بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

آیت مبارکہ '' الحج اشھر معلومات '' کی تفسیر


سوال

'حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو جوشخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زادِ راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ ،کیوں کہ بہتر (فائدہ) زادِ راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہلِ عقل مجھ سے ڈرتے رہو' ﴿۱۹۷﴾.

اس آیت کے ابتدائی حصے کے مطابق حج کے مہینے (معین ہیں)، یعنی ایسا لگتا ہے کہ ایک سے زائد مہینے ہیں، جب کہ حج تو صرف ذی الحجہ  کے مہینے (صرف 1 مہینے) میں ہوتا ہے؟ براۓ مہربانی اس حوالے سے راہ نمائی فرمائیں!

جواب

آیتِ کریمہ سے مقصود یہ ہے کہ عمرے کے لیے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں، سال بھر میں جب چاہیں عمرہ  کرسکتے ہیں، لیکن حج کے احرام کے لیے مہینے، اور اس کے افعال واعمال کے لیے خاص تاریخیں اور اوقات مقرر ہیں، اس آیت کے شروع میں یہ بتلا دیا کہ حج کا معاملہ عمرے  کی طرح نہیں ہے، اس کے لیے کچھ مہینے مقرر ہیں جو معروف ومشہور ہیں، یعنی جاہلیتِ عرب سے لے کر زمانہ اسلام تک یہی مہینے حج کے معین ومعلوم ہیں، وہ مہینے شوال، ذوالقعدہ اور دس روز ذو الحجہ کے ہیں۔شوال سے حج کے مہینے شروع ہونے کا حاصل یہ ہے کہ اس سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں، بعض ائمہ کے نزدیک تو  شوال سے قبل باندھے گئے  احرام سے حج کی ادائیگی ہی نہیں ہوسکتی ،امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس احرام سے حج تو ادا ہوجائے گا، مگر مکروہ ہوگا۔ (مظہری، معارف القرآن)

حاصل یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں یہ بیان کرنا مقصود نہیں ہے کہ حج کے مناسک شوال اور ذوالقعدہ میں بھی ادا کیے جاتے ہیں، بلکہ یہ مقصود ہے کہ حج کا احرام شوال کا مہینہ شروع ہونے کے بعد باندھا جاسکتاہے، لہٰذا جوشخص ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ کر حج لازم کرلے تو اس شخص پر احرامِ حج کی وجہ سے احرام کی پابندیاں لازم ہوجائیں گی، یعنی وہ جھگڑے وغیرہ سے اجتناب کرے۔ لہٰذا یہ درست ہے کہ حج کے مناسک صرف ذوالحجہ میں ہی ادا کیے جاتے ہیں، دیگر مہینوں میں نہیں، لیکن قدیم زمانے میں پیدل یا اونٹوں کے سفر کی وجہ سے مہینہ مہینہ پہلے لوگ حج کے لیے روانہ ہوجایا کرتے تھے، اسی کے پیش نظر جاہلیتِ عرب میں بھی اور اسلام میں بھی حج کے احرام کی ابتدا کے لیے شوال کا مہینہ مقرر کیا گیا کہ اس کے بعد سے حج کا احرام باندھا جائے۔

نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ حج کا احرام بھی چوں کہ حج کے اعمال میں سےایک عمل ہے، اسی طرح حج تمتع یا حج قران میں ادا کیا جانے والا عمرہ بھی حج کے اعمال کی تمہید ہے، اور یہ سب اعمال شوال داخل ہونے کے بعد انجام دیے جاتے ہیں، تو گویا حج کے اعمال کا آغاز شوال سے ہی ہوجاتاہے، خاص مناسکِ حج کی ادائیگی سے پہلے گویا حج کے احترام اور استقبال کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، اس اعتبار سے بھی ان مہینوں کو حج کے مہینے کہاگیاہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں