بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

بینات

 
 

اکابر کی عجزوانکساری

اکابر کی عجزوانکساری


خاکساری و فروتنی اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر، بے وقعت اور کم زور ظاہر کرنا‘ تواضع کہلاتا ہے، اس کی ضد تکبر اور اظہارِ برتری ہے۔ دراصل ’تواضع‘ کا لفظ ’’وضْع‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی پستی اور انحطاط کے ہیں، اس کے دیگر معانی میں خشوع، سہولت اور نرمی وغیرہ داخل ہیں۔ (تہذيب اللغۃ للأزہري : (۴۸/۳)
تواضع کی صفت بلند پایہ اخلاق کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں کو یہ صفت عطا فرماتے ہیں، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔‘‘                    (الفرقان: ۶۳)
یعنی وہ اپنے آپ کواللہ کے بندے سمجھتے ہیں، ان کی چال میں اَکڑ کی بجائے عاجزی اور فروتنی ہوتی ہے۔ اور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 
’’اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے۔‘‘                              (سنن ابی داود، کتاب الادب)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اخلاق کی یہ اعلیٰ ترین صفت ہمارے اکابر کو عطا فرمائی تھی، اس لیے کہ علم کے ساتھ تواضع کی صفت ضروری ہے، انسان کے پاس جتنا زیادہ علم ہوگا اتنی ہی اس کے اندر تواضع کی صفت موجود ہوگی، چنانچہ اکابر کی چال ڈھال، اندازِگفتگو ، رہن سہن، کھانے پینے، میل ملاپ میں تواضع کی جھلک نمایاں تھی۔ ذیل میں چند واقعات ہدیۂ قارئین ہیں:

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ  کے واقعات

حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  تحریر فرماتے ہیں:
’’ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  بہت خوش مزاج اور عمدہ اخلاق والے تھے، مزاج تنہائی پسند تھا اور اول عمر سے ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات عنایت فرمائی تھی کہ اکثر خاموش رہتے، اس لیے ہر کسی کو کچھ کہنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا، ان کے حال سے بھلا ہو یا برا کسی کو اطلاع ہوتی نہ آپ کہتے، یہاں تک کہ اگر بیمار بھی ہوتے تب بھی شدت کے وقت کسی نے جان لیا تو جان لیا، ور نہ خبر بھی نہ ہوتی اور دواکرناتوکہاں!
حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے چھاپہ خانہ (مطبع) میں جب کام کیا کرتے تھے مدتوں یہ لطیفہ رہا کہ لوگ مولوی صاحب کہہ کر پکارتے ہیں اور آپ بولتے نہیں، کوئی نام لے کر پکارتا تو خوش ہوتے۔ تعظیم سے نہایت گھبراتے، بے تکلف ہر کسی سے رہتے۔ جو شاگرد یا مرید ہوتے ان سے دوستوں کی طرح رہتے، علماء کی وضع عمامہ یاکرتہ کچھ نہ رکھتے۔ ایک دن آپ نے فرمایا کہ اس علم نے خراب کیا، ورنہ اپنی وضع کو ایسا خاک میں ملاتا کہ کوئی بھی نہ جانتا۔ 
میں (مولانا محمد یعقوب) کہتا ہوں کہ اس شہرت پر بھی کسی نے کیا جانا، جو کمالات تھے وہ کس قدر تھے، کیا ان میں سے ظاہر ہوئے اور آخر سب کو خاک میں ملا دیا، اپنا کہنا کر دکھلایا، مسئلہ کبھی نہ بتاتے، کسی کے حوالے فرماتے، فتویٰ پر نام لکھنا اور مہر لگانا تو در کنار اول امامت سے بھی گھبراتے، آخر کو ا تنا ہوا کہ وطن میں نماز پڑھا دیتے تھے، وعظ بھی نہ کہتے۔ جناب مولوی مظفر حسین صاحب مرحوم کاندھلوی (جو اس آخری زمانہ میں قدماء کے نمونہ تھے) نے اول وعظ کہلوایا اور خود بھی بیٹھ کر سنا اور بہت خوش ہوئے۔‘‘                                   (بیس بڑے مسلمان، ص:۱۱۷)
مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب  رحمۃ اللہ علیہ   مجالس مفتی اعظم ؒ    تحریر فرماتے ہیں:
’’ دار العلوم کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  ہر علم وفن میں یکتائے روزگار تھے، ان کی تصانیف آج بھی ان کے علوم کی شاہد ہیں، لیکن سادگی کا عالم یہ تھا کہ ان کے پاس کبھی کپڑوں کے دوسے زائد جوڑے جمع نہیں ہوئے۔ دیکھنے والا پتہ بھی نہ لگاسکتا کہ یہ وہی مولانا محمد قاسم ہیں جنہوں نے مسلمانوں ہی سے نہیں غیر مسلموں اور مخالفوں سے بھی اپنے علم و فضل کا لوہا منوایا ہے۔‘‘ 

حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  کاواقعہ

حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  اپنے مرید منشی محمد قاسم کو لکھتےہیں جن کو ابھی مرید نہیں بنایا ہے:
’’یہ نا کارہ ہر چند بظاہر متہم نیکی کے ساتھ ہوا، مگر حقیقت حال عالم الغيب خوب جانتا ہے، تم اپنے واسطے شیخ کامل کی تلاش رکھ۔ یہ عاجز خود در ماندہ شرمندۂ بارگاہِ خداوندی‘ خود لائق اس کے ہے کہ کوئی خدا کا بندہ خدا کے واسطے اس کی دستگیری کرے۔‘‘   (مکتوب سوم، ص: ۲۸بحوالہ اکابرکا مقام تواضع، ص:۱۰۳)

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  کی تواضع

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ حضرت گنگوہی نور اللہ مرقدہٗ کے متعلق مولا نا عاشق الٰہی صاحب لکھتے ہیں کہ سچی تواضع اور انکسارِ نفس جتنا امام ربانی میں دیکھا گیا دوسری جگہ کم نظر سے گزرے گا، حقیقت میں آپ اپنے آپ کو سب سے کم تر سمجھتے تھے، بحیثیت تبلیغ جو خدمتِ عالیہ آپ کے سپرد کی گئی تھی، یعنی ہدایت ورہبری اس کو آپ انجام دیتے، بیعت فرماتے، ذکر و شغل بتلاتے، نفس کے مفاسد و قبائح بیان فرماتے اور معالجہ فرماتے تھے، مگر بایں ہمہ اس کا کبھی وسوسہ بھی آپ کے قلب پر نہ گزرتا تھا کہ میں عالم ہوں اور یہ جاہل، میں پیر ہوں اور یہ مرید، میں مطلوب ہوں اور یہ طالب، مجھے ان پر فوقیت ہے، میرا درجہ ان کے اوپر ہے۔ کبھی کسی نے نہ سنا ہوگا کہ آپ نے اپنے ’’خدام‘‘ کو ’’خادم‘‘ یا متوسل یا منتسب کے نام سے یاد فرمایا ہو، ہمیشہ اپنے لوگوں سے تعبیر فرماتے اور دعا میں یاد رکھنے کی اپنے لیے طالبین سے بھی زیادہ ظاہر فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ تین شخص بیعت کے لیے حاضرِ آستانہ ہوئے، آپ نے ان کو بیعت فرمایا اور یوں ارشاد فرمایا کہ: ’’ تم میرے لیے دعا کرو، میں تمہارے لیے دعا کروں گا، اس لیے کہ بعض مرید بھی پیر کو تیرا لیتے ہیں۔‘‘ 
(آپ بیتی جلد: ۲، ص: ۲۴۱ ، بحوالہ تذکرۃالرشید، جلد: ۲، ص: ۱۷۴)

حضرت شیخ الہند محمود حسن نور اللہ مرقدہٗ کی فنائیت

حضرت شیخ الہند نور اللہ مرقدہٗ کے متعلق سنا ہے کہ ابتدا میں بہت ہی خوش پوشاک تھے، رئیسانہ زندگی، مگر اخیر میں کھدر کی وجہ سے ایسا لباس ہو گیا تھا کہ دیکھنے والا مولوی بھی نہ سمجھتا تھا۔ حضرت تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  ایک جگہ ’’ذکرِ محمود‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ جیسے شباب میں لطافتِ مزاج کے سبب نفیس پوشاک مرغوب تھی، اب غلبۂ تو اضع کے سبب اس قدر سادہ لباس اور جوتا اور سادی ہی وضع اختیار فرمائی تھی، جیسے مساکین کی وضع ہوتی ہے۔ وضع سے کوئی شخص یہ بھی گمان نہ کر سکتا تھا کہ آپ کو کسی قسم کا بھی امتیازِ مالی، جاہی، علمی حاصل ہے، حالانکہ ’’آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری۔‘‘ (آپ بیتی از شیخ الحدیث رحمہ اللہ)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان اکابرکا طرزِ زندگی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین