بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

بینات

 
 

اسلام میں نکاح کا مربوط اور جامع نظام

اسلام میں نکاح کا مربوط اور جامع نظام


نکاح‘ نسلِ انسانی کی بقاء کا ذریعہ اور خواہشِ نفسانی کی تکمیل کا مہذب طریقہ ہے۔ مذہبِ اسلام میں اسے عبادت کادرجہ حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے مسجد کے نورانی اورپاکیزہ ماحول میں منعقد کرنے کی تلقین کی گئی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہرضی اللہ عنہما کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’أعلنوا ہٰذا النکاح واجعلوہ في المساجد‘‘ یعنی ’’یہ نکاح اعلانیہ طورپر کرو اور مسجد میں اس کا اہتمام کرو۔‘‘ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’أفضل المساجد‘‘ یعنی مسجد حرام میں حضرت میمونہ ؓ سے رشتۂ ازدواج منسلک کیا تھا۔ نیزاس پرمسرت موقع پر خطبۂ مسنونہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد وثناء اور قولِ سدید اور تقویٰ و ورع کی نصیحت نکاح کے مذہبی تشخُّص کو اُجاگر کرتی اوراس کے عبودیت کے پہلو کو عیاں کرتی ہے۔ اس کے برعکس کفار کے ہاں نکاح محض نفس رانی اورخواہش پرستی کا نام ہے، اس لیے وہ رقص وسرود کی محفلوں اور معصیت کے متعفن زدہ ماحول میں اس کی تقریب کا انتظام کرتے ہیں ۔

نکاح کی اہمیت

اللہ رب العزت نے انسان کو رشتوں کی جس خوبصورت لڑی میں پرویا ہے، ان میں ایک اہم رشتہ عقدِ نکاح کے ذریعہ زوجین میں طے پانے والی نسبت ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اس رشتے کو نسبی رشتے کے ساتھ مقامِ نعمت میں ذکر فرمایا ہے، چنانچہ سورۃ الفرقان میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
’’وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَائِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّصِھْرًا‘‘ (الفرقان:۵۴)
’’اوروہ (اللہ) ایسی ذات ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا اوراس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔‘‘ 
نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب چیزوں میں سے ہے، ایک طویل حدیث میں ارشادِ نبوی ہے:
 ’’حبب إليّ من دنیاکم ثلاث: الطیب والنساء وجعلت قرۃ عیني في الصلٰوۃ۔‘‘
 ’’تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے مجھے تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو اور عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ عورتوں سے شادی فرمائی، جس سے نکاح کی اہمیت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اُمت کوازدواجی زندگی کے زریں اصول بھی فراہم کیے۔ پھر صرف اپنی ذات کی حد تک نہیں، بلکہ اسے اپنے سے پیشتر تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ سنت قراردیا، چنانچہ ترمذی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’أربع من سنن الأنبیاء: الحیاء والتعطر والسواک والنکاح۔‘‘
’’چار چیزیں انبیاء ( علیہم السلام )کی (متفقہ) سنتیں ہیں: حیاء، خوشبو، مسواک اور نکاح۔‘‘

اسلام اور رہبانیت 

مذہبِ عیسائیت میں رہبانیت کا تصور پایا جاتا ہے، جو قرآنی بیان ’’وَرَھْبَانِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا‘‘ کی روسے خدائی پابندی کے بغیران کااپنا ایجادکردہ نظریہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عیسائی نکاح کو عبادت میں مخل سمجھتے ہیں، اس لیے ان کا ایک بڑا طبقہ نکاح کے عمل سے کنارہ کش ہوکر جنگلوں، غاروں اورخلوت گاہوں کا رُخ کرلیتا ہے اور تمام زندگی وہیں گزار دیتا ہے، جبکہ اسلام جیسے عالمگیر اور آفاقی مذہب میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد ہے: 
’’لارہبانیۃ في الإسلام‘‘ ۔۔۔۔۔’’اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔‘‘ 
بلکہ اسلامی نقطۂ نظرسے تو نکاح عبادت میں معین و مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ حدیث کی روشنی میںنکاح انسان کی فرج اورقلب ونظر کا محافظ ہے اور جس قدر دل اور نگاہ پاک ہوں گے، اُسی قدر حق تعالیٰ کی معرفت کا عکس اس میں شفاف ہوگا، پھر جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوگی اتنا عبادت کی طرف میلان اوررجحان زیادہ ہوگا۔ صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے آئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرتِ عبادت کے بارے میں سنا تو اپنی عبادت کو کم خیال کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں تمام عمرشب بیداررہوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ساری زندگی روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے جدا رہوں گا اورکبھی شادی نہیں کروں گا۔ اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ان سے فرمایا :
’’أما واللہ إني أخشاکم للہ وأتقاکم لہ، لکني أصوم وأفطر وأصلي وأرقد وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فلیس مني۔‘‘
’’اللہ کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کاتقویٰ اختیارکرنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوںاورعورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، لہٰذا جس نے میری سنت سے بےرغبتی کی، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ 
اس سے منشاء نبوت یہ تھاکہ انسان ان بشری تقاضوں کو پوراکرنے کے ساتھ بھی عبادت کا فریضہ بخوبی اور بکثرت سرانجام دے سکتا ہے، اس کے لیے طبعی حوائج کے ترک کی ضرورت نہیں۔

رشتۂ ازدواج کی نزاکت

اپنی مسلمہ افادیت کے ساتھ ساتھ یہ اہم رشتہ نزاکت اورلطافت میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ سنجیدگی، مذاق، غصے، پیار، اجبار اور اختیار میں ایک لفظِ قبول سے یہ قائم ہوجاتا ہے اور ان تمام صورتوں میںایک لفظ طلاق یااس کے ہم معنی کنائی لفظ سے برسہا برس پر محیط تعلق پاش پاش ہوجاتا ہے۔ ایک لحظے میں اپنائیت سے اجنبیت اور اجنبیت سے اپنائیت کاطویل سفر طے کرنے میںاس کا کوئی بدل نہیں، لہٰذا کسی لمحہ بھی اس کے نزاکتی پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، ورنہ آتشِ غضب میں مشتعل ہوکر کیا گیا کوئی بھی جذباتی فیصلہ ہنستے بستے گھرکوویران کرکے اپنی اور اپنے اہل وعیال کی زندگی کو حسرت وندامت کے اس تاریک غار میں دھکیل سکتا ہے، جہاں سے واپسی کا سفر ناممکن ہوجاتا ہے۔ 
قرآنی فیصلے ’’الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ‘‘ کے مطابق اس رشتے کے قیام اور انہدام کی ڈوری مرد کے ہاتھ میںپکڑائی گئی ہے، اس اختیار کاناجائز اور بے موقع استعمال کرکے اپنی عزت تک قربان کر دینے والی اور خاوند کی دلجوئی کے لیے ہر جتن کردینے والی رفیقۂ حیات کے ساتھ یہ نازیبا سلوک شرعاً اور عقلاً کسی طرح بھی درست نہیں، چنانچہ سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ أبغض الحلال إلی اللہ تعالیٰ الطلاق‘‘
 ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض چیز طلاق ہے۔‘‘

نکاح میں سادگی

نکاح چونکہ ہر امیرو غریب اورمردوزن کی یکساں بشری ضرورت ہے، اس لیے شریعتِ اسلامیہ نے اس کو سادگی کے ساتھ منعقد کرنے اورخوامخواہ کے تکلفات سے دور رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ شعب الایمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: 
’’ إن أعظم النکاح برکۃ أیسرہٗ مؤنۃ۔‘‘
 ’’سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم تکلف ہو۔‘‘
بدقسمتی سے سادگی اور بے تکلفی کی اس اہم دینی ہدایت کو ہمارے مسلم معاشرے میں یکسر نظرانداز کرکے اس طبعی اورفطری عمل کومشکل سے مشکل تر بنادیا گیا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں دس صدیوں پر محیط اسلامی سلطنت میں چونکہ ہندو بھی بطوراقلیت کے مسلمانوں کے ساتھ رہے، پھراسلامی حکومت کے زوال کے بعدسلطنتِ برطانیہ میں بھی دونوں قومیں ایک ساتھ رہیں، اس لیے ہندوؤں کی بہت سی رسومات اورخرافات مسلم سماج کاحصہ بن گئیں، جو تقسیم ہند کے تہتر سال بعد بھی بدستور رائج ہیں، جن پر عمل کرنا فرض اور واجب عمل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اس موقع پر رسم حناء، نیوتہ، جہیز اوربیسیوں قسم کی غیرعقلی اور غیرشرعی رسومات ادا کی جاتی ہیں، جن کے بغیر نکاح کی تقریب کو نامکمل متصور کیا جاتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان رسومات کا نقصان یہ ہے کہ ان کی ادائیگی کے لیے مطلوب رقم نہ ہونے کی وجہ سے قوم کی لاکھوں بچیاں نکاح کی عمرسے متجاوزہوجاتی ہیں اورشوہر کی صورت میں ایک محفوظ سائبان سے محروم رہ جاتی ہیں، ان کے بے بس والدین کی راتیں زندگی میں بیٹیوں کواپنے ہاتھوں سے رخصت کرنے کاخواب سراب بنتے دیکھ کر دکھ اور کرب میں گزرتی ہیں۔ مستعاررقم سے ان رسومات کی ادائیگی کر کے بیٹیاں بیاہ دیں توتمام عمرقرض کے منڈلاتے سائے ان کی زندگی اجیرن کیے رکھتے ہیں۔ اس تشویشناک صورت حال میںان رسومات کے انسداد اور سدِ باب کے لیے معاشرے کے بااثر اور سرکردہ افراد کومؤثر آواز بلند کرنی چاہیے اور انسانی حقوق کی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں اوراربابِ حل وعقد کو سنجیدگی سے قانونی جدوجہد کرنی چاہیے۔

رفیقۂ حیات کی تلاش

نکاح کے سلسلہ کی اہم ترین کڑی شریکِ حیات کی تلاش ہے۔ اس حوالے سے شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ عورت کے حسب ونسب، مال وزر اور حسن وجمال سے زیادہ اس کی دینداری کے پہلو کو دیکھا جائے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے: 
’’تنکح المرءۃ لأربع خصال: لمالھا ولحسبھا ولجمالھا ولدینھا، فاظفر بذات الدین تربت یداک‘‘
 ’’چارخصلتوں کی وجہ سے عورت سے نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے حسب کی وجہ سے اوراس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، لہٰذا تودین والی کو اختیار کر (پھر بطور تکیہ کلام کے فرمایا) تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔‘‘ 
اس میں حکمت یہ ہے کہ ماں کی گود اولاد کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے، جب عورت نیک ہوگی تواس کی پارسائی اولاد کی تربیت پراثرانداز ہوگی، پھر یہ اولادنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’أو ولد صالح یدعولہ‘‘ کی روشنی میں صدقہ جاریہ بن کر والدین کے لیے نجات کا سبب ہوگی۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ حکایت اہلِ علم میں مشہور ہے، معروف حنفی فقیہ شیخ محمد بن احمد سمرقندیؒ کی صاحبزادی کا نام فاطمہ تھا، جوعلم و فضل میں اپنے والد کی طرح تھی، موصوفہ کی علمی شہرت کی وجہ سے روم اورعرب کے بہت سے مسلم سلاطین وحکام کی جانب سے انہیں نکاح کی پیشکش کی گئی، لیکن فاطمہ کی ایک ہی شرط تھی کہ میں اس شخص سے نکاح کروں گی جو میرے والدقابل قدر کی کتاب’’تحفۃ الفقہاء‘‘ کی شرح لکھے گا۔ شیخ محمدبن احمد سمرقندیؒ کے مایہ ناز شاگرد علاء الدین کاسانی ؒنے ’’بدائع الصنائع‘‘ کے نام سے اس کتاب کی شرح تحریر کی۔ والد نے اپنی بیٹی کی شرط کے مطابق اپنے اسی شاگرد کے ساتھ باوجود اُن کے مفلس اورغریب ہونے کے نکاح کر کے رخصت کردیا۔ بعد میں اللہ نے انہیں مالی وسعت بھی عطا فرمائی اور ایسا علمی فضل وکمال عطا فرمایا کہ ان کی تصدیق کے بغیر سمرقند میں کوئی فتویٰ معتبر نہیں مانا جاتا تھا۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین