بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

بینات

 
 

انعام یافتہ چار جماعتیں


انعام یافتہ چار جماعتیں
افادات: حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ 

 

اس پُر فتن گہماگہمی میں ہمارے معاشرے کے مختلف افراد سے ’’دین‘‘ کے بارے میں مختلف باتیں سننے میں آتی رہتی ہیں اور وہ باتیں سن کر سادہ لوح مسلمان متأثر ہوجاتے ہیں، بلکہ تعلیم یافتہ بھی اس تأثر کا شکار رہتے ہیں، مثلاً: جماعتیں تو بہت ہوگئی ہیں، اب تو پتا ہی نہیں چلتا کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق؟ ہرایک دلائل دے رہا ہے، ہم کس کو حق پر سمجھیں؟ مولویوں نے تو اَب ڈیڑھ انچ کی مسجدیں الگ الگ بنالیں، ہم جائیں تو کدھر جائیں؟ اس طرح اور بھی کافی باتیں سننے کا موقع تقریباً اکثر وبیشتر احباب کو ملتار ہتا ہے۔
 ان تمام شبہات میں اصل قصور تو خود ہی کا ہوتا ہے کہ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کے لیے اور سمجھنے کے لیے جس طرح کوشش کرنی چاہیے تھی، وہ ہم نہیں کرپارہے ہیں۔ بعض لوگ تویہ باتیں ضد وعناد کی وجہ سے کہہ رہے ہیں، ان کے لیے تو ہم صرف ہدایت کی دعا ہی کرسکتے ہیں، بعض لوگ سادگی کی وجہ سے کہتے ہیں، ان کے لیے درج ذیل مضمون اہمیت کا حامل ہے۔ ’’دینِ صحیح‘‘ کو سمجھنے کے لیے جن دو چیزوں (کتاب اللہ، رجال اللہ) کی اہم ضرورت تھی، ا ن کی طرف ہماری توجہ ہی نہیں۔ ہرایک اپنے اپنے اعتبار سے دین کو اپنے تابع بناکر سمجھنا چاہتاہے، العیاذ باللہ اس حوالے سے دو سو سال پہلے شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی لکھی تحریر بہت ہی اہمیت کی حامل ہے، جس میں آج بھی حقانیت کی خوشبو آرہی ہے، اس کو ہم نے پرانی اردو سے آسان اردو کی طرف نقل کیا ہے، اس میں ’’دینِ صحیح‘‘ کو سمجھنے اور اس پر چلنے کی کافی وافی رہنمائی موجود ہے:
’’بندے کو حکم دیاگیاہے کہ وہ صحیح راستہ اللہ سے طلب کرتا رہے، جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں فرمایاگیا ہے کہ: ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ اس لیے ہر مسلمان کو نماز کی ہر رکعت میں اس دعا کی تلقین کی گئی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان شخصوں اور جماعتوں کو ذکر کیا جائے، جن کے ذریعے سے انسان صحیح راستے کو اختیار کرتا ہے، ان کے افعال واقوال کو دیکھ کر صحیح راستے پر آتا ہے اور غلط راستے سے جدائی اختیار کرتا ہے، ورنہ تو باطل مذہب میں سے ہر ایک اپنے آپ کے صحیح راستے پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ذہن میں ایک جماعت مقرر کرے کہ اس سے صحیح راستہ معلوم ہوسکے، اس لیے اللہ پاک نے صحیح راستے کو ’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ سے بیان فرمایا، یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے فضل کیا، اور اس جملے کو قرآن نے دوسری جگہ تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ چار جماعتیں ہیں: 
q  :- انبیاء  علیہم السلام      w  :- صدیقین     e  :- شہداء     r  :- صالحین 
ان چاروں کا بیان عنقریب آرہاہے، اس سے معلوم ہوا کہ صحیح راستہ ان چار جماعتوں والا ہے، اس لیے ہربندے کو چاہیے کہ اپنی دعاؤں کے اوقات اور مناجات کے وقت ان چاروں جماعتوں کو اپنے ذہن میں رکھ کر ان کی راہ طلب کرتا رہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ النساء (آیت:۶۹) میں فرمایا ہے:
’’وَمَنْ  یُّطِعِ اللہَ  وَالرَّسُوْلَ  فَاُولٰٓئِکَ مَعَ  الَّذِیْنَ  اَنْعَمَ  اللہُ  عَلَیْھِمْ  مِّنَ النَّبِیّٖنَ   وَ الصِّدِّیْقِیْنَ   وَ الشُّہَدَائِ   وَ الصّٰلِحِیْنَ ج  وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ  رَفِیْقًا۔‘‘          (النساء:۹۶)
ترجمہ: ’’وہ شخص جو اللہ اور رسول کا حکم بجالائے اور اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق عمل کرے تو وہ شخص ان لوگوں کی راہ پر چل رہاہے جن پر اللہ پاک نے انعام کیا ہے اور وہ چار قسم کے لوگ ہیں: ۱:- انبیاء  علیہم السلام ، ۲:- صدیقین، ۳:- شہداء، ۴:- صالحین، اور یہ چار جماعتیں بہترین ساتھی ہیں۔‘‘
 اس لیے ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ میں راہِ حق کی دعا آگئی اور ’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ میں رفیق کی طلب کی دعا ہوگئی، کیونکہ محاورہ ہے: ’’الرفیق قبل الطریق‘‘ کہ پہلے اپنے ساتھ کسی کو ملاکر رفیق بنالو تو اس سے تمہیں آسانی ہوگی، اس کے بعد کسی راستے پر چلنے کا ارادہ کرنا چاہیے اور یہاں پر یہ بھی جاننا چاہیے کہ یہ چار جماعتیں آپس میں درجے کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے سے افضل ہیں، اس لیے عام مسلمانوں کو چاہیے کہ صالحین کی رفاقت طلب کیا کریں اور صالحین، شہداء کی رفاقت طلب کیا کریں اور صالحین، شہداء کی رفاقت طلب کیا کریں اور شہداء، صدیقین کی رفاقت طلب کریں اور اگر کوئی عام آدمیوں میں سے انبیاء کی رفاقت کی خواہش کرے تو اس کو چاہیے کہ پہلے ان تین جماعتوں کی رفاقت کی صلاحیت اپنے اندر درجہ بدرجہ پیدا کرے، اس کے بعد انبیاء علیہم السلام  کی رفاقت نصیب ہوگی، جیساکہ دنیا میں عام سا قانون وقاعدہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ کی رفاقت میں آنے کا ارادہ کرتاہے تو اس کو کچھ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے: (۱) جمعدار (افسر) کی رفاقت اختیار کرنی ہوتی ہے۔ (۲) جمعدار(افسر) کی رفاقت کی وجہ سے رسالہ دار(بڑے افسر) کی رفاقت نصیب ہوتی ہے اور رسالہ دار کی رفاقت کی وجہ سے بڑے امیر کی رفاقت حاصل ہوتی ہے اور بڑے امیر یا عہدیدار کی رفاقت کی وجہ سے بادشاہِ وقت کی رفاقت ممکن ہوتی ہے، اس واسطے اولیاء اللہ کے سلسلے میں داخل ہونا اور ان کے ذریعے سے وسیلہ ڈھونڈنا اہلِ اسلام میں ایک امر مستحسن ہے اور یہ بھی معلوم ہونا از حد ضروری ہے کہ بارگاہِ الٰہی کی اصل راہ کی تعلیم انبیاء  علیہم السلام  کو حاصل ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام  کے واسطے سے صدیقوں کو حاصل ہوتی ہے، اور صدیقوں کے واسطے سے شہداء کو حاصل ہوتی ہے، اور شہداء کے واسطے سے صالحین کو حاصل ہوتی ہے، اس لیے اس بات کا جاننا بھی بے حد ضروری ہے کہ ہر مسلمان ان چار جماعتوں کی ترتیب کو سمجھے، علی الترتیب پہلے انبیاء  علیہم السلام  کی معرفت حاصل کرے، اس کے بعد باقی تینوں جماعتوں کی معرفت حاصل کرے، تاکہ رفاقت کی طلب کی راہ اُن سے آسانی سے حاصل ہوسکے، اس لیے کہ جب تک کسی شئے کی حقیقت معلوم نہ ہو تو وہ شئے معلوم نہیں ہوسکتی۔
نبی کی تعریف
حقیقتِ نبی یہ ہے کہ نبی ایک انسان ہوتا ہے اور ہرانسان میں دو طرح کی قوتیں اللہ کی طرف سے رکھی گئی ہیں:
۱:- قوتِ نظریہ: یہ ایک ایسی قوت ہے جس کے سبب سے انسان اشیاء کو جان سکتا ہے۔ 
۲:-قوتِ عملیہ: یہ ہے کہ اس کی وجہ سے نیک اعمال اور بداعمال انسان سے ظاہر ہوتے ہیں۔ 
نبی ایک ایسا انسان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بشری تربیت کے واسطے کے بغیر کامل فرماتاہے۔ نور پاک کی تاثیر کی وجہ سے اس کی قوتِ نظریہ ایسی ہوجاتی ہے کہ کسی قسم کی غلطی اور شبہات ا س کی معلومات میں نہیں آسکتے اور اللہ پاک اس کی قوتِ عملیہ میں ایسا ملکہ پیدا کردیتاہے، اس کی وجہ سے نیک اعمال کمالِ رغبت سے اس سے ہونے لگتے ہیں اور برے کاموں سے بے انتہاء نفرت کے ساتھ ان سے بچا رہتاہے اور جس وقت تجربہ عقل کی انتہاء کو پہنچتا ہے، تب اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کی طرف نبی بناکر بھیجتا ہے اور اس کے سچے ہونے کے لیے معجزات عطا کیے جاتے ہیں اور انبیاء  علیہم السلام  کے معجزات کئی قسم کے ہوتے ہیں:
۱:- بعض معجزات کا تعلق جنسِ کلام سے ہوتا ہے، جیسے: قرآن پاک۔
۲:- بعض معجزات کا تعلق افعال کی جنس سے ہوتا ہے، جیسے انگلیوں سے پانی کا جاری ہونا ۔
اور ان معجزات کے ساتھ ساتھ عقلی نشانیاں بھی انبیاء علیہم السلام  کو عطا کی جاتی ہیں اور پھر عقلی نشانیاں کئی قسم کی ہوتی ہیں: q:- اخلاق کا اچھا ہونا، w:-علوم کا سچا ہونا، e:-تقریر کا صاف شفاف ہونا، جس سے سننے والوں کو خوب تسلی ہو اور دلیل ظاہر کی ٹوٹ نہ سکے۔ 
ان ہی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کی صحبت بہت ہی پُرتأثیر ہوتی ہے اور ان کی صحبت سے دلوں کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔ عام لوگ اور کم استعداد والے اُن کے معجزات سے دلیل پکڑتے ہیں اور کامل استعداد والے لوگ نبی کے کمالات سے دلیل پکڑتے ہیں، خصوصاً روحانی بیماریوں کے علاج کے وقت۔ نفوسِ ناقصین کو کامل وقت، اور ہم صحبتوں کے اوپر انوارات کے اُترتے وقت۔
 ہر وہ شخص جو عقل رکھتاہے اس کو اُن کی نبوت پر واقعی یقین حاصل ہوجاتاہے اور جاننا چاہیے کہ انبیاء علیہم السلام  دو قسم کی خبریں بیان کرتے ہیں کہ عقل بھی ان کو تسلیم کرتی ہے، جیسے: وجودِ باری تعالیٰ، صفاتِ کمال باری تعالیٰ اور انبیاء  علیہم السلام  بعض اوقات ان چیزوں کو بیان کرتے ہیں کہ ان کی حقیقت کو صرف عقل بیان کرسکتی ہے، جیسے روزوں کے احکامات، نیک اعمال اور یہ اعمال کے اوپر ثواب وعذاب کا ملنا، اسی طرح وہ کام جو کبھی اچھے ہوتے ہیں اور کبھی برے ہوتے ہیں، اس لیے اگر معجزے اور عقلی نشانیاں نبیوں کے ساتھ نہ ہوں تو عقل خصوصاً عوام کی عقل انبیاء علیہم السلام  کی بات کو قبول نہیں کرے گی، لہٰذا نبوت کا فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
صدیق کی تعریف
صدیق وہ ہے کہ اس کی قوتِ نظریہ انبیاء علیہم السلام  کی قوتِ نظریہ کی طرح کامل ہوتی ہے اور ابتداء عمر سے جھوٹ بولنے اور منافقت کرنے سے دور رہتا ہے اور دین کے معاملات میں صرف رضاء الٰہی کو مدِنظر رکھ کر کوشش کرتا ہے، اس کے دل میں نفسانی خواہشات کو بالکل دخل نہیں ہوتا۔صدیق کی نشانیاں یہ ہیں: 
q:- وہ اپنے ارادے میں کبھی بھی تردد اورشک وشبہ نہیں کرتا۔
w:- دورانِ نماز اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو دائیں، بائیں توجہ نہیں کرتا۔
e:- اور اُس کا ظاہر وباطن ایک جیسا ہوتاہے ۔
r:- کسی پر لعنت نہیں کرتا۔             t:- علمِ تعبیرِ خواب جانتاہے۔
شہیدکی تعریف
 شہید وہ ہے جس کا دل مشاہدۂ تجلیاتِ الٰہی میں مستغرق ہو اور جو کچھ انبیاء  علیہم السلام  نے اس تک پہنچایا ہے، اس کو اس دل سے اس طرح قبول کرے کہ گویا وہ اس کو دیکھ رہا ہے، اسی وجہ سے دین کے معاملے میں اس کو قربانی دینا آسان کام معلوم ہوتا ہے، اگر چہ ظاہر میں مقتول نہ ہو اور قوتِ عملیہ قریب قوتِ انبیاء  علیہم السلام  کے ہوتی ہے۔
صالح کی تعریف
صالح وہ ہے کہ اس کی دونوں قوتیں مرتبۂ کمالِ انبیاء  علیہم السلام  سے کمتر ہوتی ہے، لیکن کامل پیروی کی وجہ سے اپنے ظاہر کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے اور اپنے باطن کو اعتقاداتِ فاسدہ اور اخلاقِ رذیلہ سے دور رکھتا ہے اور یادِ حق اس کے اندر اس طرح سماجاتی ہے کہ اس میں دوسری کسی چیز کی گنجائش نہیں رہتی، ولی کا لفظ اگرچہ ان تینوں کو شامل ہے، لیکن اکثر وبیشتر صالحین پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
ان چاروں جماعتوں میں جو مشترک علامات اور نشانیاں پائی جاتی ہیں، وہ یہ ہیں: 
۱:- خدا تعالیٰ اُن کو دوست رکھتاہے۔
۲:- اور ان کے رزق کا ضامن خود خدا ہوتا ہے۔
۳:- دورانِ سفر اُن کو معیتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے۔
۴:- اللہ پاک ان کو عزت ایسی دیتا ہے کہ وہ بادشاہوں اور امیروں کی خدمت سے بھی راضی نہیں ہوتے۔ 
۵:- اللہ پاک اُن کی ہمت ایسی بلند کردیتا ہے کہ وہ کبھی بھی دنیا کی آلودگی ونجاستوں سے راضی نہیں ہوتے۔
۶:- اللہ پاک ان کے سینے ایسے کھول دیتاہے کہ دنیا کی محبتوں اور مصیبتوں کی وجہ سے اور قریبی اقرباء کے مرنے کی وجہ سے دل تنگ نہیں ہوتے۔
۷:- ان کی ہیبت ایسی ہوتی ہے کہ سرکش لوگ اور بڑے متکبروں کے دل میں بھی اُترجاتی ہے۔
۸:- اللہ تعالیٰ ان کے کلام اور دَم میں برکتیں پیدا کرتا ہے۔
۹:- اور ان کے کاموں میں اور مکانوں میں برکتیں عطا کرتا ہے۔
۱۰:- ہم صحبتوں کو ان کی برکات عطا کرتاہے۔
۱۱:- ان کی اولاد اور نسل میں برکت عطا کرتاہے۔
۱۲:- ان کی زیارت کرنے والوں اور ان کی پیروی کرنے والوں کو بھی برکات عطا کرتاہے۔
۱۳:- اللہ پاک انہیں اپنے پاس بڑی عزت اور مرتبہ بخشتاہے۔
۱۴:- ان کی دعا قبول ہوتی ہے۔
۱۵:- بلکہ جو شخص کسی حاجت میں ان کا وسیلہ طلب کرتاہے، اس کی بھی حاجت پوری ہو جاتی ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک ان چار جماعتوں کی اتباع اور رفاقت نصیب کرے، آمین! 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے