بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

اراکینِ اسمبلی کا مستحسن اقدام!

 

اراکینِ اسمبلی کا مستحسن اقدام!


الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

 

یہ دنیا اسلام وکفر، خیروشر اور راحت وتکلیف کا مسکن اور مجموعہ ہے۔ جہاں اس دنیا میں کفر کے پجاری اور کفر کے ہمنوائی رہتے ہیں، وہاں اسلام کے غیور سپوت اور اسلام کے شیدائی بھی رہتے ہیں۔ الحمد للہ! پاکستان بھر کی اسمبلیوں میں چاہے وہ صوبائی ہوں یا قومی اورسینیٹ‘ آج بھی اُن میں اچھے لوگ موجودہیں اور وہ صحابہ کرامؓ، ازواجِ مطہراتؓ، اہلِ بیت عظام، اسلام، قرآن اور پیغمبرِ اسلام حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ووفا، محبت وعقیدت اور اُن کی عزت وناموس کی حفاظت اپنے لیے اعزاز اور ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں میں سے ایک خوش نصیب، قابلِ فخر اور لائقِ تقلید جناب محمد حسین صاحب بھی ہیں جو نیک دل مسلمان ہیں، آپ کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے ہے اور آپ سندھ اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔آپ نے ۱۵ جون ۲۰۲۰ء کو سندھ اسمبلی میں پیغمبرِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں قراردادپیش کرنے کی سعادت حاصل کی اور اس کو پوری سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ قرارداد کا متن تاریخ میں محفوظ کرنے کی غرض سے یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’اس ایوان کی رائے یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت وناموس پر ہم سب مسلمان قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔ میں اس معزز ایوان میں درج ذیل قرارداد پیش کرتا ہوں کہ بطور مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ، خاتم النبیین، امام المرسلین، امام الانبیاء، رحمۃٌ للعالمین، نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد اب کوئی بھی نبی، رسول یا پیغمبر کسی بھی صورت میں دنیا میں نہیںآئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے دروازے بند کردیئے ہیں، لہٰذا صوبہ سندھ میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک اور مقدس نام مبارک آئے تو اس کے ساتھ ’’خاتم النبیین‘‘ ضروری طور پر لکھا اور پڑھا جائے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ابلاغ کے تمام ذرائع جیسا کہ کتابوں، اخباروں، جرائد، رسائل، درسی کتابوں، ٹیلی ویژن، ریڈیو، تمام سرکاری خط وکتابت، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جب بھی آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آئے تو اس کے ساتھ ’’خاتم النبیین‘‘ ضروری طور پر لکھا اور پڑھا جائے۔ ‘‘ (روزنامہ جنگ، کراچی، ۱۶ جون ۲۰۲۰ء)
اس سے پہلے پنجاب اسمبلی میں بھی گستاخانہ مواد پر پابندی کی قرارداد منظور کی گئی (جس کی تفصیل گزشتہ ماہ بینات کے اداریہ میں آچکی ہے)۔ اس قرارداد کا ایک ایک لفظ ایمان افروز ، فکر انگیز اور آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس قرارداد لانے پر تمام مذہبی جماعتوں نے سندھ اسمبلی کے تمام معزز ارکان کا شکریہ ادا کیا اور ان کو مبارک باد دی کہ ان شاء اللہ! یہ قرارداد‘ پیش کار، تائید کنندگان ، اور اس کے حق میں ووٹ دینے والوں کے لیے آخرت میں حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے حصول کا ذریعہ بنے گی۔
علمائے کرام نے اس پر زور دیا کہ اس قرارداد کو باقاعدہ قانونی شکل دی جائے اور اسے صرف سندھ ہی نہیں، بلکہ ملک بھر میں قانون بناکر نافذ کیا جائے، اس لیے کہ یہ قرارداد صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ تمام اسلامی ممالک اور بیرونی دنیا میں ان شاء اللہ! عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا ذریعہ بنے گی اور اس کے ذریعہ بہت سے فتنوں کی روک تھام ہوسکے گی۔
اُدھر قومی اسمبلی میں بھی یہ قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی کہ: ’’تمام درسی کتابوں اور تعلیمی اداروں میں جہاں جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آتا ہے، اس کے ساتھ ’’خاتم النبیین ‘‘ لکھنا لازمی ہوگا۔ یہ قرارداد مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی جناب نور الحسن تنویر صاحب کی تجویز پر وزیرِمملکت برائے پارلیمانی اُمور علی محمد خان نے اتفاقِ رائے سے پیش کی، جس کی تمام پارلیمانی جماعتوں نے حمایت کی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جناب امجد علی خان صاحب نے کہا کہ آخری خطبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کردیا تھا کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور وہ آخری نبی ہیں۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی جناب عبدالقادر پٹیل صاحب نے کہا کہ: بھٹو دور میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’خاتم النبیین ‘‘ کو نہ ماننے والے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردے چکا ہے۔ قادیانیوں کو غیرمسلم قراردینے کا عظیم فیصلہ شہید ذوالفقار بھٹو نے کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ: ’’قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے کر اپنی موت پر دستخط کررہے ہیں۔‘‘ کرنل رفیع نے ذوالفقار علی بھٹو کے حوالہ سے لکھا ہے کہ :’’ قادیانی کہتے ہیں کہ میں جیل میں ہوں تو اُن کی وجہ سے ہوں۔‘‘ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا: ’’میں گناہ گار آدمی ہوں، مگر امید ہے قادیانیوں کو کافر قراردینے کی وجہ سے بخشا جاؤں گا۔‘‘
اور پھر ۲۴ جون ۲۰۲۰ء کو سینیٹ میں بھی یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس کو جماعتِ اسلامی کے سینیٹر جناب مشتاق احمد صاحب نے پیش کیا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر جناب اسدقیصر صاحب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ ’’خاتم النبیین ‘‘ لازمی لکھنے کے حوالے سے عمل درآمد کے لیے وفاق اور صوبوں کو خط لکھنے کا بھی اعلان کیا۔ اسی طرح سینیٹ کے چیئرمین نے یہ قرارداد چاروں صوبوں کے اسپیکرز اور وزرائے اعلیٰ کو بھجوانے کی ہدایت کردی۔
۲۶ جون ۲۰۲۰ء کو پنجاب اسمبلی میں یہ قرارداد حکومتی رکن نیلم اشرف نے پیش کی اور ۲۹ جون ۲۰۲۰ء کو آزاد کشمیر اسمبلی نے بھی متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کتابیں ہوں یا اخبارات، جرائدورسائل ہوں یا درسی کتب، ریڈیو یا ٹیلی ویژن پروگرام ہوں یا سرکاری و غیرسرکاری خط وکتابت، انٹرنیٹ ہو یا سوشل میڈیا، سرکاری ہو یا پرائیویٹ ہر سطح پر اس کا اہتمام کیا جائے اور اس کو رواج دیا جائے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک اور نامِ نامی لیا جائے، لکھا جائے یا بولا جائے تو ’’حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہی لکھا اور بولا جائے، تو ان شاء اللہ! ہماری نئی نسل کو تحفظِ عقیدۂ ختمِ نبوت کی طرف اچھا درس، سبق اور راہنمائی ملے گی۔ نیز آئینِ پاکستان کی رو سے اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اسلامی ریاست ہونے کا اولین تقاضا ہے کہ اسلامی معتقدات کا ہر اعتبار سے مکمل تحفظ ہو۔ تحفظِ ختمِ نبوت کا عقیدہ، اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، جس کا تحفظ بہت ضروری ہے، اس لیے کہ اس عقیدہ کو دستور میں شامل کرنے کے لیے مسلمانانِ پاکستان نے طویل جدوجہد کی، صبرآزما تکلیفیں و آزمائشیں برداشت کیں اور اس کے لیے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں، اس لیے آج کے اراکینِ اسمبلی کی یہ قرارداد اسی تسلسل کی عظیم کڑی ہے۔ 
تمام اراکین خواہ صوبائی اسمبلی کے ہوں یا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے، ادارہ بینات سب کو مبارک باد پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ سب حضرات سے اسلام ، قرآن کریم اور پیغمبر اسلام کی حفاظت اور وطن کی محبت، سالمیت اور استحکام کے لیے کام لیتے رہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ سب حضرات کو دنیا میں بھی اس کا صلہ عطا فرمائے اور آخرت میں بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے۔
الحمد للہ! آج پاکستان بھر کی اسمبلیوں میں حضور اکرم ’’خاتم النبیین‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں قراردادیں منظور ہورہی ہیں، یہ ہمارے اکابر کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ کسی قادیانی کو کافر کہنے پر ایف آئی آر کٹ جاتی تھی، مقدمات بنتے تھے، جیل میں جانا پڑتا تھا، اس لیے حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہٗ کے بارہ میں مشہور ہے، وہ فرماتے تھے کہ: ہماری آدھی زندگی ریل میں اور آدھی زندگی جیل میں گزرگئی۔
۱۹۵۲ء میں قادیانیوں کے اس وقت کے خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود نے کہا تھا کہ ۱۹۵۲ء نہ گزرنے پائے کہ صوبہ بلوچستان کو قادیانی اسٹیٹ بنالیا جائے۔ غالباً فیصل آباد میں ۱۹۵۲ء کے آخری دنوں میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہٗ نے جلسہ کیا اور اس میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: مرزابشیرالدین محمود! ۱۹۵۲ء کا سال تیرا تھا اور ۱۹۵۳ء میرا ہے۔ اور پھر ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختم نبوت چلی، جس کے مطالبات یہ تھے کہ: ظفر اللہ قادیانی کو وزارتِ خارجہ سے علیحدہ کیا جائے، قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے اور قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے ان جائز مطالبات کو تسلیم کیا جاتا، اُلٹا اس تحریک میں لاہور کے مال روڈ پر محتاط اندازے کے مطابق تقریباً دس ہزار مسلمانوں کو حضور اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ ختم نبوت کے تحفظ کی پاداش میں شہید کیا گیا، اس پر کسی نے حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ سے سوال کیا کہ شاہ صاحب! آپ نے تحریکِ ختمِ نبوت میں دس ہزار مسلمان شہید کرادیئے، ان کے خون کا جواب کون دے گا؟ دوسرا سوال یہ کیا کہ اس تحریک سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ملا؟ پہلے سوال کے جواب میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ نے فرمایا:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور امارت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں بارہ سو صحابہؓ اور تابعینؒ شہید ہوئے تھے تو جو جواب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان بارہ سو صحابہؓ اور تابعینؒ کے خون کا دیں گے، عطاء اللہ شاہ بخاری بھی ان دس ہزار مسلمانوں کے خون کا وہی جواب دے دے گا اور دوسرے سوال کے جواب میں فرمایا: میں نے اس تحریک کے ذریعۂ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں ایک ایسا ایٹم بم فٹ کردیا ہے کہ وہ جب بھی پھٹے گا تو ان شاء اللہ! قادیانیت کے کفر کو آشکارا کردے گا اور اس فتنہ کو بھسم کردے گا۔ الحمد للہ ! آپ کی یہ پیش گوئی ۱۹۷۴ء میں پوری ہوئی، جس کا نتیجہ تھا کہ ۱۹۷۴ء میں جب قادیانیوں کی اپنی شرارت کی وجہ سے محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کی امارت اور قیادت میں پورے ملک میں تحریک چلی تو بالآخر قومی اسمبلی میں حضرت مفتی محمود قدس سرہٗ اور ان کے رفقاء کی محنتوں، کوششوں سے اس وقت کے وزیراعظم مرحوم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دستخطوں سے پوری قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قراردیا۔ اس کے بعد مرحوم صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۹۸۴ء میں امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس جاری کیا، جس میں کہاگیا کہ: قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعہ خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعہ‘حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو ’’امیرالمؤمنین‘‘، ’’ خلیفۃ المؤمنین‘‘، ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ ، ’’صحابی‘‘ یا ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔ یا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجۂ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ’’ام المؤمنین‘‘ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔یا اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔ تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قیداتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔ 
اسی طرح قادیانی گروپ یالاہوری گروپ کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یا صورت کو ’’اذان‘‘ کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیںتو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال ہوسکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔
اسی طرح قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص جو بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے، تو اس کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے، اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
اس آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد سے آج تک ہر سطح پر پارلیمنٹ ہو یا نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ اور افریقہ کی عدالتوں تک ہر محاذ پر قادیانیت ذلت، اِدبار اور شکستگی کا شکار ہے۔
تحفظِ ناموسِ رسالت کے حوالے سے ۱۹۹۲ء کو قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر توہینِ رسالت کے مرتکب کی سزا متعین کی۔ یہ ہمارے آئین ساز اداروں اور اُن کے نیک دل ارکان نے مذہبی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، یہ اعجاز ہے ختمِ نبوت کا۔
ہم قادیانیوں کی نئی نسل سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ دنیا کی چمک دمک، ریل پیل اور ذاتی مفادات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے خالی الذہن ہوکر اور تعصب کی عینک اتار کر قادیانیت کا مطالعہ کریں تو ان شاء اللہ! آپ کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا صاف معلوم ہوجائے گا۔
ایک لمحہ کے لیے آپ یکسو ہوکر سوچیں اور غوروفکر کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پوری ملتِ اسلامیہ قادیانیوں کو اسلام کا باغی اور اسلام سے خارج قراردیتی ہے۔ آخرکیوں؟ اور پھر آپ قادیانیت کا مطالعہ کریں، مرزا غلام قادیانی کا کردار پڑھیں، تو ان شاء اللہ! آپ خود فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے کہ قادیانیت کوئی مذہب نہیں ،بلکہ مذہب کے نام پر ایک ڈھونگ ہے، جس کے سحر میں تمام قادیانیوں کو انہوں نے جکڑا ہوا ہے اور پھر آپ قادیانیت سے تائب ہوکر حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوجائیں تو مسلمان آپ کو اپنے سروں پر بٹھائیں گے، جس سے ان شاء اللہ! دنیا میں بھی آپ کو عزت ملے گی اور آخرت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قادیانیوں کو صحیح سوچنے ، سمجھنے اور دینِ اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جن کے مقدر میں خیر اور ہدایتِ اسلام نہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ اُن کے شر سے اُمتِ مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کو ان کے ناپاک عزائم، سازشوں اور مکاریوں سے محفوظ فرمائے، آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے