بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

اہل تشیع سے نکاح کے بعد دوسرا نکاح کرنا /


سوال

میری شادی بٹہ سٹہ کے ذریعے ہوئی تھی، یعنی میرے بھائی کی ایک جگہ شادی ہوئی اور اس کے بعد میرے بھائی کے سسرال کے ہاں میری شادی ہوئی، میری شادی کے بعد مجھے پتا چلا کہ وہ لوگ شیعہ ہیں تو میں واپس نہیں آئی اپنے والدین کے ہاں، لیکن چوں کہ میرے بھائی کا گھر آباد نہیں ہوا، اس لیے میرے والدین مجھے بھی واپس لے آئے، مجھے بہت ساری عالمات نے یہ کہا ہے کہ "اللہ پر چھوڑ دو اور تم اپنے خاوند کے پاس مت جاؤ"۔  ابھی تیسرا سال ہونے والا ہے اور مجھ سے میرے شوہر نے کچھ پوچھا بھی نہیں نہ حال احوال نہ ہی کچھ اور! اور جب میں نے ان سے یہ کہا کہ میں دوسری شادی کر رہی ہوں تو کہا کہ"اگر تمہیں پسند ہے تو بھلے شادی کرلو"۔  مطلب طلاق اس نے نہیں دی، نہ ہی میں نے لی ہے۔ اب میری دس دن بعد شادی ہے۔ اب یہ بتائیے کہ میرا سابقہ نکاح میرے شوہر سے باقی ہے یا نہیں؟  ایک تو شیعہ ہونے کی وجہ سے؟ دوسرا اس نے مجھے کہا کہ ”اگر تمہیں پسند ہے تو بھلے شادی کرلو “کی وجہ سے؟  تیسرا کیا نیا نکاح کرنے سے سابقہ نکاح ختم ہوجاتا ہے؟

جواب

اگرکسی شیعہ کا عقیدہ یہ ہوکہ قرآنِ کریم میں تحریف (ردوبدل) ہوئی ہے، یا ان کے جو بارہ امام ہیں ان کےبارے میں اس بات کا قائل ہوکہ وہ گناہ سے معصوم ہیں، ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتاہو ، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتاہو تو ایسا شیعہ اسلام کے بنیادی عقائد کی مخالفت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، اور ایسے شیعہ کے ساتھ مسلمان کا نکاح جائز نہیں ہوگا۔

لہذا مذکورہ شخص جس سے آپ کا نکاح ہوا تھا ، اگر مذکورہ بالا عقائد رکھتا ہے یا ان کو تسلیم کرتا ہے تو اس سے آپ کا نکاح ہی منعقد نہیں ہوا تھا، اور جتنا عرصہ ساتھ رہے تھے یہ سب گناہ تھا، اس پر توبہ استغفار لازم ہے، اور اب آپ کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہے۔

اور اگر مذکورہ شخص اثنا عشری شیعہ نہیں ہے، یعنی مذکورہ بالا عقائد نہیں رکھتا، نہ انہیں تسلیم کرتا ہے، لیکن دیگر غلط نظریات رکھتاہےتو ایسا شخص گم راہ ہے، اس سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ اب ایسی صورت میں چوں کہ آپ کا نکاح منعقد ہوگیا تھا، اس لیے شوہر کی طلاق یا اس سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

نکاح صحیح ہونے کی صورت میں دیکھا جائے گا کہ شوہر نے  آپ سے جو یہ  کہا کہ  "اگر تمہیں پسند ہے تو بلے شادی کرلو" اگر اس سے شوہر کی طلاق کی نیت تھی تو  اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور طلاق کے بعد سے تین ماہواریاں عدت گزار کر آپ کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا، اور عدت سے پہلے دوسرے شخص سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔اور اگر اس جملہ سے شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

3۔ کوئی عورت کسی کے نکاح یا عدت میں ہو تو اس کے لیے دوسرا نکاح جائز نہیں ہے، اگر کرلیا تو پہلا نکاح اس سے ختم نہیں ہوتا۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 46):

"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر؛ لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل علياً أو يسب الصحابة؛ فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي "تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام".

الغنية لطالبي طريق الحق (غنیة الطالبین ) (1/ 179):

"والذي اتفقت عليه طوائف الرافضة وفرقها، إثبات الإمامة عقلًا وأن الإمامة نصّ، وأنّ الأئمة معصومون من الآفات من الغلط والسهو والخطأ. ومن ذلك إنكارهم إمامة المفضول والاختيار الذي قدمناه في ذكر الأئمة. ومن ذلك تفضيلهم عليًا -رضي الله عنه- على جميع الصحابة وتنصيصهم على إمامته بعد النبي صلى الله عليه وسلم، وتبرؤهم من أبي بكر وعمر -رضي الله عنهما- وغيرهما من الصحابة إلا نفرًا منهم سوى ما حكى عن الزيدية، فإنهم خالفوهم في ذلك. ومن ذلك أيضًا ادعاؤهم أن الأمة ارتدت بتركهم إمامة علي -رضي الله عنه- إلا ستة نفر. وهم علي وعمار والمقداد بن الأسود وسلمان الفارسي ورجلان آخران. ومن ذلك قولهم: إن للإمام أن يقول: لست بإمام في حال التقية. وأن الله تعالى لا يعلم ما يكون قبل أن يكون، وإن الأموات يرجعون إلى الدنيا قبل يوم الحساب. إلا الغالية منهم، فإنها زعمت بأن لا حساب ولا حشر. ومن ذلك قولهم: إن الإمام يعلم كل شيء ما كان وما يكون من أمر الدنيا والدين حتى عدد الحصى وقطر الأمطار وورق الشجر، وأن الأئمة تظهر على أيديهم المعجزات كالأنبياء عليهم السلام، وقال الأكثرون منهم: إن من حارب عليًا -رضي الله عنه- فهو كافر بالله عز وجل، وأشياء ذكروها غير ذلك. وأما الذي انفردت به كل فرقة: فمنهم الغالية: وقد ادعت أن عليًا -رضي الله عنه- أفضل من الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين. وادعت أنه ليس بمدفون في التراب كبقية الصحابة -رضي الله عنهم-، بل هو في السحاب يقاتل أعداءه تعالى من فوق السحاب، وأنه كرم الله وجهه يرجع في آخر الزمان يقتل مبغضيه وأعداءه، وأن عليًا وسائر الأئمة لم يموتوا، بل هم باقون إلى أن تقوم الساعة، ولا يجوز عليهم الموت. وادعت أيضًا أن عليًا -رضي الله عنه- نبي وأن جبريل عليه السلام غلط في نزول  الوحي عليه. وادعت أيضًا أن عليًا كان إلهًا -عليهم لعنة الله وملائكته وسائر خلقه إلى يوم الدين، وقلع آثارهم وأباد خضراءهم، ولا جعل منهم في الأرض ديارًا؛ لأنهم بالغوا في غلوهم ومردوا على الكفر، وتركوا الإسلام وفارقوا الإيمان، وجحدوا الإله والرسل والتنزيل، فنعوذ بالله ممن ذهب إلى هذه المقالة".

النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 327):
"وقسم منها يصدق الرجل فيه على اي وجه كان ان كان في حال الرضا او في حال الغضب او علي تقدمة ذكر الطلاق وهو قوله 1 خلعتك 2 وفارقتك 3 وخليتك وسبيلك 4 ولا سبيل لي عليك 5 ولا ملك لي عليك 6 ولا نكاح بيني وبينك 7 او قال انكحي من شئت او تزوجي او تزوجي من شئت او اذهبي او اذهبي حيث شئت او قومي او اخرجي او اعزبي او اعتدي او حبلك على غاربك او قال احللتك للزواج او اربع طرق عليك مفتوحة فخذى ايها شئت او وهبتك لاهلك او انت حرة او انت عتيقة او الحقي بأهلك او استبرئي رحمك او استتري او تقنعي او تخمري أو لست لي بأمرأة او لست لي بزوجة فكل هذه الالفاظ يصدق الرجل فيها".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 314):
" ويؤيده ما في الذخيرة: اذهبي وتزوجي لايقع إلا بالنية وإن نوى فهي واحدة بائنة، وإن نوى الثلاث فثلاث". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے