بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

احکامِ الٰہی سے سر تابی کا نتیجہ

 

احکامِ الٰہی سے سر تابی کا نتیجہ

 

حقیقت سے اعراض اور اسلام کا نام لے کر احکامِ الٰہی سے سر تابی کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظا ہر ہوتا ہے، جو کبھی شکست کی شکل میں آتا ہے، کبھی سیلاب اور زلزلہ کی شکل میں اور کبھی اور کسی مصیبت ونکبت کے روپ میں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاْتِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَا قَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَا نُوْا یَصْنَعُوْنَ۔‘‘        (النحل: ۱۱۲)
 ’’اور اللہ تعالیٰ ایک بستی کی حالتِ عجیبہ بیان فرماتے ہیں کہ امن واطمینان میں تھے، ان کے کھانے پینے کی چیزیں بڑی فراغت کے ساتھ ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں، پس انہوں نے خدا کی نعمتوں کی نا قدری کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی حرکات کی وجہ سے ایک محیط قحط اور خوف کا مزہ چکھا یا۔ ‘‘
 ذلت خیز شکست اور لا کھوں مسلمانوں کی جان وآبرو کی بھینٹ لے کر آدھا ملک الگ ہوگیا، جو باقی رہ گیاوہ بھی بہت کمزور اور مضمحل ہے۔ 
خلافتِ تر کیہ کے اضمحلال کے زمانہ میں یورپ والوں نے ترکی کو یورپ کے مردِ بیمار کا لقب دیا تھا، یہ صحیح تھا یا غلط اس سے بحث نہیں، مگر پا کستان کی سیاسی ومعاشی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اسے ایشیا کا مردِ بیمار کہیں تو بے جا نہیں۔ دوستوں کے دلوں سے اس کا وقار اور دشمنوں کے دلوں سے رعب رخصت ہو چکا ہے۔ دوست نما دشمنوں کی حریصا نہ نظریں اسی پر جمی ہوئی ہیں۔ افراطِ زر، گرانی، سیم وتھور وغیرہ کے پر یشان کن مسائل سامنے ہیں اور انہیں جس قدر سلجھایا جاتا ہے اسی قدر اُلجھے جاتے ہیں۔ حرام کمائی سے پر ورش پانے والوں کا طبقہ اپنی تجو ریاں بھر رہا ہے، مگر ملک کی اکثریت فلا کت (ناداری، مفلسی ) اور معاشی بد حالی کا شکار ہے۔ مصائب کے اس حال سے رہائی کی کتنی ہی تدبیریں کی جائیں رہائی ناممکن ہے، کیونکہ ان کا اصل سبب اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جو ہماری نا فرمانی اور سر کشی کی وجہ سے ملک کی طرف متوجہ ہوا ہے، بابِ توبہ اب بھی کھلا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کی رحمتِ بے پایاں کو اب بھی اپنی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے:
’’قُلْ یٰعِبَادِيَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا۔‘‘                                                     (الزمر:۵۳)
’’آپ فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے نفس کے ساتھ زیادتی کی ہے (مبتلائے معصیت ہوئے) تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تعالیٰ سب گناہ معاف فرماتے ہیں۔‘‘
اربابِ اقتدار اگر حقائق کا ادراک کر لیں اور کتاب وسنت اور اُسوۂ صحابہؓ کی روشنی میں صحیح راہِ منزل متعین کر کے ملکی وقومی قافلے کو لے چلیں تو فلاح وکا مرانی پاکستان کے قدم چو مے گی، ہر سنگِ راہ چور چور ہو کر دور ہوجائے گا اور ہمارا ملک دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل کر لے گا۔ بالکل بدیہی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کسی تدبیر سے نہیں ٹالا جاسکتا، انابت الی اللہ اور اطاعتِ احکامِ الٰہیہ اُسے ٹالنے کی واحد تدبیر ہے۔ کیا اربابِ اقتدار حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں گے؟ کیا ان میں کوئی اس آواز کا سننے والا اور اس سچی بات پر کان دھر نے والا ہے؟ (ألیس منکم رجل رشید؟)

یہود کی اسلام دشمنی

اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
’’لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَھُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا۔‘‘ (المائدۃ:۸۲)
’’اور تم یہود اور مشرکین کو مسلمانوں کا سب سے بڑادشمن پاؤ گے۔ ‘‘
 قرآن مجید کی اس خبر کا مشاہد ہ ہوتا رہتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہود کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کی عداوت اور ان سے عنا دو حسد کی جو آگ بھڑک رہی وہ کسی طرح سرد نہیں ہوتی، اس کا تازہ نمونہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیاتِ طیبہ کو فلم کی صورت میں پیش کرنے کی ناپاک کوشش جاری ہے، اس کا مقصدِ وحید یہ ہے کہ خاکم بدہن عظمتِ رسالت دلوں سے کم کردی جائے، اس سے پیشتر ’’فجرِ اسلام‘‘ کے نام سے ایک فلم بنا کر یہ لوگ صحابہ کرامؓ کی تو ہین کر چکے ہیں، اس فلم کا تصور بھی درحقیقت یہودی دماغ ہی کی اختراع تھا اور یہ بھی اسی سازشی اور مجرم ومفسد ذہن کی ایجاد ہے۔
 افضل الخلائق سید العالمین  صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے حالاتِ زندگی کو لہو ولعب کا ذریعہ بنانا ، ایکٹروں اور ایکٹرسوں کا صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  اور صحابیاتu کا پارٹ ادا کرنا اور اِن مقدس ہستیوں کی سوانحی زندگی کو پردۂ سیمیں پر پیش کر کے اُسے ذریعۂ تفریح بنانا یقینا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شانِ اقدس میں سخت گستاخی اور صحابہ کرامؓ کی شان میں بے ادبی ہے۔
 یہ ایسی واضح حقیقت ہے کہ جس کے لیے کسی استدلال کی حاجت نہیں، فریب یہ دیا جارہا ہے کہ اس سے سیرۃِ طیبہ کا عام تعارف ہوتا ہے جو تبلیغ و دعوتِ اسلام کے مرادف ہے۔ حیرت ہے کہ یہود کے اس جال میں بعض عربی ممالک بھی پھنس گئے اور اسلام کے یہ نادان دوست اس فلم کی تیاری کی ہمت افزائی کررہے ہیں، اسے اشاعتِ دین اور تعلیم وتعارفِ سیرۃِ سید المرسلین( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ذریعہ کہنا خالص فریب ہے، بے شک دونوں باتیں مطلوب ومحمود ہیں، مگر ان کا طریقہ وہی ہوسکتا ہے جو ان مقدس اور عظیم الشان مقاصدکے ساتھ مناسبت رکھتا ہو اور ان کے شایان شان کہا جاسکے۔ یہ ذلیل اور پست طریقہ ان پاکیزہ مقاصدِ عالیہ کے ساتھ ادنیٰ مناسبت بھی نہیں رکھتا، یہ یقینًا بارگاہِ رسالت اور شانِ صحابہؓ میں سخت بے ادبی اور گستاخی ہے، سہولتِ فہم کے لیے قومی جھنڈے کی مثال کافی ہے، کیا کوئی ملک اسے گو ارا کر سکتا ہے کہ اس کا قومی جھنڈا تعارف کے مقصد سے کسی مزبلے اور کوڑے خانے پر نصب کردیا جائے؟ وجہ ظا ہر ہے کہ یہ جگہ اس کے شایانِ شان نہیں، اس لیے جھنڈے کی توہین ہے، اسی طرح فلمی پردہ مقاصدِ مذکورہ کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا اور ان کے شایانِ شان نہیں۔
 اس فلم کی خبر نے مسلمانانِ عالم کے دل مجروح کردیئے ہیں، دنیا کی جملہ مسلمان حکومتوں اور عام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کی تیاری رکوانے کی پوری کوشش کریں، ہم اس کے متعلق اپنی حکومت سے کہنے کا حق زیادہ رکھتے ہیں، بنا بریں اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے امکانی ذرائع اور وسائل سے اسے رکوانے کی پوری کوشش کرے، پاکستان کے عوام مسلمین بھی یہ عزم کر لیں کہ اگر یہ فلم خدا نخواستہ تیار ہوجائے تو کسی قیمت پر بھی پاکستان میں اس کی نمائش کو گوارا نہ کریں گے اور اس سینما کو دنیا میں باقی نہ چھوڑیں گے جو اس کی نمائش کی جرأت کرے۔ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے