بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 رجب 1440ھ- 26 مارچ 2019 ء

بینات

 
 

چند ناجائز معاملات!

چند ناجائز معاملات!


    ہمارے دین کا ایک اہم حصہ اور شعبہ معاملات کاہے، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس کے سارے معاملات جیسے: خرید وفروخت، کرایہ پر دینا اور لینا اور کھیتی باڑی کرنا وغیرہ سب شریعت کے مطابق جائز اور درست ہوں، تاکہ حلال روزی ملے۔ حرام اور ناجائز معاملات سے بچنا ضروری ہے۔ ذیل میں چند ناجائز معاملات لکھے جارہے ہیں، جو آج کل ہمارے بازاروں اور مارکیٹوں میں رائج ہیں، یہ سراسر گناہ ہیں، اُنہیں پڑھیں، سنیں اور بچیں!

سود کا لین ودین کرنا حرام ہے

ہمارے کاروبار اور معاملات میں درج ذیل معاملات سودی ہیں جو حرام وناجائز ہیں، ان سے بچنا واجب ہے:
۱:-  سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ یا فکسڈڈیپازٹ میں رقم رکھواکر نفع لینا۔
۲:- ذاتی ضرورت یا تجارتی مقاصد کے لیے بینک سے یا کسی ادارہ/شخص سے سودی قرض لینا۔
۳:- سودی بینک سے گاڑی لیز پر لینا۔
۴:- لائف انشورنس یعنی زندگی کی بیمہ پالیسی لینا، (Life insurance)۔
۵:-  آڑھتیوں کا کسانوں / زمینداروں کو قرض دے کر اُن کی پیداوار اپنے پاس لانے اور اپنے ذریعہ فروخت کرانے کا پابند بنانا اور مارکیٹ ویلیو سے زیادہ کمیشن لینا۔
۶:- سیکورٹی کے لیے کسی کے پاس رہن یعنی گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ حاصل کرنا اور اُسے استعمال کرنا، اگرچہ مالک یعنی سیکورٹی رکھوانے والے کی طرف سے اجازت ہو، تب بھی استعمال کرنا جائز نہیں۔
۷:- مکان یا دکان کی ایڈوانس کی رقم عام معمول سے زیادہ لے کر یا دے کر مکان یا دکان کا معمول سے کم کرایہ لینا اور دینا۔
۸:- موبائل اکاؤنٹ میں مخصوص بیلنس رکھ کر فری منٹس، فری ایس ایم ایس اور مفت انٹرنیٹ کی سہولت لینا۔
۹:- قسطوں پر خرید وفروخت کے معاملہ میں بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ/ سرچارج دینا اور لینا۔
۱۰:- کسی کو اس کی ذاتی ضرورت یا تجارتی مقصد کے لیے رقم ا س طرح قرض دینا کہ اصل رقم بھی محفوظ رہے اور اس پر معین نفع بھی ملتا رہے۔ یہ حرام اور سودی معاملہ ہے جس سے بچنا واجب ہے۔

رشوت لینا اور دینا حرام ہے

ہمارے معاملات میں درج ذیل صورتیں رشوت کی ہیں اور رشوت لینا دینا حرام ہے، جس سے بچنا واجب ہے۔ 
۱:- عام حالات میں رشوت دے کر نوکری حاصل کرنا۔
۲:- سرکاری ملازمین کا مثلاً شناختی کارڈ یا پاسپورٹ آفس وغیرہ میں اپنی ذمہ داری کا کام کرنے پر لوگوں سے پیسوں کا مطالبہ کرنا اور بغیر پیسہ لیے کام نہ کرنایا بہت دیر لگانا اور پیسے لے کر کام جلدی کرنا۔
۳:-  عصری تعلیمی اداروں میں امتحان میں نقل کرنے کے لیے پیسے دینا۔
۴:- امتحان میں پاس ہونے کے لیے پرچوں کی چیکنگ کے دفتر میں پیسے دے کر اچھے نمبر لگوانا۔
۵:- پلاٹ پر خلافِ قانون تعمیر کی منظوری کے لیے حکومت کے لوگوں کو پیسے دے کر بلڈنگ یا گھر وغیرہ بنانا۔
۶:- بعض سرکاری اداروں میں ملازمین کا ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک یونٹ سے دوسرے یونٹ ٹرانسفر ہونے سے بچنے کے لیے اپنے سینئر افسروں کو پیسے دینا۔
۷:- ادارہ سے خلافِ ضابطہ جلدی چھٹی کے لیے سینئر آفیسر کو پیسے دینا اور خلافِ ضابطہ کام کروانا۔
۸:- پرچیز آفیسر اور منیجر کا مال کی خریداری کا آرڈردینے کے لیے رقم لینا اور سپلائیرکا آرڈر لینے کے لیے اُسے رقم دینا۔
۹:- غیر قانونی طریقہ سے حج وعمرہ ادا کرنے کے لیے مثلاً وزٹ ویزہ، بزنس ویزہ اور تعلیمی ویزہ پر جاکر حج وعمرہ کرنے کے لیے رشوت دینا۔
۱۰:- مکان یا دکان کسی کو دیتے وقت پگڑی کی رقم لینا اور مالک کا رسید بدلائی کے نام سے کچھ رقم لینا۔

کاروبار اور ملازمت میں جھوٹ بولنا، خیانت کرنا ارو دھوکہ دینا حرام ہے

آج کل ہمارے کاروبار اور ملازمتوں میں جھوٹ، دھوکہ اور خیانت کا گناہ عام ہے، ذیل میں اس کی چند معروف صورتیں لکھی گئی ہیں، ان سے بچنا واجب ہے:
۱:-  اوپر اچھا مال رکھ کر نیچے گھٹیامال رکھنا اور پورے عمدہ مال کے برابر قیمت لے کر مال بیچنا، جیسے آم کی پیٹی میں اوپر بڑے اور اچھے آم رکھنا اور نیچے چھوٹے اور خراب آم رکھ کر بیچنا۔ اسی طرح سیب، امرود اور انگور وغیرہ بیچنا۔
۲:- نقلی اور دو نمبر چیز کو اصلی اور ایک نمبر بتاکر بیچنا جھوٹ اور دھوکہ ہے۔
۳:-  ٹیکسی/رکشہ والوں کا میٹر تیز کرکے زیادہ کرایہ وصول کرنا۔
۴:- بیچے جانے والے سامان میں کوئی عیب اور نقص ہو تو وہ عیب خریدار کو بتائے بغیر چھپا کر سامان فروخت کرنا۔
۵:- کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین کا سستا مال خرید کر زیادہ کابل بنوانا اور خفیہ کمیشن رکھنا۔
۶:- بعض ملازمین کا اپنے تعلق والے گاہک کو مالک کی چیز اُس کی اجازت کے بغیر مفت میں دینا یا اس کی حقیقی قیمت سے کم قیمت پر دینا۔ 
۷:- بیماری کی چھٹیاں لینے کے لیے جھوٹا میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانا اور اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بیماری کی چھٹیاں منظور کروانا، تاکہ تنخواہ کی کٹوتی نہ ہو۔ یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے جو حرام ہے۔
۸:- ملازمت کے لیے یا مدرسہ/کالج میں داخلہ کے لیے جعلی سند بنوانا جھوٹ اور دھوکہ ہے۔
۹:-  سرکاری ملازمین کا کسی دوسرے کے مکان کے کاغذات جمع کرواکر ماہانہ کرایہ لینا۔
۱۰:- دوسرے کی گاڑی کے کاغذات دفتر میں جمع کروا کر سواری الاؤنس لینا۔

ناپ تول میں کمی کرنا، اسی طرح ملازمت کے فرائض میں کوتاہی کرنا ناجائز ہے

ہمارے کاروبار اورملازمت میں کم تولنے، کم ناپنے، ڈیوٹی پوری نہ دینے اور اُجرت پوری لینے کا گناہ بھی عام ہے جو حرام وناجائز ہے جس سے بچنا واجب ہے۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
۱:- مال فروخت کرتے وقت ناپ تول میں کمی کرنا اور خریدار کو اس کی مطلوبہ مقدار سے کم مال دے کر پورے مال کی قیمت وصول کرنا۔
۲:- ملازمت کے اوقات میں کام صحیح نہ کرنا، یا اس وقت کو مالک کی مرضی کے خلاف اپنے ذاتی کاموں میں صرف کرنا یا ڈیوٹی کے وقت میں فرائضِ منصبی پوری طرح انجام نہ دینا اور تنخواہ پوری لینا، یا اوور ٹائم میں کام نہ کرنا، لیکن اس کی اُجرت وصول کرنا۔
۳:- مالک کا ملازم کو معاہدہ کے مطابق طے شدہ تنخواہ مقررہ وقت پر نہ دینا یا بلاوجہ کچھ کم کرکے دینا۔

چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا حرام ہے

ہمارے معاشرہ میں چوری، ڈاکہ تو عام ہے ہی جو حرام ہے، لیکن اس کی ایسی صورتیں بھی پائی جاتی ہیں جنہیں چوری نہیں سمجھا جاتا اور معیوب نہیں سمجھاجاتا، حالانکہ یہ بھی چوری میں داخل ہوکر حرام وناجائز ہیں جن سے بچنا واجب ہے۔ ا س کی چند مثالیں یہ ہیں:
۱:- کسی کا مال، پیسہ اور موبائل وغیرہ چھیننا، یا کسی کی زمین، مکان اور دکان پر ناحق قبضہ کرلینا۔
۲:- بجلی چوری کرکے استعمال کرنا، یا دوسرے کے میٹر میں تارلگاکر استعمال کرنا، یا اپنا میٹر معمول کی رفتار سے آہستہ کروالینا، اسی طرح گیس کی چوری کرنا۔
۳:- ریل یا بس میں ٹکٹ کے بغیر سفر کرنا، اسی طرح ایک ٹکٹ میں جتنا سامان ساتھ لے جانے کی اجازت ہے، اس سے زیادہ مقدار میں سامان چوری چھپے ساتھ لے جانا۔
۴:- ٹیلیفون ایکسچینج کے کسی ملازم یا افسر سے دوستی کے نتیجہ میں فون کا مفت استعمال کرنا۔
۵:- دفتری استعمال کے لیے رکھی ہوئی اشیاء مثلاً کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، دفتری موبائل، انٹرنیٹ ڈیوائس، چارجر، لیٹرپیڈ اور قلم وغیرہ مالک کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لے جانا اور ذاتی استعمال میں لانا۔
۶:- کسی دوسرے کاوائی فائی کنکشن اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا۔
۷:- جس چیز کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ چوری کی ہے یا کسی سے چھینی ہوئی ہے، اس کی خرید وفروخت کرنا اور نفع کمانا۔

کسی کا مال ناحق وصول کرنا حرام ہے

ہمارے کاروبار اور میراث وغیرہ کے معاملات میں ناحق دوسرے کا مال لینے کی متعدد صورتیں پائی جاتی ہیں جو سراسر ناجائز ہیں، ان سے بچنا ضروری ہے، اور وہ یہ ہیں:
۱:- خریدار کا سودے سے انکار کرنے کی صورت میں فروخت کنندہ کا بیعانہ کی رقم پوری یا کچھ ضبط کرلینا۔
۲:- بیچنے والے کا سودے سے انکار کرنے کی صورت میں خریدار کا اس سے بیعانہ کی رقم دُگنی واپس لینا۔
یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں، اگر اس طرح بیعانہ لے لیا ہو تو واپس کرنا اور آئندہ اس سے بچنا ضروری ہے۔
۳:- والد مرحوم کے ساتھ ان کی زندگی میں کاروبار میں معاونت کرنے والے اور کاروبار سنبھالنے والے بیٹوں کا اپنے والد کے انتقال کے بعد اس کے کاروبار پر قبضہ کرلینا اور مالک بن کر بیٹھ جانا اور دیگر وارثوں کو ان کا حق نہ دینا حرام وناجائز ہے۔
۴:- شوہر کے انتقال کے بعد گھر کے سازو سامان پر بیوہ کا قبضہ کرنا اور ورثاء کو حصہ نہ دینا۔
۵:- شوہر کے انتقال کے بعد بیوہ کو شوہر کی میراث میں سے حصہ نہ دینا۔
۶:- بیوہ اگر دوسرا نکاح کرلے تو اسے شوہر کی میراث سے محروم کرنا۔
۷:- جو عورت شوہر کے قبیلہ سے نہ ہو اُسے میراث کا حصہ نہ دینا۔
۸:- بہنوں کو میراث سے محروم کرنا اور زبردستی کسی نہ کسی طرح بہنوں سے اُن کا حصہ معاف کروانا۔
۹:- شادی شدہ بہنوں کو یہ کہہ کر میراث میں حصہ نہ دینا کہ: ’’والد صاحب نے تمہاری شادی کے موقع پر تمہارا جو جہیز تیار کرکے دیاتھا، اس سے تمہارا حق ادا ہوگیا۔‘‘

قمار اور جوا حرام ہے

۱:- موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی ریس میں جیتنے والے آدمی کا ہارنے والے سے طے شدہ رقم لینا۔
۲:- پتنگ بازی اور کبوتر بازی پر روپیہ کی ہار جیت کھیلنا۔ آج کل کرکٹ وغیرہ کے کھیلوں کی ہار جیت پر لاکھوں روپے کے جوے کھیلے جاتے ہیں جو سراسر حرام ہیں۔
۳:- اشیاء کا بیمہ کروانا۔ (General insurance)
نمونہ کے طور پر یہ چند مشہور ناجائز معاملات لکھے گئے ہیں، اس کے علاوہ اور بھی ناجائز صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اس لیے حلال روزی حاصل کرنے اور حرام روزی سے بچنے کے لیے اپنا ہر معاملہ مستند مفتیانِ کرام کو بتاکر اور اس کے جائز اور حلال ہونے کا اطمینان کرکے اس کو اختیار کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے