بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 صفر 1442ھ- 23 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

اسلام’’دین کامل‘‘ہے اس میں کسی بھی’’ازم‘‘کی گنجائش نہیں

اسلام’’دین کامل‘‘ہے

اس میں کسی بھی’’ازم‘‘کی گنجائش نہیں


’’محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف صاحب بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کی ایک اہم تقریرجو آپ نے حرمین شریفین کی زیارت اور حج سے واپسی کے دوسرے دن بروز جمعہ ۲۱؍مارچ۱۹۶۹ء کو ایک مجمعِ کثیر کے سامنے جامع مسجد علامہ بنوری ٹاؤن میں فرمائی اور ماہنامہ بینات میں اس کا اختصار ’’بصائر و عبر‘‘ میں پیش کیا گیا، جس میں موجودہ ملکی وعالمی حالات پر تبصرہ کے ساتھ ساتھ عوام وخواص کے لیے لائحہ عمل بھی ہے اور دینِ اسلام کی تکمیل اور جامعیت کا بیان بھی ہے۔ قندِ مکرر کے طور پر ہدیۂ قارئین ہے۔ ‘‘ 

خطبۂ مسنونہ کے بعد آیت مندرجہ ذیل تلاوت فرمائی:
’’اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا۔‘‘     (المائدۃ:۳)
’’آج میںنے تمہارے لیے تمہارا دین کامل بنادیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو بحیثیت دین تمہارے لیے پسند کیا۔‘‘
عزیز انِ گرامی قدر اور محترم بزرگو! میں آپ سے تقریباً ۲۸؍ روز غیر حاضر رہا، ان دنوں میں آپ پر کیا گزری اس سے آپ سب حضرات خوب واقف ہیں،اس ملک میں اسلام پر جو کچھ بیت رہی ہے اور جو کچھ اس کے ساتھ کیاجارہا ہے اس کے پیشِ نظر میں نے ایک عرصہ سے اخبار بینی تقریباً ترک کردی تھی، کیونکہ ہرروز کوئی نہ کوئی دردناک خبر ملتی تھی اور کسی نہ کسی روح فرسا واقعہ سے سابقہ پڑتا تھا، پھر عریانی وفواحش اور ان کی تصاویر سے اخبارات بھرے ہوتے تھے، اس لیے جب یہاں تھا تو ان سے اجتناب کرتا تھا، لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی خبر کان میں پڑ ہی جاتی تھی،یہاں سے جانے کے بعد رخ ہی دوسری طرف تھا، اس لیے خود کو خالی الذہن کر لیا تھا، لیکن ان ۲۸؍ دنوں میں جو کچھ اس ملک پر گزرا اور برسوں کی مسافت جو چند دنوںمیں طے ہوئی وہ ایسا واقعہ نہیں ہے کہ اس سے صرفِ نظر کیا جائے اور ذرا بھی غفلت برتی جائے۔ ہم آپ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، جب کشتی ڈوب رہی ہو تو ہر مسافر کو اس کے بچانے کی فکر میں لگ جانا چاہیے۔ کچھ تو میں نے حرمین شریفین میں اس بدقسمت ملک کے بارے میں سنا اور کچھ یہاں آکر بعض کرم فرماؤں نے بتلایا۔ ان خبروں اور حالات کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان آج اپنی تاریخ کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ دنیا میں انقلابات آتے ہیں، سازشیں ہوتی ہیں، طوائف الملوکی پھیل جاتی ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ آج کسی کے لیے تختِ سلطنت ہے توکل اس کے لیے تختہ دار ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا ہے، لیکن ہمارا ملک اس سے بھی شدید ترین خطرات سے دو چار ہے۔ داخلی اور خارجی فتنوں نے اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ اس کو گھیر رکھاہے۔ امریکہ، برطانیہ، روس اور چین ایک عرصہ سے اس ملک کو اپنی چراگاہ بنائے ہوئے تھے اور اپنے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ عمل جراحی میں مصروف تھے، ان سب کا مقصد یہ تھا کہ اس ملک کو اپنی حالت میں رہنے نہ دیں اور یہ ملک جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا، اس سے اس کو کوسوں دور ڈال دیں۔
برطانیہ ایک زہریلے بچھوکی طرح نیشن زنی میں مصروف رہتا ہی ہے۔ برطانیہ کی تاریخ جس قدر قدیم ہے‘ اسلام اور مسلمانوں سے اس کی عداوت بھی اتنی ہی قدیم ہے، اس کی خواہش ہمیشہ سے یہ ہے کہ یہ ملک مسلمان ملک کی حیثیت سے زندہ نہ رہے۔ امریکہ دوسرا شیطان ہے جو اسی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ پاکستان ختم ہوجائے اور ہندوستان اس پر حاوی اور قوی ہوجائے، اس پر وہ کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ روس بڑا بدمعاش ہے، وہ چاہتا ہے کہ لگے ہاتھوں وہ بھی اپنے بلاک کو وسیع کر لے، امریکہ کو شکست دے دے اور دنیا کو اپنے غیر فطری اُمور، خدادشمن نظام کمیونزم کی لپیٹ میں لے لے۔ درمیان میں ایک نیا شیطان اور آنکلا ہے جس کا نام چین ہے، وہ بھی اپنی للچائی ہوئی نگاہیں پاکستان پر اور افریقہ وایشیا کے دوسرے ملکوں پر ڈال رہا ہے۔ یہ تمام دشمن ملک کے موجودہ حالات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی توقعات اب وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہیں اور اپنے جالوں کے پھندے بڑے تیزی سے کَس رہے ہیں۔ اِدھر ملک میں کچھ حضرات جن کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جاتاہے وہ ان بیرونی ملکوں کے آلۂ کاربنے ہوئے ہیں۔ صدر صاحب اپنے اعمال کا نتیجہ بھگت رہے ہیں، اپنے دہ سالہ کرتوتوں کی سزا پارہے ہیں، قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’قُلِ اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَائُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَائُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔‘‘   (آل عمران:۲۶)
’’آپ کہا کریں:اے اللہ! تو ہی ہے بادشاہت کا مالک، جس کوچاہتاہے سلطنت سے نوازتا ہے او رجس سے چاہتا ہے سلطنت وحکومت کو چھین لیتا ہے۔ جس کو چاہتاہے عزت سے سرفراز فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت ورسوائی سے ہمکنار کرتا ہے۔ خیر تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے۔ بلاشبہ تو ہر چیز پر قدرتِ بیکراں رکھتا ہے۔‘‘
صدر صاحب آج معکوس حالت سے دوچار ہیں، وہ کل تک عزیز تھے، انہیں ملک کا نجات دہندہ سمجھا جارہا تھا، اس زمانہ میں کہا جارہاتھا کہ سمندر نے بھی سونا اگلنا شروع کردیا۔ سمندر نے سونا بے شک اگلا اور خوب اگلایہ اور بات ہے کہ وہ سونا بعد میں پیتل بن گیا، پھر آپ کو وہ زمانہ بھی یاد ہوگا جب ہندوستان نے پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایاتھا، صدر صاحب کی زبان سے کلمہ طیبہ نکلا اور تقریر سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی عادت پڑی، ریڈیو بھی مسلمان ہوگیا، حکومت مسلمان ہوگئی، فوج بھی مسلمان ہوگئی، فوجیوں نے جامِ شہادت نوش کیے، اخلاص اور کامل اخلاص سے لڑے، مساجد نمازیوں سے بھر گئیں۔ آخر کار مسلمانوں کی جان میں جان آئی کہ اللہ تعالیٰ نے ملک کو بچالیا، پھریکایک ملک کے حالات بدلے یا زبردستی ان کوبدلاگیا، دینی فضا جو قائم ہوئی تھی اس کو فواحش ومنکرات اور ٹیڈی ازم کے نرغے سے ختم کیا گیا۔بہر حال اس وقت ملک جن خطرات سے دوچار ہے، اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ اس وقت دو طبقے ہیں جن کے ذمہ میں فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ میدان میں اُتر کر اس ملک کو خطراتِ کفرو الحاد او ربے چینی کے تسلُّط سے بچائیں اور اسلام اور امن وسلامتی کے راستہ پر ملک کو چلا کر عزت دسرفرازی سے ہمکنار کریں۔

علماء کی ذمہ داری اور ان کے فرائض

ایک طبقہ علماء کا ہے، علماء پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کامل اخلاص اورپوری تندہی سے اس وقت کام کریں، وہ یہ سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عزت دی ہے وہ سب کچھ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دینِ مبین کا صدقہ ہے، مسلمانوں میں ہماری جو کچھ عظمت واحترام اور ادب ہے وہ سب اللہ کے دین سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ آج اس ملک میں اسلام پر جو کچھ گزررہا ہے یا گزرنے والا ہے اس میں علماء کیا کردار ادا کریں گے؟ دنیا کی آنکھیں اس کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ علماء جو کچھ کریں گے تاریخ اپنے سفینوں میں اور قوم اپنے سینوں میں اس کو ہمیشہ محفوظ رکھے گی۔ آج علماء کے امتحان کا وقت آگیا ہے۔ضرورت ہے کہ ہم حق کہیں اور حق کے لیے کہیں اور حق تعالیٰ جل مجدہ‘کی رضا وخوشنودی کے لیے کہیں اور جو کام کریں نفس کا شائبہ تک اس میں نہ ہو، وہ حدیثِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام تو علماء کے سامنے ہوگی اورپڑھی اور پڑھائی ہوگی:
’’قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے پہلے علماء، مجاہدین، سخاوت کرنے والوں کی پیشی ہوگی، سب سے پہلے علماء کی باری آئے گی اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے علم کس لیے حاصل کیا تھا؟ عرض کریں گے کہ: تیری رضا کے لیے۔ ارشاد ہوگا:غلط کہتے ہو، تم نے علم اس لیے حاصل کیا تھا کہ تم کو عالم کہا جائے اور لوگ تمہاری عزت کریں، چنانچہ ایسا ہوگیا (لوگ تمہیں عالم کہنے لگے) پھر حکم ہوگا ان کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دو اور وہ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔ پھر اسی طرح مجاہدین کا نمبر آئے گا اور ان سے بھی یہی سوال و جواب ہوکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آخر میں سخاوت کرنے والے آئیں گے اور ان پر بھی یہی ماجرا گزرے گا۔‘‘ (صحیح مسلم)
لہٰذا علماء ربانیین کا اہم فریضہ ہے کہ وہ سروں سے کفن باندھ کر میدان میں آجائیں، بہت بے حسی اور غیرتی کی بات ہوگی کہ دین پر نازک ترین وقت آجائے اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں اور تاویلیں کرتے رہیں کہ ابھی عزیمت کا وقت نہیں، رخصت پر عمل کیا جاسکتا ہے۔
 مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، علماء خاموشی سے نہیں بیٹھیں گے،  إن شاء اللّٰہ ثم إن شاء اللّٰہ۔ ہماری توآرزو ہے کہ دین کے تقاضے ہم سے پورے ہوجائیں، الحمد للہ بیس ۲۰ ؍سال سے شہادت کی آرزو سے اپنے سینہ کو گرم کر رکھا ہے، اس سے بڑی کیا خوش نصیبی ہوگی کہ اس کی راہ میں شہادت نصیب ہو، لیکن ضرورت اس کی ہے کہ علماء کی طرف سے کام ہومگر صحیح، درست، عقل اورتدبیر سے ہو، اللہ کو راضی کرنے کے لیے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہو، وما ذٰلک علی اللّٰہ بعزیز۔

عوام کے فرائض و ذمہ داریاں

دوسری ذمہ داری عام مسلمانوں کی ہے جن سے اس وقت میں مخاطب ہوں، اگرچہ اس ملک میں ملاحدہ، زنادقہ، بے دین اور اسلام سے منحرف لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، تاہم ملک کی بھاری اکثریت حلقہ بگوشِ اسلام ہے جو اس ملک میں اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے اور اسلام سے روگردانی اور انحراف کو سب سے بڑاگناہ تصور کرتی ہے، ان ہی حضرات کے سامنے میں اپنی معروضات پیش کررہا ہوں کہ:
آپ اس وقت سخت امتحان میں ڈال دیئے گئے ہیں، آپ علماء حق کی دعوت پر لبیک کہیں اور ان فتنوں سے نبرد آزما ہونے میں علماء کا ہاتھ بٹائیں، عوام مسلمین کی قربانیاں اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوں گی، جب یہ صحیح قیادت کے تحت کام کریں اور صحیح قیادت علماء ِربانیین ہی کی ہوسکتی ہے:

لا یصلح الناس فوضٰی لا سراۃ لھم

 ولا سراۃ إذا جُھالھم سادوا

’’صحیح قیادت کے بغیر انتشار اور پراگندگی کی حالت میں لوگوں کی حالت بہترنہیں ہوسکتی اور جاہلوں کی سیادت کو صحیح قیادت نہیں کہا جاسکتا۔‘‘
آپ کو معلوم ہے کہ اس مسلمان ملک میں سو شلزم اور کمیونزم کے نعرے لگ رہے ہیں اور بڑے زوروشور کے ساتھ لگائے جارہے ہیں، جہنم کی طرف لے جانے والے ائمۂ ضلال وفسق لوگوں کی قیادت کررہے ہیں، اور خود بھی شرارت اور فتنہ وفساد کی آگ بھڑکارہے ہیں اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کررہے ہیں۔ اب ہماری خاموشی بدترین جرم ہوگی،اگر دین دار مسلمان اسلام کی حفاظت وصیانت اور دفاع سے خاموش ہوگئے تو یہاں اسلام ختم ہوجائے گا اور دنیا کے نقشہ سے حرفِ غلط کی طرح مٹ جائے گا، اس موقع پر قرآن کریم آپ کو پکارر ہا ہے اور کہہ رہا ہے:
’’وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ۔‘‘                              (حج:۷۸)
’’جہاد کرو اللہ کے راستہ میں، جیسا کہ حق ہے اس کے راستہ میں جہاد کرنے کا۔‘‘
یہاں پر یہ دردناک حقیقت بھی سنتے جایئے کہ پچھلے دنوں ڈھاکہ میں حزبِ اختلاف کی آٹھ جماعتیں جمع ہوئیں اور ان کا اسلام پر اتفاق نہ ہوسکا، چند سلبی چیزیں ان کے اتفاق و ائتلاف کے نقطے بن سکیں، لیکن نظامِ اسلام اور محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا لایا ہوا دین اتفاقی نقطہ نہ بن سکا۔
شروع میں میں نے آپ کے سامنے جو آیتِ کریمہ تلاوت کی ہے، اس کے متعلق آپ جانتے ہوں گے کہ یہ آیت کس موقع پر نازل ہوئی؟ ذو الحجہ کا مہینہ تھا اور اس کی نویں تاریخ تھی، عرفہ کا دن تھا، حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عمر مبارک کا ۶۳واں برس تھا، نبوت کا تیئیسواں سال تھا، جمعہ کا دن تھا، عصر کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار تھے، مخاطبین میں ابو بکر، عمر،عثمان، علی، طلحہ، زبیر، حسن، حسین  رضی اللہ عنہم  اور ایک لاکھ صحابہؓ موجود تھے، یہ ایک مجمع تھا کہ چشم فلک نے اس سے زیادہ مقدس، اس سے زیادہ پاکیزہ،اس سے زیادہ جاں نثار مجمع نہیں دیکھا اور نہ کبھی دیکھے گا۔ اسلامی تاریخ نے یہ سب کچھ محفوظ کر رکھا ہے اور اس طرح کہ اس سے زیادہ حفاظت کا تصور نہیں کیا جاسکتا، پھر مسلمانوں نے اپنے ہادیِ بر حق خاتم الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت اور آپ کے انفاسِ قدسیہ کو تو اس طرح محفوظ کر رکھا ہے کہ کوئی قوم نہیں کرسکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی پاکیزہ زندگی کا ایک ایک لمحہ حدیث وسیرت میں محفوظ ہے۔ الغرض آیتِ کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ آج کے دن میں نے تمہارا وہ دین جس کا سلسلہ نہ صرف۲۳ سال بلکہ ہزاروں سال پہلے حضرت آدم علیہ السلام  سے جاری تھا، مکمل وکامل کردیا اور نعمت یعنی نعمتِ نبوت یا نعمتِ اسلام یا اللہ سے تعلق کو پورا کردیا۔ اب دنیا میں تمہاری فلاح اور دنیا وآخرت دونوں میں تمہاری فلاح ونجات صرف دینِ اسلام سے وابستہ ہے، تمہاری صلاح وفلاح کسی بھی ازم یا نظامِ حیات سے وابستہ نہیں ہے۔
غور فرمایئے: جب یہ آیتِ کریمہ اُتری ہے، اس وقت دنیا میں مختلف اور متعدد مذاہب اور نظامہائے حیات موجود تھے، مختلف ’’ازم‘‘ موجود تھے، جن سے دنیا آشنا تھی، آج جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اس کی ابتدائی شکلیں اس وقت موجود تھیں، لیکن ربِ کریم نے ان سب پر خطِ تنسیخ پھیر کر اسلام اور صرف اسلام کو ہماری خیر وفلاح کا ضامن ٹھہرایا ہے، کیونکہ اس قانون کا بنانے والا رب العالمین، أحکم الحاکمین، أرحم الراحمین ہے، جس کی مدح وثناء ہم عاجز بندے کر ہی نہیں سکتے، پھر نہ صرف یہ کہ اس نے اس دین کو پسند کیا، بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی اعلان فرمایا:
’’وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْـاِ سْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِيْ الْـاٰخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ‘‘ (آل عمران:۸۵)
’’جو شخص اسلام کے علاوہ کسی نظام کو اپنا دین بنائے گا وہ اس سے ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں خسارہ اُٹھانے والوں کی فہرست میں شمار ہوگا۔‘‘

کمالِ دین کا مطلب اور ا س کا معنی

یہ بھی سمجھئے کہ کمالِ دین کا مطلب کیاہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دین میں عقائد، عبادات، احکام، معاملات، معاشرت، قانون صلح وجنگ، اقتصادیات، معاشیات، سیاسیات سب کچھ موجود ہو، ورنہ اگر انسانی زندگی سے متعلق کوئی ایک شعبہ بھی نہ ہوتو وہ کامل نہیں ہوسکتا، وہ ناقص اور محتاجِ تکمیل کہلائے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اس دین کو کامل فرمارہے ہیں اور واقعتا اس میں سب کچھ موجود ہے، تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم امریکہ، روس یا چین سے کسی ازم کی بھیک مانگیں، درحقیقت کسی بھی دوسرے ازم سے بھیک مانگنا اور اسلام میں اس کا پیوند لگانا شرک فی الربوبیۃ ہے، جو شرک کی بدترین قسم ہے اور جو شخص اس کو جائز سمجھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی خیر منائے، نہ اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور نہ آخرت پر۔ موجودہ حالات کے تحت اسلام کے معاشی نظام کی ترتیب وتنظیم زیر غور ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے، تاکہ مثبت پہلو میں دین کا یہ نقشہ آپ کے سامنے آجائے۔
ساری دنیا کا محور آج کل پیٹ کا مسئلہ ہے، اسلام نے پیٹ کے مسئلہ کو حل کیا ہے، لیکن اس کے پسِ منظر میں انسان کو حیوان سے اور جانوروں سے ممتاز کرنے کی غرض سے ایک مستقل نظامِ روحانیت یعنی عقائد وعبادات، اعمالِ صالحہ و اخلاقِ فاضلہ کو محفوظ رکھا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ نے زراندوزی اور عیش کوشی کو ہی زندگی کا مقصد قرار دیا ہے۔ روس اور چین نے پیٹ کے مسئلہ کو جیسا تیسا حل کیا، لیکن انسان کو جانور بنا کر ساری انسانی مکرمت اورتوقیر چھین لی اور تمام اخلاقی اور روحانی اقدار کو پامال کر کے نرا حیوان بنا ڈالا، اسلام ہی وہ دینِ کامل ہے جس نے انسان کا صحیح مقام اس دنیا میں متعین کیا اور اس کو وہ نظامِ حیات دیا ہے جو اس کے شایانِ شان ہے، اسلام میں صرف روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ جانوروں کا نعرہ تو ہو سکتا ہے انسان کا نعرہ ہرگز نہیں ہوسکتا، لہٰذا:

اسلام میں کسی بھی ازم کی گنجائش نہیں ہے، نہ کیپٹل ازم کی، نہ سو شلزم کی، نہ نیشنلزم کی

آج ہمارے ملک میں جو مشکلات ہیں وہ معاذ اللہ اسلام کی پیدا کردہ ہرگز نہیں ہیں، بلکہ لوگوں نے اسلامی نظام جس کے نام پر یہ ملک حاصل کیا تھا، اس کو پس پشت ڈال کر اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کو اپنا کر یہ مشکلات خود پیدا کی ہیں، اس ملک میں اسلام کو ایک دن بھی اپنا معاشی نظام جاری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اگر اسلام کے معاشی نظام کو یہاں جاری کیا جاتا تو اس کا امکان ہی نہیں تھا کہ ملک کی معاشی حالت اس درجہ پر پہنچتی اور یہ سوشلزم کے کافرانہ نعرے بلند ہوتے۔

اسلامی سوشلزم کا نعرہ

پھران سارے نعروںمیں سب سے زیادہ دلچسپ یاتکلیف دہ نعرہ اسلامی سوشلزم کا ہے، بھلا یہ بھی کوئی بات ہے؟! یہ تو بالکل ایسا ہی ہے کہ کہا جائے: ’’اسلامی دہریت‘‘، ’’اسلامی لادینی‘‘، ’’اسلامی شراب‘‘، ’’اسلامی قحبہ خانہ‘‘ بلکہ میرے نزدیک ’’اسلامی سوشلزم‘‘ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اس سے تو اسلام کے عقیدہ پر زد پڑتی ہے کہ دین مکمل نہیں ہے۔
اگر کوئی دین وایمان سے کورا انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ موجودہ دور بدل گیا ہے، اس لیے ہمیں نئے نظام کی ضرورت ہے تو ایسا شخص کافرانہ غلطی میں مبتلا ہے اور اس کا ایمان اللہ اور اس کے رسولِ برحق  صلی اللہ علیہ وسلم پر صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ قانون تو اللہ علیم وخبیر کا بنایا ہوا ہے، جو قیامت تک آنے والی نسلوں، ان کے امراض وعوارض، ان کی حاجات وضروریات، مرغوبات ومیلانات کو جاننے والاتھا اور ہے، اس کا علم گزشتہ اور آئندہ سب پر محیط ہے، اس کی قدرت کامل ہے، اس نے اپنے اس ابدی قانون میں اپنے علم اور قدرت دونوں کو سمودیا ہے، اب نہ کوئی قانون آنے والا ہے، نہ کوئی نبی مبعوث ہونے والا ہے، اب ہماری ہدایت کے لیے یہی نسخۂ کیمیا کافی وشافی ہے۔
اب اس وقت آپ کے سامنے کام کی ترتیب یہ ہے:
الف: … جہاد باللسان، یعنی ز بان سے جہاد۔ علماء اس میں پہل کریں، آپ ان کی معادنت کریں اور اپنے ماحول وگردوپیش میں اسلام کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں۔
ب:… جہاد بالقلم، جو شخص لکھنے کی قدرت وصلاحیت رکھتا ہے وہ ان فتنوں کے خلاف لکھے، اخبار نویس اخبارات میں ،مصنفین ومؤلفین رسائل وکتابوں میں۔
ج: … جہاد بالقوۃ، یعنی ضرورت کے وقت اپنے د ست بازو کی قوت کو کام میں لائیں اور ان فتنوں کی بیخ کنی کر کے ہی دم لیں۔
ان شاء اللہ! آپ مجھے اس کام میں پیچھے نہ پائیں گے، آپ سپاہی ہوں گے اور میں آپ کاقائد، اسلام کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا، جلد ہی ان شاء اللہ کچھ اور چیزیں اور پروگرام کی تفصیل آپ کے سامنے آئے گی۔

 وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے