بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

ایک چراغ اور بجھا دیا گیا۔۔۔۔۔۔!

ایک چراغ اور بجھا دیا گیا۔۔۔۔۔۔!

    کوئی صاحب علم ومعرفت دنیا سے جاتا ہے تو بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی، کیوں کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اہلِ علم کا اٹھ جانا علم کے اٹھائے جانے کے تکوینی سلسلے کا ایک حصہ ہے۔ ہمارا المیہ صرف یہ نہیں ہے کہ یہاں علم وایمان کے چراغ ایک ایک ہوکر بجھتے چلے جا رہے ہیں، بلکہ ہمارا دکھ اور درد یہ ہے کہ یہاں چراغ بجھائے جارہے ہیں، اندھیروں کے سوداگروں نے روشنی کے مینار گرانے کا سلسلہ تیز کردیا ہے اور قوم کو ایک منظم سازش کے تحت تاریکی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے نائب رئیس دار الافتائ، ہمارے نہایت ہی شفیق ومہربان استاذ حضرت مولانا مفتی عبد المجید دین پوریؒ اور اُن کے رفقاء مفتی صالح محمد کاروڑیؒ اور مولانا حسان علی شاہ ؒکی شہادت کا واقعہ چراغِ مصطفوی سے شرار بو لہبی کی ستیزہ کاری کی تازہ دل خراش واردات ہے، جس پر ملک کے اہلِ دل مسلمان رنجیدہ وافسردہ ہیں۔     حضرت مولانا مفتی عبد المجیدشہیدؒ بر صغیر کی عظیم تاریخی، روحانی وانقلابی درگاہ دین پور شریف کے علمی وروحانی خانوادے کے چشم وچراغ اور رشتے میں حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ کے پڑ نواسے تھے۔ وہ ۱۹۵۱ء میں مولانا محمد عظیم دین پوریؒ کے ہاں پیدا ہوئے۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کی ابتدائی تعلیم وتربیت کس ماحول میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا انتخاب کیا گیا۔ مفتی صاحب شہیدؒ چمنستان بنوریؒ کے گل سر سبد بنے اور انہیں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ سے براہِ راست تلمذ کا شرف حاصل ہوا (اب جامعہ میں اس شرف کے حامل دو تین بزرگ اساتذہ ہی باقی رہ گئے ہیں) انہوں نے ۱۹۷۱ء میں جامعہ سے سند فراغت حاصل کی اور حضرت بنوریؒ اور جامعہ کے دیگر اساطین علم کی نگرانی میں تخصص فی الفقہ الاسلامی کا کورس مکمل کیا۔بعد ازاں وہ جامعہ اشرفیہ سکھر سے بھی وابستہ رہے اور طویل عرصے تک وہاں حدیث اور فقہ کی خدمت سر انجام دی۔ جامعہ کے سابق رئیس مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدؒ نے اپنے دور میں جہاں اور کئی قابل اساتذہ ومدرسین تلاش کر کے انہیں جامعہ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع فراہم کیا، وہاں ان کی نظر انتخاب حضرت مفتی صاحبؒ پر بھی پڑی، جن کی صلاحیتوں اور تقویٰ وطہارت سے وہ ان کے دور طالب علمی سے واقف تھے۔     حضرت مفتی صاحب شہیدؒ ایک انتہائی قابل مدرس، مشاق مفتی اور قادر الکلام خطیب تھے۔ ان تینوں شعبوں میں اللہ تعالیٰ نے اُنہیں یکساں مہارت وقابلیت سے نوازا تھا۔ہمیں ان سے فقہ اسلامی کی معروف کتاب ’’ہدایہ‘‘ جلد چہارم پڑھنے کی سعادت ملی۔ حضرتؒ کے درس میں فقیہانہ نکتہ رسی کے ساتھ خطیبانہ بانکپن بھی کمال درجے کا ہوتا تھا۔بہت دفعہ کسی فقہی مسئلے یا ہدایہ کی عبارت کی تشریح کرتے ہوئے الفاظ اور جملوں کی ترتیب اور نشست وبرخاست اس دلکش طرز پر رکھتے کہ اس پر کسی شاندار خطبے کا گمان ہوتا اور طلبہ بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھتے۔ عربی فارسی اور اردو کے اشعار، علمی لطائف اور بزرگوں کے واقعات بھی موقع محل کی مناسبت سے بیان فرماتے، جس سے ان کے درس میں ایک خاص قسم کی شگفتگی محسوس ہوتی۔ علمی، فکری اور نظریاتی اختلافات اور اختلافی مباحث کے بیان میں اعتدال ان کا خاص وصف تھا۔ بہت سے لوگ‘ بہت سے اکابر اور اساتذہ ومشائخ کو اپنی اپنی پسند کے فکری ونظریاتی خانوں میں ’’فٹ‘‘ کرنے کی سعی کیا کرتے ہیں اور بہت دفعہ بہت چھوٹی نوعیت کے اختلافات میں بہت بڑی سطح کی شخصیات کو گھسیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن حضرت مولانا مفتی عبد المجید دین پوریؒ کا کمال تھا کہ انہوں نے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن جیسے ادارے کے دار الافتاء کی مسند افتاء کی عزت ووقار کو کبھی بھی داغ دار ہونے نہیں دیا اور ہمیشہ اپنے اکابرو اسلاف کے مسلک ومشرب اور جادۂ اعتدال پر قائم رہے۔ انہوں نے عزت کی زندگی گزاری اور اپنے پیش رو بزرگوں مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدؒ،مولانا مفتی عبد السمیع شہیدؒ،مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒاورمفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بالآخر شہادت سے سرفراز ہوگئے اور یہ ثابت کردیا کہ وہ ان بزرگوں کے سچے پیرو کار اور صحیح جانشین تھے۔  خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را     حضرت مفتی صاحبؒ کے ہمراہ شہید ہونے والے مولانا مفتی صالح محمد کاروڑیؒ بھی ایک عجیب مردِ قلندر تھے۔ وہ بھی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل اور متخصص تھے اور تقریباً ۲۰؍ سال سے جامعہ کے دار الافتاء سے وابستہ تھے۔ اُنہیں فقہی جزئیات پر زبردست دسترس حاصل تھی اور بہت سے مفتی حضرات پیچیدہ مسائل کے حل اور حوالوں کی تلاش کے لئے ان سے رابطہ کیا کرتے تھے۔ ان کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ وہ صبح سے شام تک افتاء اور تدریس میں مشغول رہتے اور شام سے رات تک ایک ماربل فیکٹری میں ملازمت کیا کرتے تھے۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں احباب نے بتایا کہ شہادت سے ایک روز قبل ہی انہوں نے دوستوں کو بتایا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کا حساب وکتاب بہت حد تک صاف کر لیا ہے، لوگوں کے قرضے وغیرہ چکا دیئے ہیں، اب موت آگئی تواللہ تعالیٰ سے کرم کی امید ہے۔ علماء کرام کی شہادتیں اور حکومت کا فریضہ:     کراچی میں علماء کرام،دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں پر مسلسل دہشت گردانہ حملوں پر ملک بھر کے دینی وعوامی حلقوں میں شدید رنج والم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور دینی قوتوں کے خلاف اس کھلی دہشت گردی کو روکنے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی ناکامی اور لا پرواہی پر سخت غم وغصہ کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ جمعرات کی شام جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں شہداء کی نماز جنازہ میں دسیوں ہزار افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھے گئے، تاہم جامعہ کے رئیس مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے پُر امن رہنے کی اپیل کی، جس کے نتیجے میں اتنے بڑے سانحے کے باوجود شہر میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، یہ علماء کرام کی امن پسندی، حب الوطنی اور صبر وتحمل کا واضح ثبوت ہے، ورنہ اس وقت شہرِ کراچی میں جس بے دردی کے ساتھ علماء ودینی کارکنان کا قتل عام ہورہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے اہلِ حق علماء سے وابستہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور انتہائی افسوسناک اور الم ناک امر یہ ہے کہ جن ملکی اداروں، مقتدر قوتوں اور سیاسی حلقوں پر اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ مکمل بے بسی اور ناکامی کا اشتہار بنے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس واردات کا مقصد دینی قوتوں کو اشتعال دلا کر ملک میں انتشار پھیلانا تھا تو علماء کرام اور اکابر نے اس سانحے کے بعد نہایت صبر وتحمل کا مظاہرہ کر کے اور مشتعل نوجوانوں کے جذبات کو کنٹرول کر کے اس سازش کو ناکام بنادیا ہے، جو ان کی جانب سے بہت بڑی قومی خدمت ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے، جو ملکی نظم ونسق کے اعلیٰ اختیاراتی مناصب پر فائز ہیں اور جن کے فرائض منصبی میں یہ شامل ہے کہ وہ ملک وقوم کے خلاف ہونے والی سازشوں پر نظر رکھیں۔دہشت گردی وتخریب کاری کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ریاستی وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ملک دشمن عناصر کے نیٹ ورک توڑ کر شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائیں۔ علماء کرام کے قاتلوں کو متنبی شاعر کے ذریعے سے ایک پیغام:     عربی کے باکمال شاعر متنبی نے اپنے ایک شعر میں اپنے ممدوح سیف الدّولہ کے دشمنوں کے بارے میں کہا ہے کہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ کبھی سیف الدّولہ کو نہ چھیڑتے، کیوں کہ ان کو چھیڑنے کا مطلب ان کی جاہ وحشمت میں اضافے کے اسباب ہی پیدا کرنا ہے۔      ایسا لگتا ہے کہ اہلِ حق کے دشمنوں میں بھی سیف الدّولہ کے دشمنوں کی طرح عقل نام کی چیز نہیں ہے۔ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ کبھی علماء کو شہید نہ کرتے، کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ اگر کوئی عالم اپنی زندگی میں ہزاروں افراد کی روحانی تسکین کا سامان کر رہا ہوتا ہے تو راہِ حق میں نقد جاں لٹادینے کے بعد وہ پھر لاکھوں انسانوں کے لئے مشعل راہ بن جاتا ہے۔     جب کسی عالم کی حق پرستی وحق گوئی پر شہادت کی مہر تصدیق لگ جاتی ہے تو پھر ہزاروں مائیں اپنی اولاد کو اس عالم کی ’’نقل بمطابق اصل‘‘ بنانے کے لئے پیش کردیتی ہیں، اس لئے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ الحدیث ونائب رئیس دار الافتاء مولانا مفتی عبد المجید دین پوریؒ اور ان کے رفقاء کو شہید کر کے باطل پرستوں نے اگر یہ سمجھ لیا ہے کہ حق کاکارواں اب رک جائے گا اور اہلِ حق ڈر جائیں گے یا دب جائیں گے تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔      جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی تاریخ کو لے لیں تو گزشتہ پندرہ برسوں میں اس ادارے کے ایک درجن سے زائد جید ترین علماء شہید کئے جا چکے ہیں۔ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک ستون کی حیثیت رکھتا تھا۔اتنے بڑے بڑے اساطین کو راستے سے ہٹادینے کے بعد بظاہر تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ آج جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں ویرانیوں کے بسیرے ہوں، لیکن ہوا کیا ہے؟ یہ باطل قوتوں کے ہوش اُڑادینے کے لئے کافی ہے۔ ۱۹۹۷ء میں جامعہ کے اس وقت کے رئیس اور وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختارؒ اور مولانا مفتی عبد السمیعؒ کو شہید کردیا گیا، تو جامعہ میں دورہ حدیث کے طلبہ کی تعداد ۲۵۰ کے آس پاس تھی اور جامعہ اور اس کی شاخوں میں پڑھنے والے کل طلبہ وطالبات کی تعداد پانچ چھ ہزار کے قریب تھی۔ اس کے بعد جامعہ پر یکے بعد دیگرے ایسے کئی حادثات آئے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا ڈاکٹر نظام الدین شامزئیؒ کی شہادتوں کے سانحات رونما ہوئے۔     اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ لوگ اپنے بچوں کو اس مدرسے میں داخل کرنے سے گھبراتے اور اس کی طرف طلبہ کا رجحان کم ہوجاتا، لیکن اہلِ حق کے دشمن اور علماء کو شہید کر کے دین کی شمعیں بجھانے کی کوشش کرنے والے احمق کان کھول کر سن لیں کہ ان واقعات وسانحات کے بعد جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی انتظامیہ کے لئے دنیا بھر سے پروانوں کی طرح آنے والے تشنگانِ علم کو سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے اور اس وقت جامعہ میں صرف دورۂ حدیث میں ۷۰۰ سے زائد طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ جامعہ اور اس کی شاخوں میں اس وقت ۱۲۰۰۰ سے زائد طلبہ وطالبات زیورِ تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ اب لوگ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں اپنے بچے داخل کروانے کے لئے اتنے جتن کرتے ہیں، جتنے کسی بڑے میڈیکل کالج یا انجینئیرنگ یونیورسٹی کے لئے نہیں کرتے ہوں گے، یہ اس لئے کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ جہاں باطل کے تیر سب سے زیادہ گرتے ہوں، حق وہیں موجود ہوتا ہے۔     بزدل دشمنوں نے اہلِ حق کو اپنے اوپر قیاس کر لیا ہے، انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ حق کا راستہ ہی ایسا ہے کہ اس میں جان دینے والے مرتے نہیں، بلکہ خود بھی زندہ رہتے اور مزید ہزاروں انسانوں کے لئے زندگی کی نوید بن جاتے ہیں۔ اہلِ حق کا تو ماٹو ہی یہ ہوتا ہے کہ : ہر آں کہ کشتہ نہ شد از قبیلۂ ما نیست ’’جو راہِ حق میں نقد جاں نہ لٹا سکے، وہ ہمارے قبیلے کا آدمی نہیں ہے‘‘۔     اس لئے دشمن قوتیں تسلی رکھیں، حق والے ان شہادتوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں، ہم تو صدیوں سے کہتے آئے ہیں: آ ستمگر! ہنر آزمائیں تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں     ٹھیک ہے ہم نے بہت زخم کھائے ہیں، ہمارے اکابر کو ہم سے چھین لینا ہمارے لئے ناقابلِ برداشت صدمہ ہے، لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ ہم راہِ حق میں چل رہے ہیں اور چلتے رہیں گے۔ تم اپنے تیر آزماتے رہو، ہم اپنے جگر کا حوصلہ دیکھتے ہیں، فیصلہ وقت کرے گا کہ کون جیتا کون ہارا : زخموں سے بدن گل زار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے     باطل پرستو! یہ بازی خون کی بازی ہے، یہ تم جیت ہی نہیں سکتے۔ تم اپنا کام کئے جاؤ، لیکن یاد رکھو! شکست تمہارا مقدر ہے۔ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل مٹنے کے لئے ہی ہے۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے