بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

بینات

 
 

امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری ؒ

امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری ؒ

حُرمتِ منصب وکلاہ، زینتِ مسند ِ تدریس


نگہ بلند سخن دل نواز جاں پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
................................................

سانحۂ وفات

باغِ جہاں سے صورتِ شبنم چلے گئے
کیا کیا کلاہ و مسند و پرچم چلے گئے

مرگ ِ ناگہانی کی تازہ لہر شباب پر ہے، لفظ ’’بخار‘‘ ہاتف ِغیبی کے مترادف ہوگیا ہے، روزمرہ کے معمولی امراض کی علامتیں، سفرِ آخرت کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں، عوام الناس کے ساتھ، خواص بھی متواتر رخصت ہو رہے ہیں، ملک ِعزیز کا یہ وہ منظر ہے، جس میں کل گزشتہ ، بروز جمعہ، ۸ شوال ۱۴۴۲ھ- ۲۱ مئی ۲۰۲۱ء کو، استاذ ِحدیث ومعاون مہتمم دارالعلوم دیوبند، صدر جمعیت علمائے ہند، امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری ؒ کا سانحۂ وفات پیش آیا، إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون، اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ وأسکنہ فسیح جناتک، وأنزل الصبر والسلوان علٰی ذویہ، آمین یا رب العالمین۔
آپ کی بیماری کے تعلق سے اُمید وبیم کا ایک سلسلہ جاری تھا، حادثہ ہو چکا، تو ذہن نے ربع صدی کے حافظے کا جائزہ لیا، بہت سی یادوں نے دل گیر کیا، صدمۂ نو بہترین کارساز بھی ہے، عالمِ اَشک میں تیار کردہ نذرانۂ عقیدت اپنا رنگ وآہنگ رکھتا ہے، کورونا کا عطا کردہ قفس بھی معاون ہے، لہٰذا روا روی میں حافظے کے انتخاب کی چند سطریں پیش ہیں:

دارالاقامہ

مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں، میری حاضری سن ۱۹۹۷ء کو ہوئی، اس وقت حضرت الاستاذ ؒ دیگر متعدد ومتنوع ذمے داریوں کے ساتھ دارالاقامہ کے مرکزی وکلیدی عہدے پر جلوہ افروز تھے، صیغہ ہائے انتظام کی نسبت، آپ کا امتیاز قدیم الایام سے متفق علیہ رہا ہے، دارالاقامہ میں نظم کی پیہم تبدیلیوں کے پس منظر میں عبوری مرحلے کی صورت تھی، آپ کی آمد سے انتظام میں بہتری واستحکام آیا، اس ضمن میں شعبے سے متعلق ماتحت نظماء کے علاوہ معاصرین وبالادستوں کا تعاون بھی حاصل رہا، دارالعلوم میں یہ میرا پہلا سال تھا اور رہائش رواق خالد کمرہ نمبر ۲۴ میں تھی، حضرت صدر ِمحترم حضورِ مدنی دامت برکاتہم کی گھن گرج سے جملہ حلقے لرز اں رہتے تھے، بنیان اور لنگی میں، ننگے سر اور ننگے پاؤں، رواق خالد سے مطبخ کی جانب سرپٹ دوڑنا خوب یاد ہے، بد حواس غول کے غول طالب ِ پناہ ہوتے اورایک منظر دیدنی پیدا ہوتا، حضرت والا مد ظلہ کے دست ِ عبرت کا ذاتی تجربہ تو نہیں ہوا، تا ہم دوسروں پر یہ برقِ اصلاح گرتے خوب دیکھی ہے۔

نیابتِ اہتمام

سالِ آئندہ ہفتم اولیٰ میں پہنچا، توآپ نیابت ِاہتمام کے لیے منتخب ہوئے، میرے جیسا ’’کشت حرف کا شہید‘‘ اور ایوانِ بالا کی یہ خبریں! رہائشی کمرہ، مسجد قدیم اور درس گاہ، بس یہی ہمارا طے شدہ مدارِ ِگردش تھا، احاطے کے باہر جھانکے ہوئے ہفتوں گزر جاتے تھے، لیکن بھلا ہو درس گاہ کے ’’گستاخ طبع‘‘ ساتھیوں کا، جنھوں نے حضرت الاستاذ مولانا مدراسی دامت برکاتہم کو گھیر لیا اور تازہ ترقی پر لڈو کے طالب ہوئے ، نیابت ِاہتمام کا عہدہ ہر دو حضرات کو تفویض ہوا تھا۔ 

پہل کاری

مفوضہ ذمے داریاں ہمیشہ آپ کی چھاپ سے درخشاں رہیں، ہر دفترمیں آپ کی بہترین یادگاریں ہیں، انتظامی صیغے میں نیک نامی کی بنیادی وجہ پہل کاری ہے، میرِ کارواں، حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم دیوبند دامت برکاتہم نے تعزیتی وتأثراتی صوتی پیغام میں حضرت کے حوالے سے خوب فرمایا ہے کہ اگر معاون مہتمم نو بجے آمد درج کراتا ہے، تو ملازمین کیوں کر لیٹ ہو سکتے ہیں! آمد میں سبقت اور متعلقہ معاملات کی انجام دہی میں پہل کاری سے نظام سنورتا ہے، آپ کے اس معمول نے دفتروں کی فضا کے حسن وپاکیزگی کو دوبالا کیا۔

باز پرس منتظم

حجۃ الاسلام، حضرت الامام محمد قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ کا یہ مقولہ شہرئہ آفاق ہے کہ: ’’جس کا پیر ’’ٹَرَّا‘‘ ( ٹر ٹر کرنے والا،یعنی روک ٹوک کرنے والا) نہیں ہوتا، اس کی اصلاح نہیں ہوتی۔‘‘ انتظامی امور میں بھی جزوی فرق کے ساتھ یہ اُفتاد ناگزیر ہے، باز پرسی آپ کی طبیعت کا حصہ تھی، اس پہلو سے متعلق ماتحتوں کی بیان کردہ داستانیں احاطے کی گردش کا حصہ ہیں۔

چند ماہ قبل مہمان خانہ دارالعلوم دیوبند میں اساتذئہ دارالعلوم کی اہم اور آپ کی حیاتِ مستعار کی آخری نشست ہوئی تھی، جس میں لاک ڈاؤن کے دور کی منظور شدہ تصنیفی وتالیفی سرگرمیوں کا جائزہ مقصود تھا، حضرت والا چوں کہ متعلقہ کمیٹی کے سر براہ تھے، اس لیے آپ نے مختلف تجاویز سامنے رکھیں، ان میں ایک نئی بات یہ تھی کہ اساتذہ کے لیے ایک موضوع طے کیا جائے اور اس پر مطالعہ کا مکلف بنایا جائے اور پھر ایک میعاد میں اس کے لیے جائزہ اجلاس بھی بلایا جائے، لیکن دیگر اکابر کو اس رائے پر تحفظات تھے، بات آئی گئی ہوگئی، یہ ’’میعادی جائزہ اجلاس‘‘ کا جو اصرار آپ کو تھا، یہ اسی طبیعت کا اثر ہے، جس کو اوپر باز پرس اور احتساب سے تعبیر کیا گیا اور جو انتظامی زندگی کا سب سے ضروری زاد ِراہ ہے۔

معاصرین کی نسبت بصیرت وفراست

ذمے دار کو ماتحتوں کے سوا معاصرین اور بالا دستوں سے بھی سابقہ پڑتا ہے، اول الذکر سے کام لینا سہل ہے، لیکن معاصرین اور بڑوں کا معاملہ صبرآزما ہوتا ہے، تکمیلِ ادب کی درس گاہ میں برقی پنکھے قدیم تھے، سست گام ہونے کی وجہ سے مفید ِمطلب بھی نہیں تھے اور شور مستزاد تھا، یہ پنکھے استاذ ِگرامی حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی ؒ کے ملاحظے میں تھے،حسبِ عادت وہ اُن کو اپنے مخصوص و عالم گیر فقروں سے بھی نواز چکے تھے، گرمی زیادہ ہوئی، تو آپ نے ان کی تبدیلی کے لیے درخواست جمع کرائی اور تصدیق کی مد میں اپنے دستخط ثبت فرمائے، درخواست دستوری مراحل کی نذر ہو کر برقیات میں کہیں رہ گئی، اس دوران حضرت کو یاد آیا، طلبہ کے جواب پر یکایک برہم ہوگئے اور بہت ہی براَفروختہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم سب کو فوری طور پر درس گاہ بدر کیا اور فرمایا کہ دفتر اہتمام جاؤ اور اسی وقت مطلوبہ پنکھوں کا نظم کرو، ہم ’’اوسان خطا‘‘ عالم میں دفترِ اہتمام پہنچے، جہاں ہماری داد رسی کے لیے نائب مہتمم حضرت مولانا قاری عثمان صاحب تشریف فرما تھے، ماجرا سنا اورہنگامی صورت حال سے آگاہ ہوئے۔
بلا شبہ ایک منتظم کے لیے ایسے لمحات امتحان آمیز ہوتے ہیں، ظاہر ہے کہ ہر مے خوار کے لیے دستورِ مے خانہ جدا گانہ ہو سکتا ہے، لیکن آداب ِمے خانہ کتنی لچک کی گنجائش رکھتے ہیں، اس کے لیے فراست وبصیرت دونوں درکار ہیں، آپ نے برقیات کے ملازمین کو حکم دیا کہ ..... کچھ عمدہ نئے پنکھے اُتارو اور ابھی تکمیلِ ادب کی درس گاہ میں نصب کرو، اس تدبیر سے صورت حال فوری طور پر معمول پر آگئی اور اُن نئے پنکھوں کی تیز گام ہوا میں باقی سبق کی تکمیل ہوئی۔ 

حق گوئی

ہم نے راست گوئی میں آپ کو بے باک پایا، خلاف ِاصول گفتگو کا تحمل نہیں تھا، سرِ مجلس ٹوکنے کی روایات سب کے علم میں ہیں، اُصول اور نکتے کی بات کہتے تھے، بہت پہلے کا واقعہ ہے، تبلیغ کی ایک کلیدی شخصیت نے مادرِ علمی میں طلبہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر خواص کی نشست کے دوران مبنی بر غلو بحث چھیڑدی، تو آپ نے فضاکے مثبت رنگ کے علی الرغم اس کا بر وقت نوٹس لیا اور اُن کووضاحت پر مجبور کیا، ان چیزوں میں لحاظ اور مروت کے قائل نہیں تھے۔
ایک بزرگ‘ مسلک کے پس منظر میں توسیعی خیالات کے حامل تھے، ایک پروگرام میں معیت کا اتفاق ہوا، انھوں نے حسب ِتوقع اپنے توسیعی ذہن کے مطابق فرقوں اور مسلکوںکو بے مہارقابلِ تاویل قرار دیا، تو آپ نے اُن سے بھی تیز وتند اور دراز نفس بحث اسی وقت کی، مذکورہ شخصیت کے پاس حضرت کے اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ کیا خوارج، معتزلہ اور شیعہ کے لیے بھی تاویل کی جائے؟
ہم نے ’’النادي‘‘ کے پروگرام کی تیاری بڑے جوش وخروش سے کی، ایک مکالمہ دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ مسلم یونیور سٹی کے موازنے پر تھا، جس میں ثانی الذکر کی تحقیر وتنقیص نمایاں تھی، تیاری جائزے میں نظر سے گزرا تو برہم ہو گئے، سب کی فہمائش کی اور اس مکالمے کو سرے سے منسوخ کرایا۔

راست بازی

سب کہہ رہے ہیں کہ انتظام وانصرام میں آپ بے نظیر تھے، لیکن یہ امتیاز در اصل ہزار خوبیوں کی کوکھ سے جنم لیتا ہے، ہر شخص اچھا منتظم نہیں ہوسکتا، اس باب میں نیک نامی کا سفر دیانت داری، منصف مزاجی، مضبوط کردار، اعلیٰ اخلاق، بے لوث خدمت اور ذاتی مفاد کی قربانی سے ہو کر گزر تا ہے، یہ صفات ہوں تو آپ بھی مثالی منتظم بن سکتے ہیں، کوئی کہہ رہا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کی حالیہ دعوت میں داعی کے نمائندوں نے کھانا حضرت امیر الہندؒ کے گھر بھی پہنچا دیا تھا، اطلاع ملنے پر آپ نے یہ کہہ کر معذرت کی اور کھانا بھی واپس کیا کہ دعوت صرف میری تھی، میں شرکت کرچکا، میرے اہلِ خانہ کی دعوت نہیں تھی۔

موطا امام مالکؒ کا درس 

دارالحدیث میں موطا امام مالک کا درس دیتے تھے، یہ سلسلہ دراز ثابت ہوا، فقہی بحثوں میں جدال کے رنگ سے بچ نکلنا آسان نہیں، مجبوری بھی ہے کہ محدثین نے انتخابِ احادیث میںاپنے فقہی ذوق اور مسلکی وابستگی کو پیش نظر رکھا ہے، ایسی صورت حال کے ردِ عمل میں فطری طور پر تیز ی در آنے کا امکان غالب ہوتا ہے ، حضرت کے یہاں یہ رنگ نہیں تھا، ائمہ کے احترام کا خاص اہتمام، ان کے دلائل کے تجزیے میں دل کش شائستگی، اپنے مستدلات کی سنجیدہ توضیح، نزاعی مباحث میں شیریں گفتاری اور نرم خوئی‘ آپ کے درس موطا کے امتیازی خدوخال تھے، پھرغیر متعلق گفتگو سے اجتناب، متعلقہ پہلؤوں پر سیر حاصل گفتگو، حلِ کتاب کے لیے درکار حوالوں پر اکتفا، آپ کے درس کو امتیاز کے ساتھ حسن وخوب صورتی اور زیب وزینت دیتے تھے۔

مثالی فرزندان..... تربیت بھی اور دستِ غیب کا تحفہ بھی

حضرت والا علیہ الرحمہ کے دونوں فرزندان کی حیرت انگیزعلمی وفکری کامیابیوں نے تربیتِ اولاد کی بحث کو نیا حوالہ دیا ہے، نقارئہ خدا بہ اتفاق اس تاریخی شاہ کار کو اُن کے والد ماجد کی تگ ودو سے منسوب کرتا ہے، لیکن یہاں بات پوری نہیں ہوتی، تعلیم وتربیت کے ماہرین نے علمی میدانوں میں نمایاں کامیابی کی کلید کو تین چیزوں کا ثمرہ قرار دیا ہے: ۱- بہتر سرپرستی، ۲- متعلم کا ذاتی ذوق، ۳-دستِ غیب کی فیاضی۔
 ایسا نہیں ہے کہ حضرت قاری صاحب علیہ الرحمہ کی تربیت کی فہرست میں یہی دو نام ہیں، ہم یہ توجیہ بھی نہیں کرسکتے کہ اُن کی نسبت نگرانی میں فرق رہا، کیوں کہ وہ سب اُن کے قریب ترین اعزا تھے، خود میں نے ان میں سے بعض کو اس وقت پڑھایا ہے جب میں معین مدرس تھا، سرپرستی، نگرانی، چھان بین، جز وکل پر نزدیکی نظر، یہ سب چیزیں تھیں، لیکن نتائج؟ چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک! یہاں ذاتی ذوق کی توجیہ اُبھرتی ہے۔
ان دو عناصر کے علاوہ اہلِ نظر نے ایک تیسرے عنصر کی دریافت کی ہے اور میرے نزدیک حضرت قاری صاحب علیہ الرحمہ کے گھرانے کو ’’ہمہ آفتاب‘‘ اسی جوہر نے بنایا ہے، کہتے ہیں کہ مدرس اگر طلبہ کے تئیں مشفق، ہم درد اور غم خوار ہوتا ہے، تو اس کی برکتوں سے اولاد بہرہ ور ہوتی ہے، منقول ہے کہ برہان الائمہ عبد العزیز بن مازہ کے یہاں تلامذہ کا ہجوم تھا، ان سے فارغ ہوتے تو تاخیر بھی ہوجاتی اور تکان بھی، دونوں صاحب زادوں نے اس کا گلہ کیا اور اپنے اسباق مقدم کرنے کا اصرار کیا، والد گرامی نے ان کو سمجھایا کہ مہمانانِ رسول دور دراز سے آئے ہیں، ان کا حق مقدم ہے، اس خیر خواہی کی برکت تاریخِ علم وفقہ نے یوں محفوظ کی کہ دونوں صاحب زادے آفتاب وماہتاب ہوئے، ایک ا لصدر الشہید حسام الدین کہلائے اور دوسرے الصدر السعید تاج الدین۔ (تعلیم المتعلم، ص: ۸۱) 
ہمارے عہد کو زینت دینے والے یہ دونوں نام: مخدومِ گرامی قدر، فقیہ ومحدث، حضرت مفتی سید محمدسلمان منصورپوری دامت برکاتہم اور برادر ِ گرامی حضرت مفتی سید محمد عفان منصورپوری مد ظلہ اسی دستور ِ غیب کی فیاضی کا مظہر ہیں، جس کی راہ حضرت علیہ الرحمہ کی مثالی شفقت، ہم دردی، غم خواری اور خیر خواہی نے بہت پہلے ہموار کردی تھی۔
ربِ کائنات اُستاذ ِ گرامی قدرکا بہترین اکرام فرمائے، جنت الفردوس کو ٹھکانہ بنائے، اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب کرے، جملہ خدمات کو صدقاتِ جاریہ بنائے، دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علمائے ہند کو ان کا بدل عطا فرمائے، جملہ اہلِ خانہ اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے