بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

بینات

 
 

اسلام اور فروغِ اسلام کو روکنے کی تحریک --- اٹھارہ سال سے کم عمر افرادکا قبولِ اسلام 

اسلام اور فروغِ اسلام کو روکنے کی تحریک

اٹھارہ سال سے کم عمر افرادکا قبولِ اسلام 

 

الحمد للہ و سلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

 

جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری دامت برکاتہم، جامعہ کے سابق رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر قدس سرہٗ کے بعد روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے مقبولِ عام سلسلہ ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ میں عوامی دینی سوالات کے جواب لکھتے ہیں۔ چونکہ آج کل وفاقی حکومتی حلقوں میں ایک بل جس کا بظاہر عنوان تو ’’جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام‘‘ ہے، لیکن حقیقت میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے قبولِ اسلام پر پابندی اور اس سے بڑی عمر کے افراد کے قبولِ اسلام کے آگے پیچیدگیاں اور دشواریاں کھڑی کی جارہی ہیں، اس مجوزہ بل کے بارہ میں آپ سے استفسار کیا گیا تو آپ نے قرآن وسنت کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا اور اس کا جواب تحریر کیا، جو روزنامہ جنگ میں قسط وار چھپا ہے۔ مضمون کی افادیت کے پیشِ نظر، کسی قدر حک واضافہ کے بعد ’’بصائر وعبر‘‘ میں قارئینِ بینات کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا جارہا ہے ۔ (محمد اعجاز مصطفیٰ)

 

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق ایک ایسا بل اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے تیارکیا جارہا ہے کہ جس کی رو سے جو لوگ اٹھارہ سال سےکم عمر ہوں گے، وہ اگر مذہب تبدیل کریں گے تو اُن کا مذہب تبدیل شدہ نہیں سمجھا جائے گا، چونکہ اطلاعات اٹھارہ سالہ افراد کے متعلق ہیں، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا ازروئے شریعت ایسی کوئی پابندی ہے کہ اس عمر سے کم افراد مذہب تبدیل نہ کرسکتے ہوں اور اُن کا اسلام قبول نہ کیا جائے؟
جواب یہ ہے کہ ملک میں کچھ عرصے سے کچھ ایسی قانون سازیاں ہورہی ہیں، جن سے دینی طبقے کے علاوہ عام پاکستانی بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔پہلے ’’وقف املاک بل اسلام آباد‘‘ نافذ ہوا، جس کا مقصد پہلے سےموجود وقف املاک کو قومیانہ اورآئندہ کےلیے وقف کا دروازہ بند کرنا ہے، حالانکہ وقف کی اجازت قرآن وسنت سے ماخوذ ہے۔ پھر بچوں کی جسمانی سزا کے نام سے ایک ایسا بل پاس ہوا، جس کا عنوان تو جسمانی سزا کی ممانعت ہے، مگر اس کے ضمن میں کچھ ایسے احکام شامل کردئیے گئے ہیں، جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ گھریلو تشدُّد کی روک تھام اور اس سے حفاظت کے نام پر بھی ایک بل اسمبلی سے پاس ہوکر سینیٹ میں منظوری کے لیے گیا اور سینیٹ نے اس میں کچھ ترامیم تجویز کیں اوراب یہ بل دوبارہ قومی اسمبلی لوٹ آیا ہے۔ بل ایسا ہے جو نام سے لے کر اختتام تک خلافِ شریعت اورخلافِ آئین ہے۔ اس بل کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ممالک میں رائج ایک قانون کو لیا گیا ہے، جسے یہاں کے اقدار، روایات اور خاندانی نظام کو سمجھے بغیر من وعن نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
غرض یہ کہ خلافِ اسلام اور خلافِ آئینِ پاکستان قوانین کا ایک لامتناہی سلسلہ ایسا شروع کردیا گیا ہے، جو منقطع ہونے کا نام نہیں لے رہا، چنانچہ ایسی اخباری اطلاعات ہیں کہ ایک نیا مسودۂ قانون زیرِ غور ہے، جسے جلد ہی منظوری کے لیے پیش کردیا جائے گا۔
یہ امر کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کا مذہب تبدیل کرنا قانون کی رو سےغیر معتبر قرار پائے گا اور یوں قراردیا جائے گا کہ اس نے مذہب تبدیل کیا ہی نہیں ہے، اگر حقیقتِ واقعہ اسی طرح ہےتو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسلام کا دروازہ نئے مسلمان ہونے والوں پر بند کیا جارہا ہے۔
کس قدر حیرت، بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارادستور تو اسلامی احکام کے مطابق ہی قانون سازی کی اجازت دیتا ہے، مگر قانون ساز اس ملی میثاق کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کے تحفظ اور پاس داری کا انہوں نے خود بھی حلف اُٹھایا ہے۔ قرآن کریم کی آیات ہرچھوٹے بڑے کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ آخر ہم کسی کو کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہے، جب کہ قرآن کریم نے اس طرح کہنے کی ممانعت کی ہے۔ قرآن حکیم میں سورۂ بروج کی تفسیر میں اس لڑکے کا واقعہ خصوصیت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں جس نے اس وقت کادینِ حق قبول کیا تھا، جس کا مطلب یہ ہےکہ پچھلے آسمانی ادیان میں بھی چھوٹی عمر کے لوگ دینِ حق قبول کرسکتے تھے۔
صحیح بخاری شریف میں باقاعدہ باب باندھا گیا ہے :
’’باب إذا أسلم الصّبي فمات، ہل يصلي عليہ، وہل يعرض علی الصّبي الإسلام؟‘‘
اس کے تحت حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں کہ :
 ’’ہٰذہ الترجمۃ معقودۃ لصحۃ إسلام الصبي۔‘‘ (صحيح بخاری، ج:۲، ص:۹۴)
یعنی یہ ہیڈنگ اس لیے ڈالی گئی ہے کہ بچے کا اسلام قبول کرنا درست ہے۔ ایک یہودی لڑکے کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے وفات سے قبل خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین پر اسلام قبول کیا تھا۔ (ملاحظہ کیجیے: صحیح بخاری، ج:۲، ص:۹۴) 
اب یہ کس قدر افسوس کامقام ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم توبچوں کااسلام قبول فرمائیں اور ہماری ریاست اُسے مسترد کردے۔ اگر اٹھار ہ سال کی شرط لگانے کامقصد یہ ہے کہ اس سے کم عمر کا شخص نابالغ رہتا ہے تو اول تو نابالغ کا اسلام قبو ل کرنا بھی درست ہے۔ دوسرے یہ کہ شریعت کی رو سے بلوغت کی زیادہ سے زیادہ عمر پندرہ سال ہے۔ پندرہ سال کی عمر بھی اس وقت ہے، جب اس سے پہلے لڑکے یا لڑکی میں بلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو، ورنہ لڑکا بارہ سال میں اور لڑکی نو سال میں بلوغت حاصل کرسکتی ہے۔ اگر قانون سازوں کا یہی اصرا ر ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کا اسلام قبول نہیں ہے تو پھر ان کے پاس ان بے شمار صحابۂ کرامؓ کے ایمان کا کیا جواب ہے جو بلوغت سے قبل اسلام لائے تھے؟ خلیفۂ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کا بچپن میں اسلام لانا تو ہمارے بچے بچے کوازبر ہے اورخود حضرت علی رضی اللہ عنہ اشعار پڑھ پڑھ کر اپنے اس کارنامے کو فخریہ بیان کرتے تھے:
 

سَبَقْتُکُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ طُرّاً
غُلَاماً مَا بَلَغْتُ اَوَانَ حُلْمِيْ

ترجمہ: ’’میں نے تم سب سے پہلے نوعمری میں ہی اسلام قبول کیا، جبکہ میں بچہ تھا، بلوغت کی عمر کو بھی نہیں پہنچا تھا۔‘‘
اس وقت ان کی عمر ایک قول کے مطابق سات سال اور ایک قول کے مطابق دس سال تھی۔ (سیرت ابن اسحاق، ص: ۱۳۷، دارالفکر، بیروت)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی بلوغ سے قبل اسلام لائے تھے۔ (طبقات الکبریٰ، ج: ۲، ص: ۲۶۹) 
اسی عمر میں حضرت ولیدبن عقبہ رضی اللہ عنہ بھی اسلام لائے۔ (الاستیعاب، ج: ۴، ص:۱۱۴)
حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کی قبولِ اسلام کے وقت عمر نو سال تھی۔ (الاصابۃ، ج:۸، ص:۴۲) 
اسی طرح حضرت مسلم رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ بھی کم عمری میں اسلام لائے تھے۔
غرض یہ کہ ایسے صحابۂ کرامؓ کی ایک طویل فہرست ہے جو نوعمری میں اسلام لائے۔ صحابۂ کرامؓ کے بعد تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے مستند حالات بھی کتابوں میں محفوظ ہیں، ان میں بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بالغ ہونے سے پہلے مسلمان ہوئے تھے اور ان کا اسلام درست اور عنداللہ قابلِ قبول تھا۔ 
یہی تینوں طبقات (صحابہ ؓ، تابعین ؒاورتبع تابعینؒ) ہمارے مقتدا اور رہنما ہیں، ہمیں ان کی اتباع کا حکم ہے، مگر آج اگر کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو مجوزہ بل کے مطابق اس کا اسلام‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قبول نہیں ہوگا اور ایسے بچے کوپیغام ہوگا کہ وہ بدستور کفریہ ماحول میں رہے، کفر کے شعائر اختیار کیےرکھے، تاریکیوں میں بھٹکتا رہے، جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکتا رہے، ناپاک کھاتا رہے، حرام پیتا اور پہنتا رہے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنی جاری رکھے اور اگر مرکر جہنم کا ایندھن بنتا ہے تو بن جائے، مگر اسے اللہ تعالیٰ کو معبود، اسے وحدہٗ لاشریک لہٗ ماننے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری اورسچا رسول تسلیم کرنے، قرآن پاک کو برحق کتاب جاننے، خانۂ کعبہ کی طرف منہ کرنے، سلف صالحین کو اپنا رہنما اور پیشوا بنانے، اپنا نظریۂ حیات تبدیل کرنے، مسلمان کمیونٹی میں شامل ہونے، اندھیروں سے روشنی کی طرف آنے اوراسلام کے دامنِ امن میں پناہ لینے کی اجازت نہیں ہے، إنّا للہ وإنّا إلیہ راجعُون۔
 معلوم نہیں کہ سینوں میں دل اور دلوں میں ایمان و یقین نہیں یا عقلیں ماؤف اور حواس معطل ہوگئے ہیں؟ ایک چھوٹی اور معمولی نیکی سے روکنا گناہ ہے تو اسلام تو تمام نیکیوں کی جڑ اور اس کا سرچشمہ ہے، اس سے روکنا کس قدرظلمِ عظیم ہے۔
اس بل کے محرک جو لوگ ہیں، وہ اگر غیرمسلم ہیں تو انہیں اس طرح کی قانون سازی کا حق نہیں ہے اور اگر وہ مسلمان ہیں اور ہم یہی سمجھتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ سے خود توصراطِ مستقیم کی دعا مانگتے ہیں اور دوسروں کے لیے یہ دروازہ بند کرتے ہیں، خود یہ اقرار کرتے ہیں کہ’’ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ‘‘ یعنی ہم راہِ حق سے ہٹے ہوئے لوگوں سے بیزار ہیں، مگر خود اُن ہی کا راستہ اختیار کررہے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ظالموں کی طرف میلان نہ رکھو، ورنہ آگ تمہیں چھولے گی اور ہماری مقننہ آگ میں لوگوں کو جھونک رہی ہے، بلکہ خود اس میں کودنے پر آمادہ ہے، فیا للأسف۔
اگر کم عمروں کے اسلام قبول کرنے پر پابندی ہے تو بڑی عمر کے لوگ تو اسلام قبول کرسکتے ہیں۔ اب فرض کیجیے ایک بڑی عمر کا شخص اسلام لاتا ہے اور اس کے چھوٹے بچے بھی ہیں تو اس بل کی رو سے وہ بچے غیر مسلم ہی رہیں گے اور انہیں مسلمان ہونے کے لیے اٹھارہ برس کا انتظار کرنا ہوگا اور اگر اٹھارہ سال سے پہلے وہ شادی کرلیتے ہیں اوران کی اولاد ہوجاتی ہے تو وہ بھی غیر مسلم رہے گی ۔
اٹھارہ برس تک پہنچنے کے بعد بھی یہ ضمانت نہیں ہے کہ وہ اسلام قبول کرسکیں گے، کیونکہ اس عمرکے بعد بھی اسلام قبول کرنے کے لیے کچھ ایسی سخت اور کڑی شرطیں رکھی گئی ہیں کہ جن کی رو سے اسلام قبول کرنا ناممکن نہیں تو سخت اور مشکل ضرور ہے، چنانچہ بل کے متعلق شنید یہ ہے کہ اٹھارہ سال سے زائد عمر کا کوئی شخص مذہب تبدیل کرنا چاہے تو سب سے پہلے وہ جج کو درخواست دے گا، جج درخواست موصول ہونے کے بعد سات یوم کے اندر انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا، اس کے بعد مذہبی اسکالروں سے اس کی ملاقات کا اہتمام کرایاجائے گا، پھر اسے تین مہینے تک مذاہب کے تقابلی مطالعے کا وقت دیا جائے گا، اس کے بعد بھی اگر وہ مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ ہے تو اسے قبولِ اسلام کی سند دے دی جائے گی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب مذہب کی تبدیلی صرف سرکار ی سطح پر ہی ممکن ہوسکے گی اورجو لوگ عدالتی طریقۂ کار سے ناواقف ہوں یا جنہیں آسانی سے یہ سہولت میسر نہ ہویا جو لوگ اس جھمیلے میں پڑنا اوراس اُلجھن میں الجھنا نہیں چاہتے یا جو کسی مصلحت کے تحت فی الحال اپنے قبولِ اسلام کو افشا نہیں کرنا چاہتے، وہ بھی غیر مسلم ہی رہیں گے۔
قبولِ اسلام کے لیے اتنا طویل دورانیہ کیوں رکھا گیا ہے؟ اس کے پیچھے یہ فاسد نیت نظرآتی ہے کہ ایک تو اسلام کے حلقے میں آنا مشکل بنادیا جائے، دوسرے یہ کہ اس کے خاندان کے لوگ اسے ڈرا، دھمکا کر قبولِ اسلام سے باز رکھنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اگر مختلف مذاہب کے مواد کا مطالعہ کرانا مقصود ہے تو اس سے پہلے ملک میں شرح خواندگی بھی معلوم کر لینی چاہیے۔ کیا ایسے شخص کو بھی تقابلِ ادیان کے مطالعے اور اس کے بعد رائے قائم کرنے کا کہا جائے گا، جس نے زندگی بھر اسکول یا مدرسے کی شکل بھی نہ دیکھی ہو اور جو اپنا نام تک لکھنا نہ جانتا ہو۔
اگر مقصد اس بات کی تحقیق ہے کہ اسلام قبول کرنا کسی جبر اوردباؤ کے سبب نہیں ہے، بلکہ آزادانہ مرضی سے ہے تو معصومانہ سوال یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کتنے معاملات ایسے ہیں، جن میں رضامندی معلوم کرنے کے لیے اتنی طویل مدت اوراتنی سخت شرطیں رکھی گئی ہیں۔ اگر وہ کوئی کاروباری معاملہ یا نکاح کا معاہدہ کرنا چاہے جو زندگی بھر کا بندھن ہے اور اس میں رضامندی کے اظہار کے لیے صرف ایک لفظ’’ قبول‘‘ کافی ہے تو اللہ تعالیٰ سے بصورتِ اسلام معاہدہ کرنے کے لیے اس پر اتنی کڑی شرائط کیوں عائد کی جارہی ہیں؟ اسلام تو دل سے اسلام کو سچا جاننے کا نام ہے، زبان سے اقرار تو اُسے مسلمان سمجھنے کے لیے ہے، اب اگر قبولِ اسلام کے لیے زبانی اظہار ناکافی ہے تو باطنی رضامندی معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس کیا آلہ اور پیمانہ ہے؟ 
تاریخ کے کس دور سے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اسلام لانے سے پہلے نومسلموں کو کہا گیا ہوکہ پہلے عدالتی طریقۂ کار سے گزرو، پھرصبر کرو، خوب غوروفکر کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو؟ بل کو جبر ی تبدیلیِ مذہب کا عنوان دے کر دنیا کو کیا پیغام دینا مقصود ہے؟ اگر بزور و جبر مذہب تبدیل کرانا جرم ہے تو زور زبردستی سے کسی مذہب پر قائم رکھنا کیا حکم رکھتا ہے؟ اگر جبراً کسی کو مسلمان بنانا مقصود ہوتا تو ہندوستان میں ساڑھے نو سو سال اور اسپین میں آٹھ سوسال مسلمانوں کی حکومت رہی ہے، اس وقت ریاستی قوت کے ذریعے بہت سہولت سے لوگوں کو مسلمان بنایا جاسکتا تھا۔
قرآن وسنت کے علاوہ مجوزہ بل ہمارے دستور، اقوامِ متحدہ کے منشور، عدل وانصاف کے مسلمہ اُصولوں اورعقل ودانش کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔ ہمارا آئین اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب قرار دیتا ہے اور قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کی ضمانت فراہم کرتا ہے: 
’’اسلام‘ پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا۔‘‘ [آئین پاکستان، آرٹیکل۲]
’’قراردادِ مقاصد مستقل احکام کا حصہ ہوگا۔‘‘ [آرٹیکل(۲) الف]
’’تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اورسنت میں منضبط اسلامی احکام کے تابع بنایاجائے گا، جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے، اورایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔‘‘ [آرٹیکل ۲۲۷(۱)]
آرٹیکل ۳۱ اسلامی طریقِ زندگی کے بارے میں ہے اور اس کی پہلی شق میں درج ہے کہ: ’’پاکستان کے مسلمانوں کو، انفرادی اور اجتماعی طور پر، اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔‘‘
آئین کے یہ احکامات اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ یہاں قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق ہوگی، مگر ہمارے قانون ساز ان احکام کو اہمیت دینے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ شریعت اور دستور کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ’’انسانی حقوق کے عالمی منشور‘‘ کی رو سے بھی اسلام قبول کرنے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔‘‘ چنانچہ دفعہ ۱۸ میں ہے کہ:
’’ہر انسان کو آزادیِ فکر، آزادیِ ضمیر اور آزادیِ مذہب کا پورا حق ہے۔‘‘ 
اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے اور پبلک میں یا نجی طور پر، تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل جل کر عقیدے کی تبلیغ، عمل، عبادت اور مذہبی رسمیں پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔
دینی طبقے اور پاکستانی عوام کو اس وقت بھی حیرت ہوئی تھی، جب سندھ اسمبلی میں اس نوع کا قانون پیش ہوا اور باب الاسلام سندھ میں اسلام کا باب بند کرنے کی کوشش ہورہی تھی اور جن کے آباء واجداد ایک نوعمر محمد بن قاسمؒ کے ہاتھوں اسلام کی دولت سے مشرف ہوئے تھے، ان کی نسل نوعمروں کے قبولِ اسلام پر پابندی لگانے جارہی تھی۔
بل کے عنوان سے یہ تأثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ اسلام کے خلاف نہیں، بلکہ جبر کے خلاف ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جبر سے روکنے والا بل خود بدترین جبر پر مشتمل ہے۔ اگر طاقت کے زور سے کسی کو مسلمان بنانا جبر ہے تو ریاستی قوت کے ذریعے کسی کو اسلام سے روکنا اس سے بڑا جبر ہے۔ وڈیروں، جاگیر داروں، ساہوکاروں کے ظلم واستبداد سے اور باطل ادیان کی تنگی اور مشقت سے اگر کوئی بےزاری کا اظہار کرکے اسلام کی آغوش میں پناہ لیتا ہے اور مسلمان انصارِ مدینہ کی سنت کو تازہ کرتے ہوئے انہیں ٹھکانہ دیتے ہیں اور مدد وتعاون کرتے ہیں تو قانون کے زور سے انصارِ مدینہ کی اس سنت پر کیوں پابندی لگائی جارہی ہے؟ اگر اسلام برحق ہے اور شریعت، قانون اور اقوامِ متحدہ کےمنشور کی رو سے ہر انسان کو اپنےمذہب کی تبلیغ کا حق حاصل ہے تو پھر مبلغین کے لیے اس بل میں سزائیں کیوں تجویز کی گئی ہیں؟ اگر نومسلم اسلام لانےکے بعد اپنے عقیدے اورنظریے کے حامل شخص سے نکاح کرتا ہے تو نکاح قانون شکنی کیوں ہے؟ اورنکاح خواں شریکِ جرم کیوں ہے؟
پاکستان میں مسلمان اکثریت میں اورغیر مسلم اقلیت میں ہیں، مگر اس کے باوجود دونوں رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے تحت زندگی گزارتے ہیں، مگر اس بل کے ذریعے ان میں تصادم اور کشمکش کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اقلیتوں کو وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں، جو اُن کا حق ہے اور ان کے ساتھ کوئی ناانصافی ہورہی ہے تو اس کا مداوا کیا جائے، مگر جانبدارانہ قوانین کے ذریعے اقلیت کو اکثریت پر مسلّط کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ملک وملّت کے لیے اس کے نتائج مفید ثابت نہیں ہوں گے۔ الحاصل جبر کا عنوان دینے سے مقصد صرف اورصرف قانون سازی کے لیے راہ ہموار کرنا اور اسے قابلِ قبول بنا نا ہے، ورنہ حقیقت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اورجبر سے روکنے والا بل اپنے مندرجات کی وجہ سے خود جابرانہ ہے۔
اس موقع پر قوم اپنے نمائندوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہےکہ جب ’’جبر‘‘ کا وجود نہیں ہے اور جبری تبدیلی مذہب کے مقدمات ریکارڈ پر نہیں ہیں اوراگر اس نوع کا کوئی مقدمہ درج بھی ہوا ہے تو نومسلم نے بھری عدالت میں کہا ہے کہ اس نے جبر کے ذریعے نہیں بلکہ آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا ہے تو پھر ایک ایسی برائی(جبر) کے خلاف قانون کیوں وضع کیا جارہا ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے؟ اس کا نقصان یہ ہےکہ برائی کی غیر ضروری تشہیر ہوتی ہے، کیونکہ قانون چغلی کھاتا ہے کہ برائی موجود ہے، جس سے ملک دشمن قوتوں کو زہریلا پروپیگنڈہ کرنے اوروطنِ عزیز کو بدنا م کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ دنیا کو کوئی حق نہیں ہے کہ ہمیں بدنام کرے، مگر ہمیں بھی دنیا کوایساموقع نہیں دینا چاہیے۔
ایک طرف اگر یہ حقیقت ہےکہ بلاضرورت قانون سازی کردی جاتی ہے تو دوسری طرف یہ مصیبت ہے کہ ہر برائی کا علاج قانون کے نفاذ میں ڈھونڈا جاتا ہے اور قانون سازی سے پہلے کے لازمی مراحل، مثلاً: عوامی رائے عامہ کا احترام، اسلامی اقدار وتہذیب کی حفاظت اور اصلاحِ معاشرہ کی رعایت وغیرہ نظرانداز کردئیے جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ قوانین کی ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے، چنانچہ آج مشاہدہ ہے کہ قوانین کی کثرت ہے، مگر ان کی منفعت نہ ہونے کے برابر ہے۔
بہرحال یہ کچھ مختصر معروضات تھیں جو مجوزہ قانون کےحوالے سے تھیں۔میری اس سلسلے میں وزارتِ مذہبی امور سے گزارش ہےکہ وہ ایسی قانون سازی روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی دستور کے تحت حاصل اختیارات کے تحت اس مجوزہ بل کو غیر شرعی ہونے کی وجہ سے مسترد کرنے کی سفارش کرے۔ 
اسمبلی کے اراکین نے اگر اس سلسلے میں سیاسی مصلحت کا خیال رکھا یا کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول کیا، ایک طرف تو عنداللہ مجرم قرار پائیں گے ہی، دوسری طرف پاکستانی عوام کے غیظ وغضب کا شکار بھی ہوں گے۔ خدارا! اسلام کا دروازہ غیر مسلموں پر اور آسمانی رحمتوں کے دروازے اس ملک پر بند مت کیجیے۔

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے