بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1440ھ- 17 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

حیض کی مدت پوری ہو جانے کے بعد آنے والا خون استحاضہ ہے


سوال

ایک عورت کو 6 تاریخ کو حیض آیا جو آٹھ دن بعد13 تاریخ کو ختم ہوگیا، پھر اس کے سات دن بعد اسی ماہ کی 19تاریخ کو دوبارہ خون آیا۔ اگر چھ تاریخ سے حساب لگائیں تو پندرہ دن ہوتے ہیں  اور اگر تیرہ تاریخ سے حساب لگائیں تو سات دن ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ خون حیض شمار ہوگا یا استحاضہ؟ وہ عورت نماز پڑھے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت کو 13 تاریخ تک جو خون آیا ،وہ حیض کا ہے ، اور جو خون 19 تاریخ کو آیا ،وہ استحاضہ کا ہے،لہٰذا 19 تاریخ سے وہ عورتمستحاضہ ہے، اور اس پر نماز ادا کرنا لازم ہے۔

الدر المختار(مع الرد 1/ 283)میں ہے:

" (أقله ثلاثة بلياليها ... وأكثره عشرة) بعشر ليال، كذا رواه الدارقطني وغيره ... (والناقص) عن أقله (والزائد) على أكثره ... (استحاضة)".

الفتاوى الهندية (1/ 37):

"لو رأت الدم بعد أكثر الحيض ... استحاضة".

اللباب في شرح الكتاب (ص: 23):

"والحيض يسقط عن الحائض الصلاة، ويحرم عليها الصوم، وتقضي الصوم، ولاتقضي الصلاة، ولاتدخل المسجد، ولاتطوف بالبيت، ولايأتيها زوجها".

اللباب في شرح الكتاب (ص: 24):

"(وأقل الطهر) الفاصل بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوماً) وخمس عشرة ليلةً".

تبيين الحقائق (1/ 62):

"فإن أمكن أن يجعل الدم في أحد الجانبين حيضاً فهو ( وهو ) حيض والآخر استحاضة، وإن لم يمكن فالكل استحاضة، فإن أمكن الجانبان فالأول حيض؛ لسبقه، والثاني استحاضة".

المبسوط للسرخسي (3/ 146) الناشر:دار الفكر:

"إذا غلب الطهر الدم يصير فاصلاً؛ لأن حكم الغالب ظاهر شرعاً، وإذا صار فاصلاً بقي كل واحد من الدمين منفرداً عن صاحبه، فيعتبر فيه إمكان جعله حيضاً كأنه ليس معه غيره، وإن وجد الإمكان فيهما جعل المتقدم حيضاً؛ لأنه أسرعهما إمكاناً، وأمر الحيض مبني على الإمكان، ثم لايجعل المتأخر حيضاً؛ لأنه ليس بينهما طهر خمسة عشر يوماً، ولا بد أن يتخلل بين الحيضتين طهر تام، وأقل الطهر التام خمسة عشر يوماً".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے