ہونے کا مطلب کیا ہے؟                               مستفتی: محمد شکیل

الجواب باسمہٖ تعالٰی

۱:- واضح رہے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ولادت باسعادت اور بعثت‘ اُمتِ محمدیہ کے لیے رحمت وسعادت کا ذریعہ ہے اوراس نعمت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، بلکہ مؤمن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کوآنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم   سے سچی محبت نہ ہو،اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے حالات اور سیرتِ مبارکہ کا ذکر کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن اور افضل الاذکار ہے، اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیاتِ طیبہ کے مختلف گوشے اُجاگرکرنا، اس پر بیان وتقریر کرنا، اور آپ کی مدح سرائی کرنا کارِ ثواب ہے، لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو، لیکن مروجہ محافلِ میلاد اورمحافلِ نعت جس نوعیت سے منعقد کی جاتی ہیں، اس کا وجود صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  اور تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین w کے زمانے میں نہیں تھا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بارہ ربیع الاول یاکسی بھی دن کی تعیین کولازم یاباعثِ ثواب سمجھ کر محفلِ نعت منعقد کرنا، اور اسی طرح کسی بھی دن کی تعیین کو لازم یا باعثِ ثواب سمجھ کر اس میں فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانا اور خیرات وغیرہ کرنا، کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے فقہاء اور ائمہ مجتہدین نےبدعت میں شمار کیا ہے، لہٰذا ایسی محافلِ نعت منعقد کرنے اور خیرات وغیرہ کرنےکی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ ’’المدخل لابن الحاج‘‘ میں ہے :
’’ومن جملۃ ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذٰلک من أکبر العبادات وإظہار الشعائر ما يفعلونہ في شہر ربيع الأول من مولد وقد احتوی علٰی بدع ومحرمات جملۃ ....... وعمل طعامًا فقط ونوی بہ المولد ودعا إليہ الإخوان وسلم من کل ما تقدم ذکرہٗ فہو بدعۃ بنفس نيتہٖ فقط، إذ أن ذلک زيادۃ في الدين وليس من عمل السلف الماضين، واتباع السلف أولٰی بل أوجب من أن يزيد نيۃ مخالفۃ لما کانوا عليہ، لأنہم أشد الناس اتباعًا لسنۃ رسول اللہ -صلی اللہ عليہ وسلم- وتعظيمًا لہٗ ولسنتہ -صلی اللہ عليہ وسلم- ولہم قدم السبق في المبادرۃ إلی ذٰلک ولم ينقل عن أحد منہم أنہٗ نوی المولد ونحن لہم تبع فيسعنا ما وسعہم۔‘‘ (المدخل لابن الحاج، فصل في مولد النبيؐ، ج: ۲، ص: ۲، ۱۰، ط: دار التراث)
البتہ اگر کسی خاص دن یا مہینے کی تعیین کولازم یا باعثِ ثواب سمجھے بغیر کوئی ایسی محفل منعقد کی جائے جس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت بیان کی جائے اور بدعات سے بچتے ہوئے نعت خوانی کا اہتمام کیا جائے تو ایسی محافل منعقد کرنا اور اس میں شرکت کرنا بڑی سعادت کی بات ہے، اور اسی طرح ایسے مواقع پر اگر کسی کی طرف سے شرکاء کے لیے کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا جائے توشرعاً اس کی گنجائش ہے۔
۲:- واضح رہے کہ ماہ ِ ذوالقعدہ،ذوالحجہ، محرم اوررجب وہ مہینےہیں جنہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے، ان مہینوں کوحرمت والا اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر ایسے کام سے جو فتنہ وفساد، قتل وغارت اور امن وسکون کی خرابی کا باعث ہو، بالخصوص منع فرمایا گیا ہے۔ اوران مہینوں کی حرمت وفضیلت کسی اہم واقعہ یاسانحہ کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اشہرِحرم کو ابتدائے آفرینش سے ہی اس اعزاز و اکرام سے نوازا ہے، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشادِگرامی ہے:
’’اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ کِتٰبِ اللّٰہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ۔‘‘  (سورۃ التوبۃ: ۳۶)
ترجمہ: ’’یقیناً شمار مہینوں کا (جوکہ) کتابِ الٰہی میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں، جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کیے تھے (اسی روز سے اور) ان میں چار خاص مہینے ادب کے ہیں۔‘‘ (بیان القرآن)
پس اسی وجہ سے بعثتِ نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) سے قبل دورِ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کا بے حد ادب و احترام کیا جاتا تھا اور عرب اپنی بدویانہ زندگی کی وجہ سے لوٹ مار، فتنہ فساد اور ڈاکہ زنی جیسی عادتوں کے خوگر ہونے کے باجود ان ایام میں اپنی تمام سرگرمیاں موقوف کردیتے تھے اور ہر طرف امن و امان، صلح و آشتی کا دور دورہ ہو جاتا تھا۔ بعثتِ نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے بعداسلام نے بھی ان مہینوں کی حرمت و عظمت کے تصور کو باقی رکھا اور ہر قسم کی انسانیت دشمن سرگرمیاں حرام قرار دے کر ان مہینوں کو امن کا گہوارہ بنانے کا حکم دیا۔
’’تفسیرالخازن‘‘ میں ہے :
’’وإنما سميت حرمًا لأن العرب في الجاہليۃ کانت تعظمہا وتحرم فيہا القتال، حتٰی لو أن أحدہم لقي قاتلَ أبيہ وابنہ وأخيہ في ہٰذہ الأربعۃ الأشہر لم يہجہ، ولما جاء الإسلام لم يزدہا إلا حرمۃً وتعظيمًا، ولأن الحسنات والطاعات فيہا تتضاعف، وکذٰلک السيئات أيضًا أشد من غيرہا، فلا يجوز انتہاک حرمۃ الأشہر الحرم۔‘‘ (تفسیر الخازن، [سورۃ التوبۃ : ۳۶] ، ج:۲، ص:۳۵۷، ط: دار الکتب العلمیۃ)
ترجمہ: ’’یعنی ان کا نام حرمت والے مہینے اس لیے پڑ گیا کہ عرب دورِ جاہلیت میں ان کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور ان میں لڑائی جھگڑے کو حرام سمجھتے تھے، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی کے قاتل کو بھی پاتا تو اس پر بھی حملہ نہ کرتا۔ اسلام نے ان کی عزت و احترام کو اور بڑھایا۔ نیز ان مہینوں میں نیک اعمال اور طاعتیں ثواب کے اعتبار سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اسی طرح ان میں برائیوں کا گناہ دوسرے دنوں کی برائیوں سے سخت ہے، لہٰذا ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائز نہیں۔‘‘

  

فقط واللہ اعلم

الجواب صحیح

الجواب صحیح

کتبہ

ابوبکر سعید الرحمٰن

محمد انعام الحق

احمد بلتی

الجواب صحیح

 

دارالافتاء

محمد شفیق عارف 

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین