بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

عورت کی بیماری کے اخراجات


سوال

عورت کی بیماری کے اخراجات شرعی اعتبارسے کس کے ذمہہیں؟

جواب

عورت اگرخود مال دار ہے، اپنے علاج کا خرچہ برداشت کرسکتی ہے تو اس کی اپنی رقم سے اس کا علاج کرایا جائے گا،اگر خود مال دار نہیں ہے تو شادی سے قبل اس کے  علاج کا خرچہ اس کے والد پر لازم ہوگا۔اور شادی کے بعد فقہاءِ کرام نے اگرچہ شوہر پر بیوی کی بیماری کے اخراجات  لازم قرار نہیں دیے،لیکن جس طرح عورت پر اخلاقاً گھر والوں کی خدمت ضروری سمجھی جاتی ہے، اسی طرح اگر وہ بیمار ہو تو شوہر کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس کا مناسب علاج کرائے ، یہ نامناسب ہے کہ عورت سے خدمت پوری لی جائے اور اس کی ضروریات کا خیال نہ رکھا جائے۔
قال اللّٰه تعالیٰ: {وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ} [النساء: ۱۹]
وقال تعالیٰ: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ} [البقرة: ۲۲۸]
"ولا تجب الدواء للمرض ولا أجرة الطبیب"۔ (الفتاویٰ الهندیة، کتاب الطلاق / الباب السابع عشر، الفصل الأول ۱؍۵۴۹، )

"نفقات العلاج: قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لا يجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها؛ لأن التداوي لحفظ أصل الجسم، فلا يجب على مستحق المنفعة، كعمارة الدار المستأجرة، تجب على المالك لا على المستأجر، وكما لا تجب الفاكهة لغير أدم.
ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالباً إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالباً ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟" (الفقه الإسلامی وأدلته)(۷۳۸۰/۱۰) 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200810

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں