بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

بینات

 
 

انسدادِ دہشت گردی  ... اہلِ علم و دین کا نقطہ نظر

انسدادِ دہشت گردی  ... اہلِ علم و دین کا نقطہ نظر

 

نومبر کے مہینہ میں اسلام آباد میں قومی سطح کی ایک مشاورتی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا عنوان تھا: ’’Soft Approaches Against Counter Terrorism ‘‘ (انسدادِ دہشت گردی کے لیے 'نرم حکمت عملی) ۔ اس کانفرنس میں جامعہ کے نائب مہتمم حضرت مولانا سید احمد یوسف بنوری مدظلہٗ کو بھی دعوت دی گئی۔ کانفرنس کی ایک نشست میں کی گئی اُن کی مختصرمگر پر اثر گفتگو جن نکات میں دائر رہی، ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

 

 دینِ اسلام میں انتہا پسندی -جس کے لیے خود اس کی اختیارکردہ تعبیر ’’غلو فی الدین‘‘ (المائدۃ:۷۷) ہے- اور دہشت گردی (بے گناہ انسانوں کی جان و مال و آبرو کے درپے ہونے) کی ممانعت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، مگر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان جیسے اَلمیے خاص سیاسی اور سماجی عوامل کا نتیجہ ہوا کرتے ہیں، صرف ان کی زبانی کلامی مذمت ان کے خاتمہ کا باعث نہیں ہو پاتی۔
 ’’مارکسی فکر‘‘(1) تمام تر انتہا پسندانہ نظریات کے عناصر اساسی طور پر اپنے اندر سموئے ہوئے تھی، لیکن دنیا میں اس کے خوفناک اثرات تب ظہور پذیر ہوئے جب ’’لینن‘‘ (2)نے اس کی بنیاد پر ایک جابرانہ نظام تشکیل دیا، چنانچہ جب تک انتہا پسندی اور دہشت گردی کے پس پردہ کار فرما عوامل کو زیرِ بحث لاکر ان کی بیخ کنی کے اسباب نہ کیے جائیںتو کوئی لائحہ عمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پائے گا۔
پاکستان کے تناظر میں پچھلی کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی صورت میں ہمیں جس گھمبیرصورت حال کا سامنا ہے، یہ کسی فکری مقدمہ کی اَساس پر برگ وبار نہیں لائی، بلکہ عالمی طاقتوں نے اپنی پراکسی وارز [ Proxy Wars](3)کے لیے ہمارے خطے میں خاص منصوبہ بندی سے جو مداخلتیں برپا رکھی ہیں، وہ اس کا حقیقی سبب ہیں۔ جب تک پاکستان ان جیو پالیٹیکل [Geopolitical] (4)معاملات میں خود مختار طریقہ سے اپنی پالیسی طے نہیں کرے گا، دہشت گردی کے اس عفریت سے نجات پانا ممکن نہیں۔
اس وقت ریاستِ پاکستان ان غیر ملکی طاقتوں کے باہمی گریٹ گیم میں ہرکارے کا کردار ادا کر رہی ہے، لہٰذا اس صورت حال میں فقط گرم گفتاری سے ثمر افروزی کی توقع نہیں کی جاسکتی، ہمیں اس حقیقت سے مفر نہیں کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے تناظر میں کئی علمی و فکری ابحاث بھی عامۃ الناس کے اذہان میں خلفشار کی وجہ رہی ہیں، جس کے پردہ میں دین بیزار طبقہ نے خود اسلامی نظامِ حیات اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے بارے میں ہی شکوک وشبہات کے کئی کانٹے بچھانا چاہے ہیں۔
اول تو اس کے سدِ باب کے لیے پچاس برس قبل تہتر کے آئین میں پاکستان کے چوٹی کے اکابر جن میں مفتی محمود  رحمۃ اللہ علیہ  اور محدث العصر حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ  نہایت نمایاں تھے، اسلامی دفعات کی عصرِ رواں میں تشکیل کرکے ان تمام ابہامات کو رفع فرمادیا تھا۔
 آج بھی اگر ریاست اپنے اس متفقہ آئین کی دفعات پر کماحقہ عمل پیرا ہو تو کم از کم مذہبی بنیادوں پر کسی فکری انحراف کی گنجائش باقی نہیں رہتی، پھر ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف نصف صدی پرانے قصہ کی بازگشت ہے، بلکہ اٹھارھویں ترمیم -جس کے ذریعہ سیاسی مبصرین کے مطابق ستر فیصد آئینی ڈھانچہ تشکیلِ نو کے مرحلہ سے گزرا- کی منظوری کے موقع پر مذہبی جماعتوں نے ان دفعات کا تحفظ اور آئین سے وابستگی کا جو علمی وعملی مظاہرہ کیا، اس کے بعد علماء کرام کو ریاست اور مذہب کے حوالہ سے کسی کاؤنٹرنیریٹو (متبادل بیانیہ) پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن جب ایک طبقہ کی طرف سے مسلسل یورش جاری رہی اور ریاست کے کارپردازان بھی اس کے زیرِ اثر محسوس ہوئے تو علماء کرام نے ’’پیغامِ پاکستان‘‘ (5)کی صورت میں اپنا وہ فکری قرض بھی ادا کردیا جو شاید واجب نہ تھا۔
اس کے بعد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالہ سے پاکستان کے مذہبی طبقات کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی روایت اب ختم ہونی چاہیے۔ 
پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت سے لے کر اس کی نظریاتی اَساس کے استحکام تک علماء کرام اور ان کے متوسلین جس طرح یکسو ہیں، ملک کا کوئی اور طبقۂ فکر اس کی نظیر نہیں پیش کرسکتا، حتیٰ کہ اس مقصد کے حصول کے لیے علماء کرام نے اپنی جانیں تک قربان کی ہیں۔ آج بھی ریاستِ پاکستان میں ان کا واحد اصولی مطالبہ یہ ہے کہ آئینِ پاکستان کی مذہبی دفعات کی روشنی میں قانون سازی کرکے ان کے نفاذ کا سلسلہ جلد از جلد شروع کیا جائے، نیز پاکستان کی نظریاتی اَساس کے استحکام کو نظر انداز کرنے کی رَوش فی الفور ترک کی جائے۔
اس کے برعکس ریاست کے مقتدر طبقے‘ دھوکہ دہی کو بطور حکمتِ عملی اختیار کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں، جس کے نتائج ریاست اور اس کے عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ اگر دائروں کا یہ سفر اس طور جاری رہا تو ہم خاکم بدہن’’ Existential Threat ‘‘(وجودی خطرہ) سے جانبر نہ ہوسکیں گے۔ 
آخر میں ہم اس نکتہ کی طرف بھی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ بعض نظریات ایک خاص ماحول میں پنپتے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے حکومتِ وقت نے اپنے سیاسی مطلب کی براری کے لیے خوف و جبر کی ایک خاص فِضا کی جو آبیاری کی ہے، اس نے عوام کے جمہوری استحقاق پر ڈاکہ ڈالنے، شہری حقوق کی پامالی اور معیشت کی دگرگوں صورت حال میں ہر نوع کی کج فکری کو نمو پانے کا سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔ 
جب ریاست ظالمانہ ہتھکنڈوں کو کھلے عام استعمال کرے گی تو ایک عام فرد بھی جبر ہی کو اپنا واحد ہتھیار باور کرے گا، لہٰذا اگر ہمیں ایک جامع حکمت عملی اس باب میں مقصود ہے تو بند کمروں میں لفظی تُک بندی کی بجائے رائے عامہ پہ حقیقی مؤثر علماء کرام کی رہنمائی میں دعوت پہنچانا ہوگی، تبھی ہمارا قافلہ منزلِ مراد تک راہ یاب ہوگا۔

 

حواشی

1:- کارل مارکس (۱۸۱۸ء-۱۸۸۳ء) کے نظریات کے مجموعے کو مارکس ازم یا مارکسیت کہا جاتا ہے۔

2:- ولادی میر لینن (۱۸۷۰ ء-۱۹۲۴ ء) ایک روسی انقلابی، اشتراکی سیاست دان، روسی سوویت سوشلسٹ جمہوریہ کے پہلے رہنما ۔

3:-  پراکسی وار[ Proxy War]: اپنی جنگ دوسروں کے ذریعے لڑنا۔

4:- جیو پالیٹکس [Geopolitical]: جغرافیائی وسیاسی عوامل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورت حال۔

5:- وطنِ عزیز پاکستان کی مقتدر قوتوں کے ایماء اور خواہش پر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے ۲۰ شقوں پر مشتمل ایک ضابطۂ اخلاق جاری کیا گیا ، اس ضابطۂ اخلاق پر ملک کے نامی گرامی علماء کرام کے دستخط موجود ہیں۔۲۶؍مئی ۲۰۱۷ء کو ادارہ تحقیقاتِ اسلامی میں منعقد ہونے والے قومی سیمینار بعنوان ’’میثاقِ مدینہ کی روشنی میں پاکستانی معاشرے کی تشکیلِ نو‘‘ کے موقع پر پیش کیا گیا۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے