بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

آل پارٹیز تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس کراچی میں ناموسِ رسالت قانون کے تحفظ کا عہد!

 

آل پارٹیز تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس کراچی میں ناموسِ رسالت قانون کے تحفظ کا عہد!

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

تاریخ اور قانون سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ تحفظِ ناموسِ رسالت کا قانون ابتدائی طور پر انگریز کے دور میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ ۲۹۵ کے تحت ۱۹۲۷ء میں بنا، جس میں ثبوتِ جرم پر مجرم کے لیے دو برس قید سزا مقرر کی گئی۔ پھر ۱۹۸۴ء میں تعزیراتِ پاکستان کے تحت دفعہ ۲۹۵سی کا اضافہ کرکے اس جرم کی سزا’’سزائے موت یا عمر قید مع جرمانہ‘‘ تجویز کی گئی۔ ظاہر ہے اہانت ِ رسول جیسے ارتکابِ جرم پر یہ سزا بھی بہت کم تھی، اسی لیے وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں اپنے ایک فیصلہ کے تحت صدرِ پاکستان کو ہدایت کی کہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کی اصلاح کی جائے اور اس دفعہ میں ’’یا عمر قید‘‘ کے الفاظ حذف کرکے توہینِ رسالت کی سزا صرف ’’موت‘‘ مقرر کی جائے اور فیصلہ میں مزید کہا کہ: مذکورہ بالا تاریخ تک اگر اس قانون میں اصلاح نہ کی تو یہ الفاظ کالعدم قرار پائیں گے اور صرف سزائے موت قانون قرار پائے گا۔ مقررہ تاریخ تک حکومت نے اس قانون میں کوئی اصلاح نہیں کی، تو وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق یہ قانون بن گیا کہ توہینِ رسالت کے جرم کی سزا صرف موت ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی نے ۲؍ جون ۱۹۹۲ء کو متفقہ قرارداد منظور کی کہ توہینِ رسالت کے مرتکب کو سزائے موت دی جائے۔ پھر ۸؍ جولائی ۱۹۹۲ء کو سینیٹ نے بھی یہ بل پاس کردیا۔ تو اس طرح یہ بل ان مراحل سے گزرنے کے بعد متفقہ قانون بن گیا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں بھی بیرونی دباؤ کی بناپر اس قانون کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تھی، اس وقت کے وزیر قانون جناب بابر اعوان صاحب نے ایک خصوصی کمیٹی مقرر کی کہ وہ اس قانون کا شروع سے آخر تک ہر اعتبار سے جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کرے کہ اس قانون میں کہیں کوئی سقم یا کمزوری ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے۔ اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کہا گیا کہ یہ قانون ہر اعتبار سے صحیح اور درست ہے، کسی قسم کا اس میں سقم، جھول یا کمزوری نہیں، لہٰذا طے ہوا کہ توہینِ رسالت کے مجرم کی سزا ‘ سزائے موت ہی ہے اور اس سزا کو جوں کا توں ہی برقرار رکھا جائے۔ اب کچھ دنوں سے پھر این۔ جی۔ اوز کی خوش نودی، مغربی ایجنٹوں کی نازبرداری اور مغربی آقاؤں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے اس قانون کو غیر مؤثر کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں، جس کی بناپر ملک میں کئی ایسے اقدامات کیے گئے اور کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جو اس بات کی غمازی اورچغلی کھارہے تھے کہ اس ملک میں کچھ ہونے والا ہے، جن کی بناپر علمائے کرام اور مسلمانانِ پاکستان میں اضطراب، بے چینی اور فکرمندی کا پایاجانا ایک بدیہی امر تھا، اس لیے کہ : ۱…قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ملحق سائنسی ادارہ فزکس کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھ دیا گیا۔  ۲…پنجاب حکومت بھٹو دور میں قومیائے گئے تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کرنے پر تلی ہوئی ہے۔  ۳…دوالمیال ضلع چکوال میں ۱۲؍ربیع الاوّل کے جلوس پر قادیانیوں نے فائرنگ کی جس سے چار مسلمان زخمی اور ایک شہید ہوگیا۔ اور پھر گرفتاریاں بھی مسلمانوں کی کی گئیں، جس کی وجہ سے ابھی تک درجنوں مسلمان قید میں ہیں۔ شہید کی ابھی تک ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔ ۴… ۱۲؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو ایک قومی اخبار میں جاوید اختر بھارہ کہو ( جو اپنے کو سلسلہ قادریہ چشتیہ سے منسوب کرتے ہیں) کا اشتہار شائع ہوا کہ تحفظِ ناموسِ رسالت قانون کو تبدیل کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام کارروائی این۔ جی۔ اوز اور مغربی ایجنٹوں کی تھی، ان صاحب کا تو صرف نام استعمال ہوا۔  ۵… ۱۳؍جنوری کو ایک قومی اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ جناب فرحت اﷲ بابر سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے اجلاس میں توہینِ رسالت قانون پر غور کرکے اس کی سزا میں کمی اور مقدمہ کے اندراج کے طریقۂ کار میں تبدیلی لائی جائے گی۔  ان حالات، اقدامات اور اطلاعات کو دیکھتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ملتان میں اجلاس منعقد کیا، جس میں ان امور پر غور وخوض کے بعد فیصلہ کیاگیا کہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اور چاروں مسالک کی قیادت کے سامنے یہ مسئلہ رکھا جائے اور باہمی مشاورت سے کوئی قدم اُٹھایا جائے۔ اسی سلسلہ میں یکم فروری ۲۰۱۷ء کو ڈریم لینڈ ہوٹل اسلام آباد میں اے پی سی منعقد ہوئی، جس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور سربراہان کے علاوہ تقریباً دو سو راہنمایانِ قوم شریک ہوئے اور حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کی سربراہی میں پندرہ رکنی رابطہ کمیٹی کا اعلان کیا گیا، جن کے نام درج ذیل ہیں: ۱:… حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہٗ     ۲:… محترم جناب سراج الحق صاحب ۳:… محترم جناب راجہ ظفر الحق صاحب    ۴:… محترم جناب پروفیسر ساجد میر صاحب ۵:… حضرت مولانا سمیع الحق صاحب    ۶:… محترم جناب ساجد علی نقوی صاحب ۷:… حضرت صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صاحب    ۸:… حضرت قاری محمد حنیف جالندھری صاحب  ۹:… محترم جناب اعجاز الحق صاحب    ۱۰:… حضرت خواجہ پیر معین الدین کوریجہ صاحب ۱۱:… محترم جناب پرویز الٰہی صاحب    ۱۲:… محترم جناب حافظ عاکف سعید صاحب  ۱۳:… حضرت پیر اعجاز ہاشمی صاحب    ۱۴:… حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب ۱۵:… حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اسی کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کراچی میں اے پی سی کا اعلان کیا جو ۲۱؍ فروری کو منعقد کی گئی۔   کانفرنس کی صدارت جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائم مقام صدر شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم نے کی۔ اس آل پارٹیز کانفرنس میں درج ذیل جماعتوں کے راہنما اور نمائندے شریک ہوئے:  ۱:…عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد مدظلہٗ، رانا محمد انور صاحب۔ ۲:… اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ناظم تعلیمات وناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ صوبہ سندھ حضرت مولانا امداد اللہ صاحب۔ ۳:…جمعیت علمائے اسلام کے جناب قاری محمد عثمان صاحب، مولانا حماد اللہ شاہ صاحب، مولانا محمد غیاث صاحب، پیرطریقت حضرت حافظ عبدالقیوم نعمانی صاحب، مفتی عبدالحق عثمانی صاحب۔ ۴:… پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محترم جناب علی اکبر گجر صاحب، جناب امان خان آفریدی صاحب۔  ۵:…مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مفتی محمد رفیق سلفی، جناب قاری عبدالعزیزصاحب۔ ۶:… ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی صاحب۔ ۷:… پاک سرزمین پارٹی کے جناب وسیم آفتاب صاحب، عامر خان صاحب۔ ۸:… پیپلز پارٹی کے مفتی فیروزالدین ہزاروی صاحب، حاجی مظفر علی شجرہ صاحب۔ ۹:… مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے محترم جناب محمد افضل سردار صاحب۔ ۱۰:…جمعیت غرباء اہل حدیث کے حکیم مطیع الرحمن صاحب۔ ۱۱:…مجلس احرار اسلام کے قاری عبدالغفور مظفر گڑھی صاحب۔ ۱۲:…جمعیت علمائے اسلام کے جناب پیر عبدالشکور نقشبندی صاحب۔ ۱۳:…نظام مصطفی پارٹی کے الحاج جناب محمد رفیع صاحب۔ ۱۴:… جماعت غرباء اہل حدیث کے محترم جناب حافظ محمد سلفی صاحب۔ ۱۵:… تنظیم علماء پاکستان کے محترم جناب قاری اللہ داد صاحب۔ ۱۶:… عوامی نیشنل پارٹی کے محترم جناب یونس بونیری صاحب، جناب عبدالقیوم سالارزئی صاحب۔ ۱۷:… جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے محترم جناب سید عقیل انجم قادری صاحب ۔ ۱۸:… متحدہ علمائے محاذ پاکستان کے علامہ مرزا یوسف حسین صاحب۔ ۱۹:… جماعت الدعوۃ کے محترم جناب ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی صاحب، محترم جناب حافظ امجد صاحب۔ ۲۰:… جمعیت علمائے اسلام (س) کے محترم جناب قاری عبدالمنان انور صاحب، جناب حافظ احمد علی صاحب، مولانا مشتاق عباسی صاحب۔ ۲۱:… جمعیت علمائے پاکستان کے جناب محمد علیم خان غوری صاحب۔ ۲۲:… تحریک انصاف کے محترم جناب اسرار عباسی صاحب کے علاوہ کئی ایک مدارس وجامعات کے سربراہان ونمائندگان نے شرکت کی ۔ تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والی آل پارٹیز کانفرنس میں مقررین نے تحفظِ ختم نبوت کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی ۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم نے اپنے بیان میں فرمایا کہ: ہم سب کا قرآن ، نبی ، دین اور قبلہ ایک ہے۔ اُمتِ مسلمہ کے اتحاد کی عمارت اسی پر قائم ہے اور اسی جذبے کے تحت ہم یہاں جمع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظِ ناموسِ رسالت قانون بنانے اور اب اس کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کو اللہ کے نبی کی شفاعت نصیب ہو گی۔ جو قوتیں اس قانون میں تبدیلی یا ترامیم کرنا چاہتی ہیں ، ہم اُنہیں متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس سے گریز کریں۔ یہ آسان کام نہیںہے ۔  اُمتِ مسلمہ کے لیے تحفظِ ناموسِ رسالت سب سے بڑھ کر ہے اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ موجودہ حکمران اور مقتدر قوتیں چونکہ اللہ اور اس کے رسولa سے محبت کرنے والی ہیں، امید ہے کہ یہ لوگ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے ، جس سے تحفظِ ناموسِ رسالت کے قانون پر آنچ آ ئے ۔ انہوں نے کہا کہ: بعض لوگ کرسی کے لیے حد سے گزر جاتے ہیں ، امید ہے کہ موجودہ حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کو کرسی کی کمزوری اور اس کے دھوکے کا علم ہو گا۔  حضرت ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ حکمرانوں کی کرسی کی بقاء اسی میں ہے کہ تحفظِ ناموسِ رسالت کے قانون کے بارے میں کوئی سودے بازی نہ کریں اور ایسا کوئی بھی قانون بنانے سے گریز کریں ، جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے ۔ ناموسِ رسالت کے قانون میں کسی بھی طرح کی تبدیلی یا ترمیم کے نتائج انتہائی خوف ناک ہوں گے۔  اس اے پی سی میں مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت اور مختلف قوتوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ تحفظِ ناموسِ رسالت کے قانون میں رد وبدل کے کسی بھی عمل سے مکمل گریز کریں، ورنہ اس حوالے سے مہم جوئی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اُمتِ مسلمہ تحفظِ ناموسِ رسالت پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ تحفظِ ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم یا قادیانیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم میں کسی بھی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس آل پارٹیز کانفرنس میں درج ذیل اعلامیہ پیش کیا گیا: ملک بھر کی دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام اور مشائخ عظام کا مشترکہ اجتماع ایک بار پھر اس حقیقت کو دُہرارہا ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان‘ اﷲ اور اس کے رسول مقبول خاتم النّبیین aکے نام پر حاصل کی گئی ہے اور یہ دنیا کی واحد ریاست ہے جو اسلامی نظریہ پر وجود میں آئی ہے۔ لیکن مغربی دنیا اور ان کی این۔جی۔اوز ایک منظم سازش کے ذریعے سے پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے کے درپے ہیں۔ وطن عزیز میں تمام انبیاء کرام o اور بالخصوص آنحضرت a کی عزت وناموس کو آئینی وقانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی۔ لیکن ہر پانچ، چھ سال کے بعد اس ایمانی، شرعی اور آئینی قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی قرارداد لانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ۲۹۵ سی کے قانون میں ترمیم یا مقدمہ کے اندراج کے طریقہ کار میں تبدیلی اور سزا میں کمی کے اعلان سے عاشقانِ رسول اور اسلامیانِ پاکستان کو اضطراب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔  افسوس کی بات ہے کہ مغرب کو خوش کرنے کے لیے سندھ اسمبلی میں اسلام قبول کرنے کی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے کا بل منظور کرلیاگیا اور پھر علماء اور اسلامیانِ پاکستان کے دباؤ پر یہ بل واپس ہوگیا۔ لیکن سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے ہی ایک سینیٹر کی جانب سے ایسی مذموم کاوشوں پر یہ اجتماع گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے ہتھکنڈوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ ایسی تمام مذموم سازشوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ اجتماع حکومت سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی سازشوں پر نظر رکھے اور ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں توہینِ رسالت کے قانون میں کوئی تبدیلی نہ لانے کا دوٹوک اعلان کرے۔ ض… اُمتِ مسلمہ کا یہ عقیدہ ہے کہ رحمتِ دوعالمa اﷲ رب العزت کے آخری نبی ہیں۔ مرحوم بھٹو کے دور میں قومی اسمبلی نے اس بنیادی عقیدہ کے باغی قادیانیوںکا دین اسلام سے متصادم مؤقف سننے کے بعد اُنہیں غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سمیت ملک کی تمام عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں اس قانون کو مبنی برحق قرار دیا۔ لیکن قادیانی گروہ آئین پاکستان سے انحراف اور عدالتوں کے فیصلوں سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلم کہلوانے پر مصر ہے۔ ض…قادیانیوں نے چناب نگر میں اپنی عدالتیں قائم کر رکھی ہیں، اپنے اسٹام پیپر شائع کرتے ہیں، گواہوں کے سمن جاری ہوتے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی رٹ قائم کی جائے، اس گروہ کی آئین شکنی کا نوٹس لیا جائے اور انہیں آئین کا پابند بنایا جائے۔ ض…حال ہی میں قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو منسوب کیاگیا۔ حالانکہ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کو ’’لعنتی ملک‘‘ کہا ہے۔ یہ نمائندہ اجتماع اس اقدام پر شدید اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے اس غلط فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔  ض… آئین کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی وہ قادیانیت کو اسلام کہہ سکتے ہیں۔ آئین میں ان پر واضح پابندیاں ہیں۔ لیکن قادیانی چینلز پاکستان کے آئین کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات اور پیمرا قادیانی چینلز کی اسلام مخالف مہم اور آئین کی بغاوت کا نوٹس لے اور اُن نشریات پر پابندی عائد کرے۔ ض… پاکستان کے سابق وزیراعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو  ؒ نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا۔ لیکن قادیانی تعلیمی اداروں کو واپس کرنے کے اقدامات کی خبریں گاہے بگاہے سنی جارہی ہیں۔ حکومتوں نے اربوں روپے ان اداروں پر خرچ کیے ہیں اور ان اداروں میں پچانوے فیصد عملہ اور زیرتعلیم طلبہ مسلمان ہیں۔ قادیانیوں کو تعلیمی ادارے واپس کرنا گویا نوجوان نسل کو قادیانیوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔ حکومت ایسا کوئی غلط قدم اُٹھانے سے باز رہے۔  ض…اس سال ۱۲؍ ربیع الاوّل کو دوالمیال ضلع چکوال میں میلاد النبی کے جلوس پر قادیانیوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک مسلمان شہید اور کئی مسلمان زخمی ہوئے۔ لیکن قادیانیوں کو قانون شکنی پر سزا دینے کی بجائے مسلمانوں پر جھوٹے مقدمات درج کر کے اُنہیں پابندِ سلاسل کردیا گیا اور مختلف ذرائع سے اب دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ مسلمان قادیانیوں کے خلاف درج کرائے گئے مقدمات واپس لیں۔ ض…یہ اجتماع پاکستان کے اسلامی تشخص اور قومی خود مختاری کے خلاف بڑھتے ہوئے مسلسل عالمی دباؤ اور بین الاقوامی اداروں کی یلغار پر تشویش واضطراب کا اظہار کرتا ہے اور دینی حلقوں کو توجہ دلانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی اسلامی شناخت اور قومی خود مختاری کے معاملات کو سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی بجائے دینی قوتوں کو خود کردار ادا کرنا ہوگا۔ ض…یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ جو لوگ اس ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بم دھماکے کرارہے ہیں جس سے پولیس کے ذمہ داران، ہماری فوج کے افسران اور عام مسلمان شہید کیے جارہے ہیں، اُن کو بلاامتیاز پکڑا جائے، اُن کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور ان دھماکوں میں شہید ہونے والے حضرات کے گھروالوں کی بلاامتیاز کفالت اور اُن کی سرپرستی کی جائے۔ یہ اجتماع تمام سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور اُن کے غم کواپنا غم سمجھتا ہے۔ ض…یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ:۱…۲۹۵سی کے قانون کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور اس قانون کے بہرحال تحفظ کا دوٹوک اعلان کیا جائے۔ ۲…ادارہ فزکس کا ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ ۳…چناب نگر میں ’’ریاست درریاست‘‘ کا ماحول ختم کیا جائے۔ حکومت کی دستوری اور قانونی رٹ بحال کرنے کے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور متوازی عدالتیں ختم کر کے ملک کے قانونی نظام کی بالادستی بحال کی جائے۔ ۴…قادیانی چینلز کی نشریات کا نوٹس لیا جائے اور ملک کے دستور اور قانون کے تقاضوں کے منافی نشریات پر پابندی لگائی جائے۔ ۵…قادیانی تعلیمی ادارے اُنہیں واپس کرنے کی پالیسی‘ عوامی جذبات اور ملک کی نظریاتی اساس کے منافی ہے۔ حکومت اس طرزِ عمل پر نظرثانی کرے اور قوم کو اعتماد میں لے۔ ۶…دوالمیال چکوال میں قادیانیوں کی فائرنگ سے شہید اور زخمی ہونے والے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقہ کے مسلمانوں کے مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔ شہید کے بارے میں ایف۔آئی۔آر (F.I.R) درج کی جائے، بے گناہ مسلمانوں کو رہا کیا جائے اور مسلمانوں کے خلاف جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہ اجتماع حکومت پر واضح کردینا چاہتا ہے کہ یہ مطالبات رسمی اور وقتی نہیں ہیں۔ پوری قوم کے جذبات کے آئینہ دار ہیں، اُنہیں جلد از جلد منظور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اسلام آباد میں اے پی سی میں دی گئی مدت میں یہ مطالبات منظور نہ کیے گئے اور حکومت کے طرزِ عمل میں واضح تبدیلی دکھائی نہ دی تو آل پارٹیز تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس کی طرف سے ملک گیر تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرمائے، ہم سب کو متحد ومتفق فرمائے۔ ہمارے پیارے وطن کو مزید سے مزید ترقیات سے نوازے اور ملک دشمنوں سے اس سرزمین کو پاک وصاف فرمائے۔ آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفتی شکور احمد صاحب کو صدمہ

۱۰جمادی الاولیٰ ۱۴۳۸ھ مطابق ۸ فروری ۲۰۱۷ء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ محترم حضرت مولانا مفتی شکور احمد صاحب حفظہٗ اللہ کی والدہ محترمہ، حضرت مولانا عبدالحئی ؒ کی اہلیہ محترمہ، حضرت مولانا مفتی عبدالرحمن ؒ (بانی ومہتمم جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، ضلع لودھراں) کی صاحبزادی تقریباً چھ سال تک فالج کے عارضہ میں مبتلا رہنے کے بعد اپنے آبائی علاقہ زروبی تحصیل ٹوپی ضلع صوابی میں راہی عالم آخرت ہوگئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے، جنت الفردوس کا اُنہیں مکین بنائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازے۔ آمین ماہنامہ’’بینات‘‘ کے باتوفیق قارئین سے مرحومہ کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔ 

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے