بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

بینات

 
 

اسلام کی اشاعت کیلئے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال

اسلام کی اشاعت کیلئے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال



ملک میں ٹی وی چینلوں کی بھرمار اور ان کے ذریعہ مخرب اخلاق پروگراموں کی نشر واشاعت کے بعد ہر دردمند مسلمان پاکستانی کے دل میں یہ سوال اُٹھا ہوگا کہ ان سے نجات کی کیا صورت ہوگی؟ اخلاق سوزی کے اس بڑھتے ہوئے طوفان کے آگے بند باندھنے کی کیا سبیل ہوگی؟ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ اور فحاشی کے خاتمہ کا کیا طریقہ ہوگا؟ چنانچہ ان سوالات کا جواب دینے اور اپنے خلاف‘ اسلام کے حامی عناصر کی ممکنہ مہم کا رخ بدلنے کی غرض سے ان چینلوں نے جہاں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے نام پر ”عالم آن لائن‘ غامدی‘ الف‘ ‘ وغیرہ جیسے اسلام دشمنی اور بے دینی پر مشتمل پروگرام نشر کرنا شروع کئے‘ وہاں بعض افراد نے حق‘ لبیک اور اس جیسے دیگر ناموں سے کئی نئے چینلوں کا آغاز کردیا‘ جن کا مقصد بادی النظر میں اسلامی تعلیمات کا فروغ اور اسلام کے بارہ میں بین الاقوامی پراپیگنڈا کا جواب دینا تھا۔ ان چینلوں نے کئی نئی ابحاث کو جنم دیا۔ نئے نئے افراد اسلامی اسکالرز کے روپ میں سامنے آنے لگے‘ شرعی مسائل کے نام پر ایسی باتیں بتلائی جانے لگیں جن کو شاید پوری امت مسلمہ نے چودہ سو سال میں نہ سنا ہو‘ کئی مسالک کے علماء کو ایک جگہ بٹھا کر ایک ہی مسئلہ کے بارہ میں ان کی رائے معلوم کرکے سائل کو الجھا دیا گیا اور علماء کے اختلاف رائے کو ہوا دے کر مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی گئی کہ خود علماء میں ان مسائل کے حوالہ سے اختلافات موجود ہیں‘ اس لئے عوام الجھ کر رہ گئے کہ وہ کس کی پیروی کریں؟ کس مسلک پر عمل کریں؟ کس عالم کا بیان کردہ مسئلہ کا حل صحیح اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے؟ اس طرح ان پروگرامز میں علماء کی شرکت اور ان میں دیئے جانے والے ”فتوؤں“ نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید گنجلک کردیا‘ اور علماء پر مسلمانوں کا اعتماد پختہ ہونے کے بجائے متزلزل ہونے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ماضی میں اٹھنے والا یہ سوال ایک مرتبہ پھر سامنے آگیا کہ کیا اسلام کے فروغ کے لئے ٹی وی اور دیگر تصویری ذرائع کو استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ بالفاظ دیگر اسلام کی نشرواشاعت کے لئے الیکٹرونک یا ڈیجیٹل میڈیا کو کس حد تک استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اہل حق کو اپنا کوئی ٹی وی چینل قائم کرنا چاہئے یا نہیں؟ ایک مستفتی نے اس صورت حال کے تناظر میں چند سوالات لکھ بھیجے‘ جن کے جواب کو قارئین کی دلچسپی کے لئے شائع کیا جارہا ہے۔ چنانچہ سوالات اور ان کا جواب ملاحظہ ہو:
”محترم جناب حضرت مولانا صاحب
السلام علیکم ورحمة اللہ !
اس استفتاء کا مقصد آپ کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی طرف دلانا مقصود ہے‘ جس نے اہل حق کے مابین عقیدہ اور فکر کے اعتبار سے گہرے اختلافات کو جنم دیا ہے‘ بدقسمتی سے یہ فکری تغیر بھی اس نام نہاد ”روشن خیالی“ کی کالی آندھی کا نتیجہ ہے جو اکتوبر ۲۰۰۱ء سے چلنا شروع ہوئی‘ آپ کے سامنے پوری صورتحال رکھنے کا مقصد علماء حق‘ جو اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش فرمارہے ہیں‘ کا واضح اور دو ٹوک موقف جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ حضرت! ایک عرصہ سے ملک عزیز کے علماء کرام کے درمیان ایک بات پر بحث چل رہی ہے کہ آیا ٹی وی کے ذریعہ درس قرآن اور دیگر دینی پروگرام کئے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ یعنی علماء کرام ٹی وی پر آکر مختلف دینی پروگراموں کا انعقاد کریں اور پھر اس سلسلہ میں ا ہل حق اپنا کوئی ٹی وی چینل قائم کریں تاکہ دیگر خرافات سے بچاسکے‘ لیکن چونکہ کوئی ٹھوس بات طے نہ ہوسکی‘ اس لئے علماء کرام کی ٹی وی پروگراموں میں شرکت کے جواز کا فتویٰ کہیں سے جاری نہ ہوا‘ لیکن اب اچانک صورتحال بدل گئی ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ بالآخر علماء کرام نے ٹی وی کو گلے لگا ہی لیا۔ چنانچہ اتوار ۲۵/ مارچ کو گلستان انیس کلب واقع شہید ملت روڈ (بہادر آباد) میں ”تحفظ حدود اللہ“ کے بینر تلے نام نہاد ”حقوق نسواں بل“ کے موضوع پر پروگرام کیا گیا‘ اس پروگرام میں شہر کے جید علماء کرام نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں عوام کی کثیر تعداد کے علاوہ فوٹو گرافر بھی موجود تھے‘ بلکہ ایک ٹی وی کا کیمرہ پورے پروگرام کو فلم بند کررہا تھا‘ پروگرام کے اختتام پر اسٹیج سے اعلان ہوا کہ یہ پروگرام ٹی وی کے ”حق چینل“ پر نشر کیا جائے گا‘ اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہر بدھ کو رات دس بجے اسی چینل پرایک عالم دین ……کا درس قرآن کا پروگرام آیا کرے گا‘ اس پروگرام کی ابتدا بدھ ۲۸/ مارچ سے ہوگی‘ بندہ کو جو اطلاع موصول ہوئی ہے‘ اس کے مطابق اتوار ۲۵/ مارچ کا پروگرام حق چینل پر ۳۱/ مارچ کو رات دس بجے نشر کیا جائے گا۔ الحمدللہ! ہم بحیثیت عام مسلمان‘ زندگی کے ہر شعبے میں اور ہر مسئلہ میں اپنے علماء کرام کی طرف دیکھتے اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں‘ اور اس کو دنیا میں ا پنی کامیابی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں‘ لہٰذا آپ سے اس بارے میں بھی رہنمائی کی سخت ضرورت ہے کہ کیا گھر میں ٹی وی کا رکھنا اور اس پر فقط دینی پروگراموں کا دیکھنا جائز ہے؟ جب علماء کرام کا ٹی وی پر آنا جائز ہے تو عوام کا ان پروگراموں کا دیکھنا بھی جائز ہوگا‘ یہ تو ایک سادہ سی بات ہے‘ لیکن ٹی وی پر آنے کے جواز کا فتویٰ اگر جاری ہوا تو پھر اس کے ذیل میں ا ن گنت سوالات پیدا ہوں گے‘ جن کا تشفی بخش جواب دینا ضروری ہوگا۔
امید ہے کہ آپ ہماری مکمل رہنمائی فرمائیں گے اور امت مسلمہ کو اس نئے فکری بھونچال سے نجات دلائیں گے۔
بندہ: ابو طلحہ‘ عالمگیر مسجد بہادر آباد‘ کراچی“
جواب:… تصویر بنانا اور بنوانا دونوں حرام ہیں اور اس کی حرمت پر پوری امت کا اجماع ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر بنانے والے کو ملعون قرار دیا ہے۔ چونکہ ٹی وی میں تصویر ہوتی ہے‘ اسی طرح وہ پروگرام جو کیمرہ کے ذریعہ محفوظ کرکے ویڈیو کی شکل میں چلائے جاتے ہیں‘ وہ بھی تصویر کے حکم میں ہیں‘ اس لئے ٹی وی اور ویڈیو کے پروگرام کرنا اور دیکھنا دونوں ناجائز ہیں۔ اس پر ہمارے تمام اکابر کا فتویٰ ہے۔ بایں ہمہ اگر کوئی عالم یا مولوی ٹی وی پر آتا ہے یا اپنی ویڈیو بناتا ‘بنواتا یا اس کی اجازت دیتا ہے‘ تو کسی ایک عالم یا چند علماء کے اس عمل کو ٹی وی اور وی سی آر کے جواز پر بطور استدلال پیش کرنا درست نہیں‘ اس لئے کہ یہ ان کا انفرادی عمل ہے۔ ۲:… اس کے ساتھ ہی یہ بات آج کل زیر بحث ہے اور اس پر تحقیق کی جارہی ہے کہ جو پروگرام ویڈیو کیسٹ اور سی ڈیز میں محفوظ کرلئے جاتے ہیں‘ وہ تصویر کے حکم میں ہیں یا نہیں؟ علماء کا ایک طبقہ اس کو تصویر نہیں سمجھتا ‘ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ویڈیو اور سی ڈی کی موجودہ حالت میں تصویر نظر نہیں آتی‘ بلکہ وہ چند نقطے ہوتے ہیں ا ور ویڈیو کیسٹ یا سی ڈیز میں خورد بین لگاکر بھی ان کو نہیں دیکھا جاسکتا‘ البتہ جب ٹی وی اور کمپیوٹر میں ڈال کر ان کو چلایا جاتا ہے‘ تو ٹی وی اور کمپیوٹر کی مشین ان کو جوڑ کر ایک شکل بنادیتی ہے‘ لہٰذا یہ تصویر نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرا طبقہ اور اہل علم کی قابل اعتماد جماعت اس کو بھی تصویر کہتی ہے‘ کیونکہ جب وہ ٹی وی اور کمپیوٹر پر دیکھتے وقت تصویر ہے‘ تو اس کا حکم بھی تصویر ہی کا ہوگا۔ ہمارے اکابر کی یہی تحقیق ہے‘ اور یہی قابل اعتماد ہے اور اسی میں ہی سلامتی ہے‘ باقی جن حضرات کا عمل آپ نے نقل فرمایا ہے‘ ان ہی سے دریافت کیا جائے کہ اب تک جو چیز متفقہ طور پر ناجائز تھی‘ اب وہ جائز کیسے ہوگئی؟ پھر ان حضرات کے اس عمل سے گناہ اور بدکاری کی راہ کھل جائے گی‘ اور جب ٹی وی گھر میں آجائے گا‘ تو خیر سے جائز و ناجائز کی تحقیق ثانوی درجہ میں چلی جائے گی۔ رہی یہ بات کہ کفر نے اسلام کے خلاف ٹی وی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے‘ تو ہم اس کو اشاعت اسلام کے لئے استعمال کیوں نہ کریں؟ بلاشبہ بادی النظر میں یہ جذبہ اچھا معلوم ہوتا ہے‘ مگر اس امت کا یہ طرئہ امتیاز رہا ہے کہ اس نے اشاعت اسلام کے لئے کسی ناجائز کو ذریعہ نہیں بنایا‘ اگر اس کی اجازت ہوتی تو چوروں کی اصلاح کے لئے چوروں کے گروہ میں اور زانیوں کی اصلاح کے لئے زانیوں کے گروہ میں شامل ہونا‘ بلکہ کافروں کی اصلاح کے لئے کافروں کے گروہ میں شامل ہونا جائز ہوتا۔ پھراس کے علاوہ یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کچھ اغیار کے پاس ہو‘ وہ ہمارے پاس بھی ہو‘ کیونکہ شیطان کو انسانی قلوب میں وساوس ڈالنے اور اس پر تسلط کا جو اختیار حاصل تھا اور ہے‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل ہوتا‘ کیونکہ اشاعت کفر کے لئے شیطان جب یہ ہتھیار استعمال کرسکتا ہے‘ تو اللہ کا نبی اس کا زیادہ مستحق ہونا چاہئے تھا۔ اسی طرح جب شیطان انسانی قلوب کی اسکرین پر اپنے وساوس کے ذریعہ گناہوں اور بدکاریوں کی فلم دکھاتا ہے‘ تو ہمیں بھی اس کی اجازت ہونا چاہئے تھی۔ پھر ٹی وی اور وی سی آر کے جواز کے لئے یہ دلیل بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ اگر ہم نے ان کو نہ اپنایا تو لادین قوتیں اس کو دین کے بگاڑ کے لئے استعمال کریں گی اور اسلام کا حلیہ بگڑ جائے گا اور اسلام اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں رہے گا‘ اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اس قدر تسلط دینے کے باوجود بھی آج تک اسلام کو محفوظ رکھا ہے‘ تو آئندہ بھی تحریف سے اُسے بچائے گا‘ اس کے علاوہ ٹی وی کا پیغام حقانیت کی دلیل بھی نہیں‘ ورنہ شیطان کا پیغام‘ جو پوری دنیا میں ہے‘ حق ہوتا‘ حالانکہ ایسا نہیں،لہٰذا ہم دین اسلام کی اشاعت اور اس کی حفاظت کے مکلف ضرور ہیں‘ مگر جائز طریقہ پر اور بس۔
واللہ اعلم بالصواب۔
سعید احمد جلال پوری

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے