بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

اخلاقِ نبویؐ اورشاتمِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سزا

اخلاقِ نبویؐ  اورشاتمِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سزا 

نام نہاد مفکرین ودانشوروں کا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق کا سہارا لے کر شاتمِ رسول ؐ  کی سزا سے انکار پر سیرتِ نبوی(علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام)کی روشنی میں ایک تحریر

اَخلا قِ حسنہ سے آراستہ ہونے کا حکم   اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ِانسان کو جہاں اپنی ذات عالی پر ایمان لانے ،اپنے نبیوںو رسولوں خاص کر امام الانبیاوالمرسلین اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق واطاعت کا حکم دیا ہے،  وہاں پر ابنِ آدم کو اس بات کا بھی مکلَّف بنایا ہے کہ وہ خود کو اَخلاق ِحسنہ سے آراستہ کرے اوراَخلاق ِذمیمہ وسیئہ سے اپنے نفس کو پاک رکھے۔  اَخلاق ِحسنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں سے ہے  اچھے اَخلاق سید المرسلین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ِمبارکہ میں سے ہیں، چنانچہ امام غزالیؒ رحمہ اللہ اسی حوالے سے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’احیاء علوم الدین‘‘میںفرماتے ہیں:  ’’فالخلق الحسن صفۃسیدالمرسلین وأفضل أعمال الصدیقین وہو علی التحقیق شطر الدین وثمرۃ مجاہدۃ المتقین وریاضۃ المتعبدین‘‘۔ ترجمہ:’’اچھے اخلاق سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت اور صدیقین کے اعمال میں سے افضل عمل ہے، اور وہ (اَخلاقِ حسنہ) نصفِ دین ہے اور نیک لوگوں اور عبادت گذاروں کے مجاہدے کا ثمرہ ہے‘‘۔ اَخلاقِ حسنہ کے نصف ِدین ہونے کا مطلب اَخلاقِ حسنہ کے نصف ِدین ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ زَبیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اچھے اخلاق کا نصفِ دین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اچھے اخلاق سے دل کو طہارت و پاکیزگی حاصل ہوتی ہے،جب دل طاہر و پاکیزہ ہو جاتا ہے تو نورانیت میںبڑھو تری ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں شرح صدر ہوجاتا ہے،یہی انشراحِ قلب دینی احکام  کے اسرار کو سمجھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،تو اخلاقِ حسنہ اس اعتبار سے نصفِ دین ہے۔(اتحاف سادۃ المتقین) اخلاقِ نبوی (علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ ربُّ العزت قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ’’وَ إِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘۔                                               (القلم:۴) (ترجمہ):’’اور بے شک آپ اخلاق(حسنہ)کے اعلیٰ پیمانے پر ہیں‘‘۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ’’معارف القرآن‘‘ میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیںکہ:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق خود قرآن ہے یعنی قرآن کریم جن اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے‘ آپ ان سب کا عملی نمونہ ہیں‘‘۔ مکارمِ اخلاق کی تکمیل بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد میں سے ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد مکارم اخلاق کی تکمیل بھی ہے ،چنانچہ حضرت ابوہریرۃرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بعثت لأتمم مکارم الأخلاق‘‘۔ ترجمہ:یعنی  مجھے اس کام کے لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق احادیث کی روشنی میں کتب حدیث میں سینکڑوں احادیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سے متعلق مروی ہیں، یہاں ہم نمونہ کے طور پر چند کا تذکرہ کرتے ہیں: بخاری شریف میں ہے کہ :’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ فحش گوئی کی عادت تھی اور نہ ہی آپ قصدا فحش گوئی کرتے تھے ‘‘۔ترمذی شریف کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فحش گو تھے ،نہ فحش کے پاس جاتے تھے ،نہ بازاروں میں شور و شغب کرتے تھے ،برائی کا بدلہ کبھی برائی سے نہیں دیتے تھے ،بلکہ معافی اور در گزر کا معاملہ فرماتے تھے‘‘ ۔ بخاری شریف ہی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گالی گلوچ کرنے والے ،بد گوئی کرنے والے اور لعنت کرنے والے نہیں تھے ،ہم میں سے کسی سے ناراض ہوتے (تو اس کے اظہار کے لئے )  فرماتے :اس کو کیا ہوا  !  اس کی پیشانی خاک آلود ہوجائے ‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا انداز حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس اعلیٰ پیمانے پر اخلاق کی تعلیم دی، اس کا اندازہ بخاری شریف کی اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب شروع کردیا ،لوگ اس کی طرف  روکنے کے لئے بڑھے،تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس کو پیشاب کرنے سے نہ روکو ،پھر ایک ڈول پانی منگوایا اور اس پر بہایا ۔ اخلاقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متاثر ہوکر غیر مسلموں کا اسلام قبول کرنا  آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصا ف حمیدہ اور حسن سلوک سے متاثر ہو کرغیر مسلم اسلام قبول کیا کرتے تھے ،چنانچہ مشکوۃ شریف میں علامہ بیہقی کی دلائل النبوۃ کے حوالہ سے ایک روایت میں ایک یہودی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کا واقعہ نقل کیا گیا ہے ،حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’ ایک یہودی تھا جس کو’’ فلاں عالم ‘‘کہا جاتا تھا (یعنی وہ یہود کے بڑے علماء میں سے تھا)اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چند دینار قرض تھے ،اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:اے یہودی ! میرے پاس کچھ نہیںکہ تجھے دوں،اس نے کہا :محمد!میں اس وقت تک آپ سے جدا نہ ہونگا جب تک آپ میرا قرض ادا نہ کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اچھا! میں تیرے پاس بیٹھ جاتا ہوں،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے بیٹھ گئے،(اور اسی مقام پر)ظہر ،عصر ،مغرب،عشاء اور پھر صبح کی نماز پڑھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیؓ اس یہودی کو دھمکاتے تھے اور نکال دینے کا خوف دلاتے تھے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو اس سے منع فرمایا ،صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ! کیا ایک یہودی آپ کو روک سکتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے منع کیا ہے کہ میں اس شخص پر ظلم کروں جو ہماری پناہ میں ہے،یا جو ہماری پناہ میں نہیں۔ پھر جب دن چڑھا،یہودی نے کہا :میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںاور آپ اللہ کے رسول ہیں ،میرے مال کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے،خدا کی قسم ! میں نے آپ کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ محض اس لئے کیا تاکہ میں دیکھو ں کہ آپ کی جو صفات تورات میں مذکور ہیں ،وہ آپ میں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟تورات میںلکھا ہے :محمد بن عبد اللہ مکہ میں پیدا ہوگا ،طیبہ کی طرف ہجرت کرے گا اور اس کی حکومت شام میںہوگی ،وہ بد زبان و سنگ دل نہ ہوگا اور نہ بازاروں میں شور مچانے والا ،اور نہ فحش گوئی اس میں ہو گی اور نہ وہ بے ہودہ بات کہنے والا ہوگا،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںاور آپ اللہ کے رسول ہیں،یہ میرا مال موجود ہے، خدا کے حکم سے جہاں اس کو چاہیں خرچ فرمائیے۔ لوگوں کی بد اخلاقی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر وتحمل لوگوں کی بد اخلاقی اور برے سلوک کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر وتحمل اور خوش اخلاقی، لاجواب و بے مثال تھی۔مسلم شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا ،آپ نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے ،جس کے کنارے موٹے تھے،راستے میں آپ کو ایک دیہاتی ملا ، جس نے آپ کی چادر کو پکڑ کر اس قدر سختی سے اپنی طرف کھینچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سینہ کے قریب ہوگئے،میں نے دیکھاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کے کنارے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر نشان ڈال دیا تھا۔پھر اس دیہاتی نے کہا :اے محمد! تمہارے پاس خدا کا مال ہے ،اس میں سے مجھ کو کچھ دلوائیے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا ، مسکرائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کچھ دینے کا حکم دیا ۔  اہل ایمان اور اتباع سیرت نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کا تقاضا ایک مسلمان کے لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ، آپ کی سنت و سیرت ،آپ کے اخلاق حسنہ ،اوصاف حمیدہ اور زندگی گزارنے کی ایک ایک ادا اس طرح قابل تقلید اور محبوب ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی طرف نگاہ اٹھانے کی اس کا ایمان ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔زندگی کے تمام شعبوں اور پہلوؤں میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ایک مکمل اسوۂ حسنہ ہے۔ شاتم رسول اور ہمارے حکمرانوں اور میڈیا کا رویہ بعض لوگ جن کا تعلق قلم وقرطاس سے ہے،جو پیٹ اور چند سکوں کی خاطر ضمیر وقلم فروشی سے بھی دریغ نہیں کرتے ،ملک عزیز کے حکمران جن کو اپنی کرسی تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہے اور چند دانشورانِ ملت (جن کا کام ہی مسلمانوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے)حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بعض واقعات کا سہارا لے کر یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اگر کوئی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کرے،  تومؤاخذہ میںقتل نہیں کیا جائے گا،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے انتقام نہیں لیا۔ توہینِ رسالت پرسزائے موت سے انکار، سیرت نبوی سے ناواقفیت ہے ان نام نہاد مفکرین اور فکری یتیم دانشوروں کی اس بات کو اگر تسلیم کر لیا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا تو اسے اس بات کی دلیل میں پیش کرنا کہ توہین رسالت کے مرتکب کو قابل گردن زدنی نہیں سمجھا جائے گا،قطعاً درست نہیں،یہ احکامِ خداوندی، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرات صحابہ و تابعین (رضوان اللہ علیہم اجمعین)کے طرز عمل اور جمہور اہلسنت والجماعت کے اتفاقی مؤقف سے نہ صرف ناواقفیت ،بلکہ نری جہالت کی علامت ہے،کیونکہ محارم اللہ کے ارتکاب پر مؤاخذہ اور منصب رسالت کی توہین پرگستاخ کی گردن مارنا نہ صرف شریعت کا حکم ہے ،بلکہ یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک پہلو ہے۔ مسئلۂ اَخلاق سے متعلق ایک سنگین غلطی  مسئلۂ اخلاق کے حوالہ سے ایک سنگین غلطی اور بڑی غلط فہمی جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں،وہ یہ کہ صرف رحم و رأفت اور تواضع و انکساری کو پیغمبرانہ اخلاق کا مظہر سمجھ لیا ہے،  حالانکہ اخلاق کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں اور گوشوں سے ہے۔دوست و دشمن ،عزیز و بیگانہ،چھوٹے بڑے،مفلسی وتوانگری،صلح و جنگ ،گرفت و مؤاخذہ،عفو و درگزر اور خلوت و جلوت ،غرض ہر جگہ اور ہر ایک تک دائرہ اخلاق کی وسعت ہے۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے والوںسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقام لینا احادیثِ مبارکہ میں صراحتا ًیہ بات موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا(اس انتقام نہ لینے کاصحیح مطلب آگے آرہا ہے)لیکن اگر کسی نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کیا اور حدودِ اسلام سے تجاوز کیا تو ضرور اس سے انتقام لیتے تھے،چنانچہ صحیحین میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دو کاموں میں سے ایک اختیار کرلینے کی ہدایت کی جاتی تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرمالیتے،اگر وہ گناہ نہ ہوتا،اگر گناہ کا سبب ہوتا تو اس سے دور ہوجاتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی بات میں کسی سے انتقام نہیں لیا،البتہ جس چیز کو خدا تعالیٰ نے حرام کیا ہے، اگر اس کو حلال کیا گیا تو آپ ضرور انتقام لیتے تھے‘‘۔ یہی مضمون مسلم شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی منقول ہے کہ :’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی چیز کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ،یعنی نہ عورت کو اور نہ خادم کو، مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں جہاد کرتے(تو اپنے ہاتھ سے دشمنوں کو مارتے تھے)اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز (تکلیف)پہنچتی تو آپ اس کا انتقام نہ لیتے تھے، مگر جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی حرام کردہ چیز کا ارتکاب کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی سزا ضرور دیتے تھے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح  میں ’’باب ما یجوز من الغضب والشدۃ لأمر اللّٰہ‘‘کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے، اس ترجمۃ الباب کا مقصد بیان کرتے ہوئے استاد المحدثین شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب أطال اللّٰہ بقاء ہ علینا کشف الباری میں تحریر فرماتے ہیںکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی اذیت پرصبر کرنا اور اپنی ذات کے لئے ان سے انتقا م نہ لینااور ان سے شفقت اور نرمی والا برتاؤ کرنااگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ میں شامل تھا، تاہم دین اور شریعت  اور اللہ کے احکام کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رعایت نہیں فرماتے تھے، بلکہ اللہ جل شانہٗ نے قرآن کریم میں اللہ کے دشمنوںکفار کے ساتھ سخت برتاؤکا حکم دیا ہے۔ مسئلۂ اَخلاق اور شاتمِ رسول کے متعلق ایک شبہ اور اس کا جواب   کچھ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور عفو ودرگزر کے بعض واقعات کا سہارا لے کر یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں اور مخالفین کی طرف سے پہنچائی گئی ایذا و تکلیف کو نہ صرف برداشت کرتے، بلکہ عفو ودر گزر بھی فرماتے تھے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے ’’الشفاء ‘‘میں اس شبہ پر تفصیلی رد کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے،ایمان کو ان کے دلوں میں راسخ کرنے اور ان کو ایک کلمہ پر جمع کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر وتحمل اور عفو ودرگزر کا معاملہ فرمانے کا حکم دیا تھا، لیکن جب اسلام مستحکم ہوا اور اللہ نے مسلمانوں کو قوت و غلبہ عطا فرمایا، تو پھر یہ حکم تبدیل ہوگیا،اس کے بعد جس بدبخت وگستاخ پر قدرت ہوئی اور جس کی شرارت و فتنہ انگیزی مشہور ہو گئی تھی اسے نہ صرف قتل کر دیا گیا، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون بھی ہدر (رائیگاں)قرار دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے نفس کے لئے انتقام نہ لینے کا صحیح مطلب بعض روایات میں جو آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نفس کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیاجیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہوا، تو اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قول وفعل کے ذریعے بے ادبی کا معاملہ کیا، یاکوئی گستاخی، یا بدمعاملگی کی، خواہ جان کے حوالے سے ہو یامال کے سلسلے میں، اور ایسا کرنے میں اس کا مقصود درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا و تکلیف پہنچانا نہ تھا، بلکہ اس نے اس طرح کے اقدامات اپنی جبلی، یا فطری افتاد کی بنا پر کئے ، جیسے ماقبل میں بَدُّو کی بد سلوکی کا واقعہ گذرا ،جس نے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چادر مبارک کو اس طرح کھینچا کہ گردن مبارک پر نشان پڑگیا ،تو یہ کوئی ایذا و تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہیں تھا ،بلکہ یہ اس دیہاتی کی جہالت یا فطری اجڈپن کی وجہ سے تھا،چونکہ یہ ایسا عمل ہے جو بشری فطرت کے تحت ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انتقام نہیں لیا ،عفو و درگزر سے کام  لیا۔ ہاں !البتہ اگر کسی نے قصداً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی ،یا کوئی ایذا پہنچائی ،یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے انتقام لیا ہے ،کیونکہ اس طرح کے لوگوں کا سلوک تو درحقیقت اللہ عزو جل کی حرمت کی ہتک تھی ،اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونبوت سے سرفراز کرنا اور مقام و مرتبہ عطا کرنا وغیرہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ازروئے اخلاق بعض بد اخلاقوں کو معاف کرنا  پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالفین کی ایذا پر صبر کرنا اور ان کو معاف کرنا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا ،یہ آپ علیہ السلام کا حق تھا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کو معاف بھی کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد امت میں سے کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ ان زیادتیوں کو برداشت کرے، کیونکہ یہ اب کسی قوم یا قبیلہ کا حق نہیں، بلکہ تمام امت مسلمہ کا حق ہے،اور امت کے کسی فرد کو یہ جرم معاف کرنے کا حق ہرگز نہیں،لہٰذا نہ تو پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کو یہ حق حاصل کہ وہ جرم توہین رسالت کے مرتکب کو معاف کرے اور نہ ہی کسی فرد یا قومی ادارے کو یہ اختیار کہ وہ اس سلسلہ کے قوانین میں ترمیم کرے ۔ کیا کوئی شاتمِ رسولؐ  کی سزا معاف کر سکتا ہے؟ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’الصارم المسلول ‘‘میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ایک مسلمان کے لئے توہین رسالت کو معاف کرنے کا کوئی جواز نہیں ،یہ اس کی ذات کا معاملہ ہے ہی نہیں کہ وہ مجرم کو معاف کرکے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے یہ تو اس کے اللہ ،اس کے رسول اور دین اسلام کا حق ہے، لہٰذا اُسے چاہئے کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے ،چنانچہ وہ فرماتے ہیں:  ’’إن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان لہ أن یعفو عمن شتمہ و سبہ في حیاتہ و لیس لأمتہ أن یعفو من ذلک‘‘۔ ترجمہ:’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ اختیار حاصل تھا کہ اپنی زندگی میں سب وشتم کرنے والوں سے درگزر کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس جرم کو معاف کرے۔ نام نہاد دانشوروں اور حکمرانوں کا اپنی توہین پر رویہ  افسوسناک بات یہ ہے کہ ’’دانشور ‘‘،’’مفکرین ‘‘اور ’’علامہ ‘‘کہلانے والے یہ جاہل اور ہمارے سیاسی زعماء و پیٹ کے پجاری چند حکمران جو اپنی ذات کے حوالے سے ایک لفظ بھی توہین کا برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں،اسی پر بس نہیں بلکہ بعض دفعہ اپنی انا کی تسکین اور اپنی توہین کا انتقام لینے کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں انسانوں کی زندگیوں کو آگ میں جھونک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے ،وہ اہل اسلام کو توہین رسالت کے موقع پر چشم پوشی ،بزدلی اور انسانی حقوق کے نام پر گستاخوں کو معاف کرنے اور توہین رسالت سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کروانے کے لئے سیرت کا حوالہ دیتے ہیں۔ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صرف تواضع و انکساری کا نام نہیں محترم قارئینـ! گزشتہ سطور میں ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ اخلاق حسنہ اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صرف رحم و رافت اور تواضع وانکساری ہی کا نام نہیں، بلکہ یہ بھی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پہلو ہے کہ جب اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا جائے،حدود اللہ سے تجاوز ہونے لگے اور کوئی بدبخت تحریر وزبان سے شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میںگستاخی کرے تو اس کی گرفت کی جائے اور اس کا مؤاخذہ کیا جائے،لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ گرفت ومؤاخذہ ہماری سوچ اور رائے کے مطابق نہیں، بلکہ ہمیں اس سلسلے میں بھی شریعت مطہرہ کے بیان کردہ احکامات اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا۔ شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا، قرآن کی روشنی میں    قرآن کر یم کی متعدد آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شاتم رسول کی سزا موت ہے، ہم یہاں صرف ایک آیت کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سورۂ احزاب میںارشاد فرماتے ہیں: ’’بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ایذا دیتے ہیں، اللہ ان پر دنیا وآخرت میںلعنت کرتا ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘۔اسی سورت میں تین آیات کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’لعنت کئے گئے ہیں ،جہاں پائے جائیں پکڑ ے جائیں اور بری طرح قتل کئے جائیں‘‘۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں کے بارے میں دنیاوی سزا تو یہ بیان کی گئی ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے، اور آخرت میں ان کے لئے درد ناک عذاب تیار کیا گیا ہے، دنیا وی لعنت کی وضاحت کرتے ہوئے قاضی عیاض رحمہ اللہ ’’الشفاء ‘‘ میں فرماتے ہیں:’’گستاخ رسول پر دنیاوی لعنت یہی ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’ وہ پھٹکارے ہوئے ہیں جہاںپائیں جائیں پکڑیں جائیں اور قتل کر دیئے جائیں‘‘۔ شاتم ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا، سیرت نبوی(علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام)کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں شقی اور بدبخت قسم کے لوگوںکی طرف سے گستاخی کا سلسلہ صرف آج کا نہیں، بلکہ زمانۂ نبوت میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آئے ، ان میں سے بعض بد بختوں کو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے اور حکم سے قتل کر دیا گیا اور بعض کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر کٹ مرنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جہنم واصل کیا۔ شاتم ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کعب بن اشرف کے قتل کا حکم  کعب بن اشرف مشہور یہودی رئیس تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتااور ہجویہ اشعار کہتا تھا،بخاری شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کے قتل کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:’’کون کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگائے گا؟کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتا ہے‘‘۔ چنانچہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر جا کر اس کا کام تمام کردیا۔  شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابن خطل اور اس کی لونڈیوں کو سزائے موت شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابن خطل اور اس کی دو لونڈیاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کیاکرتے تھے، بخاری شریف میں ہے کہ فتح مکہ کے دن عام معافی کااعلان کر دیا گیا تھا، لیکن شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابن خطل کو معافی نہیں دی گئی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کاحکم دیا، لہٰذا اس کو اس حال میں قتل کر دیا گیاکہ اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑا ہوا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دونوں لونڈیوں کے قتل پر ان کا خون رائیگاں قرار دیا۔ شاتم ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم ابن أبی معیط کے قتل کا واقعہ ’’الشفائ‘‘ میں بزار کے حوالے سے منقول ہے کہ جب عقبہ بن أبی معیط قتل ہونے لگا تو اس نے پکار کر کہا: قبیلہ قریش کے لوگو! دیکھو ! آج میں تمہارے سامنے قتل کیا جارہا ہوں(اور تم خاموش ہو)تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر فرمایا:تو اپنے کفر اور رسول اللہ پر افترا پردازی کے باعث قتل ہو رہا ہے۔سنن أبی داؤد اور نسائی میں ہے کہ ایک نابینا صحابیؓ نے اپنی لونڈی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر قتل کر ڈالا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون مباح اور ہدر فرمایا۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الشفائ‘‘ میں ان واقعات کو جمع کیا ہے، جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے قتل کا حکم فرمایا، جنہوں نے شان رسالت میں کوئی گستاخی کی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دی تھی۔ شاتم ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزائے موت پر تمام اُمت کا اتفاق  دورِ نبوت کے ان مذکورہ بالا واقعات سے یہ بات بالکل بے غبار ہو کر سامنے آتی ہے کہ توہین رسالت کوئی معمولی جرم نہیں کہ جس سے چشم پوشی اختیار کی جائے، اس کی کم از کم سزا موت ہے، چنانچہ عہد نبوت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم واجب القتل ہے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے ائمہ اربعہ کا یہی مذہب نقل کیاہے۔ نام نہاد دانشوروں کے بیمار قلوب کا علاج چونکہ توہین رسالت ایک انتہائی حساس اور اہم موضوع ہے، تمام امت مسلمہ کاایمان اور جذبات اس سے وابستہ ہیں،اس لئے امت کے جلیل القدر علمائے کرام نے اس موضوع پر مستقل کتابیںتصنیف فرمائی ہیں، ہمارے نام نہاد دانشور حضرات کو اگر ان کا مطالعہ نصیب ہو جائے تو یقینا ان کے بیمار قلوب شفا پا جائیںگے۔ اربابِ اقتدار سے گذارش  اس نازک موڑ پہ ملک عزیز کے ارباب اقتدار سے گذارش ہے کہ خدا را!چند دنوںکے اقتدار کی خاطر اپنی عاقبت برباد نہ کریں،قانون توہین رسالت میں کسی طرح کی ترمیم سے باز رہیں، بلکہ ایسے مواقع پر ہونا یہ چاہئے کہ ایک مسلمان ملک کے حکمران ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں اور شاتمین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیفر کردار تک پہنچائیں، مبادا! اللہ کی گرفت وپکڑ کے شکار نہ ہوجائیں۔ میڈیا سے وابستہ افراد سے درخواست  اس کے ساتھ ساتھ میڈیا سے وابستہ افراد سے درخواست ہے کہ خدارا!ضمیر وقلم فروش مت بنیں،دنیا کے یہ چند سکے و ٹکے کب تک کام آئیں گے،آخر ایک دن آپ نے بھی مرنا ہے اور اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنی ہے، سوچئے!آج توہین رسالت پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کی بجائے ہم گستاخوں کی صف میں کھڑے ہوں تو کل قیامت کے روز اپنے آقا و محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا کس منہ سے سامنا کریںگے؟کیا ان حرکتوں کی ہمارا ایمان اور غیرت اجازت دیتے ہیں؟کیا روز محشر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے حق میں شفاعت فرمائیں گے؟ نہیں! اور یقینا نہیں، تو پھر ہمیںاپنی روش تبدیل کرنی ہوگی اور اللہ سے معافی طلب کر کے گذشتہ کی تلافی کی فکر میں لگنا چاہئے ۔ اہلِ ایمان کی ذمہ داری  اپنے مسلمان بھائیوں سے میری گذارش ہے کہ وہ میڈیا کے اس ایمان کش سیلاب سے اپنے آپ کو بچائیں،جب بھی کوئی ایسا موقعہ آئے تو ان نام نہاد دانشوروںکی باتوں پر کا ن نہ دھریں، بلکہ مستند اور محقق علمائے کرام کی طرف رجوع کریں، تاکہ ہمارا ایمان شکوک و شبہات سے محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ دشمن کے ان ہتھکنڈوں کے جواب میں ان کی تہذیب و تمدن سے عملی طور سے نفرت کا اظہار کریں ،ان کا معاشی بائیکاٹ کریں اور  زندگی کے ہر شعبہ میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل اتباع کریں، اپنے آقا و محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں، تا کہ دشمن اپنے مذموم مقاصد میں ناکام و نامراد ہوجائے۔ 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے