بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

بینات

 
 

آہ میرے دوست! مولانا الطاف الرحمن رحمہ اللہ 

آہ میرے دوست!
مولانا الطاف الرحمن رحمہ اللہ 


میرے دوست، میرے رفیق حضرت مولانا محمد الطاف الرحمن صاحب بہاولنگری رب تعالیٰ کے خاص بندوں (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی صف میں شامل ہوگئے۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ماأخذ ولہٗ ما أعطٰی وکل شئ عندہٗ بأجل مسمی۔ لہلہاتے گلشنِ بنوری کا ایک پھول اور ٹوٹ گیا۔ مولانا مرحوم جامعہ مادرِ علمی سے اپنی فراغت ۱۹۹۰ء سے ہی جامعہ کے ایک اہم شعبہ (مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی) کے نگران وناظم مقرر ہوئے اور جامعہ میں اپنی خدمت ونظامت کے ۲۷؍ سال پورے کرتے ہوئے تادم اخیر اسی منصب پر فائز رہے۔ خدامِ گلشن بنوریؒ میں اپنا نام لکھواتے ہوئے آخر خالقِ حقیقی سے جاملے۔ 
مولانا مرحوم کا حافظہ ماشاء اللہ! بہت اچھا تھا، مولانا کو اردو، عربی، فارسی اشعار پر عبور حاصل تھا اور بہت سامواد زبانی یادتھا، دورانِ گفتگو موقع بموقع اشعار سناکر اہلِ مجلس کو محظوظ فرماتے جو اب اہلِ مجلس کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ دیوانِ حماسہ ودیوانِ متنبی کے ترتیب سے کئی کئی اشعار بغیر کسی رکاوٹ کے پڑھ جاتے اور بسا اوقات علامہ محمد اقبالؒ کی پوری پوری نظم بڑے والہانہ انداز سے سنادیتے۔ مولانا سخن گوئی وبذلہ سنجی میں اپنی مثال آپ تھے۔ مولانا ایک اچھے تاریخ داں اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ایک کتاب بنام ’’نظام کائنات، غزوۂ ہند اور وجودِ پاکستان‘‘ (تحقیق وترتیب:محترمہ ارم اختر صدیقی صاحبہ) (ضخامت تقریباً ۲۰۰۰ صفحات) میں مضامین کی تیاری، جمع وترتیب میں شامل رہے اورایک مختصر مگر پر مغز مضمون کتاب کے تعارف میں (آئینۂ کتاب نما) کے نام سے لکھ کر پوری کتاب کی ضخامت کو اپنے مختصر مضمون میں سموکر (دریا بکوزہ) کا مصداق بنادیا۔ مولانا حافظِ قرآن بھی بہت اچھے تھے۔ برسہا برس ظہر ومغرب کے نوافل میں منزل پڑھنے کا معمول رہا اور چلتے پھرتے بھی منزل پڑھتے رہتے تھے۔ آخر تک تراویح میں قرآن کریم سنانے کا معمول رہا، مجھے بعض اوقات کسی آیت کا حوالہ پیش کرنا ہوتا تو میں ان کے سامنے آیت کا مفہوم رکھتا تو وہ مکمل آیت، پارہ، سورت کے حوالے کے ساتھ نکال کر سامنے رکھ دیتے۔ 
مولانا بلاشک وشبہ ذاکر وشاغل آدمی تھے، ہر وقت زبان پر ذکر اور تسبیح ہاتھ میں معمول تھا۔ ’’أَلَابِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ‘‘ کا چلتا پھرتا مصداق تھے، کیوں نہ ہوتے؟ آخر خانقاہِ دین پور شریف بہاولنگر کے چشم وچراغ تھے۔ حضرت مولانا اللہ بخش بہاولنگری (خلیفہ مجاز حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری اولؒ) کے پڑپوتے اور حضرت مولانا محمد یحییٰ بہاولنگریؒ (خلیفہ مجاز قطب عالم حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری ثانیؒ وحضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب رائے پوری ثالثؒ) کے بھتیجے اور حقیقی معنوں میں اُن کے جانشین تھے۔ مولانا کا کس خوشی کے ساتھ ان کے آباء واجداد نے والہانہ استقبال کیا ہوگا اور اللہ رب العزت کے فرمان ’’فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ‘‘ کی مبارکباد دی ہوگی۔ 
مولانا ایک انتہائی عاجز ومنکسر المزاج آدمی تھے۔ ہر چھوٹے بڑے سے انتہائی عاجزی کے ساتھ ملتے تھے۔ ہرایک نو وارد سے اس طرح ملتے جیسے کہ اس سے برسوں کی شناسائی ہو۔ بعض اوقات ہم بھی حیرت زدہ رہ جاتے، بڑے سخی دل بھی تھے، باوجودیکہ صاحب گنجائش نہ تھے، بلکہ اکثر مقروض رہتے تھے، مگر پھر بھی ہر آنے والے کو خواہ اس سے پہلی ملاقات ہی کیوں نہ ہو‘ چائے ولوازمات سے مہمانی کرتے۔ ہر ملنے والا ضرور اس کی گواہی دے گا اور اپنے مخصوص انداز میں مجلس کے خادم بھائی تاج مرین کو پکارتے: ’’أنفق یا تاج!‘‘ اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھتے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: ’’أنفق یا بلال! ولاتخش من ذی العرش إقلالا‘‘ اور ساتھ ہی پیسے نکال کر چائے وغیرہ کا بندوبست کرنے کا کہتے۔ بعض اوقات خود کے پاس پیسے نہ ہوتے تو مجھ سے یا کسی دوسرے ساتھی سے پیسے قرض لے کر بندوبست کرتے، بعد میں میں بعض اوقات اس قسم کے زائد خرچ پر بات کرتا تو مجھے بھی یہی حدیث شریف سناکر خاموش کرادیتے۔ بہرحال مولانا بہت ساری صفات کے مالک تھے ،مگر اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے۔ میں نے بارہا خانقا ہی تذکرے پر مولانا کو یہاں کراچی میں خانقاہی سلسلۂ وعظ ونصیحت، مجلسِ ذکر وغیرہ شروع کرانے کا کہا تو جواب دیا کہ: ہمارے بزرگوں کی گدی وخانقاہ ہمارے تایازاد بھائیوں کے پاس ہے، اورخاموش ہوجاتے۔
 مولانا انتہائی رقیق القلب بھی تھے، اکثر تلاوتِ قرآن، احادیث کے مطالعہ، صحابہ کرامؓ اور سلفِ صالحین وبزرگانِ دین کے واقعات پڑھتے ہوئے بار بار سسکیاں لینے لگتے، کبھی کبھی ہماری موجودگی کے احساس کے باوجود بلند آواز سے روپڑتے۔ درحقیقت ’’إِنَّمَا یَخْشٰی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَائُ‘‘ اور ’’تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ‘‘ اللہ تعالیٰ کی بشارت کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔
مولانا یکے بعد دیگرے دو مسجدوں میں امام وخطیب مقرر ہوئے، مگر اپنی عالی صفت حق گوئی وبے باکی آڑے آئی اور وہاں سے رخصت کردیئے گئے۔ شروع میں جوانی کے ایام بلاک: ۱۱ گلشن اقبال کی مسجد عمر فاروقؓ میں گزارے، جبکہ مسجد کچی اور چاروں طرف جنگل ہوا کرتا تھا، وہاں کس مجاہدے کے ساتھ وقت گزارا، وہ ایک الگ باب ہے۔ بعد میں ایف بی ایریا بلاک: ۱۷ کی مدینہ مسجد جو اس وقت جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی شاخ بھی تھی، میں کچھ عرصہ امام وخطیب رہے۔ آخر میں مولانا بڑی جان لیوا موذی بیماری کینسر میں مبتلاء ہوگئے، مگر اس دوران بھی اللہ رب العزت کی رحمتِ واسعہ کا مظہر رہے کہ اس موذی بیماری میں مبتلاء مریض جن جن سختیوں پریشانیوں اور تکالیف میں مزید مبتلاء ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دیگر کئی قسم کے امراض بھی آکر گھیر لیتے ہیں کہ آخر ایڑیاں رگڑنے تک کی نوبت آجاتی ہے اور بے چارے لواحقین موت کی دعائیں مانگتے ہیں مگر موت نہیں آتی، مگر یہاں مولانا کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا، کوئی آپریشن، کوئی چیرا نہیں لگا، بہت اچھی حالت میں اللہ رب العزت نے چلتے ہاتھ پاؤں اپنی بارگاہ میں حاضری نصیب فرمائی کہ گھر والوں سے بھی کوئی قابلِ ذکر خدمت نہیں کروائی کہ یہ بھی اللہ والوں کی نشانی ہے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا کو سورۃ الطور کی آیت ’’وَالَّذِیْنَ أٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِإِیْمَانٍ أَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَمَا أَلَتْنَاہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ۔‘‘ (آیت:۲۱) کے مصداق ان کے آباء واجداد کے ساتھ اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین! اور ’’أُولٰٰئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ‘‘ کے تحت مولانا کے تمام سیئات سے درگزر فرمائے اور سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے، آمین! اور اللہ تعالیٰ ان کے جملہ لواحقین وپسماندگان کو صبر جمیل واجر عظیم عطا فرمائے، آمین! اور مولانا کے صاحبزادگان کو انہی کے آباء واجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینِ اسلام اور علم وعمل پر ثابت قدمی عطا فرمائے، آمین!
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے