بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

الحاج نثار احمد خاں فتحی رحمۃ اللہ علیہ

الحاج نثار احمد خاں فتحی رحمۃ اللہ علیہ

    گزشتہ دنوں حضرت قاری فتح محمد پانی پتیv کے خلیفہ مجاز، حضرت مولانا خواجہ خان محمدv  کے مسترشد، کئی کتابوں کے مصنف اور بزرگ شخصیت جناب الحاج نثار احمد خاں فتحی صاحب اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ إنا للّٰہ و إنا إلیہ راجعون۔     جناب الحاج نثار احمد خاں فتحی صاحب نہایت ہی خلیق صفت انسان، تصوف و سلوک کے شناور اور للہیت و عشق و جذب میں ڈوبے ہوئے عظیم بزرگ تھے۔ وہ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو آگرہ انڈیا میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۷ء میں اکیلے پاکستان کی طرف ہجرت کی، بعد میں والدین اور دیگر اعزا بھی آگئے۔ یہاں آئے تو عصری تعلیم کی طرف متوجہ ہوگئے اور بی۔ اے تک تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران (۱۹۵۱ء میں) آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔ دِینی تعلیم باقاعدہ کسی مدرسہ میں حاصل نہ کرسکے تھے، اس لیے اکثر یہ شعر پڑھتے تھے: عشق کی چند حدیثیں غم جاناں کی کتاب بس میرا علم یہیں تک ہے یہی میرا نصاب     ۱۹۴۸ء سے ۱۹۹۱ء تک ایک کمپنی میں ملازمت کرتے رہے، اس دوران بزرگوں کی صحبت میں بیٹھنے کے بھر پور مواقع نصیب ہوئے۔ وہ ابتدا ہی سے شعر و شاعری کا بھر پور ذوق رکھتے تھے اور اس ذوق کو دلوں میں عشق الٰہی اور محبت نبوی کو پروان چڑھانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ عاشقانہ اشعار اُن کی زبان پر مچلتے رہتے تھے، اُن کے قریبی بعض احباب کے ذریعے معلوم ہوا کہ مدینہ کے سفر میں بے قرار ہوکر یہ مصرع پڑھتے تھے: اللہ اللہ مدینہ قریب آتا ہے     ان کا منظوم کلام ملک کے متعدد رسائل و جرائد میں شائع ہوتا رہا۔     ان کے مزاج و مذاق میں جذب کا اثر نمایاں تھا جو ان کی تحریر و تقریر سے عیاں ہے، یہی جذب انہیں حضرت مفتی محمد حسن امرتسری v(خلیفہ اجل حضرت تھانوی v) کے خلیفہ مجاز حضرت قاری فتح محمد پانی پتی v کی خدمت میں لے گیا اور تا حیات حضرت پانی پتی v سے مستفید ہوتے اور ان کی صحبتیں اٹھاتے رہے، یہاں تک کہ خلافت سے نوازے گئے، حضرتؒ کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ ’’فتحی‘‘ کا لاحقہ لگایا کرتے تھے۔     ان کی طبیعت دنیا سے متوحش اور آخرت کی طرف راغب رہتی تھی۔ بزرگانِ دین اور صوفیا کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور ان سے تعلق رکھنے میں اُنہیں سکون ملتا تھا۔     وہ ہر وقت دینی سوچ و بچار میں مستغرق رہتے تھے، کئی کتابوں کے مصنف اور ایک بزرگ کے خلیفہ ہونے کے باوجود طبیعت میں کسی قسم کی بھی بڑائی کا شائبہ نہیں تھا۔ مذکورہ بالا بزرگوں اور خاص کر اپنے شیخ اولؒ کی وفات کے بعد بھی دورِ حاضر کے مشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمدv، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویv، حضرت مولانا حکیم محمد اخترv اور حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی v کی خدمت میں نیاز مندانہ حاضری دیتے تھے۔ البتہ ایک انفرادی بات اُن میں یہ پائی جاتی تھی کہ اپنے تئیں جو بات ذرا بھی غیر مناسب سمجھتے، برملا اس کا اظہار کردیتے، اس سلسلہ میں اپنے معاصر تو معاصر، بزرگوں اور مشائخ تک سے وہ بات کھل کر کہہ دیتے تھے، جو اُن کے نزدیک محل نظر ہوتی تھی۔ چہ جائیکہ فی الواقع وہ بات بالکل درست ہی ہو۔     حضرت قاری فتح محمد پانی پاتیv کی وفات کے کچھ عرصہ بعد حضرت مولانا خواجہ خان محمدv  سے بیعت ہوگئے تھے۔     چونکہ اپنے شیوخ کے ساتھ ساتھ دیگر اکابر سے بھی تعلق و محبت رکھتے تھے، چنانچہ ان میں سے کسی کی بھی وفات کا سانحہ آپ کے لیے سوہانِ روح کی حیثیت رکھتا تھا، حضرت لدھیانوی v کی شہادت کے موقع پر اپنے تعزیتی شذرہ میں لکھا: ’’حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی v اس وقت شہید ہوئے جب صاحبانِ علم اور عوام الناس ان کے علم و فقہ کے محتاج تھے، اہل دانش کو ان کے فہم و تدبر کی ضرورت تھی، اہل سیاست ان کی قیادت کے حاجت مند تھے۔ وہ لشکر اسلام کے اس جرنیل کی طرح تھے جو دین کے ہر ہر محاذ پر، ہر ہر معرکہ اور ہر ہر مورچہ پر جاکر دشمنانِ دین کے حملے پسپا کرتا ہے اور وہیں دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے۔  آنکھیں اشکبار ہیں کہ اسلام کے اس سپاہی کو کہاں کہاں تلاش کریں؟ دل مضطرب ہے کہ علم و دانش کے اس گوہر بے بہا کے بغیر کیسے آرام پائے؟ عقل پوچھتی ہے کہ گلشن بشری کے اس گل رعنا کو کہاں ڈھونڈا جائے؟ ۔۔۔۔۔۔ میری ایک عزیزہ انگلینڈسے آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس کون کون سی کتابیں ہیں؟ اور تمہیں جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو کس سے رجوع کرتی ہو؟ وہ کہنے لگیں کہ پہلے تو ہمیں اس سلسلے میں بڑی پریشانی تھی، لیکن اب ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ نامی کتاب کئی جلدوں میں ہم نے خریدی ہے اور ہمارے اکثر مسائل ان میں مل جاتے ہیں۔ ایک فقیہ کی اس سے بڑھ کر دینی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے؟ ۔۔۔۔۔زندگی کے آخری پانچ برسوں میں ایک خلقت کثیر کا آپ کی طرف رجوع ہوا، کیا عوام اور کیا خواص! سب کے قلوب آپ کی طرف کھنچتے گئے، یہاں تک کہ آپ کی شہادت سے کچھ عرصہ قبل تمام اکابر علما آپ سے بیعت کا شرف حاصل کرچکے تھے۔ حضرت مولانا شہیدv میں ’’من تواضع للّٰہ رفعہ اللّٰہ‘‘ کا وصف کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ماہنامہ بینات کی ادارت کے دوران ’’بصائر و عبر‘‘ کے تحت نثر کے جو جو جواہرات حضرت شہیدؒ نے بکھیرے ہیں، ان کی ندرتِ بیان، برجستگی اور الفاظ کی شگفتگی اردو کے کسی بھی بڑے بڑے سے صاحب طرز ادیب کے مقابلے میں پیش کی جاسکتی ہے۔ میرے شیخ حضرت اقدس حافظ قاری فتح محمد مہاجر مدنیv کی توصیف میں بھی رقمطراز ہوئے۔ یا اللہ! حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدvکو جنت کے اعلیٰ درجات عطا کر کے ہمیں ان کا کوئی نعم البدل عطا فرما۔‘‘ (بینات، شہید ِاسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نمبر)     باقاعدہ درسِ نظامی نہ پڑھنے کے باوجود بزرگوں کی صحبتیں اُٹھانے کی بنا پر آپ میں لکھنے پڑھنے کا خوب ذوق پیدا ہوگیا تھا، یہی وجہ ہے کہ پندرہ کے قریب کتابوں کے مصنف ٹھہرے، آپ کی تصانیف میں’’ بائیس جھوٹے نبی، کذابِ یمامہ سے کذابِ قادیان تک، ظہور مہدی اور ہمارے اندازے، بنام قادیانی عوام، تہمت وہابیت اور علمائے دیوبند ایک غلط فہمی کا ازالہ، کیا آپ موت کے لیے تیار ہیں؟، مغرب زدہ مسلمانوں کے نام، عجائباتِ روح، آئینۂ سلوک، دشت سلوک، طشت جواہر، حسرت نایافت، پاکستان میں مغربی افکار و ثقافت کا نفوذ اور اس کے اسباب‘‘ شامل ہیں۔     دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ حاجی صاحب v کی کامل مغفرت فرماکر اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین

 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے