بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

بینات

 
 

استاذ العلماء حضرت مولانا محمد سواتی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ 


استاذ العلماء حضرت مولانا محمد سواتی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ 

 

حضرت الشیخ مولانا محمد سواتی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ   ازہر الہند دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مدنی  ؒ، حضرت مولانا فخر الدین احمد ؒ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی  ؒ کے علمی جواہر کے خوشہ چین، حضرت بنوری ؒ کی محفلوں کے نقیب ورازدان، حضرت مفتی احمد الرحمٰن ؒ کے قرین اور مشیر، اور جامعہ بنوری ٹاؤن کے ابتدائی اور مقبول اساتذہ میں سے بھی ہیں۔ علماء دیوبند کے علوم و افکار کے امین، اور زہد وقناعت کی ایک زندہ وجاوید مثال تھے۔ اس بطلِ جلیل کی زندگی، جواہراتِ علم وفضل کو چننے اور تشنگانِ علم تک لٹانے میں صرف ہوئی ہے۔ حضرت مولانا ؒ خادمانِ دین وملت کی اُس عظیم لڑی کے گرانقدر موتی ہیں، جن کا شعار ایک ستارۂ درخشاں بن کر اپنے وجود کا احساس دلائے بغیر خاموشی سے تعمیر وترقی کا عظیم کام سر انجام دینا ہوتا ہے۔ آپ کی حیات اور خدمات کو شجرِتاریخ سے پیوست کرنے کے لیے کوئی مضمون یا چند صفحات تو کیا، کئی سو صفحات بھی ناکافی ہیں، لیکن جناب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث مبارکہ ’’اَلْبَرَکَۃُ مَعَ اَکَابِرِکُمْ۔‘‘(۱) کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کی زندگی کے چند مخفی گوشوں کو ہدیۂ قارئین کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰﷻ ہمارے لیے خیر وبرکت کا سامان بنائے اور اُن کے توسل سےجناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

نام ونسب ، آبائی وطن

مولانا محمد بن مفتی عبد الکریم بن مفتی عبد الواحد رحمہم اللہ تعالیٰ۔ وادیِ سوات کے علاقے تحصیل خوازہ خیل، مقامِ چٹابٹ کے ایک علمی خاندان میں جس کا علم وکمال سے جدی پشتی ربط تھا، سنہ ۱۹۲۵ء میں پیدا ہوئے۔(۲) مولانا کا تعلق پشتون قبیلہ کی قوم دولت خیل سے تھا، جو مضافاتِ مردان اور ضلع سوات میں آباد ہے، مولانا کے دادا مولانا عبدالواحد صاحب ؒ بڑے متقی اور درویش صفت انسان تھے، اس کے ساتھ ساتھ وہ ریاستِ سوات جو اُس زمانے میں ایک الگ ریاست تھی، کے منصبِ قضاء پر بھی فائز تھے، آپ کے والدؒ بھی ایک مستند مفتی تھے، مولانا ؒ کے بڑے بھائی کا نام مفتی عبد الودودصاحبؒ تھا، انہوں نے بھی اپنے علاقے خوازہ خیل کے منصبِ قضاء کو ایک عرصہ تک زینت بخشی۔ 

ابتدائی تعلیم

بچپن ہی میں مولاناؒ کے سر سے شفقتِ پدری کا سایہ اُٹھ چکا تھا، حسبِ روایت دینی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے ہی کیا، مدتِ عمر گزرنے کے ساتھ بڑے بھائی کے ہمراہ تحصیلِ علم کے لیے مختلف جگہوں کے اسفار شروع کیے، اُس زمانے میں باقاعدہ طورپر دار العلوم کی شکل میں مدارس کا فیض عام نہ ہوا تھا سوائے چند مدارس کے، طلبۂ علم دور دراز علاقوں سےمشقتیں برداشت کر کے وہاں کے سکونت پذیر علماء کے درس میں شریک ہوتے تھے۔ دورانِ سفر مولاناؒ نے اپنے برادرِ محترم سے ابتدائی کتب پڑھنے کے ساتھ مختلف جگہوں کے علماء سے کسبِ فیض کیا ۔ اُس وقت ابتدائی کتابیں مختلف مراحل میں پڑھ لیں، علمِ نحو کی مشہور کتاب ’’کافیہ‘‘ سمیت دیگر کتب زبانی حفظ کیں، پھر کچھ عرصے تک اپنے ماموں کی نگرانی میں اُن کے ساتھ طلبِ علمی کا سفر جاری رکھا، اس کے بعد ’’کوش گرام‘‘ کے علاقے میں ہندوستان کے ایک فاضل عالمِ دین سے مولانا نے علمِ صرف کے اسباق پڑھے، قابلیت کے جوہر شناس استاذ نے آپ کو باقاعدہ کسی مدرسے میں سلسلۂ علم کو جاری رکھنے کی ترغیب دی جو بار آور ثابت ہوئی۔ 
ِ

علمی سفر

آپ نے فنون کی ابتدائی کتب سے فارغ ہو کر اپنی علمی ترقی کے لیےکسی مدرسے میں مستقل قیام کا جب ارادہ کیا، تو اُس وقت دار العلوم دیوبند کو زیادہ موزوں سمجھا، چونکہ وہ دور دار العلوم کے عروج کا تھا، شیخ الاسلام ؒ    کا محدثانہ مقام اور شیخ الادب کے ادیبانہ زمزمے چہار دانگ عالم کو چار چاند لگائے ہوئے تھے، پہلے ہی سے سفرِعلم پر دور جانے کا شوق دل میں پیوست تھا، استاذ کی ترغیب نے شوق میں مزید اضافہ کیا، گھر آکر اجازت چاہی، گھر والوں نے کم سنی کے سبب روکنے کی کوشش کی، لیکن اس نو عمر نوجوان کے دل میں پیوست علم کا شوقِ جنونی اور بے تاب کردینے والا علمی جذبہ کیونکر اس کو رُکنے دیتا؟! روکنے والے تو ایک جذباتی شوق سمجھ کر آپ کے جانے سے بے پرواہ رہے، مگر عزمِ مصمم ، جذبۂ ایمانی سے سرشار دل اور دل کو بے تاب کرنے والے شوق نے اس نوجوان کے ارادے کو کسی بھی طرح کمزور ہونے نہیں دیا، بالآخر یہ شوق میں مبتلا دل اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اپنی منزلِ مطلوب کی جانب رو بہ سفر ہوا۔
آپ کے اس سفرِ علم کی منظر کشی آپ کے ایک ہونہار شاگرد نے اُن ہی کی زبان سے کچھ یوں کی ہے کہ آپ کو جب شوق میں مبتلا دل نے کوچۂ جانان کی جانب روانہ کر کے مطمئن کر دیا، بن پوچھے، پہنے ہوئے کپڑے، جوتے، ٹوپی اور ایک اونیٰ چادر کو کل متاعِ سفر بنا کر والدہ کی آخری زیارت کر کے چل دیئے۔ یہ سفر ظفر کا وسیلہ یقیناً بنا، لیکن سفر کے لیے سوائے پیدل جانے کے کوئی وسیلہ نہ تھا، وسیلہ سواری ہی کو بنا لیتے اگر کچھ پیسے ہوتے، مجبوراً پیدل ہی ’’خوازہ خیل‘‘ آئے، یہی نیت لے کر کہ ایک جاننے والے دکاندار سے کچھ قرض لے لوں، تاکہ سفرکو جاری رکھا جاسکے، لیکن وہ خرید و فروخت میں ایسے مصروف کہ مولانا کی طرف توجہ ہی نہیں دی کہ بات ہوسکے۔

غیبی امداد
 

چاہیں تو اتفاق کہہ دیں یا اپنے مہمان کی لاج رکھنے کا نرالا خدائی انداز کہ مولانا اس دکاندار کی بےتوجہی دیکھ کرپلٹنے کو تھے کہ اسی اثناء میں گاہک نے خرید کردہ سودے کے عوض ایک روپیہ دکاندار کو دینے کے بجائے ان کی طرف اُچھال دیا ، جوں ہی اس نے سکہ پھینکا، دکاندار کے بجائے وہ مولانا کی چادر کی سلوٹوں کے دامن میں آپہنچا، اسی لمحے مولانا بے خبری میں واپس جانے کو پلٹے، سکہ مولانا کا ساتھ دیئے جارہا تھا، جبکہ دوسری طرف دکاندار اور گاہک زمین پر آنکھیں گاڑے سکہ تلاش کرنے میں محو تھے، اپنی فکر میں رواں دواں مولانا نے دور جاکر سینے پر بندھے ہاتھ چھوڑے تو مخصوص سکے کی کھنک نے متوجہ کیا، اس کا اندازہ تو بعد میں کہیں ہوا کہ یہ روپیہ کس آسمان سے گر کر غیبی امداد بننے کو چادر میں اَٹکا تھا۔ بقول استاذ محترم: ’’اُس زمانے میں ایک روپیہ بھی بڑی حیثیت کا حامل تھا۔‘‘ اسی کو متاعِ سفر بنا کر واقفانِ خاندان وقبیلہ سے نظر بچاتے پیدل چلتے رہے، دوپہر ڈھلے ’’خوازہ خیل‘‘ سے آگے ماموں کی معرفت کے بعض اصحاب کے ہمراہ جو پشاور جارہے تھے، باصرار شاملِ سفر ہوئے، نوشہرہ پہنچے تو ایک مولوی صاحب نے نظر ملتے ہی گھر سے بن پوچھے نکلنے کا اندازہ کرلیا، روک کر ایک اور مولوی صاحب کو نظر رکھنے کی تاکید کے ساتھ حوالے کیا، لیکن وہ ان سے کیا کہتے کہ راہِ علم و عشق کے لیے یہ قدغنیں کہاں رکاوٹ بن سکتی ہیں؟! چپ چاپ اُٹھ کے پھر سفر جاری کیا، جس اسٹیشن پر اُترے تھے اس پر واپس آئے، گاڑی میں جگہ نہ ملنے پر پیدل ہی عازمِ سفر ہوئے، یہ انتظار بھی عبث سمجھا کہ اگلی گاڑی کے پہنچنے تک رات یوں ہی بسر کی جائے، پیدل نوشہرہ سے اٹک آگئے، تو یہیں ایک طالب علم نما شخص ساتھ ہو لیا اور دیوبند جانے کا دعویٰ کیا، مولانا فرماتے ہیں: ’’میں نے نظروں سے تول کر اس کو ہم عمر اور خود کو اس سے ذرا بھاری تصور کر کے ساتھ دینے کی حامی بھر لی، مگر کیا پتہ تھا کہ وہ میرے جوتے اور چادر کا چور نکلے گا۔‘‘ خیر فیصلہ ہوا کہ اٹک کے قریب اس کے گاؤں میں رات گزار کر اگلے دن پنڈی میں اس کے بھائی سے رخصت لے کر دیوبند جائیں گے۔
گاؤں پہنچے تو مولانا کو مسجد میں بٹھا کر (کھانا لانے کا دلاسہ دے کر) نکلا اور یوں غائب ہوا کہ رات ڈھلنے لگی اور اس شخص کا نام ونشان تک نہ تھا، مسجد میں اکیلے بیٹھے بیٹھے باہر جانے کا تقاضا ہوا تو دروازے پر آتے ہی دو آدمیوں کو یوں سرگوشی کرتے سنا کہ : جواس مسجد میں رات گزارتا ہے ہم اس کے جوتے اور چادر چھین کر لے جاتے ہیں، اب تو باہر جانے کا خیال ہی نہ رہا، اور چار وناچار سردی کی پوری رات مسجد کے دروازے بند کر کے بھوک وپیاس سے بدحالی کے عالم میں گزارنی پڑی، صبح دیر سے وہ میزبان آئے اور تاخیر کا سبب بیماری کا عذر پیش کیا، قبول کرنا ہی پڑا۔ مولانا کی طبیعت میں شروع ہی سے ٹھہراؤ اور حلم کامادہ ودیعت تھا۔ اس کا اندازہ بچپن میں اُن سے پڑھنے کے دوران اپنی شرارتوں اور اُن کی برداشت کو یاد کر کے اب بھی ہوتا ہے۔ فرمانے لگے : ’’اب پیدل سفر شروع کیا، اٹک آئے اور پُل پار کیا اور پنڈی کی طرف روانہ ہوئے۔‘‘ رات کی تاریکی نے جب ڈیرہ ڈالا، رات گزاری کے لیے مشورہ کیا تو واقفِ حال ہم سفر کی رائے تھی کہ کوئی مسجد میں رہنے نہیں دے گا، اس لیے لبِ راہ بچھی ریت کو جائے قیام بنا کر اُس پر ساتھی کی پُرانی اونی چادر بچھادی، جوتوں کو تکیہ تصور کر کے اور میری چادر میں دونوں لپٹ گئے۔ 

دورانِ سفر ایک المیہ
 

مولانا ؒ فرماتے تھے کہ: سردیوں کی راتیں تھیں، پوری رات میری کمبل نما چادر پر ایک دوسرے سے کھینچا تانی رہی۔‘‘ رات گزری تو کل کے بھوکے مسافر پھر جانبِ منزل روانہ ہوئے اور چلتے چلتے پنڈی پہنچے۔فرماتے تھے: ’’پنڈی پہنچ کر وہ ساتھی عجیب مطالبہ کر بیٹھا کہ محترم ! آپ ادھر ٹھہرئیے، میں ذرا اپنے بھائی سے مل کر آتا ہوں! لیکن اپنے جوتے چادر مجھے دے دو، کیونکہ یہ نئے ہیں، اور میرے جوتے چادر پُرانے، نئے جوتے دیکھ کر بھائی خوش ہو جائیں گے۔ میں نے کہا: ’’لو بھائی! جھوٹے کپڑے سے کیوں بھائی کو خوش کرنے لگے؟‘‘ باوجودیکہ مولانا دل کے فیاض ہیں، اُس انکار کی وجہ اس ساتھی کے دل میں موجود چور کا ظاہر ہونا تھا۔ مولانا نے جو رات مسجد میں بسر کی، اس رات باہر سے چیزیں چھیننے کی باتیں بھی اسی ساتھی ہی کی زبان سے سنیں، اس لیے اپنے ہاتھوں سے اپنی متاع، چور کے ہاتھوں دینا کہاں کی عقل مندی ہوتی اور یہ چور کھل کر تب ظاہر ہوا جب مولانا نے انکار کے بعد نماز پڑھنی شروع کی تو سجدہ میں جاتے ہی مولانا کو جوتوں کی آہٹ سنائی دی، سجدہ سے سر اُٹھایا تو سامنے رکھے ہوئے مولانا کے جوتوں اور چادر کے بجائے اس ہمسفر کے پرانے گھسے جوتے اور بوسیدہ چادربد قسمتی سے گریہ وماتم کرتی نظر آئی، اب سوائے کفِ افسوس ملنے کے اور کچھ نہ تھا،بات سیدھے طریقے سے نہ بنی تو بظاہر ہمدرد بننے والے ساتھی نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ 

کم سِنی میں ہمت وحوصلہ کی ایک لاجواب مثال

آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک چودہ سالہ نوجوان کی اس وقت کیا حالت ہوگی؟ جو تین دنوں کی پیدل مسافت طے کر کے کسی شہر میں، جہاں کوئی جاننے والا نہ ہو، بھوکا تھکا ماندہ بیٹھا ہو اور اس کی متاعِ سفر لٹ جائے، ایسی حالت میں تو اچھے خاصے عمر رسیدہ افراد بھی حوصلہ وہمت ہار بیٹھتے، لیکن ’’وہ عشق بھی کیا عشق جسے کمزور کرے تکلیف‘‘ نماز مکمل کرکے چور کے چھوڑے ہوئے جوتے اور چادر اُٹھائے پنڈی اسٹیشن جا پہنچے۔
 خدا کی شان کہ اسٹیشن ہی پر اجمیر شریف (ہندوستان) جانے والے چند ہم علاقہ مسافروں سے ملاقات ہوئی، مدعا بیان کیا تو وہ ساتھ لے جانے پر رضامند ہوئے، مولانا فرماتے ہیں: ’’میں نے سفر شروع کیا تو سب سیٹوں کے نیچے آرام کرنے اُتر گئے، چلتے چلتے سہارن پور آگیا، سہارن پور میں گاڑی رک گئی تو ڈبے میں سوار ایک شخص نے چیخنا چِلانا شروع کیا کہ یہ بچہ حکومت کا نقصان کر رہا ہے، وہ یہ سمجھا کہ شاید قریب کسی جگہ سے بغیر ٹکٹ لیے سوار ہوا ہے، لیکن ایک ہندو نے اس کو روک کر مولانا کو بلایا، احوال معلوم کیے، جب بھوک کا پتہ چلا تو دو تین آنے دے کر کچھ کھانے کو منگوایا، مولانا فرماتے ہیں : ’’میں ڈبے سے اُترا اور کچھ چیزیں خرید کر کھلے لفافے میں ہتھیلی پر رکھ کر ٹرین کے ڈبے کی طرف آنے لگا کہ ناگاہ ایک چیل نے جھپٹا مارا، اور کچھ گرا کے کچھ اُڑا کے یہ جا وہ جا ہوئی۔‘‘ میں خالی ہاتھ ہندو محسن کے پاس آکر بیتی کہانی دہرانے لگا تو اس نے دوبارہ پیسے دے کر احتیاط سے لے کر آنے کی ہدایت کی۔ مولانا دوبارہ جا کر وہاں سے کھانا لے کر واپس آگئے اور منزلِ مقصود کی جانب راہیِ سفر ہوئے۔

دار العلوم دیوبند تک کا سفر
 

اب جب ہندو کو معلوم ہوا کہ دیوبند جاکر پڑھنے کا ارادہ ہے تو سہارن پور ہی میں یہ کہہ کر رہنے کا مشورہ دیا کہ : ’’ یہاں ایک بڑا مدرسہ ہے، بہت سے مولوی آتے ہیں۔ ‘‘ مولانا نے بھی اس کی بات پر عمل کیا، فرمایا کہ :’’جس وقت میں گھر سے چلا تھا اس وقت مدارسِ دینیہ کے اسباق شروع ہوئے کافی دن گزر چکے تھے، اس لیے سہارن پور کے اس مدرسے میں داخلہ نہ ملا۔‘‘ مظفر نگر پہنچے اور ایک مسجد مدرسہ میں امتحان دے کر داخلہ لے لیا، لیکن دل نہیں لگا، دو تین دن بعد دیوبند کا سفر کیا، دیوبند آکر سرحد کے طلبہ اور دوسرے علاقے کے طلبہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے داخلے کی بندش کی دردناک اطلاع دی، مجبوراً میرٹھ جاکر مدرسہ امداد الاسلام میں داخلے کے لیے آئے، فرماتے تھے کہ: ایک استاذ نے امتحان لیتے ہوئے ’’کنزالدقائق‘‘ کا سوال پوچھا کہ ’’النکاح سنۃ مؤکدۃ وعند التوقان واجب‘‘ میں مذکور ’’توقان‘‘ کس امام کا نام ہے؟ فرماتے تھے کہ: ’’میں نے فارسی میں جواب دیا کہ ’’توقان غلبۂ شہوت رامی گویند ونام امامے نیست‘‘ (یعنی توقان غلبۂ شہوت کو کہا جاتا ہے، کسی امام کا نام نہیں) فارسی میں جواب سن کر استاذ نے یہ کہہ کر مدرسہ میں رہائشی داخلہ دینے سے انکار کیا کہ اُردو زبان نہیں جانتے، مجبوراً ایک پشتو زبان بولنے والے ساتھی کے ساتھ باہر رہائش اختیار کر کے دو سال اسی مدرسے میں پڑھا، اور ان دو سالوں میں بھی عجیب وغریب حالات کا سامنا ہوا، مختلف کتابیں پڑھ کر دو سال میں درجہ مکمل کر کے اس کے بعد مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کی طرف رو بہ سفر ہوئے، وہاں مولانا نے سخت امتحان دے کر داخلہ لیا اور دو سال گزارے، الغرض بہت نامساعد حالات سے گزرنا پڑا، مختلف مصائب اور مشقتوں کو سہنا پڑا۔

دار العلوم دیوبند میں داخلہ

یوں تو مظاہر علوم سہارنپور بھی ایک بہت بڑا علمی مرکز تھا، اور دار العلوم دیوبند کے بعد ہندوستان کا دوسرا بڑا مدرسہ سمجھا جا تاتھا، لیکن جس شوق نے مولانا کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، جس عشق نے اُن کو اپنوں کی شفقت بھری نگاہوں سے دور رہنے پر اُبھارا، والدہ جیسی عظیم نعمت ( جس کے متعلق مولانا کے بڑے بیٹے نے ہمیں بتایا کہ: مولانا کے جانے کے بعد وہ اس قدرروتی تھی کہ بالآخر آنکھوں کی بینائی ہی چلی گئی) کو چھوڑنے پر مجبور کیا، اُس مطلوب تک پہنچنے میں ابھی بھی کچھ مراحل باقی تھے۔ ویسے دنیا کا ایک قانون ہے کہ کسی چیز کا شوق و ضبطِ شوق جب دل پر غالب آتا ہے تو پھر اس کے حصول کے لیے جتنی بھی مشکلات راستے میں آتی ہیں، اُن سے بھی انسان محظوظ ہوتا ہے، پھر جب طلب بھی صادق ہو اور ارادے بھی نیک ہوں، مزید یہ کہ صبر و توکل کا توشہ بھی ہمراہ ہو، پھر کیونکر راستے میں آنے والی مشکلات اور مصائب منزلِ مقصود کے راہی و مسافر کو روک سکیں، شاعرِ مشرق اقبال مرحوم فرماتے ہیں :

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو 
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے 

بہر حال مظاہر علوم سہارنپور میں دو سال گزارنے کے بعدکچھ ساتھیوں سے مل کر، جس سفر کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے تھے، اسی پر پھر روانہ ہو کر دیوبند آگئے۔ داخلۂ امتحان حضرت مولانا اعزاز علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  نے لیا اور بتاریخ ۱۶؍ شوال المکرم ۱۳۶۱ھ کو باقاعدہ طور پر آپ کا داخلہ ہو گیا(۳) ، تو یوں لگا جیسے تھکے ماندے مسافر کو آبِ شیریں مل جائے، جس کے لیے برسوں کی محنت کی تھی، وہاں داخلہ مل گیا، تو اب وہیں کے ہو گئے۔ مولانا نے ۵ سال فنون کی کتب مختلف علماء سے پڑھ کر چھٹے سال دورہ حدیث میں حضرت مدنیؒ اور مولانا فخر الدین احمد صاحب ؒ سے یکے بعد دیگرے بخاری شریف و ترمذی شریف اور مولانا اعزاز علی صاحبؒ سے ابو داؤد شریف پڑھنے کا شرف حاصل کیا، اگلے سال طب پڑھ کر باقاعدہ طور پر دار العلوم دیوبند سے سندِ فراغت حاصل کی۔
آپ نے دار العلوم دیوبند میں مختلف کتابیں پڑھی ہیں، مثلاً: تفسیر و اصولِ تفسیر میں سے تفسیرِ جلالین اور الفوز الکبیر۔ علمِ حدیث و اصولِ حدیث میں سے صحاحِ ستہ، شمائل، موطاَین، شرح معانی الآثار، مشکاۃ المصابیح، شرح نخبۃ الفکر۔ فقہ واصولِ فقہ میں سے ہدایہ اخیرین، التوضیح والتلویح۔ علم العقائد و الکلام میں سے شرح العقائد، و حاشیہ خیالی۔ اور علمِ ادب میں سے المقامات للحریری، و دیوان المتنبی۔ اور اس کے علاوہ دیگر علوم مثلاً: علم المعقول و الفلسفہ، علم الہیئۃ اور علم الہندسۃ کی بھی مختلف کتب پڑھنے کا شرف حاصل کیا ہے ۔

مشہور اساتذہ

آپ نے ابتدائی کتابیں اپنے بڑے بھائی مفتی عبد الودود صاحب سے پڑھیں، پھر اس کے بعد فنون کی ابتدائی کتابوں کے لیے اپنے علاقے کے مختلف علمائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، جیسا کہ ہم نے شروع میں ذکر کیا، پھر چودہ سال کی عمر میں ہندوستان کا سفر کیا، وہاں جا کر میرٹھ میں امداد الاسلام میں دو سال گزارے، پھر مظاہر علوم سہارنپور آئے، یہاں بھی دوسال گزارے اور ابتدائی درجات کی تعلیم حاصل کی، یہ غالباً ۱۳۵۹ھ کے قریب کا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد عالمِ اسلام کی مشہور دینی درسگاہ دار العلوم دیوبند تشریف لائے اور یہاں اکابرینِ اُمت سے ۶ سال خوب استفادہ کیا، جن میں سے چند مشہور علمائے کرام کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
1-شیخ العرب والعجم، جانشینِ شیخ الہند، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی  رحمۃ اللہ علیہ 
2- شیخ الادب والفقہ حضرت مولانا محمد اعزاز علی امروہی  رحمۃ اللہ علیہ 
3- حضرت مولانا بشیر احمد خان صاحب بلند شہری  رحمۃ اللہ علیہ 
4-حضرت مولانا اصغر حسین دیو بندی  رحمۃ اللہ علیہ 
5-حضرت مولانا عبد الحق  رحمۃ اللہ علیہ  (اکوڑہ خٹک)

پاکستان آمد

آپ ؒ نے ۱۳۷۰ھ کو عالمِ اسلام کی مشہور دینی درسگاہ دار العلوم دیوبند سے سندِ تکمیل کے حصول کے بعد (اس وقت پاکستان کو آزاد ہوئے دو سال ہو چکے تھے) احمد آباد آگئے اور یہیں پر کچھ عرصہ منصبِ امامت پر فائز ہوئے، لیکن شاید تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا، انہوں نے خود کو ہندوستان کے بجائے سر زمینِ پاکستان میں رہنے کے لیے موزوں سمجھا، اور اس کو ایک اتفاق سے تعبیر کرنا شاید بے جا نہ ہوگا کہ گھر جانے کے بجائے کراچی میں آکر جامعہ بنوری ٹاؤن کے قریب لالو کھیت (حالیہ لیاقت آباد) میں ایک مسجد میں امامت کی ذمہ داری سنبھالی، آپ اس وقت ناظم آباد نمبر:۳، جامع مسجد قدسیہ کے متصل ایک مکان میں رہائش پذیر تھے، کچھ عرصے تک یہی مشغلہ رہا، پھر اس کے بعد آپ نے ۱۹۷۸ء میں جامع مسجد محمدی جمشید روڈ کے منصبِ امامت و خطابت کو تا دمِ حیات زینت بخشی اور اپنا گھر بھی یہاں منتقل کر کے سکونت اختیار فرمائی۔ آپؒ زندگی کے آخری لمحات تک اسی امامت اور مسجد کے ساتھ منسلک رہے اور یہیں سے بقضائے الٰہی دارِ بقاء کے حقیقی سفر پر روانہ ہوئے۔ 

تدریسی خدمات

آپ نے کراچی تشریف لا کر لالو کھیت میں جب ایک مسجد کی امامت سنبھالی، تو ان دنوں حضرت بنوریؒ کراچی آئے ہوئے تھے اور نیو ٹاؤن (حالیہ بنوری ٹاؤن) کے علاقے میں مدرسہ کا سنگِ بنیاد رکھا (المدرسۃ العربیۃ الإسلامیۃ) جو اللہ کے فضل وکرم اور حضرت بنوریؒ کی دعاؤں اور مخلصانہ کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مرکزِ علم و عرفاں جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے نام سے مشہور ہے۔
اسی دوران والدہ کی رحلت کا سانحہ پیش آیا، مولانا اس مسجد میں زیادہ عرصہ نہ ٹھہرسکے، چنانچہ مولانا بنوریؒ کے پاس آکر مدرسہ میں اعزازی تدریس کی اجازت طلب کی، جامعہ بنوری ٹاؤن کا یہ طرۂ امتیازہے کہ یہاں ابتدائی درجات کے بجائے منتہی درجاتِ تکمیل، دورہ حدیث وغیرہ سے پڑھائی کا آغاز ہوا۔ حضرت بنوریؒ نے اس وقت آغاز کردہ تکمیل میں حصہ لینے کا مشورہ دیا اور پھر دیگر درجات شروع ہونے پر تدریس کے لیے نامزد کیا، انہوں نے یک سالہ تکمیل کے دوران حضرت بنوریؒ سے حجۃ اللہ البالغۃ وغیرہ پڑھ لی، اس کے بعد دیگر درجات میں جو اسی وقت شروع کیے گئے تھے، تدریس شروع کی اور تا دمِ حیات جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اپنے علمی فن و ہنر کے جوہر دکھاتے رہے اور تشنگانِ علم اُن سے اپنی علمی پیاس بُجھاتے رہے۔

خواب میں حضرت مدنیؒ کی زیارت 

فرماتے تھے کہ: تدریس سے قبل میں نے حضرت مدنی  ؒ کو خواب میں دیکھا کہ ایک میدان ہے جس میں چھوٹے چھوٹے درخت ہیں، سامنے قلعہ ہے جس کی دیواروں پر بھوسہ سا لٹکا ہوا ہے۔ مولانا مدنی  ؒ کو میں نے دیکھا کہ اس میدان میں بیٹھے مجھے فرمارہے ہیں کہ: سواتی! اس پر چڑھ جاؤ اور پکا پکایا کھاؤ۔ میں نے کہا: کیسے چڑھوں حضرت؟ فرمایا: چڑھ جا! میں نے چڑھنے کی کوشش کی اور قلعہ کی دیوار پر بیٹھ کر اندر دیکھا تو قلعہ میں علماء وطلباء سے لق و دق بھری آبادی نظر آئی، میں نے اُترنے کی کوشش کی، لیکن پاؤں زمین سے قریب ہونے کے بجائے اوپر اُٹھتے گئے، اسی کشمکش میں نیند سے اُٹھا، جب حضرت بنوریؒ سے خواب کا ذکر کیا تو کچھ دنوں بعد فرمایا کہ: تمہیں مدرسہ میں اعزازی مدرس رکھ لیا گیا۔ اس زمانے میں مولانا مفتی ولی حسن صاحب، اور مولانا لطف اللہ پشاوری صاحب وغیرہ بھی تدریسی خدمات سر انجام دے رہے تھے اور یوں آہستہ آہستہ یہ سلسلہ چل پڑا۔ اُس زمانے سے تا دمِ حیات حضرتؒ جامعہ بنوری ٹاؤن میں تدریس سے منسلک رہے۔ 

آپؒ کے تلامذہ

آپؒ جامعہ میں ایک سال تکمیل کرنے کے بعد منصبِ تدریس پر فائز ہوئےاور ساری زندگی تدریس سے منسلک رہے، علوم و فنون کی شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو جو مدرسہ میں رائج ہو اور آپ کے زیرِ تدریس نہ رہی ہو تو اس طریقے سے تمام درجات کے طلبہ کو اللہ نے اُن سے مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمایا، تو آپ کے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں سے بھی متجاوز ہے، ان میں سے مندرجہ ذیل شخصیات کے نام مشتِ نمونہ از خروارے کے طور پر پیشِ خدمت ہیں: 
 جامعہ بنوری ٹاؤن کے حالیہ اساتذۂ حدیث میں سے اکثر اساتذہ آپ کے تلامذہ میں سے ہیں، جیسے حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب، حضرت مولانا محمد زیب صاحب ، جامعہ کے ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ صاحب اور رئیس الجامعہ حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب دامت برکاتہم۔

وفات

مولاناؒ نے اپنی زندگی میں مختلف قسم کی تکالیف اور مشقتیں برداشت کیں اور طرح طرح کے مصائب کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن ان کا اثر مولانا کے جسم پر کبھی بھی نہ کسی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوا ، نہ کسی پریشانی کی صورت میں، آپ کو ایک عرصہ سے بلڈ پریشر کی بیماری اگرچہ لاحق تھی، لیکن وہ بھی حدِ اعتدال سے متجاوز نہ تھی، مگر جب آپ کا ایک بیٹا کراچی ہی میں علماء کی ٹارگٹ کلنگ کی زد میں شہید کر دیا گیا تو اس کے فراق کے اثر نے مولانا کے دل کو زخمی کیا، ایک طرف ضعیف العمری کا عالم تو دوسری جانب پدرانہ شفقت کے سبب جوان بیٹے کے سانحۂ ارتحال کا غم تھا، اسی زخم کا اثر تھا کہ بلڈپریشر بھی حدِ اعتدال سے بڑھ گیا اور مختصر عرصۂ علالت کے بعد یہ علم وعمل کا خزانہ، عجز وسادگی کا ایک گوہرِ نایاب، صبر وقناعت کی ایک مجسم تصویر، نمونۂ اکابرِ دیوبند، ۲۳ ؍رمضان المبارک ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۴؍ ستمبر ۲۰۰۸ ء کو راہیِ سفرِ آخرت ہوا،  إنا للہ و إنا إلیہ راجعون۔(۴)

حواشی وحوالہ جات

۱- صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان محمد بن حبان البُستي (المتوفی:۳۵۴ھ) ت: شعیب الأرنؤوط، ط: مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت (ج:۲، ص:۳۱۹)
۲- مولانا ؒ نے انٹرویو میں اپنی عمر ۷۵ سال بتائی ہے، اور یہ انٹرویو ۱۴۲۱ھ کا ہے، اس اعتبار سے اگر حساب لگایا جائے تو تاریخِ پیدائش ۱۹۲۵ء بنتی ہے، اس کے برخلاف مولانا کے شناختی کارڈ میں تاریخِ پیدائش ۱۹۱۹ء درج ہے، ان دونوں میں سے تاریخِ اول(۱۹۲۵ء) زیادہ صحیح اور راجح ہے، کیونکہ اگر تاریخِ ثانی (۱۹۱۹ء) کو لیا جائے تو اس صورت میں بقیہ اسناد کی تاریخوں کے ساتھ اس کا ربط نہیں آتا، اس لیے ہم نے تاریخِ اول کو ترجیح دے کر اسی کو ذکر کیا ہے۔ 
۳- یہ تاریخ آپؒ کی دارالعلوم دیوبند کی سند ِفراغت سے لی ہے۔
۴- مولانا ؒ کے حوالے سے کچھ احوال آپ کے بڑے بیٹے نے ہمیں بتائے ہیں، اور بعض احوال آپ کے اس انٹرویو سے لیے گئے ہیں جو جامعہ کے بعض طلبہ نے آپ سے ان کی مسجد میں لیا تھا اور وہ بینات کے ایک خاص شمارہ (النجوم اللامعۃ في تراجم أساتذۃ الحدیث و فُضلاء الجامعۃ سنۃ۱۴۲۱ھ) میں چھپ چکا ہے، تاریخیں، اساتذہ کے نام وغیرہ چند معلومات آپؒ کی اسناد اور دستاویزات سے لی گئی ہیں۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین